تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں

مولانا احمد علی قادری رضوی ، بارہ بنکی ، انڈیا


(۱)حضور مفتی عظم ہند: ’’اختر میاں اب گھر میں بیٹھنے کا وقت نہیں۔ یہ لوگ جن کی بھیڑ لگی ہوئی ہے کبھی سکون سے بیٹھنے نہیںد یتے۔ اب تم اس کام کو انجام دو۔ میں تمہارے سپرد کرتاہوں۔‘‘
لوگوں سے مخاطب ہوکر مفتی اعظم نے فرمایا:
’’آپ لوگ اب اختر میاں سلمہٗ سے رجوع کریں انہیں کو میرا قائم مقام اور جانشین جانیں‘‘ (مفتی اعظم اور انکے خلفاء ج:۱، ص:۱۵۲)
(۲)حضور قطب مدینہ : حضور قطب مدینہ علامہ مفتی ضیاء الدین رضوی علیہ الرحمہ فرماتے:مجھے میرے مرشد حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ سے جو کچھ ملا ان خانوادے کے شہزادوں مولانا ابراہیم رضا خاں، مولانا ریحان رضا خاں اور مولانا اختر رضا خاں کو عطاء کردیا۔ (سوائے قطب مدینہ)
(۳)حضور سیدالعلماء: حضور سید العلماء مفتی سید شاہ آل مصطفی برکاتی مارہروی علیہ الرحمہ نے (حضور تاج الشریعہ کو) جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی اور دعائوں سے نوازا (مفتی اعظم اور انکے خلفاء ص:۱۶۲)
(۴)حضور مجاہد ملت: ایک صاحب کی والدہ حضور مجاہد ملت سے مرید ہونا چاہی تو آپ نے فرمایا ’’میاں! سرکار اعلیٰ حضرت کے شہزادے حضرت ازہری میاں کی موجودگی میں ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ میںمرید کروں‘ انہیںسے مرید کروایئے۔‘‘
دوسری روایت ہے کہ ’’حضرت نے فرمایا کہ میں حضرت ازہری میاں صاحب کے سامنے سے ہوکر کیسے گذر سکتا ہوں اخیر کارعقبی دروازے سے حضرت اندر تشریف لے گئے اور فرماتے کہ کوئی تیز آواز میں نہ بولے کہ حضرت ازہری میاں تشریف فرما ہیں، آہستہ بولو شہزادے قیام فرما ہیں‘‘ (راوی، مولانا عبدالمصطفیٰ حشمتی ،ردولی شریف)
(۵) قاضی شمس العلماء: ایک دن ہم تمام طالب حضرت قاضی (قاضی شمس العلماء علامہ شمس الدین رضوی جونپوری ، تلمیذ حضور صدر الشریعہ علیہما الرحمہ) صاحب کے درس میں موجود تھے اورحضرت پڑھا رہے تھے۔ ایک بزرگ صفت انسان تشریف لائے۔ قاضی صاحب نے کھڑے ہوکر ان کااستقبال کیا۔ آنے والے کو اپنی مسند پر بٹھایا اورخود مؤدب ہوکر بیٹھ گئے اورطالب علموں کے ذہن ودماغ میں کیاتاثر ابھرا؟ اس کو میں نہیں بتاسکتا ۔ البتہ میں نے محسوس کیا۔ قاضی صاحب جیسی شخصیت -اللہ اللہ ان کی علمی شان و شوکت کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے ان کے سامنے طفل مکتب معلوم ہوتے تھے اپنے اساتذہ میں سے کسی سے میں نے دریافت کیا ، حضرت کون ہیں فرمایا یہ حضرت ازہری میاں قبلہ ہیں۔(راوی مولانا شمشاد حسین رضوی- بدایوں)
