تاج الشریعہ کی کتب اسلاف پر عمیق نگاہ

مفتی محمد مقصود عالم فرحت ضیائی صاحب ، ہاسپیٹ ،انڈیا


اجتہادی شان کے مالک رہے
وقت کے نعمان تھے اختر رضا

حضور تاج الشریعہ محقق بریلوی قدس سرہٗ ایک ہمہ گیر وہمہ جہت شخصیت کا نام ہے۔ جنہوں نے اپنی حیات دنیوی کے ۷۵ ؍برس میں علوم وفنون ، فکر وعمل کے جو جوت جگائے وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ جب آپ کا اشھب قلم میدان تحقیقات وتدقیقات میں سرپٹ دوڑنے لگا تو دلائل وبراہین کی ایک دنیا آباد ہو گئی ، توضیحات وتشریحات کا گلشن مسکرانے لگا ، زبان وادب کی زلفیں سنور گئیں ، جرح وتعدیل کا بانکپن جاگ اٹھا ، نقد ونظر کے گلستان میں ہر یا لیاں آگئیں ، فقہی جزئیات وکلیات کا بحر بیکراں موجیں مارنے لگا ، محدثانہ عظمت ورفعت اور جاہ وجلال کی قندیلیں روشن ہو گئیں ، مفسرانہ جاہ وحشمت اور شان وشوکت کا آفتاب طلوع پذیر ہو گیا ، شاعرانہ حسن وجمال کے جلوے بکھرنے لگے ، حکمت و دانائی کی چاندنی تبسم ریز ہو گئی ، فلسفیانہ ومنطقیانہ اسرار ورموز کے دیپک جل اٹھے ، تحریکات وتعمیرات کا چمن مرغ زار بن گیا ، بیعت وارادت کے گل بوٹے لہلہانے لگے ، عشق وعرفان کا جام چھلکنے لگا ، کیف ومستی اورشعوروآگہی کی وادیاں شاداب ہو گئیں ، ولایت وکرامت کے آبشار پھوٹنے لگے ، تصنیفات وتالیفات کے باغات میں بہار آگئی ، دعوت وتبلیغ ، رشد وہدایت کے ستارے جگمگانے لگے ، فکر وتدبر کا انجمن سجنے لگا، فہم وادراک ، عقل ودانشمندی کے آفتاب ومہتاب خط استوا ر پر جلوہ بار ہونے لگے ، بصارت وبصیرت کے چشمے میں ابال آگیا ، علوم اسلامیہ کی زلف برہم میں جو پیچیدگیاں در آئیں تھیں اس کی گتھیاں سلجھنے لگیں جن کو دیکھ کر اصحاب علم ودانش ، ارباب فکر ونظر ، اہل درک وبصیرت یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ بسیار خوباں دیدہ ام لکن تو چیزے دیگری، حاضرین میں بدر الطریقت ، نجم المعرفت ، رفیع الدرجت ، سر چشمۂ علم وحکمت ، آشنائے رمز حقیقت ، محافظ دین وشریعت ، قاطع کفر وبدعت ، دافع جہل وضلالت ، پاسبان ناموس رسالت ، مینارۂ رشد وہدایت، رہنمائے قوم وملت ، مصلح خیر امت سیدنا تاج الشریعہ حضور اختر رضا خان ازہری میاں محقق بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان جیسا نکتہ داں فقیہ باریک بیں قاضیٔ القضاۃ ، ماہر محدث ، راسخ مفسر ، خلیق مدرس ، شفیق شیخ ، عمدہ معمار ، حاذق مصلح ، بالغ نظر ، مدبر ومفکر، نبض شناس مبلغ ، قادر الکلام شاعر ، حاضر جواب مناظر ، نکتہ رس متکلم ، کہنہ مشق قلمکار ، خوش طبع مقرر وواعظ ، شیریں مقال داعی ، طلیق الوجہ مقتدیٰ وپیشوا ، واضح الادب والقوی مصنف ومؤلف ، ذکی النفس صوفی ، لاجواب مؤرخ ، بے مثال منطقی وفلسفی نادر المثال محقق ومدقق جامع العلوم والفنون جیسا پورے عالم اسلام میں دور دور تک نظر نہیں آتا ہے ۔

