حضورتاج الشریعہ اور علمائے عرب

مولانا یونس رضا مونس اویسی ، بریلی شریف ، انڈیا


اسلام میں عرب مقدس کانکہت و جمال اورفضل وکمال کس جامعیت و مانعیت اورخصوصیات کاحامل ہے ہرادنیٰ واعلیٰ پر بحسب المراتب وتاریخ کی دلچسپی کے لحاظ سے ظاہر و باہر اور آفتاب نیم روز ہے۔
چنانچہ وجہ وجود کائنات ، فخر موجودات ہمارے آقا و مولیٰ سید البشر حضرت محمد مصطفی علیہ التحیۃ والثناء اسی مقدس سرزمین پررونق افروزہوئے اور جلوہ فرماہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کامقدس کلام قرآن عظیم کانزول یہیں ہواورانہیں عربوں کی زبان میں اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام نازل فرمایا۔ یہیں سے اللہ تعالیٰ کے سچے دین کے داعی حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کی تبلیغ فرمائی اوراسلام کی راجدھانی اسی مقدس زمین کو کیااوریہیں ہزاروں شخصیات ایسی جانثار معرض وجود میں آئیں جس کے بابت امام اہل سنت اعلیٰ حضرت رضی المولیٰ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

تیرے غلاموں کانقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جویہ سراغ لے کے چلے

ہمیں اسی مقدس سرزمین عرب کے کچھ پاک طنیت علمائے ربانین اورہندستانی مسلمانوں کے رہنما وقائد امام اہل سنت ، مجدد اعظم اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ خانوادۂ رضویہ کے بزرگان دین کے مابین شفیقانہ روابط ، عقیدت مندانہ تعلق اورگہرے مراسم کاتذکرہ مطلوب ہے۔
چودھویں صدی ہجری کے پرآشوب و پرفتن ماحو ل سے کون آشنا نہیں جس دور میں ایمانی لٹیرے لبادۂ صوفیا و صلحا میں ایمان و اسلام کو تباہ وبرباد کرنے پر تلے ہوئے تھے ، اسلام کومسخ کرناچاہتے تھے مگراللہ کے دین ’’اسلام ‘‘ کی صورت کون بگاڑ سکتاتھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام باطل عقائد کی بیخ کنی کے لئے علماء فقہا کی پرنورہستی سے دنیا کوجگمگایااوران اساطین امت کے ذریعہ باطل عقائد و نظریات کے پردے چاک کرائے۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ اسی دور کے مجاہد اعظم اورسپہ سالار ہیں جنہوں نے بڑھ چڑھ کر تمام باطل نظریات وعقائد کار دفرماکر اسلامی عقائد و نظریات سے لوگوںکو واقف کرایااوراس طرح مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائی امام اہل سنت اسی ماحول بد اورپرفتن دور میں تنبیہہ فرماتے ہوئے رقم طراز ہوتے ہیں ؎

سوناجنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے

(الخ)

تفصیل میں جانے کاموقع نہیں بہرحال امام اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ نے ہندستانی مسلمانوں کی خصوصاً اور تمام مسلمانوں کی عموماً رہنمائی فرمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مذہب حق اہل سنت والجماعت کی پہچان آپ کی ذات اقدس کی طرف منسوب ہوکر کی جاتی ہے یعنی ’’مسلک اعلیٰ حضرت‘‘۔
