سنّیت کی شان تھے ہما رے چچا جا ن

علامہ سبحان رضا خان صاحب سبحانی میاں،صاحب سجادہ خانقاہِ عالیہ قادریہ رضویہ ، بریلی شریف انڈیا


ہما رے چچا جان کا وصال بلا شبہ پوری دنیا ئے سنّیت کا ایک عظیم خسا رہ ہے ۔ان کے وصال سے ہر سُنّی کو دلی صدمہ پہنچا ۔پوری دنیا ئے سنّیت کا ہر خطہ سو گو ار ہو گیا ۔خا ندا نِ اعلیٰ حضرت ہی کو ان کے جا نے کا غم نہیں بلکہ اہلسنت وجما عت کے ہر فرد کو دکھ ہے ۔عالمِ سنیت کے دردو کرب اور غم واضطرا ب کو الفا ظ کا جامہ پہنا نا نہا یت مشکل ہے ۔ بلاشبہ وہ ہما رے خا ندا نی بزرگو ں کے علم وفضل کی نشا نی تھے۔ خا ندانِ اعلیٰ حضرت کی ہی نہیں بلکہ وہ سنّیت کی آبرو تھے ۔اس کی آن با ن اور شان تھے۔
اللہ رب العزت نے اپنے حبیبِ پا ک صاحبِ لو لاک ﷺ کے صدقہ خا ندانِ اعلیٰ حضرت پر یہ ایک عظیم احسا ن فر مایا ہے کہ ہر دور میں اس خا ندا ن کی دینی،مذہبی ،مسلکی،علمی اور روحا نی شان و شوکت کی حفا ظت وپا سبا نی کے لئے اس خا ند ان کے کسی نہ کسی فرد کو مقرر فر ما دیتا ہے ۔ہما رے جد ِ اعلیٰ حضرت علامہ مفتی رضا علی خاں علیہ الرحمۃ نے اپنے پیش رو بزرگو ں کی علمی وروحا نی میراث کی حفا ظت کی ۔ا ن کے بعد امام المتکلمین حضرت علا مہ نقی علی خا ں علیہ الرحمہ نے اہل ِ سنت وجما عت کے عقا ئدِ حقہ کی تر ویج واشا عت اور اس کی حفا ظت وپاسبا نی بحسن وخو بی انجام دیئے۔سیدی سر کا ر اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت امام احمد رضا خا ں قدس سرہ نے تو اسے نشا نِ امتیا ز بخشا اور اس طرح بخشا کہ ان کی ذات ہی خو ش عقیدگی اورٹھو س سنیت کی کسو ٹی اور معیا ر بن گئی ۔اہلسنت نے اما م اہل سنت کی بے مثا ل دینی خدمات کی وجہ سے بریلی شریف کو مر کز ِاہلسنت تسلیم کیا ۔اس دا رِ فا نی سے امام ِاہلسنت کے کو چ کر دینے کے بعد ان کے دونو ں شہزا دگا ن جدِ امجد حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد حا مد رضا خا ںا ور تا جدارِ اہلسنت سیدی سرکا ر مفتیٔ اعظم ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مر کزِ اہلسنت بریلی شریف کی مر کزیت کو ہر جہت سے مضبو ط و مستحکم کر نے کا زریں کا ر نامہ انجا م دیا ۔
ہما رے دادا حضور مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد ابرا ہیم رضا خا ں جیلا نی میاں علیہ الرحمہ بھی شب وروز مر کز ومسلک کے استحکام میں مصروف رہے ۔سر کار مفتی ٔ اعظم ہند اور حضرت جیلا نی میاں کے وصال کے بعد میرے والد بزگوار ریحانِ ملت حضرت علامہ مفتی محمد ریحا ن رضا خا ں علیہ الرحمہ نے ہما رے خا ندا ن کی آن با ن شان کو برقرار رکھا ،ملک وبیرون ملک کے بے شما ر دورے کر کے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کو فرو غ بخشا ۔جن ملکوں میں ہما رے خا ندانی بزرگو ں میں سے کو ئی نہ پہنچا وہا ں میرے والد بزرگوار ہی سب سے پہلے تشریف لے گئے ۔ ہما رے خا ندا نی بزر گو ں میں سے بیرونِ ملک کے اسفا ر سب سے پہلے میرے والد بزرگوا ر ہی نے شروع کئے ۔قدرت کی طرف سے اگر چہ انہیں بہت کم عمر نصیب ہو ئی تھی مگر اس مختصر سی مدت میں انہوں نے مذہب ومسلک اور مر کز ِاہلسنت کی بے شمار خدما ت انجا م دیں ۔ مر کزِ اہلسنت کو خو ب سے خو ب تر تقویت پہنچا ئی اوراسے استحکام بھی بخشا ۔ہند وستا ن کے علا وہ پا کستا ن ،نیپال،موریشس ،افریقہ ہالینڈ امریکہ ،سرینا م جیسے بہت سے مما لک کا انہوں نے سفر کیا ۔ ان خطوں اور ملکو ں میں مسلک اعلیٰ حضرت کی ترسیل و تبلیغ کے ساتھ سلسلہ ٔ رضو یہ کو بھی خو ب فروغ بخشا ۔خا نقا ہِ عالیہ قادریہ رضویہ در گا ہِ اعلیٰ حضرت ،یا دگا رِا علیٰ حضرت جا معہ رضویہ منظرِ اسلام میں بہت سارے تعمیری اور ترقیا تی کام کرا ئے۔
مختصر سی عمر میں ان کے وصال فرما جا نے کے بعد ہما رے چچا حضور نے ملک وبیرون ملک کے بے شما ر سفر کر کے مسلک ومر کز کا پیغا م عا م کیا ،سلسلہ رضو یہ کو خو ب سے خو ب تر فروغ بخشا ۔فقہ و فتویٰ کے سلسلہ میں خاندا نِ اعلیٰ حضرت کی امتیا زی شان کو برقرار رکھا ۔اپنے اسلا ف اور اپنے ا جدا دکے موقف کی حفا ظت وصیا نت کے لئے انہو ں نے کو ئی نرم رویہ اختیا ر نہ فر مایا ۔
چو نکہ وہ میرے والد محترم سے عمر میں کا فی چھو ٹے تھے ۔بڑے بھا ئی ہو نے کے نا طے بچپن ہی سے ان پر والدصاحب شفقت فر ما تے ۔ ان کی تعلیم وتر بیت کے سلسلہ میں اپنے والد گرا می حضرت جیلا نی میا ںکا ہا تھ بٹا تے ۔خو د بھی تعلیم دیتے اور منظر ِاسلام کے جید علما ء سے بھی تعلیم دلواتے ۔منظر ِاسلا م سے تعلیمی سفر مکمل کر نے کے بعدجا مع ازہر مصر میں دا خلے سے متعلق ضا بطے کی کاروا ئی مکمل کرا نے میں میرے والد کا کا فی اہم رو ل رہا ۔جامع از ہر مصر سے تعلیمی سفر مکمل کر کے مو رخہ17 نومبر 1966ء میں صبح کے وقت چچا جا ن بریلی شریف تشریف لائے تو ان کی آمد پر میرے والد بزرگو ار نے جنکشن سے گھر تک نہا یت ہی پر تپا ک اندا ز میں استقبا ل کا اہتما م فر مایا ۔ماہنامہ اعلیٰ حضرت کی ادا رت اس وقت والد محترم ہی کے ذمہ تھی ۔آپ نے چچا جا ن کی تشریف آوری اور استقبا لیہ کی کا فی اہتمام کے ساتھ رپو رٹ شا ئع کرا ئی جو مندرجہ ذیل ہے۔