علم وفن شعر وسخن کے تاجور
نازش عرفان تھے اختر رضا

شش جہات خدمات پر محیط ذات کے اس ایک پہلو کا مختصر طور پر تجزیہ کرتے ہیں کہ حضور تاج الشریعہ بدر الطریقہ کی نگاہ کتب اسلاف پر کتنی گہری تھی جس سے ان کی علو مرتبت شخصیت کا آفتاب اوج ثریا کی بلندیوں سے پرے نظر آئے گا ۔
ٹائی کے مسئلہ کی تحقیق انیق فرماتے ہوئے محقق اعظم ارشاد فرماتے ہیں کہ:’’ آخر میں سیدنا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فتاویٰ سے چند کلمات تبرکا پیش ہیں ‘‘۔اس کے بعد فتاویٰ رضویہ ج ۱۰/۱۵۰ کا اقتباس رقم فرماتے ہیں ۔(ٹائی کا مسئلہ ۱۴)
اس کے بعد آسمان علم وفن کے تاجدار حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ مفتیٔ اعظم ہند کے اس فتوےکو رقم فرماتے ہیں جس سے انہوں نے محقق علی الاطلاق محدث بریلوی علیہ الرحمہ کے فتوے کی تصدیق فرمائی تھی ۔ حضور تاج الشریعہ فرماتے ہیں کہ:’’ حضور مفتی ٔ اعظم رضی اللہ عنہ نے یہ افادہ فرمایا کہ کفار کا شعار مذہبی ہمیشہ کفر ہی رہے گا ۔‘‘(ٹائی کا مسئلہ ۱۵)
حضور تاج الشریعہ کی باریک بینی کا اس سے اندازہ کیجئے کہ آپ فرماتے ہیں: ـ’’اس جگہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے استناد جس میں وارد ہواہے :کان ابن عباس یصلی فی البیعۃلا البیعۃ فیھا تماثیل (بخاری شریف )یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما گرجا میں نماز پڑھتے تھے مگر اس میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام وحضرت مریم رضی اللہ عنہما کے مجسمے نہیں ہوتے اصلا ًمفید نہیں اور اس سے مفہوم شعار میں وہ قید ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس جگہ شعار مذہبی کا تحقق ہی محل منع میں ہے کہ کنیسہ میں باختیار ورغبت جانا منع ہے اور وہی کفار کا طریقہ اور ان کا شعار ہے حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا کنیسہ میں جانا باختیار نہ تھا بلکہ بحالت اضطرار واقع ہوا، عینی میں اس حدیث کے تحت ہے: وزاد فیہ (فان کان فیھا تماثیل خرج فصلی فی المطر۔)(عینی ج۴؍۱۹۲)یعنی بغوی نے جعدیات میں اتنا زیادہ کیا کہ اگر کنیسہ میں تصویریں ہوتیں تو اس سے نکل جاتے اور بارش ہی میں نماز پڑھتے ۔ حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بارش کی وجہ سے بحالت مجبوری کنیسہ میں نماز پڑھی ۔اس کے بر عکس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ہم تمہارے کنیسوں میں داخل نہیں ہوتے ۔دونوں میں بظاہر تضاد ہے اس کو دور فرمادیا کہ داخل ہونا عذر شرعی کے باعث ہے اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا انکار با رضاورغبت ہے اس کو بھی دور فرمادیا ۔(عینی ج ۴ ؍۱۹۲)کیونکہ اضطرار میں جانا مومن کی شان ہے اور خوشی سے جانا کافروں کا کام ہے اور یہ کفری شعار ہے اور اس میں کفار کی موافقت باجماع المسلمین کفر ہے ۔(ٹائی کا مسئلہ ۲۱)
نیر العلوم والفنون حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی نگاہ کتب اسلاف پر کتنی گہری ہے کہ معترض جس حدیث کے تحت اعتراض کر سکتا تھا اس کو لاکر مزید علامہ عینی علیہ الرحمہ کی تصنیف عینی سے دو جزئیہ پیش فرما کر اعتراض کے دروازے کو بند فرمادیا اور مسئلہ کی تنقیح فرما کر واضح کر دیا کہ کفری شعار ہر حاجت میں کفری شعار ہی رہے گا اگر چہ وہ عام تام ہو جائے اور اس کے کفری شعار ہونے کی نشانیاں مفقود ہو جائیں پھر بھی اس کا حکم کفر بر قرار رہے گا۔ اس سے حدیث دانی اور جزئیات پر گرفت کا جہاں اندازہ ہوتا وہیں اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ اسلاف کرام کی کتب پر آپ کی تعمق نظر اوج ثریا کی بلندیوں سے پرے ہے ۔ اس پر کئی گوشوں سے بحث فرماتے ہیں کبھی مسند امام احمد بن حنبل سے حوالہ نقل فرماتے ہیں تو کبھی شامی وبحر الرائق کے جزئیات سے استدلال فرماتے ہیں ۔(ٹائی کا مسئلہ ۲۳)