جب امام احمد رضا کاعلم و عمل چرچے میں آیا اورلوگوں نے امام کاکئی کئی زاوئیے اورنقطہ نظر سے مشاہدہ کیاتو وہ عرب ہوں یا عجم سب کے سب نے ایک زبان ہوکران کو اپناامام و پیشوا اور’’مجدد مائۃ حاضرہ‘‘ تسلیم کیا۔ طرح طرح کے القاب و آداب سے یاد کیا، مکۃ المکرمہ میں امام احمدرضاعلیہ الرحمہ نے فقط آٹھ گھنٹے میں بلاکسی کتاب کی مدد کے محض قوت حافظہ سے علم غیب کے موضوع پر ’’الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبۃ‘‘ تحریر فرمائی اورایک رسالہ نوٹ کے تعلق سے ’’کفل الفقیہ الفاہم باحکام القرطاس الدراہم‘‘ لکھا اورفرق باطلہ کے عقائد کی بیخ کنی کی اورمسئلہ شرعیہ حقہ کو واضح فرماکرعوام وخواص میں پیش کیاتو آپ کی شہرت کو اورچار چاند لگ گئے جو آج بھی حسام الحرمین کی شکل میں بطور امانت محفوظ ہے اورتب عرب وعجم کے علماہ و فقہا و مشائخ کے قلوب واذہان آپ کی طرف عقیدت مندانہ جھکنے لگے اورامام احمدرضا مرجع عوام و علماء و مشائخ بنے۔ امام احمد رضا کا فیضان عجم ہوں یاعرب سب پربرسااورجم کربرسا، متعدد عربی علماء کرام مشائخ عظام نے آپ سے بیعت وارشاد کارشتہ جوڑا۔ آپ نے عرب کے بہت سے علماء کرام فقہا عظام کوسند احادیث وافتااوراجازت وخلافت عطا فرمائی ہے جسے تفصیل درکار ہوالاجازت المتینہ اور دیگر سوانحی کتابوں میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
الحمدللہ وہ سلسلہ نورانی اس دور سے لے کر آج تک جاری و ساری ہے امام احمدرضا کے بعد عرب علماء نے سرکار سیدنا حضورمفتی اعظم سے اسی طور پر روابط ومراسم رکھے چنانچہ سرکار مفتی اعظم ہند کے بھی متعدد خلفاء و مریدین عربی ہیں۔ ان میں کچھ آج بھی بقیدحیات ہیںاورخلفاء سلسلہ کاکام انجام دے رہے ہیں۔
اور آج بھی مفسراعظم ہند کے نورنظر حجۃ الاسلام کے لخت جگرحضور مفتی اعظم کے جانشین امام احمدرضا کے علوم و کمال کے سچے وارث، جامع معقول و منقول ، حاوی اصول و فروع، امیر ملت، فقیہ امت، جامع محاسن اخلاق حمیدہ ،بقیۃ السلف، حجۃ العلم والعمل ،بحرالعلوم ، ممتاز المشائخ، عارف باللہ ، شیخ الاسلام والمسلمین ، مفتی اعظم ، تاج الشریعہ بدرالطریقہ قاضی القضاۃ فی الہند استاذ نا سیدنا ومولانا وملجانا حضرۃ العلام الشیخ المفتی محمداختر رضاقادری ازہری دام ظلہ علینا کی شخصیت جامع الفضائل و الکمالات اورمرجع علماء عوام ہے۔ آج آپ عرب وعجم ہرایک کے لئے اعلیٰ حضرت، حجۃ الاسلام ، مفتی اعظم، مفسراعظم علیہم الرحمہ کی حیثیت رکھتے ہیں مذکورہ برگزیدہ شخصیات کے القاب و آداب ، علم وعمل فضل وکمال کے مصداق ہیں۔ آج پوری دنیائے سنیت کی اکثریت خواہ وہ علماء ہوں یاعوام آپ سے ارادت و نسبت رکھتے ہیں اوراس پرفخر کرتے نظر آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے استاذ مکرم حضور تاج الشریعہ مدظلہ کو ہر میدان میں وہ مقام عطافرمایا ہے جس کے فضائل احاطہ شمار سے باہر ہیں۔ آپ شریعت وطریقت اور حقیقت ومعرفت میںاونچا مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عجم تو عجم جب عرب کے علماء کاملین آپ سے ملاقات کرتے ہیں تو آپ ہی کے ہوکر رہ جاتے ہیں۔ جب انگریزی داں ملکوں کے دانشور آپ سے بات کرتے ہیں تو آپ کی گفتگو سن کر انگشت بدنداں نظرآتے ہیں جسے اللہ نے توفیق بخشی کہ وہ ایمان کی دولت سے سرفراز ہوگا محض آپ کے جلوۂ زیبا کی زیارت سے آغوش اسلام میںداخل ہوتے ہیں گویا آپ کاجلوۂ زیبا اسلام کی حقانیت کامظہر ہے۔ ذلک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء۔
حضرت تاج الشریعہ مدظلہ کے خدام جوحضور کے ساتھ باہرممالک میں شریک سفر ہوتے ہیں اورفقیر مونس اویسی کے مشاہدے کے حوالے سے یہ تحریر لکھی جارہی ہے کہ عرب علماء جب حضور سے ملتے ہیں اورگفتگو کرتے ہیں توان علماء کی زبانیں تعریف و توصیف بیان کئے بغیر نہیں رہتی ہیں اورآپ سے سند الحدیث والافتاء کے طالب ہوتے ہیں،اورتلمذ کے سلسلہ سے متعلق ہوجاتے ہیں اورارادت وسلوک کی نسبت بھی چاہتے ہیں۔چنانچہ عرب کے بڑے بڑے علماء وفقہا حضور کے تلمیذ ہیںاورسلسلہ رضویہ میںمجاز وماذون ہیںنیزاسناد احادیث وافتاء سے نوازے گئے ہیں۔
علمائے عرب کی بریلی تشریف آوری
محدث مکۃالمکرمہ حضرۃ العلام شیخ الشیوخ سید محمد بن علوی حسنی عباسی مالکی قدس سرہٗ السامی خلیفہ سرکار سیدنا حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ، استاذ ناالمکرم حضرت تاج الشریعہ مدظلہ کی دعوت پر بریلی شریف مرشداجازت واعلیٰ حضرت علیہما الرحمہ کی بارگاہ میں حاضری کے لئے ۴ ربیع النور ۱۴۲۵ء مطابق ۲۵؍اپریل ۲۰۰۴ ء کو تشریف لائے ، استاذی الکریم مدظلہ نے ان کے شایان شان استقبال کاانتظام فرمایا قرب و جوار کے مدارس کے علماء ومدرسین، مقررین، معززین کو دعوت دی گئی تمام حضرات شمالی ہندستان کے یکتائے روزگار بے مثال ادارہ جامعۃ الرضا مرکز نگر بریلی شریف وقت مقررہ پر تشریف لے آئے ، علامہ علوی قدس سرہ ٗ العزیز کے قیام کاانتظام بریلی شریف کے ایک عمدہ ہوٹل اوبرائے آنند میں کیاگیاتھا۔موصوف صبح ۱۰؍ بجے تک بریلی شریف تشریف لائے تقریباً۱۲؍بجے دوپہر میں حضور تاج الشریعہ مدظلہ محدث اعظم ہندستان ،محدث مکۃ المکرمہ حضرت علوی صاحب سے ملاقات کرنے ہوٹل پرتشریف لے گئے فقیر بھی حضور کے ساتھ تھا، جب وہاں پہنچے دونوںبزرگ ایک دوسرے سے ملے معانقہ و مصافحہ کیا اورآپس میں ایک دوسرے کی دست بوسی فرمائی اوردونوں بیٹھ گئے ، گفتگو ہونے لگی دوران گفتگو حضرت تاج الشریعہ نے ہم لوگوں کاتعارف کرایا اورفرمایا یہ حضرات میرے تلامذہ ہیں۔ علامہ علوی بہت مسرور ہوئے دعائیں دیں۔دوپہر کے طعام کاانتظام حضرت کے گھر پرتھاتھوڑی دیربعدعلامہ علوی تشریف لے آئے طعام کے بعدمزار اقدس پرحاضری دی اورجامعۃ الرضا تشریف لے گئے، وہاں حضور تاج الشریعہ نے حمدیہ اشعار جو عربی میں تحریر فرمائے ہیں ترنم میں پڑھے ، شیخ علوی بہت متاثر ہوئے اورحضرت کی بے پناہ تعریف کی اوردوران تقریر حضور تاج الشریعہ مدظلہ کو’’مفتی اعظم عالم‘‘ کے گرامی لقب سے سرفراز فرمایا اورفرمایا میں حضرت تاج الشریعہ کواس مقام پر فائز محسوس کرتاہوں جس سے الفاظ وحروف کی تعبیر آشنا نہیں اورپھرمختلف ملکوں کے دورے کاذکر فرمانے کے بعدارشادفرمایا کہ آج مسلمان اسلامی تعلیم سے کوسوں دور ہے حضرت تاج الشریعہ کاجامعۃ الرضا قائم فرماناخوش آئند ہے اوراس کامستقبل روشن ہے۔ حضور تاج الشریعہ انہیں جبہ ودستار اورکچھ نذر ونیاز سے آداب مہمانی بجالائے اور اپنی تصانیف سے کچھ انہیں عنایت کیا، جب علامہ علوی نے ’’نموذ ج حاشیۃ الازہری‘‘ مرتب کردہ راقم الحروف کاملاحظہ کیاتوبے انتہا خوشی کااظہارفرمایا اورمحدث حنفی، محدث عظیم، عالم کبیر وغیرہاالقاب وآداب کے ساتھ یادکیاراقم کانام جب دیکھا تو میری طرف نظر عنایت کی اوردعائیں دیں اورفرمایا کہ برکات الٰہیہ میںاللہ تعالیٰ بے پناہ حصہ تمہیں عطا فرمائے، اسی شام کو علامہ علوی بریلی شریف سے روانہ ہوئے ، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور غریق رحمت کرے۔
بغداد شریف میں محلہ اعظمیہ کے امام اعظم مسجد کے امام و خطیب حضرۃ العلام الشیخ محمدعمر بن سلیم المہدی الدباغ مدظلہ ، پچھلے سال جامعۃ الرضا میںشیخ الادب کے عہدے پر فائز تھے ، فقیر کے آپ کے ساتھ کئی مہینے گزر ے ہیں، شیخ صاحب حضرت تاج الشریعہ اورصدرالعلماء علامہ تحسین رضاقدس سرہٗ کی تعریف و توصیف بڑی عقیدت مندانہ انداز میںفرماتے تھے ،شیخ نے حضور تاج الشریعہ مدظلہ کی شان میںعربی میں منقبت بھی لکھی جوانہوں نے عرس رضوی ۲۰۰۷ ء میںجامعۃ الرضا میں ۲۴؍ صفر کو منعقدہ امام احمد رضا کانفرنس میں پڑھی علمائے کرام بے پناہ محفوظ ہوئے شیخ نے فقیر سے فرمایا کہ حضرت تاج الشریعہ مدظلہ سے سند الحدیث والافتاء اوراجازت و خلافت کے لئے سفارش کیجئے فقیر نے حضرت سے عرض کیااورحضور تاج الشریعہ نے ۱۲؍ ربیع النور کی پررونق محفل میںانہیں اس فیضان سے مالامال فرمایا جس کااعلان بھی فقیر ہی نے کیاتھا، انشاء اللہ کسی دوسرے موقع سے اورباتیں قلمبند کرکے قارئین کی خدمت میںحاضرکرنے کی کوشش کروںگا۔
