حضور تاج الشریعہ کی عصری جامعیت

اخترالقادری مہراج گنجوی،انڈیا


اللہ جل مجدہ قادر مطلق ہے وہ جسے چاہے عزت بخشے اور جسے چاہے ذلیل و خوار کرے فرمان باری تعالیٰ :’’ وَ تُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ‘‘ (آل عمران:۲۶)اللہ جسے عزت بخشے کوئی ذلیل نہیں کرسکتا اور جسے ذلیل کرے کوئی عزت نہیں دے سکتا سارے جہاں کی کوششیں اس مالک حقیقی کے سامنے بیکار ہیں، وہی کرتا ہے جو اس کی مشیئت و مرضی ہوتی ہے :’’ وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ‘‘ (الدھر:۳۰)اور یہ بھی مسلم ہے کہ وحدہ لاشریک اپنے محبوبوں کو عزت وعظمت اور سربلندی سے سرفراز فرماتا ہے

’’وَ لِلّٰہِ الۡعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ لٰکِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ‘‘ (المنافقون:۸)
پیارے آقا ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنا محبوب بناتا ہے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام کو حکم کرتا ہے کہ اے جبرئیل میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تو بھی کر جبرئیل تمام فرشتوں سے کہتے ہیں اے فرشتو! اللہ اور جبرئیل فلاں سے محبت کرتے ہیں لہذا تم بھی کرو ،پھر آسمان دنیا کی طرف ندا کی جاتی ہے اے لوگو! اللہ ، جبرئیل اور تمام ملائکہ فلاں بندے سے محبت کرتے ہیں اس لئے تم لوگ بھی محبت کرو پھر اس بندے کی محبت تمام بنی نوع انسان کے اندر ڈال دی جاتی ہے اس کی عظمت و ہیبت کا پہرہ لوگوں کے دلوں پر ہوجاتا ہے اور تمام عالم اس سے پیار کرنے لگتے ہیں۔ (مفہوم حدیث)
اہل دل کیلئے یہ ایک لطیف اور شوق انگیز عنوان ہے جس کی تجلیات میں گم ہونے کیلئے جذبۂ عالیہ کو صرف فطری سلامتی اور پاکیزگیٔ طبع کافی ہے، بس دیدۂ اعتبار چاہئے ورنہ مشاہدات و واقعات کی ایک پھیلی ہوئی کائنات ہے بس اسے یوں سمجھئے کہ جس طرح ایک لدے پھندے، ہرے بھرے چمن میں غنچوں، کلیوں اور پھولوں کی کمی نہیں، دیکھئے اور اپنی پسند کے مطابق چن کر دامن بھرتے جائیے ۔کچھ ایسا ہی معاملہ یہاں بھی ہے تاریخ کے صفحات پر اس کے بےشمار شواہد اور ایک سے بڑھ کر ایک خوش رنگ بینات کی گلکاریاںہیں۔ عظمت وبرکت کے اس گل کدہ میں اس قدر رنگا رنگی اور تنوع ہے جس کی تحدید و شمار انسانی ادراک میں ناممکن خیال کیا جا رہا ہے۔ کوئی علم معرفت میں بزرگی رکھتا ہے تو کوئی طہارت و عفت میں، کوئی تقویٰ اور خدا ترسی میں منفرد ہے تو کوئی دانائی و ذہانت میں، کوئی سیادت و امامت میں عظمت مآب سمجھا جا رہا ہے تو کوئی ملک سخن کا تاجدار کہلا رہا ہے، ایک زبان و قلم کا شہنشاہ ہے تو دوسرا تالیف و تصنیف کا بادشاہ، غرض فضل و بزرگی اور عظمت و برتری کیلئے مذکورہ اوصاف ناکافی نہیں ہیں ان میں ایک وصف کا حامل انسان معروف و مشہور تصور کیا جا رہا ہے تو جس شخصیت میں یہ تمام اوصاف حمیدہ موجود ہوں ان کی عزت و عظمت، شہرت و معرفت کا ستارہ یقیناً اوج ثریا پر ہوگا۔
