تاج الشریعہ کی جرأت رندانہ

انصار احمد مصباحی(ناسک، مہاراشٹر، الہند)


آپ نے جمعہ کہاں پڑھا؟
سی آئی ڈی کی طرف سے پہلا سوال ہوا، قیام گاہ پر شب خوب مار کر سازو سامان بکھیر دیا، سرپر ریوالور تان دیا، آناً فاناً ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی گئیں. وہ بار بار یہی کہتے رہے:
جناب! آخر میرا قصور کیا ہے؟ میں نے کیا جرم کیا ہے؟ میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے؟
مگر وہ ایک نہ سنے اور اپنی بربریت پر اٹل رہے۔
انہیں پتہ نہیں کہ جس بگاڑ کا وہ اندیشہ کر رہے تھے وہ بگاڑ نہیں درستی تھی۔
بہر حال سی آئی ڈی کو اس نے جواب دیا : میں مسافر ہوں، میں نے ظہر پڑھ لی ہے، مسافر پر جمعہ فرض نہیں۔
سی آئی ڈی : تم حرم میں نماز کیوں نہیں پڑھتے؟
قیدی: حرم سے دور رہتا ہوں اور وہاں صرف طواف کرنے جاتا ہوں۔
سی آئی ڈی: اپنے محلے کی مسجد میں کیوں نہیں پڑھتے؟
قیدی: میرے علاوہ کئی لوگ ہیں جو محلے کی مسجد میں نماز نہیں پڑھتے، کئی لوگ سرے سے نماز ہی نہیں پڑھتے، مجھ سے ہی باز پرس کیوں ہو رہی ہے!
سی آئی ڈی : جو پوچھا جا رہا ہے اس کا جواب دو!
قیدی: محلے کا امام خود کو حنبلی کہتا ہے. میں حنفی ہوں اورحنفی مقتدی کی رعایت غیر حنفی امام نہ کرے تو حنفی کی نماز صحیح نہ ہوگی۔
سی آئی ڈی : تمہارے پاس سید علوی مالکی کی کتابیں کہاں سے آئیں؟
قیدی : قریبی مراسم ہیں ، ملاقات ہوئی تو انھوں نے تحفتا ًدی ہیں۔
سعودی افسران تگ و دو کے باوجود کوئی جرم ثابت کرنے میں ناکام رہے اور یوں ہی قید خانے میں ڈال دیا۔اب دوسرے دن انھوں نے پینترا بدل لیا کہ کسی طرح سے کوئی بہانہ مل جائے جس سے ہم انہیں مجرم ثابت کرکے ان کوگھر لوٹا سکیں.
دوسرے دن سلسلہ سوال و جواب پھر شروع ہوا۔
سی آئی ڈی : ہندستان میں کتنے فرقے ہیں؟