اس سال عرس رضوی کے موقع سے فلسطین سے سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ اورنابلس شہر کے ادارہ جامع کبیر کے فقہ وعقائد کے استاذ حضرۃ العلام شیخ جمیل بن عارف حسینی شافعی اشعری دام ظلہ تشریف لائے اوراس موقع سے تین خطاب فرمائے جس میںانہوں نے حضورتاج الشریعہ کی بے پناہ تعریف کی اوراجازت وخلافت اورسندالحدیث کے طالب ہوئے حضور نے انہیں بھی عطا فرمایا ۔ شیخ جمیل نے فرمایا کہ حضور تاج الشریعہ کی ذات وہ ذات ہے کہ ان کے توسل سے دعائیں مانگی جائیں تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور قبول فرمائے گا۔ شیخ فلسطین حضرۃ العلام سید جمیل بن عارف حسینی شافعی اشعری نے اپنے خطاب میںعقائد پر زور دیا اوراشعر یہ وماتریدیہ کے عقائد حقہ کو واضح فرماتے ہوئے بتایا کہ آج کے پرفتن ماحول میںماتریدی واشعری عقائد سے منحرف کرنے کا ماحول گرم ہے ہرطرف سے اہل سنت والجماعت پرحملے ہیں، اہل سنت والجماعت کے متبعین کے ایمان کے درپے ہیں، اگرغور کریں تومخالفین اسلام پوری دنیا میںاسلام کے خلاف خاموش جنگ میںمصروف ہیں ہمیںضرورت ہے کہ ایسے وقت میںاپنے ائمہ کرام کی روش پرثابت قدم رہیں اوراس کے پیچھے علمائے اہل سنت بالخصوص شیخ الاسلام والمسلمین عارف باللہ مجدد اہل السنۃ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ کی محنت شاقہ مضمر ہیں جب کہ ان کے خلاف وہابیہ نجدیہ، غیرمقلدیہ ہمہ تن مصروف رہتے ہیںجب ہم امام ہمام سیدناومولانا محمداحمدرضاخاں مجدد سے متعارف ہوئے ان کی تحریریں مطالعہ کیں اورپھر یہ جانا کہ ہندستان میںعقائد کی نشرواشاعت کرنے والوں میں امام احمد رضاعلیہ الرحمہ کازبردست حصہ ہے نیز مدعیان اسلام نام نہاد کلمہ گو کے عقائد باطلہ کے رد کرنے والے ہیں تو بے پناہ مسرت ہوئی اورمیرے دل میں شوق پیداہوا کہ میں ہندستان جاکر ان کی بارگاہ میںحاضری دوں، جب میں ہندستان پہنچا تو ان کی شخصیت پرگفتگو ہوئی اوریہ معلوم ہوا کہ ہندستان میںاہل سنت والجماعت کومسلک اعلیٰ حضرت سے بھی جانتے پہچانتے ہیں۔ یعنی پیروکار مسلک اعلیٰ حضرت والے اہل سنت والجماعت ہیں۔ سبحان اللہ یہ عظیم نسبت کہ سنیت کی پہچان اعلیٰ حضرت کی شخصیت کی طرف ہوکر ہورہی ہے۔ یہ انعام الٰہی ہے۔ ذلک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشاء اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کوعقائد اشعریہ و ماترید یہ پر ثابت قدم رکھے اورغیروں کوہدایت دے وہ راہ راست پرآجائیں۔ شیخ نے اپنی تینوں تقریروں میں حضرت تاج الشریعہ مدظلہ کی تعریف و توصیف کی اورآپ کے لئے شیخ الاسلام والمسلمین، عارف باللہ، شیخ الکامل جیسے القابات کااستعمال فرمایا، ۲۴صفرالمظفر ۱۴۲۹ھ کو ’’امام احمدرضا ٹرسٹ‘‘ کی حضور تاج الشریعہ مدظلہ کی صدارت میںسالانہ میٹنگ بمقام علامہ حسن رضاکانفرنس ہال مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف میں ہوئی جس میں شیخ جمیل مدظلہ نے شرکت فرمائی