حضورتاج الشریعہ : بغداد میں چار دن

مولانا انیس عالم سیوانی ، لکھنؤ ، انڈیا


تقریباً چھ سال پہلے کی بات ہے جب میں جامعہ صدام علوم اسلامیہ بغداد شریف میں زیر تعلیم تھا۔ بی اے سال اول کاامتحان ختم ہوچکاتھا۔سخت گرمی کاموسم تھا ۔ ایک دن لگ بھگ رات کے ۱۲؍ بج رہے ہوں گے کہ اچانک ہمارے روم پارٹنر اورسینئر مشفق دوست حضرت مولانا انوار احمدمشاہدی بلرامپوری اور مولانا سیدحسن عسکری کچھوچھوی وارد ہوئے، آتے ہی ان دونوں حضرات نے خوش خبری سنائی کہ آپ کو معلوم ہے ؟آپ کے پیر صاحب آئے ہوئے ہیں۔ مجھے یقین نہیںآرہاتھا ،اس لئے کہ پہلے سے نہ کوئی اطلاع تھی اورنہ کوئی خبر،میںنے سمجھا کہ شاید یہ دونوں میرے رفیق مذاق کررہے ہیں ،اس لئے کہ اکثر میں اعلیٰ حضرت بریلی شریف اورحضور تاج الشریعہ کاتذکرہ کرتارہتا تھا ، لیکن ان دونوں حضرات نے زور دے کر کہا اوریقین دلانے کے لئے یہ بھی کہاکہ ہم لوگ ابھی ان سے مل کر آرہے ہیں وہ شیراٹون ہوٹل میں قیام پذیر ہیں،ممبئی کے یوسف بھائی کے الخالدٹورسے آئے ہیں،ان کے ساتھ کافی لوگ ہیں۔ میںنے خیریت پوچھی تومولانا انواراحمد صاحب نے فرمایا کہ ہم لوگ ملنے کے لئے گئے تھے، حضرت سے رواروی میں ملاقات ہوئی ، سلام ودعا ہوا، میں نے اپنے کئے ہوئے کچھ ترجمے کے اوراق حضرت کو پیش کئے کہ شاید اسے ملاحظہ فرمائیں گے(یہ ترجمے غالباً اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی کسی کتاب کے تھے)لیکن حضرت نے اپنے ہاتھوں میں لے کر پھرواپس کردیا اورچند دعائیہ کلمے ارشادفرمائے۔
ان حضرات نے جس وقت حضرت سے ملاقات کی اس وقت آپ عشاء کے بعدکھانا تناول فرماکر چہل قدمی کررہے تھے۔ اپنے ان دونوں دوستوں کی باتوں سے لگا کہ یہ دونوںحضرات اس مختصر سی ملاقات سے مطمئن نہیں تھے۔ میں نے خود خیال کیاکہ شاید حضرت سے باضابطہ ان حضرات کاکوئی تعارف نہیں ہواہوگا اورپھران سے ہرجگہ ہرقسم کے لوگ کثرت کے ساتھ ملتے رہتے ہیں اس لئے آپ نے خاطرخواہ توجہ نہیں فرمائی ہوگی ، میں نے ان حضرات سے کہاکہ کل دن میں میں جاؤں گا      ملنے کے لئے اگرمیری ملاقات باضابطہ ہوگئی تو میں کوشش کروں گاکہ تمام طلبۂ ہند کی خصوصی ملاقات کراسکوں ،جیسے تیسے رات کٹی صبح ہوئی،ناشتہ کے فوراً بعد میں تیارہوکر اپنے کمرے سے نکلاگاڑی پکڑا اورسیدھے شیراٹون ہوٹل پہنچا۔ ہوٹل کے ہال میں یوسف بھائی خالد ٹوروالے سے ملاقات ہوئی اورسلام و دعاکے بعدفوراً میںنے حضرت کی آمد کے بارے میں سوال کیاآپ نے جواباً کہاکہ حضرت آئے ہیں۔