قیدی: (شیعہ، سنی، قادیانی اور نیچری وغیرہ چند فرقوں کے نام گنائے، ان کے عقائد اجمالاًبتائے اور پھر) امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے قادیانیوں کا رد کیا ہے۔ ان کے رد میں جزاءالله عدوه، قهر الديان وغیرہ چھ رسالے لکھے ہیں. کچھ لوگوں نے ہم پر یہ تہمت لگائی ہے کہ ہم (امام احمد رضا کے ماننے والے ) اورقادیانی ایک ہیں۔ وہی لوگ ہمیں بریلوی کہتے ہیں، ”بریلویت“ کسی نئے مذہب یا دین کا نام نہیں ہے۔
سی آئی ڈی: احمد رضا نے کس مذہب کی بنیاد رکھی ہے؟
قیدی: اس نے کسی نئے مذہب کی بنیاد نہیں ڈالی بلکہ ان کا مذہب وہی تھا جو سرکار ﷺ، صحابہ اور تابعین اور ہر زمانے کے صالحین کا مذہب رہا ہے. وہ خود کو ”اہل سنت وجماعت“ کہلانا ہی پسند کرتے تھے۔
سی آئی ڈی : سنی اور وہابی میں فرق؟
(آپ نے علم غیب، توسل، شفاعت، استمداد وغیرہ مسائل میں جو وہابیوں کے نظریات ہیں بتایا اور اعلیٰ حضرت کے نظریات بھی دلائل کے ساتھ تفصیل سے بتایا)
سی آئی ڈی : تم لوگ غیر اللہ کے لئے غیب کو ثابت کرتے ہو جو کہ شرک ہے؟
قیدی: (پھر ایک بار قرآن و احادیث سے ثابت کیا کہ نبوت ”اطلاع علی الغیب“ ہی کا نام ہے. ذاتی اور عطائی کا فرق واضح کیا)یہ مرد مومن حالت اسیری میں بھی فاتح اور غالب رہا۔ کسی بھی طرح اس قیدی کو سعودی حکومت زیر نہ کرسکی، ان کو کوئی بہانہ نہ ملا۔دوسرے دن وہی سی آئی ڈی ایک اقرار نامہ لے کر حاضر ہوا اور خود پڑھ کر سنایا اور اس پر دستخط کر نے کو کہا. اس میں یہ لکھا تھا ”میں فلاں بن فلاں بریلوی مذہب کا مطیع ہوں“. وہ سمجھ گئے کہ گدھے کو سمجھا سکتے ہیں لیکن وہابی کو نہیں۔
وہ بار بار اپنی صفائی پیش کرتے رہے، اپنا جرم پوچھتے رہے لیکن افسران اپنی رٹی رٹائی باتوں پر مصر رہے. ان کا مقصد جو پورا نہیں ہو رہا تھا! ان کی نظر میں تو اصل گناہ ان کاتصلب فی الدین تھا، حق گوئی و بے باکی تھی، ہمت مردانہ اور جرأت رندانہ تھی۔گیارہ دنوں تک قید و بند میں رکھا، جہاز تک بیڑیاں ڈال کر لایا، دیار حبیب پاک ﷺ میں جاکر اپنے محبوب کے روضے کی زیارت کرنے سے روک رکھا، راہ میں نماز ظہر کی بھی مہلت نہ دی، کوئی اور ہوتا تو مصالحت کر لیتا، لیکن یہ بندہ مومن کا قدم ثبات تھا جو جم گیا تو پھر ٹس سے مس نہ ہوا۔

آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

کبھی کبھی عمل سے زیادہ رد عمل کار گر ثابت ہوجاتا ہے۔ حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری میاں علیہ الرحمہ کی اسیری اور سعودی مظالم کے مذکورہ واقعہ کا بھی کچھ ایسا ہی اثر دیکھنے میں آیا۔ پوری دنیا میں بین الاقوامی مظاہرے ہوئے، ورلڈ اسلامک مشن لندن، رضا اکیڈمی ممبئی، سنی جمعیۃ العلماء، جمعیت علمائے پاکستان سمیت سبھی سنی تحریکوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کا یہ اثر ہوا کہ 21 ؍مئی 1987 عیسوی کو سعودی سفارت خانے سے فون آیا اور ایک ماہ کی خصوصی زیارت کے لیے ویزا کا اعلان کیا گیا اور سربراہان مملکت سعودیہ عربیہ نے یہ اعلانیہ جاری کیا: حرمین شریفین میں ہر مسلک و مذہب کے لوگ اب آزادانہ طور طریقہ سے عبادت کریں گے. کنز الایمان پر پابندی میرے حکم سے نہیں لگائی گئی ہے۔ مجھے اس کا علم بھی نہیں ہے۔ اب میلاد کی محافل آزادانہ طریقہ پر ہوں گی۔ کسی پر مسلط نہیں کیا جائے گا۔سنی حجاج کرام کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ (حیات تاج الشریعہ ص ۴۶ بحوالہ روزنامہ الاحرام قاہرہ ۱۲ ربیع الاول ۱۴۰۷ ھ)
حضور تاج الشریعہ کے تذکرہ کرنے والے اکثر مضمون نگاروں نے کلید کعبہ کی دستیابی، فخر ازہرکا ایوارڈ (الذراع الفخري يا Pride of Performence جسے ہندستان میں عرفاً فخر ازہر ایوارڈ کہا جاتا ہے) اور جارڈن کی سروے تنظیم کا با اثر ترین مسلم شخصیات میں ۲۲ ویں مقام پر شمار کرنے کوزیادہ اہمیت دیا ہے۔ موصوف ان خوبیوں سے متصف تھے، ان سے ہمارے ممدوح کا قد بالاہوتاہے، لیکن ان ساری باتوں میں غیر کا بھی اشتراک ہے. حضرت کا ایک وصف ایسا بھی ہے جو کم از کم معاصرین میں ناپید معلوم ہوتا ہے اور وہ ہے آپ کا ایمانی جرأت رندانہ ، تصلب فی الدین اور راسخ الاعتقادی۔اور بقول ڈاکٹر اقبال لاہوری کے جو چیزیں ایک انسان کو صحیح معنی میں مرد مومن بناتی ہیں یعنی آئین جہانگیری، مرد قلندر کا انداز ملوکانہ، حیرت فارابی و تاب و تب رومی، جذب کلیمانہ و فکر حکیمانہ، اور نعرۂ مستانہ سب کچھ تھیں، کیوں کہ ان میں شرم نبی خوف خدا کے ساتھ جرأت مومنانہ بدرجہ اتم موجود تھی۔
امیری میں فقیری میں، شاہی میں غلامی میں
کچھ کام نہیں بنتا بے جرأت رندانہ
پوری حیات طیبہ جرأت اور حق گوئی سے عبارت رہی. سر دست چند واقعات کو مختصرا پیش کر رہے ہیں:

(۲)

ایمرجنسی کے زمانے میں نس بندی کے خلاف فتوٰی: یہ فتوٰی نہ صرف آپ کی حمیت اسلامی کی دلیل ہے بلکہ ”سمندر کو کوزے میں بھرنا“ محاوے کی عمدہ مثال بھی ہے. اس جامع و مانع فتویٰ پر حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ، علامہ محدث کبیر، قاضی عبدالرحیم بستوی اور مفتی ریاض احمد سیوانی کے دستخط ہیں۔25؍جون 1975ءکی رات وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اپنا اقتدار بچانے کے لئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دیا۔ میڈیا کی نشر و اشاعت کے سارے حقوق اپنے نام محفوظ کر لئے۔ مقصد صرف اتنا تھا کہ نس بندی کے دوران رکاوٹوں کو پوری طرح کچلا جا سکے اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کا علم کسی کو نہ ہونے پائے نیز مخالفین کی آوازیں کوئی نتیجہ برآمد نہ کر سکیں۔
اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں کا مذہبی حکم نامہ تھا. دار العلوم دیوبند رابطہ کیا گیا، مہتمم دار العلوم قاری طیب نے مرعوب ہوکر جواز کا فتویٰ صادر کر دیا۔ اب باری تھی بھارت کی سب سے عظیم اور محکم دار الافتا بریلی شریف کی۔ حضور مفتیٔ اعظم ہند کے حکم پر آپ نے قرآن و احادیث کی روشنی میں نس بندی کو حرام ہونے کا فتویٰ دے دیا اور بتا یا کہ اس میں کئی حرام کاموں مثلاً:
(۱) بے ضرورت شرعی ننگا ہونا (۲) تغیر خلق اللہ وغیرہ کا ارتکاب ہے نیز یہ معیشت کو بچانے کے لئے نسل کشی جیسا ہے اور’’ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ خَشۡیَۃَ اِمۡلَاقٍ‘‘ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اسے صراحتا حرام قرار دیا ہے۔ اخبارات نے اشاعت سے انکار کردیا تو سائکلو اسٹائل کے ذریعے اس کی تشہیر کی۔ پورا ملک گاندھی کے جابرانہ حکمنامے کے سامنے سرنگوں نظر آرہا تھا. کوئی کچھ لب کشائی کی بھی جرأت نہیں کر پارہے تھے، ایسے وقت میں بریلی کے مرد مجاہد نے اپنے فتوے کے آخر میں یہ بھی لکھ دیا کہ ”ہم حکومت سے یہی کہیں گے کہ وہ مسلمانوں کے مسائل شرعیہ کا احترام کرے اور انہیں مجبور نہ کرے“ (تجلیات تاج الشریعہ، ص ۳۱۳)