ایک صدی پیشتر جب ہم بھارت کے شہر بریلی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارے دل کی کلیاں مشکبار ہوتی ہیں کہ وحدہٗ لاشریک نے فرد واحد میں نہ جانے کتنی خوبیاں اکٹھا فرما دی ہیں جو ایک وقت میں مفسر بھی ہے، محدث بھی ہے، لاجواب مؤرخ بھی ہے، مجدد بھی ہے، عمدہ محقق بھی ہے، بےمثال منجم ہے تو فقیدالمثال فلسفی بھی ہے، عظیم المرتبت محشی ہے تو ہزارہا کتب کا مصنف بھی ہے، فقیہ ہے تو حکیم بھی ہے، جہاں بیمثال ریاضی داں ہے وہیں طبعیات، لسانیات، فلکیات، ارضیات، سیاسیات اور اقتصادیات کا ماہر بھی ہے عالم، مفتی، حافظ، قاری، امام بھی ہے تو اپنے وقت کا اعلیٰ حضرت بھی ہے۔المختصر یہ کہ امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہٗ پر مصطفےٰ جان رحمت ﷺکی ایسی رضا ہوئی کہ زمانے میں منفرد اور ممتاز بنا دیا۔ نہ یہ کہ صرف انھیں ممتاز کیا بلکہ گلشن رضا میں کھلنے والے تمام پھول زمانے کو مہکا گئے ہیں کہیں ملک العلماء بن کر تو کہیں صدر الشریعہ بن کر، کہیں مفسر اعظم بن کر تو کہیں محدث اعظم بن کر، کہیں شیر بیشہ اہلسنت بن کر تو کہیں مشاہد ملت بن کر، کہیں مفتی اعظم ہند بن کر تو کہیں تاج الشریعہ بن کر (علیہم الرحمۃ والرضوان) الغرض جو جہاں تھا نیر تاباں بن گیا، جو ذرہ تھا آفتاب بن گیا اور پورے جہاں کو روشنی دےگیا۔
میری اس تحریر کا تعلق اس ذات والاصفات سے ہے جو گلشن رضا کا ایک مہکتا ہوا گلاب ہے جسے دنیا تاج الشریعہ، بدرالطریقہ، فخرازھر، ولی کامل، زبدۃ الاتقیاء، امام الاصفیاء، سند المحدثین، رئیس المحققین، تاجدار اہلسنت، پاسبان مسلک اعلیٰ حضرت جیسے پاکیزہ القابات سے یاد کرتی ہے جو علوم اعلیٰ حضرت کے سچے وارث تھے مفتی اعظم عالم کے سچے جانشین تھے یعنی محمد اسماعیل رضا خان المعروف بہ اختر رضا خان ازھری رحمۃ اللہ علیہ علماء عرب وعجم آپ کو تاج الشریعہ اور مریدین و معتقدین سرکار ازھری میاں بھی کہہ کر یاد کرتے ہیں۔
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے حضور مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ کے توسل سے عشق رسول کا وہ جام لیا کہ تاحیات عشق رسالت مآب و اسوہ حسنہ مصطفےٰﷺ پر قائم ودائم رہے، عشق رسالت،تحفظ و اشاعت اسلام و سنیت، اور فقہ و فتاویٰ کے ذریعہ خدمت یہ تین ایسے اوصاف ہیں جو خاندان اعلیٰ حضرت کے افراد میں قدر مشترک کی حیثیت رکھتے ہیں اور حضور تاج الشریعہ میں یہ تینوں اوصاف بدرجہ اتم موجود تھے۔ تصلب فی الدین اور استقامت کا یہ عالم تھا کہ کبھی یک سرمو بھی انحراف کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ آپ مستند عالم باعمل، صاحب زہد و ورع، اور ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم کی واضح تفسیر تھے۔آپ کی خلوت و جلوت یکساں تھی، دل و دماغ انکساری و تواضع سے لبریز، دینی غیرت و حمیت سے سرشار، بلند کردار و عمل کے پیکر، اخلاق و سخاوت کے دریا، اپنے اکابر کا حد درجہ احترام، اصاغر پر اعتماد اور خوب خوب بارش کرم، ان کی محفل میں خیر ہی خیر، خود پسندی اور غیبت و عیب جوئی سے دور و نفور، آپ کا وجود مسعود سراپا نعمت ہی نعمت تھا۔ آپ کا حال و قال پیکر علم و تقویٰ تھا ایک جہان آپ کے کردار و عمل کے خیر سے خیرات پا رہا ہے اور ہمیں فخر ہے کہ ان کا مبارک زمانہ میسر آیا اور ہماری آنے والی نسلیں ہم پر فخر کریں گی۔ آپ اسلامی میزان پر ایک عظیم انسان تھے یہی ناقابل شکست معیار عظمت ہے جو بقا میں باقی اور فنا میں غیر فانی رہےگا۔