فلاںکمرے میںٹھہرے ہیں،میں نے کہا کہ ملاقات کی کیاصورت ہوگی، یوسف بھائی نے کہاکہ حضرت کھانا ناشتہ اپنے کمرہ ہی میں کرتے ہیں ، اچھاموقع ہے آپ ناشتہ لے کرچلے جائیے گا ، خدمت میں لگے رہئے گا ، خود ہی پوچھیں گے کہ تم کون ہو تو آپ اپنا تعارف کرادیجئے گا، اورآپ تو حضرت کے مرید ہیں، خیرایسا ہی کیا، کئی بار آنے جانے کے بعد باتوں کاسلسلہ چلا،مسلسل خدمت میں لگارہا، حضرت تو بوقت ضرورت ہی کچھ فرماتے مگریہ رضوی فقیرشرف ہمکلامی کی خاطر کچھ نہ کچھ پوچھتا تاکہ کسی طرح حضرت مخاطب رہیں، پھر کیاتھا ،۴؍دن ہی میں حضرت سے اتنی قربت ہوگئی کہ پھر کبھی بھی ملوں حضرت نام سے یاد فرماتے۔ اورپوچھتے کہ کون انیس عالم بغداد والے ، ایک مرتبہ زیارت کی غرض سے بریلی شریف حاضرہوا،ملاقات ہوئی فوراً مولانا شہاب الدین رضوی صاحب سے فرمایا گھر سے ناشتہ منگاکرکراؤ، ۲۰۰۷ء میں سلطان پور یوپی کے ہمارے ایک محب حضرت مولانامحمد محمودرضوی صاحب نے اصرار کیاکہ ہمارے خاندان کے کچھ لوگ بیعت ہوناچاہتے ہیں۔ اس لئے آپ بریلی شریف چلیں، ان حضرات کی رفاقت میں بریلی شریف حاضری ہوئی، تقریباً ساڑھے گیارہ بجے صبح حضرت زائرین سے ملاقات کی غرض سے گھر سے باہر تشریف لائے۔ دیکھتے ہی نہ معلوم کہاں سے لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ازہری مہمان خانہ کے گراؤنڈ فلور پرکرسی لگائی گئی ، لوگ آتے سلام ودست بوسی کرتے حضرت نام اورپتہ پوچھتے لوگ اپنی ضرورتیں بیان کرتے ، حضرت سب کو دعائیں دیتے اختصار کے ساتھ جب میراموقع آیا تو میں نے نام بتایاحضرت نے خیریت پوچھی، فرمایا کب آئے اورکیسے؟ میں نے مدعاعرض کردیا ، میں کھڑاتھا باقی سب لوگ فرش پربیٹھے تھے۔ اتنے میں میرے ایک رفیق حضرت مولانا مفتی شاہد رضاصاحب جو حضرت کی خدمت میں رہ کر تربیت افتاء کاکورس کررہے ہیں، آپ نے ایک کرسی لاکر دی اورمجھ حقیر کو بیٹھنے کوکہا،میں سراپا ادب واحترام کے ساتھ بیٹھ گیا،اسی موقع پر میںنے حضرت مولاناشاہد القادری صاحب کاپیغام حضور تاج الشریعہ کی بارگاہ میں پہنچایا اوراجازت چاہی کہ حضور تاج الشریعہ کی شخصیت اورخدمات پرایک خصوصی نمبر شائع کیاجاسکے ،حضرت نے غایت کرم فرماتے ہوئے اجازت عطا فرمائی۔
الغرض میںیہ بتاناچاہ رہاتھا کہ حضور تاج الشریعہ ۲۰۰۲ء میں جب بغداد شریف پہنچے تو وہاں میں نے کیادیکھا- تاج الشریعہ کی شخصیت اتنی پرکشش اوران کے معمولات ایسے ہیں کہ دیکھنے والاایک ہی نظر میں گرویدہ ہوجائے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کے ظاہر و باطن کوایساسنوارااورسجایا ہے کہ دیکھنے والامتاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بغدادشریف کی سرزمین پر بھی جدھر سے گزرگئے لوگ دیکھتے ہی رہ گئے ، حضرت نے جب مجھے اچھی طرح پہچان لیاتوایک مرتبہ اپنے کپڑے دھلنے کے لئے عنایت فرمائے۔