اس طرح اسلاف کرام کی بے شمار کتب کا تذکرہ آپ کی تصنیفات میں ملتا ہے اور اس کے حوالجات کی نیر باریاں نظر آتی ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تارح ہے یا آزر ؟ اپنی تصنیف’’ تحقیق ان ابا سیدنا ابراہیم علیہ السلام تارح لاآزر ‘‘میں کثرت سے اسلاف کرام کی کتب کا ذکر جمیل فرماتے ہیں اور قرآن واحادیث اور اسلاف کرام کی کتب کی عبارت سے استدلال کرتے ہوئے اپنے دعوے کا اثبات فرماتے ہیں کہ، والد کانام تارح ہے آزر نہیں اور یہی جمہور کا فیصلہ ہے۔ لسان العرب ، آیت قرآنیہ، اہل نسب کا متفقہ کا فیصلہ ، حضرت مجاہد کا قول ، ابو اسحاق جوالیقی ، زجاج وغیرہ کے اقوال پیش فرماتے ہوئے اقول کے ذریعے متحقق فرماتے ہیں:’’ بل قد سبقہ جماعۃ من الصحابۃ والتابعین سردھم الامام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فی رسالۃ الحافلۃ، مسالک الحنفاء ، فھا ھو ذا قائلا ما نصہ (وھذا القول اعنی ان آزر لیس ابا ابراھیم ورد عن جماعۃ من السلف ‘‘(تارح لاآزر ۶۹)
جس کا خلاصہ یہ ہے کہ صحابۂ کرام اور تابعین کی ایک جماعت اس بات کی قائل ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر نہیں ہے اور اسلاف کرام کی ایک جماعت سے بھی یہی منقول ہے جس کا ذکر امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب’’ مسالک الحنفاء ‘‘ میں کیا ہے اس کے بعد احادیث کوپیش فرمایا ہے اور کثرت سے اسلاف کرام کی کتب احادیث وتفاسیر اور فقہ سے عبارات کو نقل فرمایا ہے جس کو پڑھ کر ان کی تعمق نظر پر تعجب ہوتا ہے۔
محقق زمن قطب الارشاد حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی تصنیف’’ آثار قیامت‘‘ کا مطالعہ کیا تو وہاں بھی کتب اسلاف پر ژرف نگاہی کا وہی عنفوان شباب پایا اور ان کے تعمق نظری پر عش عش کر اٹھا بطور تمثیل کتابوں کا نام نظر قارئین ہے ۔کنز العمال ، الملفوظ ، بخاری شریف ، طبرانی اوسط ، مجمع الزوائد ، تفسیر خازن ، ابو داؤد وترمذی ، اللآلی المصنوعہ ، فیض القدیر ، کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم ، آیات قرآنیہ ، مسند احمد بن حنبل ، اتقان فی علوم القرآن ،شرح المہذب ، حاکم مستدرک ، الترغیب والترھیب، حقوق والدین ، در مختار ،رد المحتار ، مجمع بہار الانوار ، تفسیر کبیر ، تبیین الحقائق ، فتاویٰ رضویہ ، عنایہ ، جوہر ہ نیرہ ، اشعۃ اللمعات ، مشکوٰۃ ، جامع الصغیر ، احکام القرآن ۔(آثار قیامت )
ان کتابوں کی عبارتوں سے اپنی تصنیف آثار قیامت کے صفحات کو لالہ زار بنایا ہے جس سے آپ کی ژرف نگاہی وتعمق نظری کے ماہ ونجوم کتب اسلاف پر تبسم ریز نظر آتے ہیں آپ کی علمی وقعت ، فنی گہرائی ، استدلالی عبقریت ، تحقیقی مہارت اور دعوے کی اثباتی پہلو کی رفعت وعظمت کا اندازہ بھی ہوجاتا ہے ، ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ خود کتب بینی سے دور ہو گئے اس کے باوجود درس دیتے رہے اورسارے جہاں کو مسائل بتاتے رہے علماؤ فقہاء ، محدثین ومفسرین ، ارباب دانش ووینش ، دانشگاہ عصریات کے مدبرین ومفکرین ، ماہرین قانون داں رجوع کرتے رہے علوم وفنون کے ماہ تاباں ، فکر وفن کے آفتاب درخشاں نے دلائل وبراہین کا دریا بہایا دربے بہایا۔