(۶)حضور احسن العلماء: ۱۴؍۱۵؍نومبر ۱۹۸۴ء؁ کو مارہرہ مطہرہ میں عرس قاسمی کی تقریب میں حضرت احسن العلماء مولانا مفتی سید حسن میاں برکاتی سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ (علیہ الرحمہ) نے جانشین مفتی اعظم کا استقبال قائم مقام مفتی اعظم علامہ ازہری زندہ باد کے نعرہ سے کیا اور مجمع کثیر میں علمائومشائخ اورفضلائودانشوروں کی موجودگی میںجانشینِ مفتی اعظم کو یہ کہہ کر۔
’’فقیر آستانہ عالیہ قادریہ برکاتیہ نوریہ کے سجادہ کی حیثیت سے قائم مقام مفتی اعظم علامہ اختر رضا خاں صاحب کو سلسلۂ قادریہ برکاتیہ نوریہ کی تمام خلافت و اجازت سے ماذون و مجاز کرتا ہوں۔ پورا مجمع سن لے تمام برکاتی بھائی سن لیں اور یہ علماء کرام (جو عرس میں موجود ہیں) اس بات کے گواہ رہیں۔‘‘ (مفتی اعظم اور انکے خلفاء ۱۷ص:۱۶۲)
(۷)حضور مفسر اعظم ہند: ڈاکٹر عبدالنعیم عزیزی لکھتے ہیں: ’’والد ماجد مفسر اعظم ہند نے اپنے فرزند ارجمند کو قبل فراغت علم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کاجانشین بنایا اور ایک تحریر بھی عنایت فرمائی۔‘‘
حضرت رحمانی میاں علیہ الرحمہ ماہنامہ اعلیٰ حضرت میں بعنوان کوائف دارالعلوم میں تحریر فرماتے ہیں ’’بوجہ علالت (والد ماجد) یہ توقع نہیں کہ اب زیادہ زندگی ہو‘ بنا بریں ضرورت تھی کہ دوسرا قائم مقام ہو۔ لہٰذا اختر رضا سلمہٗ کو قائم مقام، و جانشینِ اعلیٰ حضرت بنا دیا گیا، جانشین کا عمامہ باندھا گیا اورعبا پہنائی گئی۔ (ایضاً ۱۶۳)
(۸)علامہ تحسین رضا خاں: الحمدللہ کہ حضرت علامہ ازہری میاںسلمہٗ نے باوجود گوناگوں مصروفیات اور علالت طبع اس کا ترجمہ (المعتقد) فرمایا تاکہ اس کا فائدہ عام ہوجائے۔ اس کا بالاستیعاب مطالعہ تو میں نہ کرسکا مگر جستہ جستہ جومقامات میں نے دیکھے اس سے بڑی خوشی ہوئی کہ بہت سلیس اور بامحاورہ ترجمہ کیا ہے (المعتقد ص: ۳۸)
(۹)شارح بخاری: حضرت مفتی محمد شریف الحق امجدی سابق صدر شعبۂ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور ضلع اعظم گڑھ یوپی جو تقریباً گیارہ سال تک بریلی شریف میں حضور مفتی اعظم ہند کی سرپرستی میں فتاویٰ لکھتے رہے اور جنہیں مفتی اعظم کی عمر ہی میں نائب مفتی اعظم کہا اور لکھا جاتا رہا ان کی زبانی راقم سطور نے کئی بار ان کا یہ تاثر سنا کہ ’’حضرت مفتی اعظم ہند کو اپنی زندگی کے آخری پچیس سالوں میں جومقبولیت و ہر دل عزیزی حاصل ہوئی وہ آپ کے وصال کے بعد ازہری میاں کو بڑی تیزی کے ساتھ ابتدائی سالوں ہی میں حاصل ہوگئی اور بہت جلد لوگوں کے دلوں میں ازہری میاں نے اپنی جگہ بنالی (علامہ یاسین اختر مصباحی)
(۱۰)علامہ ارشدالقادری: اللہ تعالیٰ نے حضور ازہری میاں کو زبرست مقبولیت دی ہے۔ ایسی مقبولیت تو دیکھنے میں نہ آئی۔ دیکھو تو سہی کہ ازہری میاںکو مختلف جگہ پروگرام میں جانا تھا رانچی ایئرپورٹ پر اترے پھر بذریعہ کار فلاں جگہ پہنچنا تھا مگر رانچی میں ان سے ملنے کیلئے ہزاروں میکشوں کی بھیڑ جمع ہوگئی تھی۔ جب کہ رانچی میں رکنا نہ تھا۔ صرف وہاں سے گذرنا تھا۔ مگر آناً فاناً اتنے لوگوں کا اکٹھا ہوجانا بڑی بات ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی دوسری مخلوق لوگوں کے کانوں تک بات پہنچا دیتی ہے اور آناً فاناً سب جمع ہوجاتے ہیں۔ (راوی مفتی عابد حسین نوری -ٹاٹا)
