حضور تاج الشریعہ کے ہمراہ ایک سفر

شہزادۂ بحر العلوم مولانا شکیب ارسلان مبارکپوری


کوئی پندرہ سال پیشتر والد محترم حضوربحر العلوم علیہ الرحمہ (ولادت ۱۳۴۴ھ /وفات ۱۴۳۴ھ )کے ساتھ نیو میمن مسجد ،کراچی کی عالمی میلاد کا نفرنس ۲۰۰۲ء میں شرکت کا موقع میسر آیا۔ یہ میری فیروز بختی اور خوش نصیبی تھی کہ دلی سے کراچی تک وارث علوم اعلیٰ حضرت ،حضور تاج الشریعہ کی قربت ومعیت میں آپ کے پند ونصائح سے شاد کام ہوتے ہوئے سفر تمام ہوا۔وہ حسین لمحات ابھی تک میری نگاہوں کے اردگرد گھومتے نظر آرہے ہیںاور انکی یادوں سے مسرت وشادمانی محسوس کرتا ہوں۔
جب ہم ایئرپورٹ سے باہر نکلے دیکھتے ہی دیکھتے پچاسوں ہزارکا جم غفیر اور مجمع کثیر ہاتھوں میں جھنڈ یاں لئے اپنے مرشدکی زیارت و استقبال اور شوق دیدمیں کھڑے ہیں اور ہر چہار جانب کی فضامرشد کی آمد مرحبا ۔مرشد کی آمد مرحبا کے نعروں سے گونج رہی ہے۔ گویا کوئی آواز دے رہا تھا۔

یہ کون آیاکہ مدھم ہوگئی لو شمع محفل کی
پتنگوں کی جگہ اڑنے لگیں چنگاریاں دل کی

سیکڑوں اور ہزاروں میں صرف ایک ذات ہے ، جس پر جان نچھاور کرنے والوں کی بھیڑ لگی ہے اور جس کی لقاء کیلئے دلوںکی چنگاریاں بیتاب وبیقرار ہورہی ہیں، دھکم دھکا سے بے نیاز کسی طرح مرشد کے قدموںتک رسائی سے دلوں کی دنیا شاد وآباد ہوجائے۔
ادھر ایئر پورٹ کا عملہ حیران ششد رو پریشان کہ کس طرح عقیدت مندوں، نیاز مندوں اور جان بازوں کے سیلاب پر قابو پایا جائے۔ان کے وہم و گمان میںبھی نہیں رہا ہوگا کہ ایسی مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،خداخدا کرکے اس ہجوم پر قابوپالیا ۔ پھر حضرت تاج الشریعہ کو گاڑی میں سوار کیا گیا۔
پھر فلک شگاف نعروں کی تکرار ،مسرت وشاد مانی کی شاہراہوں سے گزر کر آپ اپنی قیام گاہ تک پہونچ گئے۔ یہ گرویدگی وشیفتگی دلوں کا جھکاؤ اور قبول عام کبھی کسی اور کے لئے میری نگاہوں نے نہیں دیکھا۔

بے سبب ہی نہیں یہ عام قبول
پہلے مقبول بارگاہِ ہوئے

حضرت بحر العلوم

پھر شام کو ’’عالمی میلاد کا نفرنس‘‘ میں شرکت فرمانے والے علماء ۔جس میں حضور غوث اعظم جیلانی رضی اللہ عنہ کی نسل پاک کے سجادہ نشین اور انکی خانقا ہ کے وارث وامین اورحضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی مسجد کے امام و خطیب ،اسی طرح سید شیخ احمد کبیر رفاعی رحمۃ اللہ علیہ کی نسل سے تعلق رکھنے والے فضیلہ الشیخ حضرت سید یوسف ہاشم رفاعی، اور دبئی کے سابق وزیر اوقاف فضیلۃ الشیخ عیسیٰ مانع حمیری موجود تھے۔ (جنھوں نے مصنف عبد الرزاق کے گمشدہ دس ابواب کو بڑی محنتوں اور جانفشانیوں کے بعد ڈھونڈ نکالا۔ اس پر فاضلانہ حواشی، اور مقدمہ لکھ کر الجزء المفقود من الجزء الاول من المصنف‘‘ یعنی مصنف عبد الرزاق کی پہلی جلد کا گمشدہ حصہ کے نام سے بیر وت میں چھپوایا۔ ہندوستان میں اس کتاب کی پہلی اشاعت، حضرت مولانا مفتی محمد راحت خاں بانی و مہتمم دار العلوم فیضان تاج الشریعہ بریلی کے اہتمام میں منصۂ شہود سے آراستہ ہوئی۔) ان کے علاوہ ہندو پاک کے بیشمار علما اور مشائخ اس عالمی میلاد کانفرنس میں شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کو ٹی۔وی۔ اور ویڈیو کے سہارے پوری دنیا میں ٹیلی کاسٹ کیا جا رہا تھا۔
اچانک کسی گوشہ سے شور اٹھا، حضرت علامہ اختر رضا خاں صاحب دام بالفضل جلوہ افروز ہونے والے ہیں۔ منتظمین کانفرنس کو معلوم تھا حضرت ازہری میاں صاحب ٹی۔وی۔ کی نشریات کو سخت ناپسند کرتے اور ناجائز و حرام کا فتویٰ صادر فرماتے ہیں، کیوںکے اس میں جانداروں کی تصویریں ہوتی ہیں۔ اگر انہوں نے ٹی وی لگا دیکھ لیا تو کیا کچھ کر سکتے ہیں، اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بڑی تیزی سے اور جلدی، جلدی ٹی وی کا رخ اسٹیج کی طرف سے موڑ کر مجمع کی طرف کر دیا تاکہ حضرت ازہری میاں کو نظر نہ آئے۔