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ان عدیم النظیراور فقید المثال افراد میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنے کردار کی سرخی سے اپنی عظمتوں کا نقش انسانوں کے لوح ذہن پر جما لیا ہے ۔وہ ہندوستان کی روحانی تاریخ کے وہ کوہ نور ہیں جس کی ضوفشانیوں سے عالم کا چپہ چپہ روشن و منور ہو رہا ہے۔وہ زہد و تقویٰ، فقر و فاقہ اور حزم و اتقا کے وہ نیر تاباں ہیں کہ جو ان کے دامن کرم سے وابستہ ہوگیا ، رشک رومی و غزالی بن گیا۔ تاجدار کشور صبر و رضا ہیں، دنیا ان کے سنگ آستاں کا طواف کرتی تھی مگر باریابی کی اجازت نہیں، رؤساے زمانہ قطار در قطار صف بستہ نظر عنایت کے منتظر مگر کیا مجال کہ کوئی حدود سے تجاوز کر جائے، وہ فرد نہیں انجمن تھے، عالم نہیں سراپا علم تھے، کتاب نہیں لائبریری تھے، ان کی خاموشی میں بپھرے ہوے سمندر کی جولانی پنہاں تھی، ان کی خرام ناز ایوان باطل میں زلزلہ برپا کر دیتی تھی، ان کی تقویٰ شعار نگاہوں میں وہ شکوہ و تمکنت کہ ایوان اقتدار کا بڑے سے بڑا جغادری اپنی نگاہیں ان سے چار کرنے کی جرات نہ کر سکے، علم و عمل کا ایسا خوبصورت سنگم اور فکر و نظر کا ایسا بیش قیمت تراشیدہ ہیرا کہیں اور دستیاب نہیں، عالم شباب میں شبنم کے قطروں کی طرح صاف و شفاف تقدس مآب، اجلا اجلا، نکھرا نکھرا، مہکا مہکا،، ان کے صحیفہ حیات میں کہیں انگشت نمائی کی گنجائش نہیں، ان کی زندگی کا ہر ورق بے داغ اور زہد و ورع کی ایک انوکھی دستاویز ہے۔
حضور تاج الشریعہ قدس سرہٗ العزیز سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے مہر منیر تھے۔ ان سے منسلک اور وابستہ بندگان خدا کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرکے کروڑوں میں پہونچ گئی ہے۔ آپ کے مریدین و معتقدین آپ کی راہوں میں پلکیں بچھاتے تھے اور سر آنکھوں پر جگہ دیتے تھے۔ ایک طویل زمانے تک آپ کے مواعظ حسنہ ذوق و شوق سے سنے گئے ہیں وعظ و نصیحت کی ان محفلوں کے ذریعہ آپ نے ہزارہا بندگان خدا کو خدا تک پہونچایا ہے آپ کی نصیحتوں سے متاثر ہوکر انھیں توبہ و استغفار کی توفیق نصیب ہوئی ہے اور آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہوکر سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں شامل ہوئے ہیں ۔
آپ کی ظاہری حیات میں کئی کرامتوں کا ظہور ہوا مگر یاد رکھنا چاہئے کہ کرامت سے بہتر استقامت ہوتی ہے ۔ کشف و کرامت نہ ولایت کی قبولیت کے جزو ہیں اور نہ ان کی دلیل۔ محققین نے وضاحت کی ہے کہ دین متین پر استقامت کا مرتبہ کرامت سے بہت بلند ہے ،کیونکہ مافوق الفطرت امور اور شعبدے تو جادوگر بھی دکھا دیتے ہیں لیکن وہ ان کی کرامت نہیں کہلاتے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص و خاص بندوں سے بعض چیزوں کو ظاہر فرما دیتا ہے تاکہ وہ ان کے عنداللہ مقبول ہونے اور لوگوں میں ان کی وجاہت و مقبولیت کا سبب ہوں۔ اہلسنت وجماعت اولیاء اللہ کی کرامت کو اعتقاداً برحق سمجھتے ہیں لیکن اہل نظر اور ارباب علم و دانش استقامت فی الدین اور اتباع سنت ہی کو سب سے بڑی کرامت سمجھتے ہیں اور یہ سب سے بڑی کرامت حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ میں بدرجہ اتم موجود تھی اتباع شریعت جہاد فی النفس کے بغیر ممکن نہیں اور جہاد فی النفس کو افضل جہاد کہا گیا ہے جو شخص اپنے نفس پر قابو پاکر خود کو شریعت کا پابند بنا لیتا ہے اور سنت کے سانچے میں ڈھال لیتا ہے وہی کامل ولی اللہ ہے ۔جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