جامعہ دیکھ کر نہایت خوش ہوئے پھرجامعہ کے نظام تعلیم سے متعلق فقیر سے گفتگوکی ، میں نے اختصار کے ساتھ جامعہ کے نظام تعلیم اور اصول وضوابط بتائے، سن کربہت محظوظ ہوئے میٹنگ میں شیخ کومائک پر مدعو کیاگیا شیخ کوجو معلوم تھا اسے بیان کرتے ہوئے مفید مشوروں سے نوازا ساتھ ہی یہ فرمایا کوشش رہے کہ یہ جامعہ عالمی جامعات میں شمار ہو اور امام رضا کافیضان عام ہو۔
مجلسی گفتگو میں ذکر کیاکہ امام ہمام اعلیٰ حضرت کی چند کتابیں مجھے ملیں مطالعہ کیا بہت خوب ہیں مجھے ان کی تصنیفات درکار ہیں اورضرورت ہے کہ ان کے عقائد و نظریات اورخدمات کوعام سے عام ترکیاجائے، ’’شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام‘‘ تعریب حضرت تاج الشریعہ اور’’تحقیق ان ابا ابراہیم تارخ لاآزر‘‘ تصنیف تاج الشریعہ اوردیگر چند کتابیں شیخ کودی گئیں انہوں نے اپنے دوروزہ قیام میں  مطالعہ فرمانے کے بعداس پرتقریظ بھی تحریر فرمادی۔ شیخ جمیل مدظلہ مولانا سیدابدال حنفی رضوی آندھراپردیش اورمولانا غلام احمدرضا شافعی رضوی بھیونڈی کی دعوت پر انڈیا تشریف لائے یہ دونوں حضرات شیخ کے تلمیذ ہیں۔ شیخ جمیل نے ۲۶؍صفرالمظفر ۱۴۲۹ھ کو حضرت تاج الشریعہ سے رخصت اجازت لی اوریہاں سے سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم المرتبت بزرگ مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میںحاضری کے لئے سرہند پنجاب روانہ ہوگئے۔
اول الذکر شیخ حضرت علامہ علوی مالکی قدس سرہٗ ، حضرت علامہ مولانایٰسین اخترمصباحی، حضرت مولاناڈاکٹر غلام یحیٰ انجم، حضرت علامہ مولانا محمدشمس الہدیٰ رضوی ، حضرت علامہ مولانا محمدشعیب رضا نعیمی صاحبان کی کوششوں سے حضورتاج الشریعہ کی دعوت پر بریلی رونق افروز ہوئے تھے۔ ثانی الذکر حضرۃ العلام شیخ عمر بن سلیم المہدی مدظلہ، شہزادہ ٔ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا محمد عسجد رضامدظلہ کی تحریک پر حضرت تاج الشریعہ کے مریدین کے توسط سے بالخصوص جناب محمد طارق رضوی صاحب کی کوشش سے جامعۃ الرضا میں تدریسی خدمت انجام دینے کے لئے بلائے گئے تھے۔
تینوں شیوخ سادات سے ہیں جب انہیں بتایا گیا کہ امام احمدرضا سادات کی تعظیم کس درجہ کرتے تھے اوریہ خانوادہ سادات کرام کے ساتھ کس احترام کے ساتھ پیش آتا ہے توبہت خوش ہوئے اور غالباً شیخ عمر سلیم مدظلہ نے فرمایا کہ عاشق رسول علیہ السلام کی یہی شان اورپہچان ہوتی ہے۔
شیخ علوی مالکی، شیخ عمر مہدی حنفی، شیخ جمیل نقشبندی شافعی کے لبہائے مبارکہ سے حضرت تاج الشریعہ مدظلہ کی شان میں تعریف و توصیف کے جوجملے صادر ہوئے القاب و آداب کے الفاظ جاری ہوئے وہ فقیر نے سناہے اورکیسٹوں میں ان کی تقریریں بھی محفوظ ہیں۔
