حضورتاج الشریعہ ، ہندوستان کے قاضی القضاۃ ہیں

مولانا یونس رضا مونس اویسی ، بریلی شریف ، انڈیا


مسلمانوں کے بہت سے امور دینیہ مثلاً جمعہ وعیدین میںامام وخطیب کی تقرری ، یتیم بلاولی کے وصی کاتقرر ، فسخ نکاح تفریق زوجین کی متعددصورتیں اوریوں ہی خصومات متعلقہ بقضاء کے لئے قاضی کی تقرری ازحد ناگزیر ہوتی ہے۔ لہٰذا معاملات مسلمین کے تصفیہ وحل کے لئے ہرشہر وضلع ہرریاست و ملک کا قاضی ہونا چاہئے۔ جہاں اسلامی سلطنت ہوتی ہے ،سلطان اسلام کے مقرر کرنے سے قاضی کاتقرر ہوتا ہے اورجہاں اسلامی سلطنت نہیں ہوتی ، وہاں امامت عامہ اورامور قضاء پر من جانب اللہ اعلم علماء دین فائز ہوتا ہے اوروہ منتخب باانتخاب الٰہی ہوتاہے وہی حاکم شرع والی دین اسلام قاضی ذی اختیار شرعی ہوتاہے اورمسلمانوں پرواجب ہوتا ہے کہ اپنے دینی امور میں معاملات کے تصفیہ وحل کے لئے اس کی طرف رجوع کریں۔
سلطان اسلام کے نہ ہونے کی صورت میں شہر کے علماء وارباب حل وعقد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اعلم علماء بلدکو اپناقاضی مقررکریں اورایک ضلع کے علماء وارباب حل وعقد اعلم علماء ضلع کو اپناقاضی مقرر کریں اورریاست کے علماء اورارباب حل وعقد پورے ریاست کاقاضی القضاۃ مقرر کریں۔ علماء ارباب حل و عقد کے تساہلی کی صورت میں عوام المسلمین باہمی مشورہ وتراضی سے فصل مقدمات کے لئے اپناقاضی مقرر کرسکتے ہیں اوراگرعوام وخواص ہر دو تساہلی کے شکار ہوجائیں تواعلم علماء دین بامر الٰہی ان کاقاضی ہوگا جس کی طرف امور دینیہ میں رجوع لازم و ضروری ہوگا۔ اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں، مسلمانوں کے معاملات اوراطفال مسلمین کے ولایت میںقاضی کامسلمان ہوناشرط ہے غرض اسلامی ریاستوں میں قاضیان ذی اختیار شرعی کاموجود ہونا واضح اورجہاںاسلامی ریاست اصلاً نہیں ہے وہاں اگرمسلمانوں نے باہمی مشورہ سے کسی مسلمان کو اپنے فصل مقدمات کے لئے مقرر کرلیا تو قاضی شرع ہے ۔ مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنے کاموں میںاس کی طرف رجوع کریں اوراس کے حکم پر چلیں یتیمان بلاولی پروصی اس کے مقررکروائیں نابالغان بے وصی کا نکاح اس کی رائے پر رکھیں ۔ فتاویٰ رضویہ ج ۷ ص ۳۲۸،
نیز فرماتے ہیں ، اپنی ان دینی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اپنے تراضی سے ان امور کا قاضی مقر ر اورنصب امام وخطیب جمعہ وعیدین و تفریق لعان وعنین و تزویج قاصر و قاصرات بلاولی وفسخ نکاح بخیار بلوغ و امثال ذالک امور جن میں کوئی مزاحمت قانونی نہیں اس کے ذمہ دار رکھنابلاشبہ میسر ہے۔ گورنمنٹ نے بھی کبھی اس سے ممانعت نہ کی، جن قوموں نے اپنی جماعتیں مقررکرلیں اوراپنے معاملات مالی و دینی قسم اول بھی باہم طے کرلیتے ہیں گورنمنٹ کو ان سے بھی کچھ تعرض نہیں ہوتا۔
اعلم علماء بلد اپنے شہر کاقاضی ہوتاہے اس کا اپنا شہر مع قرب و جوار مضافات کے اس کادائرہ ولایت و عمل وحدود وقضا ہے اور اعلم علماء ضلع کا دائرہ ولایت وعمل اس کااپناضلع ہے اوراعلم علماء ریاست کاپوری ریاست جب کہ اعلم علماء بلد کادائرہ ولایت وعمل مختلف شہروں ضلعوں وریاستوںکے علماء وارباب حل وعقد کی اتفاق رائے سے مختلف شہروں ضلعوں ریاستوں بلکہ پورے ملک کو متجاوز ہوجاتاہے۔