’’اِنۡ اَوۡلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ‘‘ (الانفال :۳۴)

یعنی اس کے اولیاء ہی متقی و پرہیز گار ہیں مگر اکثر کو علم نہیں۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ تاحیات جہاد فی النفس میں لگے رہے سنت کی کامل پابندی ان کا شعار رہا اور یہ وہ وصف ہے جو تمام اوصاف کا جامع ہے تمام دینی و اخلاقی اور روحانی اوصاف اس ایک وصف میں مضمر ہیں اسی بنا پر آپ علم و حکم، زہد و ورع، صدق و وفا، صبر و شکر،توکل و رضا اور عبادت و ریاضت کا پیکر بن گئے۔
ارباب علم و دانش پر مخفی نہیں ہے کہ علماء و فقہاء کے درمیان ہمیشہ دو طبقہ رہا ہے ایک ارباب رخصت اور دوسرا طبقہ ارباب عزیمت کا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ رخصت حرمت کے بہت قریب ہوتا ہے جو شخص رخصت پر عمل کرےگا وہ حرمت کے قریب سے گزرے گا سیدی سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ عزیمت کے قائل و قائد تھے امت مسلمہ کو حرمت سے کوسوں دور رکھنا چاہتے تھے آپ کے تمام فتاویٰ، جملہ تحریریں عزیمت پر مبنی ہیں حضور مفتی اعظم عالم رحمۃ اللہ علیہ کا علمی و عملی کارنامہ بھی اس سے جدا نہیں ہے زہد و تقویٰ کے بےمثال پیکر اور تعلیمات اعلیٰ حضرت کے محافظ و پاسدار صاحب عزیمت بزرگ گزرے ہیں اور ماضی قریب میں حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ علوم اعلیٰ حضرت کے وارث اور حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے سچے جانشین ہوئے جن کا ہر عمل اور ہر ہر قول و فعل تعلیمات ا علیٰ حضرت کے عین موافق تھا ۔یہ پورا خانوادہ سیدی سرکار اعلیٰ حضرت ہوں ،حضور مفتی اعظم ہند ہوں، حجۃ الاسلام ہوں، مفسر اعظم ہوں، اور حضور تاج ا لشریعہ ہوں (رضی اللہ تعالیٰ عنھم) یہ سب عزیمتوں کے قائد گزرے ہیں ایک پل کیلئے بھی اس سے انحراف گوارا نہیں فرماتے تھے۔ تقریباً ایک صدی سے رخصت پر عمل کرنے کی ایک ہوڑ سی لگی ہوئی ہے ،بہت سے دارالافتاء رخصت پر فتاویٰ صادر کرنے لگے، عوام الناس سراسیمگی میں مبتلا ہوگئی مگر بریلی کے اس مرد قلندر کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آئی ،اپنے موقف پر ہمیشہ جبل مستحکم کی طرح قائم رہے آپ کی تحریر و تقریر میں کبھی تضاد نہ پایا گیا جو لکھا مکمل تحقیق و تفتیش کے بعد لکھا اسی لئے کبھی رجوع کی نوبت نہیں آئی۔
حضور سرور کائناتﷺکے پیروکاروں کا نام اہلسنت وجماعت ہے اور یہ نام روز اول سے تمام ناری و جہنمی فرقوں کے مقابل رہا ہے۔ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ کہ بنی اسرائیل بہتر(۷۲)فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور میری امت تہتر (۷۳)مذاہب میں منقسم ہوجائے گی کلھم فی النار الا ملۃً واحدۃً سوائے ایک کے سب ناری و جہنمی ہوں گے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا :’’جنتی مذہب کون ہے؟ ‘‘تو آپ نے فرمایا :’’ما انا علیہ و اصحابی جس مذہب پر مَیں اور میرے صحابہ ہیں۔‘‘
حضور ﷺ کا طریقہ سنت کہلاتا ہے ،اب ظاہر سی بات ہے جو حضورﷺ کے طریقہ پر ہیں وہ اہلسنت ہیں اور ایک دوسری روایت میں ہے:’’و واحدۃ فی الجنۃ وھی الجماعۃ‘‘ یعنی جنتی گروہ کا نام جماعت اور سواد اعظم ہے مذکورہ دونوں روایتوں کے مجموعے سے فرقہ ناجیہ ’’ اہلسنت وجماعت‘‘ ہوئے اور یہی نام بہتر (۷۲)کے مقابل ہے۔ آج کے زمانے میں مسلک اہلسنت وجماعت ہی کی دوسری تعبیر مسلک ا علیٰ حضرت ہے عرف ناس شاہد ہے کہ اگر کوئی شخص مسلک اعلیٰ حضرت بول دیتا ہے تو سننے والابلا تامل اسے سنی یقین کرلیتا ہے اور ہر شخص سمجھ جاتا ہے کہ یہ شخص اہل سنت وجماعت سے ہے اور یہ عرف شرعاً مقبول بھی ہے جیسا کہ مسند امام احمد بن حنبل میں ہے :’’ما راہ المسلمون حسناً فھو عند اللہ حسن‘‘یعنی جسے عامۃ المسلمین اچھا جانیں وہ عند اللہ حسن و محمود ہوتا ہے۔
یہ بات معاندین و حاسدین کے سمجھ میں آئے یا نہ آئے مگر یہی حقیقت ہے کہ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ مسلک اعلیٰ حضرت کے پاسبان، دین حق کے سپاہی اور سواد اعظم اہلسنت وجماعت کے عظیم قائد تھے، ہر گام پر اہلسنت وجماعت کی بہتر ترجمانی فرماتے رہے۔ حاسدین کا حسد اور معاندین زمانہ کا عناد کبھی ان کے پائے ثبات کو متزلزل نہ کرسکا، ہمیشہ باطل جماعتوں کے بالمقابل سینہ سپر رہے۔ آج آپ کے وصال پرملال پر پوری دنیا سے تعزیت نامے موصول ہورہے ہیں، اپنے بیگانے سب کےسب تعزیت میںشامل ہیں مگر جب ہم حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی پرنور زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو انشراح صدرہوتا ہے کہ آپ ہمیشہ فرقہائے باطلہ کا رد بلیغ فرماتے رہے ،کبھی ان کی جانب غلط نگاہ بھی نہ ڈالی معاملات ہو یا موالات کبھی انھیں قریب نہ کیا ،عصر حاضر کے نام نہاد مصلحت پسندوں کو ایک درس عبرت دے گئے یقیناً آپ کی ذات بابرکات اہل سنن کیلئے آئیڈیل اور نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے فرماتے ہیں کہ ؎

نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کردیں
پدر مادر برادر مال و جاں ان پر فدا کردیں

کیوں نہ ہو آپ کے جد امجد حضور سیدی سرکار ا علیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنی تقریر و تحریر اور فتاویٰ جات کے ذریعہ دشمنان اسلام و شاتمان مصطفیٰ کی خوب قلعی کھولی تھی ان کے فتنوں سے قوم کو آگاہ فرمایا تھا اور امت مسلمہ کو تعلیم دے گئے کہ ؎

دشمن احمد پہ شدتـ کیجئے
ملحدوں کی کیا مروتـ کیجئے
غیض میں جل جائیں بےدینوں کےدل
یا رسول اللہ کی کثرتـ کیجئے

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی ظاہر حیات میں حاسدین و معاندین کی پوری ٹیم رہی ہمیشہ اس قدسی صفات شخصیت پر انگشت نمائی ہوتی رہی مگر کبھی ان کا تعاقب نہیں فرمایا اور نہ کبھی پلٹ کر جواب دیا۔ بس قال اللہ و قال الرسول کے شیریں جام سے تشنگان عشق مصطفیٰﷺ کو سرشار کرتے رہے حاسدین ہمیشہ منہ کی کھاتے رہے اور خود ہی حسد کی آگ میں ہلاک ہوتے رہے ؎

بمیر تا بہ رہی اے حسود کیں رنجیست
کہ از مشقتـ او جز بمرگ نتواں رسد

شیخ سعدی شیرازی

ایسے ہی حاسدین و معاندین سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے دور میں بھی موجود رہے جبھی تو فرماتے ہیں کہ ؎