’’اے آمدنت با عث۔۔۔۔‘‘

گلستانِ رضویت کے مہکتے پھول چمنستانِ اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت کے گل ِخوشتر مولانا محمد اختر رضا خان صاحب ابن حضرت مفسرِاعظم ہند رحمۃ اللہ تعالی علیہ ایک عرصہ دراز کے بعد جامعہ ازہر سے فارغ التحصیل ہوکر17نومبر 1966ء کی صبح کو بہارافزائے گلشن ِبریلی ہوئے بریلی کے جنکشن اسٹیشن پر متعلقین و متوسلین و اہلِ خاندان، علمائے کرام و طلبہ دارالعلوم کے علاوہ معتقدین حضرات نے (جن میں بیرون جات خصوصاًکانپور کے احباب بھی موجود تھے)حضرت مفتی ٔاعظم ہند مدظلہ العالی کی سرپرستی میں پُرتپاک اور شاندار استقبال اور صاحبزادے موصوف کو خوش رنگ پھولوں کے گجروں اور ہاروں کی پیشکش سے اپنے والہانہ جذبات و خلوص اور عقیدت کا اظہار کیا۔
ادارہ مولانا اختر رضا خان اور ان کے متوسلین کواس کامیاب سفر پر ہدیۂ تبریک و تہنیت پیش کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالی بطفیل اپنے حبیبِ کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم، ان کے آبائے کرام خصوصاًاعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مجددِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا سچا ،صحیح وارث و جانشین بنائے آمین ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین آباد۔
(ماہنامہ اعلیٰ حضرت،دسمبر 1966ء)