دین وملت کے محقق ہادی وقطب زماں
تا ابد تجھ پر رہے گا رحمتـ حق کا نزول

نجم المحدثین حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے اپنی تصنیف’’الصحابۃ نجوم الاھتداء‘‘میں ۷۷ ؍کتابوں کا ذکر فرمایا ہے ، اور حدیث ’’اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیھم اھتدیتم ‘‘پر کامل گفتگو فرمائی ہے۔ ان لوگں کا رد کیا جنہوں نے اس کو موضوع قرار دیا ہے البتہ ضعف کا تذکرہ فرماتے ہوئے ثابت کیا کہ ضعیف حدیث متعدد طرق سے بیان ہو تو وہ درجۂ حسن کو پہنچ جاتی ہے ۔ اقول سے بیان کرتے ہیں کہ :’’تقرر فی الاصول ان الضعیف یتقوی بکثرۃ الطرق فیر تقی الی درجۃ الحسن ‘‘(الصحابۃ نجوم الاھتداء)
اس کتاب کا جو بھی مطالعہ کرے گا آپ کی حدیث دانی فن جرح وتعدیل ، بلکہ علوم حدیث کا بحر بیکراں ماننے اور نجم المحدثین کہنے پر مجبور ہو جائے گا وہیںکتب اسلاف پر ژرف نگاہی وتعمق نظری کا معترف ہو گا ، اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تارح ہے آزر نہیں تقریبا ۴۲ کتابوں سے اس کو ثابت کیا ہے ۔