اک طرف اعداء دیں ایک طرف حاسدیں
بندہ ہے تنہا شہا، تم پہ کروڑوں درود

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سرکار اعلیٰ حضرت کے پرتو تھے، تعلیمات اعلیٰ حضرت سے بخوبی واقف تھے اور اپنی خاموش زبان سے فرماتے رہے، کہ حاسدوں اپنے حسد سے باز آجاؤ ورنہ ہمارے اور تمہارے جنازے فیصلہ کریں گے ،کون حق پر ہے؟ جیسا کہ حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور کے حاسدوں سے فرمایا تھا ’’بیننا و بینکم الجنائز‘‘یعنی ہمارے اور تمہارے مابین اب جنازے فیصلہ کریں گے ۔آخر آج دنیا نے دیکھ لیا جو اب تک کبھی نہیں دیکھا اور سنا تھا۔ آپ کی نماز جنازہ میں لاتعداد جم غفیر کو دیکھ کر کتنوں کے ہوش اڑ گئے اور حاسدین خامیاں تلاش کرنے لگے ۔کوئی مائک پر نماز جنازہ نہ پڑھانے کے متعلق نظر ثانی کی بات کر رہا ہے ، تو کوئی تعداد میں الجھاہواہے اوردوسروں کو الجھانےکی کوشش کررہا ہے۔ گویا کہ حاسدین وقت