جنوری 1967ء میں بحیثیت مدرس و مفتی آپ کو والد صاحب علیہ الرحمہ نے منظرِ اسلام کی ذمہ داریاں تفویض فرمائیں۔چونکہ خاندانِ اعلیٰ حضرت کی بے مثال خدمات و مقبولیت کی وجہ سے جہاں اس کے بے شمار عقیدت مند ہیں تو وہیں کچھ دشمن اور کچھ حاسدین بھی ہیں جن کی نگاہوں میں اس خاندان کا یہ امتیاز،وقار اور عزت وعظمت ہمیشہ کھٹکتی رہتی ہے۔اس کی عظمت کو داغدار کرنے کے لئے بہت سی منصوبہ بندی بھی ہوتی ہے اور شاطرانہ چالیں بھی چلی جاتی ہیں جس میں ہمارے خاندان کے یہ بد خواہ کبھی کبھی وقتی طور پر معمولی سی کامیابی بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ایسے ہی کچھ افراد کی شاطرانہ چالوں اور ان کے ذریعے پیدا کی گئی غلط فہمیوں کے نتیجے میں ہمارے والد بزرگوار اور چچا جان کے درمیان وقتی کچھ شکر رنجی بھی ہوگئی تھی۔مگر معمولی سی مدت کے بعد حالات حسب ِسابق معمول پر آگئے تھے لیکن بدخواہ اور بدباطن افراد نے اس کا فائدہ اُٹھا کر کذب بیانی اور الزام و بہتان تراشی کا ایک طوفانِ بدتمیزی برپا کر دیا۔غلط فہمیاں پھیلانا شروع کر دیں۔اسی ضمن میں میرے والد گرامی کے نام سے انہیں بدخواہ اور بد باطن حاسدین اور دشمنوں نے ایک فرضی پوسٹر شائع کیا جس کا والد صاحب نے بروقت جواب بھی دیا،اپنی برأت کا اظہاربھی کیا اور بریلی تھانے میں قانونی کارروائی بھی کی۔فرضی طور پر اس پوسٹر کو چھاپنے والے(انجان و گمنام افراد)کے خلاف پولیس میں رپورٹ بھی درج کرائی ۔
میرے والد صاحب کے وصال کے بعد ان کے عرسِ چہلم کے موقع پر خانقاہِ عالیہ قادریہ رضویہ درگاہِ اعلیٰ حضرت کی سجادگی وتولیت ، جامعہ رضویہ منظرِ اسلام کی نظا مت ،ماہنامہ اعلیٰ حضرت کی ادارت اوردیگر اوقاف کی تولیت فقیر راقم الحروف کو تفویض کی گئی۔رسم ِسجادگی کے اس موقع پر میرے سر پر دستارِ سجادگی ہمارے چچا جان ہی نے رکھی ۔
آپ کے وصال سے کچھ مہینے پیشتر ہی کی بات ہے کہ چچا جان کی عیادت کو میں ان کے گھر گیا۔چہرہ تو نورانی تھا ہی اب اور پُر نور ہوگیا تھا،چچاجان محوِ آرام تھے،دست بوسی کی، سر پر ہاتھ رکھوایا اور کچھ دیر بیٹھ کر واپس آگیا۔کئی بار آپ سخت علیل ہوئے۔کئی بار ہاسپٹل میں بھرتی رہے۔اس بار بھی جب آپ ہاسپٹل گئے تو ہمیں یہ امید بھی نہ تھی کہ اب آپ کا آخری وقت آچکا ہے۔یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ وہ اب ہمیں چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس دنیائے فانی سے تشریف لے جا چکے ہیں۔
پوری دنیا میں کہرام برپا ہوگیا جس کے پاس بھی یہاں کے کسی بھی شخص کا نمبر تھا وہ انہیں فون کر رہا تھا۔میرے پاس بھی کئی دنوں تک مسلسل فون آتے رہے پہلے انتقال کی تصدیق کے لئے ۔بعد میں تعزیت کے لئے۔ہرایک اپنے اپنے طور پر انہیں خراج پیش کر رہا ہے۔اللہ تعالیٰ چچا جان کی تربت ِپرانوار و رحمت کی بارشیں نازل فرمائے۔سبھی اہلسنت کو صبر عطا فرمائے۔ہماری خاندانی عظمت و رفعت اور شان و شوکت کی غیب سے حفاظت وصیانت فر ما ئے۔ ہمارے خاندان میں ایسے افراد پیدا فرمائے کہ جو اس کی شان و شوکت،جاہ و حشمت ،عظمت و رفعت کے محافظ و پاسبان بنیں۔

آمین بجاہ حبیبہ ا لکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔

Menu