ایک مرتبہ آپ نے ارشادفرمایا کہ کچھ کتابیں لینی ہیں، میںنے عرض کیا کہ کتابوں کے نام بتائے جائیں تاکہ میں مارکیٹ سے لاکر حاضر خدمت کردوں،حضرت نے فرمایا کہ میں خودمارکیٹ چلوں گا، میں نے گاڑی کاانتظام کیا،عراق میں پرائیوٹ کاریں بآسانی کم اجرت پرمل جاتی تھیں، حضرت کے ساتھ یہ حقیر اوردوسرے ایک یادولوگ جوحضرت کے ساتھ تھے وہ ہوئے، ہم لوگ سوق المتبنی پہنچے، یہ کتابوں کی بہت مشہورمارکیٹ تھی یہاں نئی کتابوں کے علاوہ پرانی کتابیں سستی قیمتوں میں ملتی تھیں۔ حضور تاج الشریعہ جیسے ہی گاڑی سے نیچے اترے جس کی بھی نظر پڑی متحیر نظر آیا اورضرور دریافت کیا من ھذا الشیخ ، جب لوگوں کومعلوم ہوتا کہ یہ ہندستانی ہیں اورامام عشق و محبت اعلیٰ حضرت کے پرپوتے ہیں، لوگ شکل و شباہت دیکھ کراور گفتگو سن کر محو حیرت ہوئے، گزرنے والے ضرور ایک بار مڑ کر دیکھتے، سڑک پر کتاب کی دکانیں دونوں کناروں پرلگی تھیں ایک شخص کرسی لے کرآیا اورادب کے ساتھ عرض کیا تفضل یاشیخ حضرت بیٹھ گئے جتنے قریب وپاس کے دکاندار تھے اورخریدار آپ کے اردگرد ٹکٹکی باندھے کھڑے تھے ۔لاکراپنی اپنی دکانوں سے کتابیں حضرت کی خدمت میں پیش کرتے، حضرت بینائی کمزور ہونے کے باعث عینک کے سہارے سے سرسری طورپرملاحظہ فرماتے، جوپسند آتی اسے لے لیتے،اس طرح تقریباً سو کے قریب کتابیں وہاں سے خریدیں حالانکہ جن کتابوں کی خاطر تشریف لے گئے تھے الادب القاضی اورالاقتصاد فی مسائل الاعتقاد اورایک کوئی اور کتاب مطلوب تھی جو نہیں مل سکیں ، جب میں نے دیکھاکہ حضرت نے بہت ساری کتابیں خرید لیں اورمزید لے رہے ہیں تو میں نے عرض کیا حضور بارڈر پر پولس والے نہیں لے جانے دیں گے، تب حضرت نے کتابیں خریدنا بند کیا، یہ ذوق بہت کم علماء کے اندر پایا بلکہ زیادہ تر لوگ مزارات کی زیارت ہی پر اکتفا کرتے ہیں ،گاڑی میںاچھا موقع ملامیں نے کئی باتیں دریافت کیں، بعض حاسدین نے یہ پرچار کررکھا ہے کہ تاج الشریعہ اتنے بڑے متشدد ہیں کہ انہوں نے شیخ عبدالرحمن جوخانوادۂ غوث پاک کے ایک فرد ہیں ان کی ٹائی پکڑ کر کھینچ لی، میں نے عرض کیا حضور اس کی حقیقت کیا ہے آپ نے فرمایا کہ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے، اس طرح کیسے کوئی کسی کے ساتھ کرسکتاہے پھر آپ نے فرمایا کہ میری پاکستان میںجب شیخ عبدالرحمن سے ملاقات ہوئی تو میں نے دیکھا کہ وہ ٹائی باندھے ہوئے ہیںتومیں نے کہاکہ یہ آپ کے شایان شان نہیں اس کااستعمال ناجائز ہے ساتھ میں کوئی مصری عالم تھے انہوں نے مزید اس کی توضیح فرمائی اورمیری بات کی تائید کی۔ بس اتنی سی بات ہوئی تھی جسے لوگوں نے اتنا بڑھادیا، ایک خبر اورموصول ہوئی تھی  مفتی غلام محمد خان ناگپوری صاحب کے بارے میں ، میں نے عرض کیا حضور میں سناہے کہ قائد اہل سنت علامہ ارشدالقادری صاحب کے عرس کے موقع پر جمشیدپور میں کوئی میٹنگ ہوئی تھی جس میں حضور نے اورحضور محدث کبیر نے مفتی غلام محمدصاحب کے بائیکاٹ کااعلان فرمایا ہے۔ اس کے جواب میں حضرت نے فرمایا کہ ان سے جو اختلاف ہواتھا ایک مسئلے کے سلسلے میں وہ ایک معمولی اختلاف تھا۔اس سلسلے میں جمشید پورمیں کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔ اس پورے مسئلے کی حقیقت کو جاننے کے لئے آپ مولانا شمیم احمدکانپوری نوری سے بات کرلیجئے وہ جوکہیں اسے مان لیجئے گا اس لئے کہ مسئلہ انہیں سے متعلق تھا۔
پاکستان میں مدرسہ منہاج القرآن کے بانی ڈاکٹر طاہر القادری جو کئی کتابوں کے مصنف ہیں، بڑے چالاک اور سیاسی مزاج کے آدمی ہیں، کئی مسائل میں انہیں علمائے اہل سنت وجماعت سے اختلاف ہے جس میں سے ایک دیت کامسئلہ ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ تمام باطل فرقوں مثلاوہابیوں، دیوبندیوں ، شیعوں سے اختلاط کوجائزسمجھتے ہیںان کی نمازجنازہ اورنکاح کودرست مانتے ہیں۔ ۲۰۰۳ء میں انہوں نے اپنے آپ کومجددکے خطاب سے بھی سرفراز کررکھاہے۔
وہ اپنے ہرکام کوبڑی خوبصورتی اوردنیاوی چمک دمک کے ساتھ پیش کرتے ہیں ، ٹیلی ویژن کے ذریعہ اپنی ہر چھوٹی بڑی بات اپنے لوگوں تک پہنچاتے ہیں ، ان کے معتقدین ان کی ہرصحیح اورغلط کی تائید کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک معاذ اللہ اسلام کی کوئی عظیم سے عظیم ہستی غلط ہوسکتی ہے مگرڈاکٹر طاہرالقادری سوفیصدی درست اورصحیح ہیں۔ ان کے معتقد ان کاجنم دن بڑے دھوم دھام سے مناتے ہیں عیسائیوں کی طرح کیک کاٹ کر تالیاں بجاتے ہیں۔ شمعیں روشن کرتے ہیں ، کئی سال پیشتر سے علماء اہل سنت پاکستان نے طاہرالقادری اوران کے گروہ کامذہبی اورسماجی بائیکاٹ کررکھا ہے۔ اس گروہ کے تقریباً تیس پینتیس طالب علم عراق میں تھے انہوں نے یہ پھیلارکھاتھاکہ افریقہ میں حضور تاج الشریعہ نے اپنے ایک عقیدت مند کو ایک کروڑ روپیہ میںسپاری دیاتھاکہ وہ طاہرالقادری صاحب کو قتل کردے، لیکن جب وہ شخص قتل کے ارادہ سے ڈاکٹر صاحب کے پاس آیا تو جناب کی صورت دیکھ کراس پرہیبت طاری ہوئی اوروہ اپنے بُرے ارادے سے تائب ہوکرڈاکٹر صاحب کے باڈی گارڈوں میں شامل ہوگیا۔ میں نے جب اس واقعے کی سچائی جاننے کے لئے حضور تاج الشریعہ سے دریافت کیاتو قدرے آپ برہم ہوئے اورارشاد فرمایا کہ کیایہی کام میرے لئے رہ گیاہے کہ لوگوں کے قتل کی سپاری دوں،پھر آپ نے فرمایا کہ ان افواہوں کی کہاں تک میں صفائی دیتاپھروں جولوگ یہ الزامات میرے اوپر لگاتے ہیں وہ دلیل کیوں نہیں پیش کرتے ہیں۔ انہیں باتوں کے درمیان حضرت نے ارشادفرمایا کہ اگروقت ہوتا تویہاں کے علماء سے ملاقات کرتا اوران کے نظریات کوجاننے کی کوشش کرتا کہ ان کے خیالات کیاہیں؟