مندرجہ بالا تفصیل کے بعدعرض ہے کہ عوام المسلمین وخواص المسلمین سبھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اہل سنت کامرکز ’’بریلی شریف‘‘ ہے جہاں سے تقریباً پونے دو سوسال سے مسلسل اسلامیان ہند کی ملی ودینی قیادت و رہنمائی کافریضہ انجام دیاجاتا رہاہے۔ بریلی شریف کے اس قائدانہ وقاضیانہ فرائض کی انجام دہی کا ہی ثمرہ ونتیجہ ہے جوپوری اہل سنت و جماعت نے بریلی شریف کو مرکز اہلسنت تسلیم کیا ہے۔ چودہویں صدی ہجری کے مجدد اعظم امام اہلسنت کی شخصیت محتاج تعارف نہیں یہ نابغہ روزگار منفرد المثال یکتائے زمانہ شخصیت فقہ حنفی کے سلطان اوراعلم علماء ملک تھے اعلیٰ حضرت اپنی جلالت علمی وتبحر فقہی کے سبب پورے غیر منقسم ہندستان کے قاضی القضاۃ کے منصب جلیلہ پرمنتخب بانتخاب الٰہی تھے پورے ملک ہند میں مرجع عوام وخواص ومرجع فتاویٰ تھے پھر امام اہلسنت اعلیٰ حضرت نے اپنے تلمیذ رشید مفتیٔ اعظم عالم اسلام حضرت علامہ مفتی محمد مصطفی رضا قادری قدست اسرارھم اورتلمیذو خلیفہ صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمدامجد علی رضوی زادت علینا فیوضھم کوپورے ہندستان کاقاضی القضاۃ مقرر فرمایا جیسا کہ شرعی کونسل آف انڈیا کے دوسرے فقہی سمینار میں رویت ہلال کے موضوع سے متعلق موصولہ کئی ایک مقالات میں مقالہ نگاروں نے اس امر کی طرف صراحۃً وارشارۃً رہنمائی کی ہے ۔ پھر مفتیٔ اعظم ہند نے اپنے تمام امور دینی وروحانی مثلاًفتویٰ و قضا میں سلطان الفقہا ء تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمداختر رضاالقادری و دامت برکاتہم القدسیہ والعالیہ کو اپنا خلف صادق و جانشین مقرر فرمایا گویا کہ حضور تاج الشریعہ اسی وقت سے پورے ملک ہند کے قاضی القضاۃ ہیں چنانچہ بریلی شریف اوراس کے مضافات میںنصب امام جمعہ و عیدین کے امام وخطیب کی تقرری، اعلان رویت ہلال اوردیگر امور قضاء و فتویٰ میں عوام و خواص آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں اورآپ فتاویٰ و قضاکے فرائض انجام دیتے ہیں اوراپنے تبحرعلمی و فقہی کے سبب امامت عامہ وفصل مقدمات کے لئے منتخب باانتخاب الٰہی ہیں اور قضا کے متعلق تمام امور بھی آپ انجام دے رہے ہیں پورا ملک ہند بلانکیر آپ کو مرجع فتاویٰ و قضا تسلیم کرتاہے۔
امسال عرس رضوی کے لاکھوں زائرین اور سینکڑوں جید علماء دین اورقد آور دینی شخصیتوں کی موجودگی میںحضورمحدث کبیر نے حضور تاج الشریعہ کے مفوض من اللہ قاضی القضاۃ ہونے کا اعلان فرمایا اوران کے اعلان پر تمام علماء وعوام نے سرتسلیم خم کیا۔
عرس رضوی کے اسٹیج پر آپ کے قاضی القضاۃ کے اعلان کے وقت بیرون ہندمثلا پاکستان ، بنگلہ دیش، سری لنکا، افریقہ، زمبابوے ، ہالینڈ و لندن کے علماء وفضلاء اورہند کے متعدد خانقاہوں کے سجادہ نشین،مختلف مدارس دینیہ کے ذی صلاحیت اساتذہ ، صدرالمدرسین و شیخ الحدیث ومفتیان اکرام وارباب حل وعقد جلوہ فگن تھے جن میں بعض قابل ذکر شخصیتوں کے اسماء گرامی ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔
(۱) صدر العلماء حضرت علامہ مفتی تحسین رضاخاں، مدظلہ جوکہ استاذ زمن علامہ حسن کے نبیرہ ہیں اورمحدث بریلوی سے مشہور ومعروف ہیں اس وقت آپ جامعۃ الرضا میںصدر المدرسین کے عہدہ پر فائز تھے۔(۲) جانشین فاتح بلگرام رئیس الاتقیاء حضرت علامہ حافظ قاری سیداویس مصطفی واسطی قادری بلگرامی مد ظلہ مرکز مارہرہ و بریلی ومسولی مدینۃ الاولیا ، بلگرام شریف کی بڑی گدی یعنی جد اعلیٰ سادات بلگرام مارہرہ مسولی ، مجمع البحرین امام الاولیاء فاتح بلگرام سید محمد صاحب الدعوۃ الصغریٰ مرید و خلیفہ خواجۂ ثانی خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ میں خانقاہ قادریہ چشتیہ رزاقیہ برکاتیہ کے سجادہ نشین ہیں آپ قاضی القضاۃ کااعلان سننے کے بعدفرماتے ہیں نظام عالم کاقوام چند ہستیوں سے مربوط ہوتاہے اس صدی میں جن سے نظام عالم کاقوام ہے حضرت تاج الشریعہ کی ذات معلوم ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ ایسی ذات صدیوں میں پیدافرماتا ہے آپ ’’قاضی القضاۃ‘‘ اور ’’مفتیٔ اعظم‘‘ کے منصب جلیلہ کے صحیح مصداق ہیں اوریہ عہدہ ٔ عظمیہ آپ ہی کے شایان شان ہے (۳) بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان صاحب اعظمی ایک کہنہ مشق مدرس و مفتی ہیں اس وقت شمس العلوم گھوسی میں صدر شعبہ ٔ افتاء ہیں۔