(۱۱)علامہ محمد مشاہد رضاخاں حشتمی: فقیر حقیر نے کتاب بنام ’’ٹائی کامسئلہ‘‘ (مصنفہ علامہ اختررضاخاں قادری مدظلہ ٗ العالی) بغور وخوض مطالعہ کیااپنے دلائل کے لحاظ سے وہ فتویٰ (علامہ ازہری میاں صاحب قبلہ کافتویٰ ’’ٹائی کامسئلہ‘‘)کسی کی تصدیق کامحتاج نہیں ہے پھر بھی امتثالِ امر کے لئے فقیر تصدیق کرتاہے۔ (ٹائی کامسئلہ)
(۱۲)علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی : حضرت تاج الشریعہ نے ان اہم مباحث کا سلیس اردو زبان میں ایسا برجستہ ترجمہ (المعتقد المنتقد) فرمایا ہے کہ ترجمہ ہی سے مفہوم واضح ہوجاتا ہے اس کے باوجود جابجا پیچیدہ مسائل کی ایسی عقدہ کشائی کی ہے کہ بے اختیار زبان سے نکل پڑتا ہے کہ یہ اعلیٰ حضرت اور مفتی اعظم کے فیض سے تاج الشریعہ ہی کا خاصہ ہے (المعتقد ص:۴۶)
(۱۳)علامہ عبدالحکیم شرف قادری : حضور تاج الشریعہ سے حضرت کے روابط بہت گہرے تھے سفر پاکستان کے موقع پر والد گرامی علیہ الرحمہ سے مسائل شرعیہ پرسنجیدہ ماحول میں گفتگو ہوا کرتی تھی حضرت والد ماجد قدس سرہٗ حضور تاج الشریعہ کے علم و فضل، فقہی بصیرت اور حدیث دانی کے معترف تھے۔ (بروایت ڈاکٹر سدیدی)
(۱۴)مفتی اعظم راجستھان :اللہ رب العزت نے حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری مدظلہٗ العالیٰ کو بے شمار فضائل اور مناقب جلیلہ سے نوازاہے میں آپ کے علم و فضل، حزم و اتقاء، تصنیفی، فقہی، تبلیغی خدمات سے بہت متاثر ہوں، عربی ادب میں آپ حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ الشاہ مفتی حامد رضا قادری علیہ الرحمہ کے پر توہیں نیز حضور سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی کا آپ پر خصوصی فیضان ہے جس کی واضح نظیر یہ ہے کہ ایشیا و یورپ کی بلند آہنگ چوٹیوں پر آپ کی عظمتوں کے پرچم لہرارہے ہیں۔ اور آپ کی علمی جلالت و شخصی وجاہت کے آگے بڑے بڑوں کے سرخمیدہ نظر آتے ہیں۔ (معارف مفتی اعظم راجستھان ص:۳۸۳)
(۱۵)علامہ فیض احمد اویسی : حضرت تاج الشریعہ نے المعتقد اور المستند کا ترجمہ فرمایا فقیر نے سعادت سمجھ کر کتاب مذکور کا مطالعہ کیا۔ اس سے فقیر علمی طورپر خوب مستفید ہوا۔ فقیر یقین اور نہایت وثوق سے عرض کرتا ہے کہ عوام کیلئے تو عقائد کے معاملات میںبلاشبہ یہ ترجمہ شریف رہبرو ہادی ہے لیکن علماء کرام کیلئے بھی بہترین دستاویز ہے (المعتقد ص:۵۲)
(۱۶)مفتی عبداللطیف -گوجرانولہ: فقیر نے کتاب مستطاب کا اردو ترجمہ کہیں کہیں سے ملاحظہ کیا الحمدللہ جانشینِ مفتیٔ اعظم ہند تاج الشریعہ حضرت العلام المفتی محمد اختر رضا خاں قادری مدظلہٗ العالیٰ نے بڑی عرق ریزی سے یہ ترجمہ فرمایا ہے۔