اب ذرایہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ علمائے عرب کے قلم مبارک شان تاج الشریعہ میں کیارقم کرتے ہیں۔ جن علمائے عرب کے قلم سے صادر کلمات تحریر کئے جارہے ہیں وہ عرب دنیامیںبڑے عالم کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی شان نہایت عالی ہیں ان کی تحریریں اسی درجہ مقبول اورعالی ہیں پڑھئے اوراندازہ کیجئے کہ حضرت تاج الشریعہ مدظلہ کاعلمائے عرب کی نظرمیں کیامقام و مرتبہ ہے۔ یہ بڑے بڑے علماء حضور تاج الشریعہ کے متعلق کیانظریہ رکھتے ہیں۔
استاذ الفقہا المحققین والمدققین، تاج الشریعہ ، بدرالطریقہ ، شیخ الکامل استاذ نادمولانا سیدناو سندنا حضرت  علامہ مفتی محمداختر رضاقادری ازہری مد ظلہ قاضی القضاۃ فی الہند، مفتی الاعظم فی الہند کے فضل و کمال ، علم و عمل ، تقویٰ وفتویٰ سے کون واقف نہیں دانشوران عظام کا طبقہ بخوبی جانتا مانتا ہے کہ حضور تاج الشریعہ علم کے سمندر اوربے شمارخوبیوں کے مالک ہیں ، مصرکے ایک استاذ حمد محمدشاکر نے اپنے ایک تحقیقی مقالہ میں تحریر کیا ہے کہ آزر حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے والد ہیں جب کہ آزروالد نہیںچچا ہیں اور آپ کے والدتارح/تارخ ہیں، حضرت سیدی تاج الشریعہ مدظلہ نے جب یہ مقالہ پڑھا تو فقیرسے اس کے رد کااملاء کرایا اوراس کانام ’’تحقیق ان اباابراہیم تارح لاآزر‘‘رکھا پھرامام اہل سنت اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا قدس سرہٗ کی ایمان افروز کتاب ’’شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام‘‘ کی تعریب فرمائی یہ دونوں نوری رسالہ ایک ساتھ ضم کرکے شائع کردئیے گئے ہیںاورعرب سے بھی چھپ چکے ہیں۔جب یہ علمائے عرب کے ہاتھوں میںپہنچی اورانہوں نے اس کامطالعہ کیا توانہوں نے اس پرتقریظیں لکھیں اس میں انہوں نے امام اہل سنت کو بڑے ادب سے بڑے بڑے القاب وآداب سے یاد کیا ہے اورحضور تاج الشریعہ مدظلہ کی شان میں جن القاب وآداب کااستعمال فرمایا ہے اس سے اندازہ ہوتاہے کہ عرب علماء آپ سے کس درجہ متاثر اورآپ کے علم و عمل کے معترف ہیں،میں ان کی تقریظات مبارکہ سے ان مقامات کونقل کرتاہوں جوالقاب وآداب پرمشتمل ہیں۔
حضرت علامہ عیسیٰ بن عبداللہ بن محمد بن مانع حمیری عمید کلیۃ الامام مالک للعلوم الشرعیہ دبئی آپ عرب دنیا کے مرجع عوام و علماء ، عالم وفاضل ہیں اوردبئی حکومت کے وزیر اوقاف رہ چکے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں۔’’فقد اطلعت علی حاشیۃ الشیخ العارف باللہ المحدث محمداختر رضا الحنفی القادری الازہری الخ‘‘
اس میں انہوں نے حضورتاج الشریعہ کوعارف باللہ، محدث ، شیخ سے یاد کیا،۔حضرت علامہ سید عبداللہ بن محمد بن حسن بن فدعق ہاشمی مکی۔ آپ مکہ معظمہ کے شیخ اور عالم وفاضل ہیں۔ علامہ شیخ علوی مالکی علیہ الرحمہ کے شاگرد ہیں ، عرب علماء میںاونچی شان کے مالک ہیں۔آپ فرماتے ہیں