علم وفن کا بحر نا پیداکنار
مظہر سلمان تھے اختر رضا

تاج الاسلام والمسلمین حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے محقق علی الاطلاق امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی تصنیف عطایا القدیر فی حکم التصویر ، فقہ شہنشاہ،شمول الاسلام ، الامن والعلی ، قوارع القھار اور الھادی الکاف کی تعریب وتحقیق کی اس میں بھی کئی کتابوں کا ذکر فرمایا ، نیر العین ، حاجز البحرین ، سبحان السبوح ، النھی الاکید کی بھی تعریب وتحقیق اور تعلیق کا کام انجام دیا ۔
سلطان المحدثین حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ ۱۸ ؍ذی الحجہ ۱۴۳۱ مطابق ۲۰؍ نومبر ۲۰۱۰ء میں مدینۃ المنورہ وارد ہوئے ،تو وہاں کسی نے اطلاع دی کہ ایک شخص پیر کے روز ابو لہب کی تخفیف عذاب والی حدیث کا منکر ہے اور اس کو کذب پر محمول کرتا ہے تو وہیں آپ نے’’ نھایۃ الزین فی التخفیف عن ابی لھب یوم الاثنین ‘‘رقم کیا جس میں ۱۲ ؍دلائل اور ۱۷ ؍کتابوںسے اس کی صحت کا اثبات فرمایا ۔آپ فرماتے ہیں :’’ ان الحدیث اصل وقد تلقی بالقبول وان ما ثبت بالآیات والاجماع۔‘‘ (نھایۃ الزین)
بدر المحققین حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے’’ دفاع کنز الایمان‘‘ رقم فرمایا اور’’ کنز الایمان‘‘ پر وہابیہ کی جانب سے کئے گئے اعترا ض کا دندان شکن جواب دیا ۔اس میں بھی بے شمار حوالے اسلاف کی کتابوں سے نقل فرمائے،یا بطور استشہاد عقائد باطلہ کے حاملین کی کتابوں کے حوالوں کا التزام فرمایا ۔
البحر الہمام ، فخر الملۃ والدین حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ اپنی تصنیف’’ افضیلت صدیق اکبر و فاروق اعظم‘‘ میں احادیث کی کتابوں سے تقریبا تیس کتب کا حوالہ نقل فرماتے ہیں اور کثرت دلائل وبراہین کے ذریعے ثابت فرماتے ہیں کہ انبیاء علیھم السلام کے بعد روئے زمین پر سب سے افضل شیخین کریمین ہیں ۔
مؤید ملت طاہرہ ، صاحب حجت قاہرہ حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے اپنے مقالہ افتراق امت والی حدیث میں جو بہتر کے جہنمی ہونے کا ذکر ہے آپ خلود فی النار کا تعین اور دخول فی النار کی نفی فرماتے ہیں اور وہاں بھی اسلاف کرام کی کتابوں سے حوالے نقل فرما کر ان لوگوں کا سخت رد فرماتے ہیں جو بہتر کے دخول فی النار کا قول کرتے ہیں ۔وہاں جو فنی بحث آپ نے فرمائی ہے وہ قابل دید ہے ۔
کاسر الفتنۃ وناصر السنۃ حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے’’ تعلیقات الازھری علی الصحیح البخاری‘‘ تالیف کی اپنی تعلیق میں بھی آپ نے اسلام کی کتب سے جا بجا عبارتیں پیش کی ہیں ۔
فرید الدہر ، وحید العصر حضور تاج الشریعہ اپنی تصنیف ’’شرح حدیث الاخلاص ‘‘یعنی انما الاعمال بالنیات پہ جامع کلام فرمایا ہے اور کثرت سے اکابرین کی کتب کی عبارتیں پیش کی ہیں ، اس حدیث کو کن کن محدثین نے اپنی کن کن کتابوں میں ذکر کیا ہے اس کے علاوہ اسلاف کرام کے کتابوں کا ذکر اور ان کے حوالے موجود ہیں ، شمس العرفان ، قطب الزمان حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ اپنی کتاب طلاق ثلاثہ میں بھی حدیث کی کتب محدثین کی کتابوں کی عبارتیں اور فقہی جزئیات سے اپنے دعوے کا اثبات فرماتے ہیں اس مقام پر بھی اکابرین کی کتابوں کی عبارتیں منقول ہیں ۔
’’ سنو اور چپ رہو ‘‘نامی کتاب میں فقیہ الاسلام تاج الدین والشریعت حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے کئی سوالوں کے جوابات دیئے ہیں۔ تلاوت کے وقت چپ رہنے اور سننے کا حکم صادر فرمایا ہے ۔وہاں بھی اکابرین کی کتابوںسے بکثرت حوالے منقول ہیں ۔
’’ حقیقۃ البریلویۃ‘‘ میں تقریبا ۵۰ ؍کتب سے حوالے منقول ہیں اس کے ذریعہ اعتراضات والزامات وہابیہ احسان الٰہی ظہیر کا دندان شکن جواب دیا ہے اور دلائل وبراہین سے اپنے دعوے کا اثبات فرمایا ہے۔ اور اکابرین علماء کی کتب سے تعلیقات ، انگلش ، عربی اور اردو تینوں زبانوں میں تقریبا ۲۵یا ۲۶ ہیں ۔ جس میں دلائل وبراہین کا کا مل التزام ہے اسلاف کی کتب سے کثرت کے ساتھ حوالے منقول ہیں جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ آپ کی نگاہ کتب اسلاف پر بڑی گہری تھی۔
ژرف نگاہی وتعمق نظری کا کوئی جواب نہیں ان امور کے مشاہدہ کے بعد زمانے نے امام المسلمین ، سلطان المحققین ، سیدالمفکرین ، شیخ المتکلمین ، جامع الکمالات ، ماہر اللسانیات ، سراج التنقید والتحقیق ، مصباح التنقیح والتدقیق ، حبر المصنفین ، مخزن المؤلفین ، نصیر الدین ، معین الاسلام ، عماد المبلغین ،قامع اساس المحدثین ، حامیٔ سنن، ماہی ٔ فتن ، صدر الاماثل ، فخر الافاضل ، نور چشم اتقیا، زینت بزم اولیا، شہباز الطریقۃ ، محافظ الشریعت کہا یقینا آپ ان القابات وخطابات کے لائق تھے وہ علم وعمل کا شہنشاہ فکر وفن کا بادشاہ ۷؍ذیقعدہ ۱۴۳۹ مطابق ۲۰ ؍جولائی ۲۰۱۸؁ کو اس دار فنا سے دار بقا کی طرف کوچ کر گیا جس کے غم میں عالم اسلام اشک بار ہے ۔

ابر رحمت تیری مرقد پہ گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

Menu
error: Content is protected !!