یقینا حضور تاج الشریعہ مدظلہٗ العالیٰ ہر حوالے سے اپنے آباء و اجدادکے سچے جانشین ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ اہلسنّت پر دراز فرمائے۔ (المعتقدص:۶۶)
(۱۷)علامہ عبداللہ خاں عزیزی: حضرت علامہ و مولانا مفتی محمداختر رضاخاں صاحب قبلہ مد ظلہ ٗ العالی جانشین حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ والرضوان کے رسالہ مبارکہ مسمّیٰ (ٹائی کامسئلہ) پاکے مطالعہ کاشرف حاصل ہوا۔ حضور مفتی اعظم ہند کے فتویٰ اورحضرت مصنف علامہ کے دلائل و براہین سے احقر کو انشراح صدر حاصل ہوا کہ ٹائی کااستعمال کرناناجائز وحرام ہے ۔ مسلمانوں کو اس سے احتراز کرناچاہئے۔(ٹائی کامسئلہ ص۴۱)
(۱۸)مولانا سید اویس مصطفی واسطی: فقیر قادری کو جانشینِ مفتی ٔاعظم ہند حضرت علامہ ازہری میاں صاحب سے بارہا ملاقات کا شرف حاصل ہوتا رہتا ہے یہ ملاقات و رابطے دیرینہ تعلقات کے باعث ہیں جو خانقاہ بلگرام اور خانقاہ بریلی میں ہمیشہ سے رہا ہے۔
موصوف کو خانوادۂ رضویت میںوہ مقام حاصل ہے کہ تاج الشریعہ اور قاضی القضاۃ جیسے اعلیٰ خطاب سے یاد کئے جاتے ہیں۔(المعتقد ص:۴۳)
(۱۹)علامہ ابوالنصر خلیفۂ قطب مدینہ: حضرت علامہ اختر رضا خاں صاحب خاندان اعلیٰ حضرت کے فاضل محقق ہیں جن کے فیضان سے ایک زمانہ مستفید و مستفیض ہو رہا ہے اب اہلسنّت کایہ فریضہ ہے کہ وہ اس کتاب (المعتقد) کا مطالعہ کرکے اسے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں (المعتقد ص:۵۵)
(۲۰)مفتی نعیم اختر نقشبندی لاہوری: حضور مفتی اختر رضا صاحب کے علمی مقام کا کیاکہنا اس کتاب (المعتقد)کے بارے میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ یہ کتاب حضرت کے عربی ادب پر مہارت کی دلیل ہے۔ اور یہ کتاب ثابت کرتی ہے کہ آپ واقعی جانشینِ مفتیٔ اعظم ہندہیں۔ (المعتقد ص:۵۸)
(۲۱)علامہ سید علوی مالکی: جانشین مفتی اعظم علامہ محمداختر رضاخاں ازہری قادری بریلوی دامت برکاتہم القدسیہ ۱۴۰۷ھ/۱۹۸۸ء میں جب حج و زیارت کیلئے تشریف لے گئے تو علامہ سید محمد علوی مالکی نے اپنی تصنیف کردہ کتابیںعنایت فرمائیں اور بہت ہی قدر و منزلت کی نظر سے دیکھا امام احمد رضا قادری بریلوی کے پوتے ہونے کی حیثیت سے اور حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کے جانشین ہونے کی وجہ سے بہت عزت افزائی فرمائی اور دعائیہ کلمات سے نوازا (مفتی اعظم اورانکے خلفاء ص:۵۱۷)
(۲۲)پروفیسر مسعود احمد مظہری : اس (امام احمد رضا) کے جانشین اس کے پرپوتے علامہ اختر رضا خاں ازہری ہیں، بڑے متقی اور عالم باعمل ۱۹۸۳ء میں پاکستان تشریف لائے۔ ازراہ کرم غریب خانے پر ٹھٹھ بھی تشریف لائے، ایک عربی نعت کی فرمائش کی۔ قلم برداشتہ اسی وقت لکھ دی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عربی زبان نے امام احمد رضا کے گھرانے میں گھر کررکھا ہے، یہ اسی گھرانے کا امتیاز خاص ہے۔ (اجالاص:۲۶)