اتناسننا تھا کہ میری خوشی کی کوئی انتہانہ رہی، صرف ایک دن کاوقت تھا،میں نے حضرت سے عرض کیاکہ حضور میںعلماء عراق سے ملاقات کاانتظام کراتاہوں، میں نے فوراً اپنے کرم فرمادوست مولانا ابوساریہ صاحب سے رابطہ کیااورانہیں بتایا،مولانا نے فوراً وہاں کے چند مشائخ سے بات کی، ادھر ٹور کے مالک یوسف بھائی اور حضرت کے مرید فاروق درویش نے جامعہ صدام علوم اسلامیہ بغداد کے چانسلر ڈاکٹر محمد مجیدالسعید سے بات کی۔انہیں جب اطلاع ملی کہ ہندستان کے سب سے بڑے مذہبی قائد اوررہنما نبیرۂ اعلیٰ حضرت حضور ازہری میاں آئے ہوئے ہیں توانہوں نے فوراً دعوت کااہتمام کیا لیکن حضور تاج الشریعہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ چانسلر صاحب کی دعوت کسی بڑے ہوٹل میں ہوگی تو آپ نے اس وجہ سے منع کردیاکہ وہاں میز کرسی پرکھانے کاانتظام ہوگا اورمیں دسترخوان پر کھاتاہوں، رئیس جامعۃ صدام کی اس سے پہلے بھی ملاقات پاکستان میں ہوچکی تھی اس لئے وہ آپ کے بارے میں کسی قدر واقف تھے کہ آپ کا کوئی عمل اسلامی طریقے کے خلاف نہیں ہوتا ہے،فوراً انہوں نے کہاکہ شیخ جہاں پسندکریں گے میں وہیں ملاقات کے لئے آجائوں گا ،ایساہی ہوا حضرت کے ساتھ ہم چند لوگ دن کے تقریباً ۱۲بجے غوث پاک رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میںحاضری دینے کے لئے پہنچے ، ہم سب لوگ فاتحہ پڑھ رہے تھے کہ نمازظہر کاوقت ہوگیا، اذان ہوئی ، معمول یہ تھا کہ اذان کے وقت دربار شریف کادروازہ بندکردیاجاتاتھا، حضرت مزار پاک کے اندر تھے اذان ہوگئی ، ایک بڑی مشکل یہ پیش آئی کہ جامع غوث اعظم کے امام شیخ بکر شافعی المسلک اوران کی داڑھی ایک مشت سے کم تھی ، وہ پارلیمنٹ کے ممبراورحکومت کے قریبی لوگوں میں ہونے کے ساتھ ساتھ مزاجاً سخت تھے اگرکسی سے ناراض ہوتے تو اس کے خلاف اپنے اختیارات کے استعمال سے دریغ نہیں کرتے تھے ، امام صاحب کے احوال اورحضور تاج الشریعہ کے تصلب کے پیش نظر ہم ڈرے کہ معلوم نہیں امام صاحب کیا برتائو کریں۔ اذان ہوگئی جماعت کاوقت بھی ہوگیا، جماعت کھڑی ہوگئی اورحضور تاج الشریعہ دربارشریف کے اندر ہی رہے ، غوث اعظم کاکرم ہوا، امام صاحب اوران کے کسی آدمی نے کوئی مواخذہ نہیں کیا۔ جب جماعت ختم ہوگئی تو تاج الشریعہ دربارشریف سے باہر آئے اورمسجد کے برآمدے میںاپنی جماعت قائم کی، جماعت ختم ہوچکی تھی ابھی سنتیں پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں مولانا ابوساریہ صاحب آئے اورمجھے بلاکر کہا کہ حضرت کواطلاع کردیجئے کہ رئیس الجامعہ بنفس نفیس تشریف لاچکے ہیں،دربار غوثیہ کے باہر گیٹ پر کھڑے ہیں حضور کے انتظار میں، حضرت