آئین جواں مرداں حق گوئی وبیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

اللہ کے شیر کی جواں مردی، حق گوئی اور بیباکی کودنیا نے دیکھ لیا۔ شرعی مواخذہ کا خوف کس طرح دلوں پر طاری ہے۔اس طرح کی محفلوں اور مجلسوں میں ضرورت شرعیہ داعی ہوتی اور حضرت بحر العلوم شریک ہوتے۔ میں نے دیکھا آپ اپنے چہرہ پر رومال ڈال لیتے۔ کہ رومال رکھنا آپ کے معمولات میں شامل تھا۔ جیسا کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ’’جامعہ البرکات‘‘ کے قیام کے لئے ایک شرعی اور فقہی سیمپوزیم ہوا۔ وہاں بھی ویڈیو گرافی جاری تھی، حسب معمول وہاں بھی رومال کا سہارا لیا، پھر جب آپ نے خطاب شروع کیا اس وقت ویڈیو گرافی بند کر دی گئی۔ اسی طرح مدینہ پاک کی ایک محفل میلاد میں پاکستانی حضرات کی دعوت پر شرکت ہوئی، وہاں بھی موبائل سے بحر العلوم کو اپنی گرفت میں لینا چاہا،آپ نے انہیں سخت پھٹکار پلائی، حیرت ہے آپ حضرات کو فوٹو گرافی کرتے ہوئے شرم نہیں آتی، وہ بھی روبروئے روضہ رسول مقبول ﷺ۔
حضرت تاج الشریعہ کی تو شان ہی نرالی تھی۔ وہ بلا خوف لومۃ لائم غیر شرعی امور اور ناجائز و حرام پربڑی سخت باز پرس اور تنبیہ کرتے اور منع فرماتے ،ایسی جرأت حق کم لوگوں میں دیکھنے کو ملی۔ میرے رسولﷺ نے ایمان کے تین درجے بتائے، تم میں جو کوئی منکرات دیکھے، اس کو اپنے ہاتھ سے روکے، یہ ایمان کا سب سے مضبوط اور پہلا درجہ ہے اور اگر ہاتھ سے روکنے کی ہمت نہ ہو تو زبان سے روکے یہ ایمان کا دوسرا درجہ ہے، حضرت تاج الشریعہ نے اپنے ہاتھ سے کسی کا گریباں پکڑا، ہلکا سا جھٹکا دیا پھر فرمایا: ٹائی مسلمانوں کی تہذیب نہیں، یہ یہود و نصاریٰ کا لباس اور ان کا شعار ہے۔ یا پھر زبان و قلم سے روکا۔ اور ’’اضعف ایمان‘‘ کہ صرف دل میں برا جانے کبھی بھی اس پر آپ کا عمل نہیں رہا۔
بتانا یہ ہے کہ سارے جہان کے علماء اور مشائخ موجود ہیں، کسی کے دل میں کسی کا خوف طاری نہیں ہوا، صرف ایک شخصیت سب سے عظیم سب سے ممتاز اور منفرد حضور تاج الشریعہ کی نظر آئی۔ آپ نے اصول مذہب، اور مزاج شریعت کو نہیں بلکہ لوگوں کی طبیعت کو اصول شریعت میں ڈھالنے کی سعی بلیغ فرمائی۔
موبائل کی بد تمیزیاں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کے ذریعہ لی جانے والی تصویروں پر سخت برہمی اور ناگواری کا اظہار کرتے، بلا ضرورت شرعیہ وجاحت شدیدہ تصویر کشی کو مسلک اعلیٰ حضرت کے خلاف اور اس سے انحراف فرماتے۔ پھر بھی کچھ گم گشتگان راہ شریعت با القصد وبالارادہ بڑی بے فکری اور خوش دلی کے ساتھ ٹی وی پر آکر اپنے چہروں کی نمائش اور مسلک اعلیٰ حضرت کی تضحیک کرتے ہیں۔ بحمد اللہ۔حضور تاج الشریعہ نے ٹی وی، ویڈیو، موبائل، فیس بک، اور میڈیا کو کبھی بھی اپنی شہرت کے لئے استعمال نہیں فرمایا کہ ان ذرائع سے آپ کو جانا پہچانا جائے بلکہ پروردگار نے آپ کی دینی اور مذہبی خدمات کے صلہ میں وہ قبول عام بخشا کہ پوری دنیا کو اپنے پیروں سے روندتے رہے۔ دنیا نے دیکھ لیا کس شان سے آپ کا جلوس جنازہ اسلامیہ انٹر کالج تک لایا گیا۔ بغیر کسی مبالغہ کے کہا جا سکتا ہے، اتنی خلق کثیر اور ہجوم عوام و خواص نہ کسی جنازے میں دیکھا نہ سنا اور آئندہ اس کا امکان بھی مشکل اور محال نظر آتا ہے۔