’’ اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی‘‘

کے مصداق نظر آرہے ہیں۔ چنانچہ حضور رفیق ملت سید نجیب حیدر میاں نوری مدظلہ العالی مارہرہ مقدسہ 29 ؍ جولائی 2018 ء بروز یکشنبہ قطب الاقطاب سید الشاہ فضل اللہ قدس سرہ العزیز(کالپی شریف) کے عرس پاک کی تقریب میں اعداد و شمار کرنے والے معاندین کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:’’ نادانوں! تم کہتے ہو ازھری میاں علیہ الرحمہ کی نماز جنازہ میں لاکھ ڈیڑھ لاکھ لوگ موجود تھے، ارے اتنی تعداد تو حاسدین کی تھی اس کے علاوہ دیوانوں اور عاشقوں کی تعداد شمار سے باہر تھی ،جس کو حصار میں لانا ناممکن ہے بریلی کے چپہ چپہ پر سر ہی سر نظر آتے تھے‘‘۔ مزید فرماتے ہیں :’’اگرتم مسلک اعلیٰ حضرت سے ہٹ گئے تو تمہارا تعلق نہ مارہرہ سے ہوگا نہ کالپی سے ہوگا۔‘‘ (تاثر حضور نجیب میاں مارہرہ بموقع عرس کالپی شریف)
حضرت علامہ قمر الزماں اعظمی مدظلہ العالی نے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے وصال پر ایک تعزیتی پروگرام منعقد کیا ،دوران خطاب فرماتے ہیں کہ:’’ حضور تاج الشریعہ نے اپنی نماز جنازہ کے ذریعہ جملہ اہلسنت وجماعت کو ایک پلیٹ فارم، اور اجتماعیت کا انوکھا پیغام دیا ہے تعداد کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت کے جنازے میں دس ملین یعنی ایک کروڑ افراد شرکت کئے ۔‘‘(تاثر علامہ قمر الزماں اعظمی بموقع تعزیتی پروگرام حضور تاج الشریعہ)
اس کے علاوہ اکابر علماء کرام کے اور بھی تاثرات پیش کئے جا سکتے ہیں مگر طوالت کا خوف ہے منصف مزاج کو اتنا ہی کافی و وافی، تنگ نظر کو پورا دفتر ناکافی ہے۔
یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ 21، 22، 23 مارچ 1980ء کو دارالعلوم دیوبند نے جشن صد سالہ منایا۔ جس میں کانگریسی حکومت اور وزیر اعظم اندرا گاندھی کی پوری حمایت و معاونت شامل رہی ۔اندرا گاندھی نے جشن دیوبند کو کامیاب بنانے کیلئے ریڈیو، ٹی وی، اخبارات، ریلوے وغیرہ کا تمام متعلقہ ذرائع سے ہر ممکن تعاون کیا بھارتی محکمہ ڈاک و تار نے اس موقعہ پر 30 پیسے کا ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا ۔اندرا گاندھی نے بنفس نفیس جشن دیوبند کی تقریبات کا افتتاح کیا (ماہنامہ رضاے مصطفےٰ گوجرا نوالہ اپریل 1980ء)
اندرا گاندھی کے بیٹے سنجے گاندھی نے تقریباً پچاس ہزار افراد کو تین دن تک کھانا کھلایا اور حکومت کے سوا غیر مسلم باشندوں، ہندوؤں اور سکھوں نے بھی دیوبند کا تعاون کیا۔ (روزنامہ امروز لاہور 19 اپریل 1980ء)
جشن دیوبند کے مندوبین نے بتایا کہ مذکورہ جشن میں حکومت نے ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ کئے اور دارالعلوم نے ساٹھ لاکھ روپئے اس مقصد کیلئے اکٹھا کئے ۔(روزنامہ امروز لاہور 27 مارچ 1980ء)
جشن صد سالہ دیوبند میں کل تعداد تقریباً تین لاکھ اکٹھا ہوئی۔ (ماہنامہ نوائے وقت ڈائجسٹ ،لاہور جون 1980ء)
زائرین دیوبند، جشن دیوبند سے واپسی پر وہاں سے بےشمار تحفے تحائف بھی ہمراہ لائے ان میں کھیلوں کا سامان ہاکیاں، کرکٹ گیند، سیب، ناریل، کپڑے، جوتے، چوڑیاں، چھتریاں وغیرہ (روزنامہ مشرق ،روزنامہ نوائے وقت 26 مارچ 1980ء)
اس جشن صد سالہ میں اندرا گاندھی نے دوران تقریر کہا کہ: انسانوں کا اس قدر سیلاب ہم نے زندگی میں نہیں دیکھا اور نہ آئندہ ممکن ہے ۔ دارالعلوم کے مہتمم قاری محمد طیب نے استقبالیہ بیان میں کہا :کہ انسانوں کا یہ جم غفیر اب تک دیکھا گیا ،نہ سنا گیا اور آئندہ ایک جگہ پر اتنے لوگوں کا اجتماع مشکل ہے۔ ان کی یہ مزعومہ فکر خاک میں اس وقت مل گئی جب مذکورہ جشن کے تقریباً بیس ماہ بعد 12 نومبر سنہ 1981ء میں حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ دار فانی سے دار بقا کی طرف تشریف لے گئے۔ نہ کہیں ٹکٹ فری کیا گیا،نہ کسی ذرائع ابلاغ کا سہارا لیا گیا ،نہ کوئی سہولت فراہم کی گئی اور نہ ہی کسی کو چوڑی، ہاکی، بلا، گیند دئیے گئے ،پھر بھی دیوانوں کا سیلاب تقریباً پانچ لاکھ کو تجاوز کرگیا ہاتف غیبی نے صدا دی تمام فرقہائے باطلہ غور سے دیکھ لو سواد اعظم تم نہیں یہ دیوانے ہیں جو مفتی اعظم ہند کی نماز جنازہ میں بغیر بلائے اکٹھا ہوگئے ہیں ،کبھی اپنی تعداد پر فخر نہ کرنا اکثریت ہمیشہ اہلسنت وجماعت سواد اعظم کے ساتھ رہے گی۔