نے جونہی سلام پھیرا میں حضرت کومطلع کیا، حضرت دعا سے فراغت کے بعدفوراً باہر تشریف لائے ، میں حضرت کے پیچھے چل رہاتھا ،باہرآکر دیکھا تو عجیب ہی منظر تھا،رئیس الجامعہ جیسا باوقار اوربااثر شخص خودڈرائیونگ کرکے آیا اورباہر منتظر ہے، جیسے تاج الشریعہ پرنظر پڑی بڑی تیزی سے عام لوگوں کی طرح بڑھے مصافحہ و معانقہ کیا، جلدی میںگاڑی کی چابی بھی لگی رہ گئی جس کی وجہ سے گاڑی کااٹومیٹک ہارن بہت تیزتیزبجنے لگافوراً رئیس الجامعہ گاڑی کی طرف لپکے اس وقت عجیب حالت تھی رئیس الجامعہ کی ایک عام آدمی کی طرح کبھی یہ بٹن دبائیں کبھی وہ بٹن دبائیں اخیر میں جب چابھی نکالی تب ہارن بجنا بند ہوا، رئیس الجامعہ قدرے نادم ہوئے اس واقعہ سے اور آپ نے عفواً کہہ کر معذرت پیش کی پھر کچھ استقبالیہ اورخیر مقدمی کلمات کے بعد رئیس الجامعۃ نے حضور تاج الشریعہ کو اپنی گاڑی میںبٹھایا اورخود چلاکر شیراٹون ہوٹل لائے جہاں تاج الشریعہ ٹھہرے ہوئے تھے اورآپ کے رفقاء ہوٹل کے گراؤنڈ فلور پہ ہال کمرہ میں حضور تاج الشریعہ ، رئیس الجامعہ (چانسلر)دکتور بشار الفیفی رئیس قسم العقیدہ جامعۃ صدام علوم اسلامیہ ، دکتور محمداحمد شحاذہ استاذ کلیۃ اللغۃ وعلوم القرآن جامعہ صدام علوم اسلام
یہ ،مولانا ابوساریہ علیمی، مولاناانوار احمد علیمی اور ممبئی کے ایک رئیس فاروق درویش بیٹھے، مولاناابوساریہ علیمی نے نہایت نپے تلے اورمؤدبانہ اندازمیں حضورتاج الشریعہ کا تعارف عربی زبان میںکرایا ۔آپ نے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی نسبت کے ساتھ آپ کی علمی اوردعوتی حیثیت کواجاگر کیا، پھر باتوںکادور شروع ہوا، تقریباً ایک گھنٹہ تک یہ سلسلہ چلا، عربی زبان میں بالمشافہ گفتگو ہوتی رہی، رئیس الجامعہ اوردیگراساتذہ اس لحاظ سے کافی محظوظ ومسرور ہوئے کہ پہلاکوئی ہندستانی عالم ان سے ان کی زبان میں گفتگو کررہا تھا اوران کی باتوں کا جواب دے رہاتھا ورنہ ہندوپاک سے جتنے بھی علماو مشائخ جاتے ہیں زیادہ ترلوگ اپنا سفر زیارات تک محدود رکھتے ہیں اس لئے کہ وہ عربی جانتے ہوئے بھی عربوں سے بات نہیں کرپاتے اوراگرکبھی ضرورت پڑی تو ہندستانی طلبہ ترجمانی کرتے۔

رئیس الجامعہ وغیرہ کے اصرار پرحضور تاج الشریعہ نے اپنے عربی اشعار سنائے ۔عراقی علماء شیخ ازہری یاشیخ ہندی سے آپ کو یاد فرماتے ،اسی مجلس میںازہری پربات چلی تو تاج الشریعہ نے فرمایا کہ لاافتخر علی الازھری بل افتخر علی القادری مجھے ازہری ہونے پرفخر نہیں ہے بلکہ میں فخر کرتاہوں قادری ہونے پر۔ اسی موقع پر شمالی عراق کے مشہور شہر موصل خانقا ہ قادریہ کے ولی عہد شیخ بشار محمدامین الفیضی نے حضور تاج الشریعہ کواپنی خانقاہ کیلئے مدعو کیا لیکن تاج الشریعہ نے قلت وقت کے سبب معذرت فرمایا اورفرمایا کہ آئندہ میںوقت لے کر آئوںگا تو آپ حضرات سے عقائد و فقہ اور تصوف پہ تفصیلی گفتگو کروں گا۔