پھر ہمیں جامعہ امجدیہ کراچی کے درس بخاری میں شریک ہونا تھا۔ حضور ازہری میاں اور حضور بحر العلوم علیہما الرحمہ نے درس بخاری کی برکتوں سے فیضیاب و سرفراز کیا۔حضرت کے ساتھ جب میں قیام گاہ پر حاضر ہوا، میں نے والد ماجد سے عرض کیا اس سے قبل سیکڑوں بار آپ کے درس بخاری میں شریک ہو چکا ہوں اور آپکی تفہیم و تشریح اور تحقیق و تنقیح کی شان دیکھ چکا ہوں۔ مگر آج موضوع کے مطابق توضیح و تشریح بظاہر بہت مختصر معلوم ہوئی۔
آپ بحر العلوم ہیں اور آپ کے فرق اقدس پر یہ لقب اس وقت سجا جب سواد اعظم اہلسنت میں اکابر ملت داعا ظم رجال صف بہ صف موجود تھے۔ حضور مفتیٔ اعظم ہند، حضور برہان ملت، حضور مجاہد ملت، حضور حافظ ملت، حضور صدر العلماء، حضور سید العلماء، حضور احسن العلماء، حضور شیخ العلماء، حضور شمس العلما ءوغیر ہم اور آپ کے معاصرین میں حضرت پاسبان ملت ،حضرت رئیس القلم، حضرت صاحب سجادہ، حضرت مجاہد دوراں، حضرت شارح بخاری، حضرت مفتی راجستھان، اور حضرت خواجہ مظفر حسین وغیرہم، یہ وہ گنج گراںمایہ، اور قد آور شخصیتیں تھیں جن کے نزدیک آپ اپنے گرانقدر لقب’’ بحر العلوم ‘‘کے ساتھ محبوب و محترم تھے۔ میرے استفسار کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:’’ حضرت ازہری میاں دام بالفضل نے اس حدیث کا درس بڑے شرح و بسط ومالہ وما علیہ کے ساتھ بیان فرمایا۔ میرے بیان کرنے کے لئے انہوں نے کچھ چھوڑا ہی نہیں۔ اس لئے مجھے رخ بدل کر حدیث پاک کے حجت شرعی ہونے اور منکرین حدیث کے خلاف صف آرا ہونا پڑا۔‘‘
اس طرح پتہ چلا کہ علم حدیث کی تفہیم وتشریح میں حضور تاج الشریعہ کا مقام کتنا بلند ہے۔ جس کا اعتراف حضرت بحر العلوم جیسے علم و تدبر کے تاجدار کو ہے۔شرعی مواخذہ میں جرأت و بیباکی، قبول عام اور خلق کثیر کا اژدہام ،اللہ کے نیک اور خاص الخاص بندے کو نصیب ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث پاک کا ارشاد ہے۔ اللہ تعالی جب کسی بندے کو منتخب کرتا ہے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام کے واسطے سے اس کی محبوبیت کا اعلان کراتا ہے اور فرماتا ہے مجھ کو فلاں بندے سے محبت ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔چنانچہ حضرت جبرئیل آسمان میں منادی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کو فلاں بندے سے محبت ہے تم سب اس سے محبت کرو۔ چنانچہ آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں پھر زمین میں اس کی مقبولیت کے چرچے ہونے لگتے ہیں۔ مفہوم حدیث (مشکوٰۃ شریف)بلا شبہ حضور تاج الشریعہ اس حدیث کے مکمل مصداق ہیں۔

Menu
error: Content is protected !!