خود حضور تاج الشریعہ نے ممتاز الفقہاء حضرت محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ القادری کو نائب قاضی القضاۃ مقرر فرمایا اوراعلان بھی کیا۔ اس سلسلے میں مزید توضیح وتشریح کے لئے حضور تاج الشریعہ نے مولانا محمد شعیب رضاصاحب کو حکم فرمایا انہوں نے مفتی معراج القادری صاحب کواس کے لئے مائک پرپیش کیا۔
پھر شرعی کونسل آف انڈیا کے تیسرے فقہی سیمینار میں جب مختلف بلا دوامصار کے ۶۰ سے زائد علماء وفضلا موجود تھے حضور تاج الشریعہ کوبلانکیر پورے ملک کاقاضی القضاء تسلیم کیا گیا اورسبھوں نے اپنی مہر تسلیم ثبت کی۔ لہٰذا حضور تاج الشریعہ منتخب باانتخاب الٰہی ہونے کے ساتھ ساتھ اب پورے ملک کے علماء وارباب حل و عقد کی اتفاق رائے سے بھی قاضی القضاء کے منصب عظیم پرفائز ہیں۔ مندوبین میں چند قابل ذکرہستیاں درج ذیل ہیں۔
(۱) ممتاز الفقہا حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحب قبلہ(۲)استاذ الفقہا حضرت علامہ مفتی قاضی عبدالرحیم بستوی مرکزی دارالافتاء بریلی شریف (۳) حاوی اصول وفروغ حضرت علامہ مفتی عاشق الرحمن صاحب صدرالمدرسین جامعہ حبیبیہ الہ آباد (۴) جامع معقولات و منقولات حضرت علامہ مفتی شبیر حسن صاحب صدرالمدرسین و شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ روناہی (۵)معمار قوم وملت حضرت علامہ شبیہ القادری صاحب قبلہ (۶)حضرت علامہ مولانا مفتی محمدایوب صاحب نعیمی صدر المدرسین جامعہ نعیمیہ مراد آباد (۷) شہزادہ صدرالشریعہ حضر ت علامہ بہائو المصطفیٰ صاحب استاذ جامعہ منظر اسلام بریلی شریف(۸)شہزادہ صدر الشریعہ حضرت علامہ فداء المصطفیٰ صاحب استاذ جامعہ شمس العلوم گھوسی (۹) حضرت علامہ مولانا سید شاہد میاںصاحب قبلہ رامپور (۱۰) حضرت علامہ مولانا سلمان رضا خان صاحب قبلہ (۱۱) حضرت علامہ مولانا مفتی معراج القادری استاذ جامعہ اشرفیہ مبارکپور (۱۲)حضرت علامہ مولانا مفتی ناظم صاحب قبلہ استاذ جامعہ اشرفیہ دہلی (۱۳)حضرت علامہ مفتی شعیب رضاصاحب دہلی (۱۴)حضرت علامہ مولاناصغیر احمد جوکھن پوری ناظم اعلیٰ الجامعۃالقادریہ رچھا (۱۵) حضرت علامہ مفتی قاضی شہید عالم صاحب قبلہ (۱۶) حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ناظم علی مرکزی دارالافتاء (۱۷)حضرت علامہ مولانا مفتی حبیب اللہ خاں نعیمی استاد فضل رحمانیہ بلرامپور (۱۸)حضرت علامہ مفتی اخترحسین صاحب استاذ جامعہ علیمیہ جمدا شاہی(۱۹) حضرت علامہ مولانا مفتی عزیز احسن صاحب قبلہ صدرالمدرسین تدریس الاسلام بسڈیلہ (۲۰) حضرت علامہ مولانا مفتی فضل احمد صاحب بنارس(۲۱)نقیب اہلسنّت حضرت علامہ مولانا علی احمد صاحب سیوانی۔
ہم اہل سنت کے لئے یہ امر نہایت مسرت افزا ہے کہ خانوادۂ رضویہ قضاکے عظیم دینی منصب کو انجام دیتا آرہا ہے خدائے کریم حضور تاج الشریعہ کاسایہ عاطفت اہم اہلسنت و جماعت پر تادیر قائم و دوائم رکھے اوران کی قضا میں ہمیں بحسن و خوبی امور دینیہ کی بجا آوری کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ۔

Menu
error: Content is protected !!