مجلس کے اختتام پرجب چلنے لگے تو رئیس الجامعۃ نے حضور تاج الشریعہ سے دعاکے لئے کہا تاج الشریعہ نے دعا فرمائی بعد سلام ومصافحہ کے مجلس برخاست ہوئی۔
مکتب الاعلام میں ایک دن میں دکتور محمد احمد شحاذہ سے ملاقات کے لئے گیا، سلام اور خیریت طرفین کے بعدکہنے لگے کہ شیخ ازہری کی عمر کیاہوگی میںنے عرض کیاتقریباًساٹھ سال تعجب کرنے لگے کہاکہ میں تو ان کے چہرے کو دیکھ کرنوے سال کاسمجھ رہاتھا ۔ پھر خود ہی تاج الشریعہ کی عربی دانی کی تعریف کرنے لگے اور کہاکہ شیخ ازہری کے اشعار بعض شعرائے عرب سے اچھے ہیں ۔ اسی مجلس میں آپ نے کہاکہ کیاپوراہندستان امام موصوف کی تعریف کرتاہے اوران کے نام پر دل کھول کر خرچ کرتاہے۔ میں نے جواباً عرض کیااستاذ: اہل ہند امام احمدرضا سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اس لئے کہ امام نے اہل ہندکوبدعقیدگی سے بچایاہے اس لئے لوگ جان و دل اُن پر نثار کرتے ہیں۔حضور تاج الشریعہ نے شیر خدا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مزارمبارک پرترنم میں عربی قصیدہ پڑھا تھا جسے ابورند نامی ایک عراقی نے ریکارڈ کیاتھا ۔ جب وہ ملتا تاج الشریعہ سے اپنی عقیدت و محبت کااظہار کرتا ،حضور تاج الشریعہ کاسفربغداد صرف چار دنوں پرمشتمل تھا ، وقت بہت کم تھا، آپ کے ساتھ چالیس لوگ تھے ، کچھ کراچی سے کچھ جدہ سے کچھ افریقہ اور انڈیا کے ممبئی و گجرات کے لوگ تھے، جدہ سے طارق حسن، افریقہ سے عسکری اورانڈیا سے فاروق درویش صاحبان کے نام یاد رہ گئے ہیں، بغداد شریف میں تاج الشریعہ کی بے نیازی دیکھی کہ فاروق درویش جیسے ارب پتی اوریوسف بھائی ٹور والے کو بھی احکام شرع بتانے میں گریز نہیں کیا بلکہ پوری سختی کے ساتھ اظہار حق کیا۔ فاروق درویش صاحب نے چاہا کہ بغداد شریف کے کچھ علماء کی تاج الشریعہ سے ملاقات ہو جائے تاکہ رابطہ کی صورت پیداہو، تاج الشریعہ نے یوسف بھائی کوبلاکر پوچھا کہ جولوگ ملنے آرہے ہیں وہ ٹائی والے تو نہیں ہیں،یوسف بھائی نے کہاکہ حضرت یہاں تو عام رواج ہے ٹائی کاکیسے منع کیاجائے گا، اتنا سننا تھا کہ اس قدر برہم ہوئے کہ پورا ہال گونج اٹھا اتنے میں بھاگتے ہوئے فاروق درویش آئے حضرت نے دریافت کیا درویش یہ تم نے کیاکیادرویش صاحب پھٹکار سن چکے تھے فوراً بولے نہیں حضور وہ لوگ ٹائی لگاکر نہیں آئیں گے جولوگ بھی ملیںگے۔ سب بغیر ٹائی کے ہوں گے تاج الشریعہ کی کن کن باتوں کاتذکرہ کروں اس سفر میں تاج الشریعہ ،مخدومہ اہلیہ صاحبہ ، صاحبزادہ گرامی مرتبت عسجد میاں صاحب بھی شریک سفر تھے۔