(۲۳)شیخ ابوبکر قادری (کیرالا): سماحۃ المفقی حضرت علامہ شیخ مفتی محمد اختر رضاخاں قادری الازہری صاحب متعنااللہ بطول حیاتہ المبارکہ کی شخصیت عالم اسلام میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے آپ امام اہلسنت مجدد اعظم کی مسند کے سچے جانشین اورقابل اعتماد مفتی ہیں۔ آپ نے جامعۃ الرضا بریلی شریف میں قائم کرکے اہلسنت پراحسان عظیم فرمایا ہے(اقتباس تقریر امام احمد رضاکانفرنس بموقع عرس رضوی)۔
(۲۴)علامہ محمد غفران صدیقی (امریکہ):فقیر حقیر غفرلہٗ آج آستانہ عالیہ رضویہ حاضر ہواتو حضورجانشین سرکارمفتی اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکار مفتی اعظم اہل سنت حضرت علامہ ازہری میاں صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی قدم بوسی نصیب ہوئی۔ سرکار مدظلہٗ العالی نے فتویٰ ٹائی کے متعلق عطافرمایا حقیقت یہ ہے کہ حضرت نے GROLIER ENCYLPEDIA کی اصل فوٹو اسٹیٹ کاپی دے کر اہل اسلام پر حجت قائم کردی ہے اورپھر شرعی حیثیت سے جوحکم فرمایا ہے وہ آپ کا ہی حصہ ہے۔ مولیٰ کریم اہل اسلام کو اپناظاہر اورباطن اپنی سرکاروں کی طرح بنانے کی توفیق وہمت عطافرمائے۔(ٹائی کامسئلہ ص ۳۶)
(۲۵)مفتی مجیب اشرف رضوی: حضرت والا مرتبت جانشین حضور مفتی اعظم ہند علامہ مولانااختر رضاصاحب قبلہ کا تحقیقی جواب ٹائی کے عدم جواز کے بارے میں نظر سے گزرا جوبلاشبہ حق وصواب اوردلائل شرعیہ سے مبرہن ہے۔ (ٹائی کامسئلہ ص ۴۲)
(۲۶) علامہ بدرالقادری۔ ہالینڈ: ہالینڈ اوربیلجئیم کے اندرسلسلہ ٔ رضویہ کی اشاعت ہورہی ہے ۔ کئی خانوادوں کوبریلی شریف بھیج کرداخل سلسلہ کرایاگیاہے۔ بعض لوگوں نے حرمین طیبین کی سرزمین پرجانشین مفتی اعظم حضرت علامہ مفتی محمد اختر رضاخاں قادری دامت برکاتہم العالیہ کے دامن سے وابستگی حاصل کی ہے اورایک بار کے سفر ہالینڈ کے دوران حضرت جانشین مفتی اعظم نے ’’قادریت رضویت‘‘ کے انوار سے اس خطہ تاریک کو خود رونق بھی بخشی ہے۔

رہے یہ جاری قیامت تک ان کافیض عام
جہاں میں پھولے پھلے باغ رضوی نوری (بدر)

(تاجدار اہلسنت ص ۲۲۵)

(۲۷)مولانا آل مصطفیٰ کٹیہاری: اصل کتاب اور حاشیہ کاسلیس اردو ترجمہ (المعتقد) کرکے کتاب کے اہم اورضروری مباحث کو اردوداں طبقہ تک پہنچاکر ان کے عقائد و افکار کی اصلاح اور تحفظ کاجوقابل قدر کارنامہ انجام دیاگیا۔ وہ بجاطورپر قابل تحسین وقابل مبارکباد ہے ایک زبان کو دوسری زبان میں منتقل کرنا وہ بھی ترجمہ کے اصول کو پیش نظررکھ کر ، ایک مشکل کام ہے۔ خصوصاً جب کہ علم کلام کی فنی باریکیوں اورمصطلحات کی تعبیر ایک اہم مسئلہ ہو، مگر ایسے مقام پر حضوروالا (حضور تاج الشریعہ ) نے ترجمے میں تعبیر و تفہیم کابھرپور لحاظ وخیال فرمایا ہے۔ (المعتقد ص ۶۳،۶۴)

Menu
error: Content is protected !!