یہ تمام باتیں تاریخ کے صفحات پر مثل امروز محفوظ تھیں کہ 38؍سالوں بعد پھر فرقۂ باطلہ ضالہ نے ہمارا ریکارڈ توڑنے کی کوشش کی اور اپنی تعداد کی نمائش کرا کر قوم کو گمراہ کرنے کی سعی لاحاصل کی۔ صوبہ مہاراشٹر کے ضلع اورنگ آباد میں مہاراشٹر حکومت کی حمایت حاصل کرکے فرقہ سعدیہ (شاخ فرقہ وہابیہ) کے بانی مولوی سعد وہابی کاندھلوی نے ایک اجتماع بتاریخ 24، 25، 26 فروری سنہ 2018ء منعقد کیا ۔ اس اجتماع میں جو سہولتیں فراہم کرائی گئیں وہ دیوبند کے جشن صد سالہ سے مختلف نہ تھیں بلکہ دور جدید کا لحاظ کرکے سہولیات میں مزید اضافہ کیا گیا۔ سڑک ٹیکس (ٹولس) فری، کرایہ فری، کھانے پینے کا وافر مقدار میں انتظام و انصرام، زائرین کیلئے طبی سہولیات وغیرہ روزنامہ قومی آواز کے مطابق 15 لاکھ افراد کا انتظام ہوا تھا اور 10لاکھ کی شرکت ہوگئی تھی (روزنامہ قومی آواز 25 فروری 2018)
اورنگ آباد اور اس کے اطراف و اکناف میں یہ مشہور کرایا گیا کہ مذکورہ فرقہ کے لوگ ہندوستان میں وافر مقدار میں موجود ہیں اور جن کی تعداد اتنا زیادہ ہو وہ غلط ہوہی نہیں سکتے ۔ناخواندہ اور سادہ لوح مسلمانوں کو لالچ دے کر اور کچھ وقتی امداد کرکے شریک اجتماع کرایا گیا تھا ۔جو ان کی تعداد دیکھ کر مبہوت ہورہے تھے مگر حق ہمیشہ سر بلند ہوتا ہے۔اللہ وحدہٗ لاشریک نے اہلسنت وجماعت مسلک اعلیٰ حضرت کی حمایت فرمائی اور ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کو گمراہ ہونے سے بچا لیا کہ مذکورہ اجتماع کے تقریباً پانچ ماہ بعد 22 جولائی 2018 ء کو حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی نماز جنازہ میں تقریباً دس مِلین اہلسنت وجماعت کو اکٹھا فرما کر باور کرا دیا کہ سواد اعظم فرقہ وہابیہ ضالہ نہیں بلکہ اہلسنت وجماعت ہیں۔ آج سے پانچ ماہ قبل اورنگ آباد کے اجتماع کے ذریعہ جو شکوک و شبہات سادہ لوح مسلمانوں کے دماغ میں ڈالے گئے تھے اب یکسر ختم ہوتے نظر آرہے ہیں ۔ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے تمام خلق خدا کو بریلی شریف میں اکٹھا کردیا اور اپنے فیوض وبرکات سے متبعین مسلک اعلیٰ حضرت کو مالامال کیا اور کرتے رہیں گے۔ ان شاءاللہ
ایک عرصے سے اہلسنت وجماعت کے مابین فروعی اختلافات کو دیکھ کر ہمدردان قوم و ملت عجیب کیفیت میں مبتلا تھے کہ اب قوم منتشر ہوچکی ہے، انھیں ایک پلیٹ فارم پر لانا مشکل امر ہے سب کی نگاہیں رہبر و رہنما کی تلاش میں تھیں کہ کوئی اٹھے کہیں سے اٹھے اور امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم دےدے سب کو یکجا فرما دے الحمدللہ ثم الحمدللہ! اس کار خیر میں بھی رہبری کا سہرا بریلی والے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے ہی سر سجا اغیار ہمارے آپسی فروعی اختلافات کو ہوا دےکر اپنی دال گلانے کی سعی کر رہے تھے کہ اس مرد قلندر نے اپنی نماز جنازہ میں ہر مشرب کے لوگوں کو اکٹھا فرما کر بتادیا کہ ہمارے خانقاہی نظام جداگانہ ہوسکتے ہیں، ہمارے مابین فروعی اختلافات ہوسکتے ہیں مگر قطعیات و اصولیات میں ہمارا منبع و مخزن ایک ہی ہے ۔ہم کبھی جدا تھے نہ رہیں گے ملک و بیرون ملک کے سجادگان نے تعزیت نامہ ارسال کرکے امت مسلمہ کی ڈھارس بندھا دی اور مطمئن کردیا کہ اب بھی فکر کرنے کی حاجت نہیں حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے فیوض وبرکات سے ہمیشہ سود مند ہونا ہے رضوی، برکاتی، اشرفی، وارثی، حشمتی، مشاہدی، وغیرہم اہل حق ہیں اور سب کا مرکز بریلی شریف ہے نہ ہم کل جدا تھے نہ آج ہیں اور ہمیشہ سیدی سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے قدموں سے وابستہ رہیں گے. ان شاءاللہ
اللہ جل مجدہٗ اس اجتماعیت کو دوام بخشے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کے فیوض وبرکات جملہ امت مسلمہ پر عام سے عام تر فرمائے اور ہمیں حضور تاج الشریعہ کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اسے خوب عام کرنے کی توفیق بخشے۔آمین بحرمۃ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم

Menu
error: Content is protected !!