تاج الشریعہ جب بغداد سے واپس ہونے لگے تو میں بھی ائیر پورٹ گیا چھوڑنے کیلئے پرواز میں تاخیر تھی حضرت تاج الشریعہ اوردیگرلوگ ائیرپورٹ کے اندر داخل ہوگئے۔میں اندر داخل نہیں ہوسکتا تھا پھر بھی میںنے گارڈکودکھایا کہ دیکھو وہ شیخ جواندر بیٹھے ہوئے ہیں ان سے مجھے ملناہے اگر تم چاہو تو اجازت دیدو اس نے ایک نظر دیکھا اورکہا چلے جائو، پھر کیاتھاایک گھنٹہ سے زائد وقت ائیر پورٹ پہ ملا ، بہت سارے سوالات میں نے تاج الشریعہ سے کئے حضرت نے شافی وکافی جواب عطافرمائے ، ائیر پورٹ کے اندر ہی تاج الشریعہ نے عشاء کی امامت کی سب لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز پڑھی مجھے لگا کہ جو لوگ تصلب برتتے ہیں اوربلاجھجھک شریعت پر عمل کرتے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ راستے ہموار کردیتاہے اورجو لوگ ڈرتے ہیں یا دوسروں کی رعایت میں شریعت کو متاخر کرتے ہیں یااپنے غلط افعال اورتساہل اپنے کی تاویل کرتے ہیں ان کے لئے ہرجگہ دشواریاں اورپریشانیاں درپیش آتی ہیں۔
میں نے اہل عراق کی آزاد خیالی اورمغرب پسندی بھی دیکھی اوراس سرزمین پراما م احمد رضا ، حجۃ الاسلام اورمفتی اعظم ہند کے شہزادے حضور تاج الشریعہ فقیہہ اسلام ، جانشین حضور مفتی اعظم ہند قاضی القضاۃ فی الہند ، سیدی و سندی ، کنزی وذخری مفتی الشاہ محمداختر رضاخاں قادری ازہری مدظلہ العالی کاتصلب بھی دیکھا ۔اتباع سنت و شریعت بھی دیکھا، آپ کی انہیں کیفیات و حالات کو دیکھ کردکتور محمدمجید السعید چانسلر جامعہ صدام علوم اسلامیہ نے کہا کہ آپ قرن اولیٰ کے مسلمانوں کی یادگار ہیں۔ آپ کی زندگی ابتدائے اسلام کے لوگوں کے طریقہ پر ہے۔ ہر چھوٹی بڑی سنت اورطریقے کی پیروی آپ کا طرۂ امتیاز ہے۔ تاج الشریعہ کی زندگی کو دیکھ کر برملا زباں پر یہ شعر آتا ہے۔

آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

لیکن اس وقت افسوس ہوتاہے جب عالم اورمفتی و پیر کہلانے والے لوگ اپنے مریدوں کی رعایت میں غلط باتوں کی تائید وحمایت کرنے لگتے ہیں۔بعض تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہرمسئلہ ہر جگہ نہیںنافذ ہوتاہے اور بعض تواتنے من چڑھے اورراہ سے بھٹکے ہوئے ہیں کہ مسلک و مذہب کی پرواہ کئے بغیر بدمذہبوں اورگستاخان نبی وولی سے اختلاط کرنے لگتے ہیں اورجب کوئی ان کی گرفت کرتاہے تو وہ غلط تاویل کرنے لگتے ہیں ۔ کسی نے صحیح کہاتھا۔

مثال تال تمبورہ الگ یہ سب سے رہتے ہیں
ذراسی چھیڑ کے دیکھو ملے یہ سب میں رہتے ہیں

اللہ تعالیٰ حضورتاج الشریعہ کی عمر میں برکت عطا فرمائے اورعلماو مشائخ سے بے راہ روی و صلح کلیت کو دور فرمائے۔ آمین

Menu
error: Content is protected !!