’’فضیلۃ الامام الشیخ محمداختر رضاخاںالازہری المفتی الاعظم فی الہند الخ‘‘
انہوں نے امام شیخ مفتی اعظم ہندسے یاد کیا، حضرت علامہ ابومحمد شیخ موسیٰ عبدہ یوسف اسحاق مدرس الفقہ والعلوم الشرعیہ ونسابۃ الاشراف الاسحاقیہ الصومالیہ، آپ صومالیہ کے بڑے عالم اوراستاذ ہیں، تحریر فرماتے ہیں:
حفیدہ (امام اھل سنۃ)الازہری الاستاذ الاکبر،تاج الشریعۃ فضیلۃ الشیخ محمداختر نفعنا اللہ بعلومہ وبارک فیھا۔
استاذ اکبر، تاج الشریعہ ،فضیلۃ الشیخ سے یاد کیا۔ حضرت علامہ شیخ واثق فواد عبیدی مدیر ثانویہ شیخ عبدالقادر کیلانی قدس سرہٗ رقمطراز ہیں:
وفق اللہ شیخنا الجلیل ، صاحب الرد القاطع، مرشد السالکین المحفوظ برعایۃ رب العالمین، العالم الفاضل محمداختر رضاخاں الحنفی القادری الازھری وجزاہ خیرمایجازی عبدآمن عبادہ الخ

اورایک دوسرے مقام پر اسی میں لکھتے ہیں:
التی قالھا بفھمہ الطیب، وترجمہا بیدہ المبارکۃ الشیخ تاج الشریعہ العلامۃ محمداختر رضاخاں الحنفی القادری الازھری الخ
شیخنا الجلیل ، صاحب ردقاطع ، مرشدسالکین ، محفوظ برعایۃ رب العالمین ، عالم فاضل ، شیخ ، تاج الشریعہ علامہ سے یاد فرمایا۔ حضرت شیخ جمال عبدالکریم الدبان مفتی دیار عراقیہ بغداد، آپ بغداد کے مفتی اوربڑے رتبے کے عالم ہیں رقم طراز ہیں:
وقد متع نظری وسبح فکری فیما کتبہ الامام العلامۃ القدوۃ صاحب الفضیلۃ الشیخ محمداختر رضا الحنفی القادری ادامہ اللہ و حفظہ و نفع المسلمین ببرکتہ۔
امام علامہ قدوہ صاحب فضیلت شیخ سے یاد کیا۔
شیخ الہند شیخ الشیوخ علامہ تاج الشریعہ دام ظلہ العالی کامقام و مرتبہ علمائے عرب کے نزدیک کتنا بڑا ہے، ہم مسلمانان ہندان پرجتنا ناز کریں کم ہے۔ اللہ تعالیٰ کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہم ہندستانیوں کواتنابڑا عظیم الشان شیخ کامل عطا کیاہے۔ آج حضرت کی جوشان ہے وہ غیرکیا بیان کرسکتاہے خود حضرت سے سنئے آپ تحدیث نعمت کے طورپر فرماتے ہیں ع

مفتی اعظم کاذرہ کیابنااخترؔ رضا
محفل انجم میں اختر دوسراملتانہیں

جب حضرت تاج الشریعہ کایہ عالم ہے تو مفتی اعظم ، حجۃ الاسلام ، اعلیٰ حضرت علیہم الرحمہ کی کیاشان ہوگی۔

آج کل حضور مدینہ منورہ میں تشریف رکھتے ہیں آپ کے صاحبزادہ حضرت علامہ عسجد رضامدظلہ بھی ساتھ ہیں، عمرہ کے لئے تشریف لے گئے اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ سیدی استاذ ی حضرت تاج الشریعہ کاسایہ تادیر ہم پر بصحت و سلامتی قائم رکھے اوران کی نورانی زندگی سے فیض اٹھانے کاموقع عطا فرمائے اوران کی روش پرچلائے۔

آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وصحبہ اجمعین۔ السلام علیکم۔

Menu
error: Content is protected !!