(۳)

آپ کا تیور بچپن سے ہی مجاہدانہ تھا، بلکہ بے باکانہ اصلاحی پہلو آپ کی موروثی فطرت میں ودیعت کی گئی تھی۔ حیدر آباد کی ایک تقریر میں مولانا عبد اللہ قریشی نے حضورتاج الشریعہ کے سامنے کہا : ’’میں نے جامع ازہر میں ان کا زمانہ طالب علمی دیکھا ہے. وہ اس وقت بھی شریعت کے بہت بڑے پابند تھے. وہ وہابی گستاخ رسول کو دیکھنا نہیں چاہتے تھے. ایک مرتبہ ایک ہندی طالب علم سے میں نے دریافت کیا، ”کہاں سے پڑھ کے آئے ہو؟“ اس نے ”دارالعلوم دیوبند“ بتایا۔ اس وقت مولانا اختر رضا بھی موجود تھے. یہ سن کر فوراً لاحول ولاقوة الا باللّٰه پڑھنا شروع کر دیا۔

(۴)

بندہ مومن کا دل بیم و خطر سے پاک ہے۔ نماز کے لئے ٹرین چھوڑ دینے کے حضرت کے کئی واقعات زباں زد ہیں۔ ایک بڑا ہی ایمان افروز واقعہ فقیہ النفس مفتی مطیع الرحمٰن صاحب رضوی کی زبانی سنیے! :
۱۹۷۴ءکی بات ہے جب حضور مفتیٔ اعظم نے بہار کے ضلع پورنیہ کا آخری سفر فرمایا۔ اس سفر میں ہم خواجہ تاشان رضویت کی استدعا پر حضرت تاج الشریعہ کو بھی ہمراہ ہونا تھا۔مولانا مقبول صاحب حضور مفتیٔ اعظم کے ہمراہ ہوگئے اور تاج الشریعہ نے طے کیاکہ وہ تاریخ مقررہ کی صبح براہ راست گوہاٹی میل سے کشن گنج پہنچیں گے۔ جب مقررہ تاریخ آئی تو استقبال کے لئے سینکڑوں علما و عوام کشن گنج جنکشن پہنچ گئے۔ حضور مفتیٔ اعظم کی تشریف آوری تو کلکتہ سے صبح پہنچنے والی ٹرین سے ہوگئی، مگر گوہاٹی میل سے تاج الشریعہ نہیں پہنچے۔ ٹرین کے کچھ مسافروں نے استقبال کے لئے پہنچنے والوں کا ہجوم دیکھ کر وجہ دریافت کی تو ان کو بتایا گیا کہ اسی ٹرین سے ہمارے ایک بزرگ تشریف لانے والے تھے مگر وہ نظر نہیں آ رہے ہیں۔تو انہوں نے بتایا کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو رہا تھا کہ ٹرین مظفر پور پہنچی تھی اور حلیہ بتا کر کہا کہ اس شکل و صورت کے ایک صاحب بڑی بے تابی سے اتر کر نماز پڑھنے لگ گئے تھے۔ٹرین روانہ ہونےلگی تو بھی وہ صاحب نماز ہی پڑھتے رہے۔ بالآخر ٹرین روانہ ہوگئی اور وہ وہیں رہ گئے۔اگر آپ لوگ ان ہی کو لینے آئے ہیں تو یہ ہے ان کا سامان، اتار لیجئے ! ہم لوگوں نے سامان اتار لیا اور حضرت تاج الشریعہ کئی ٹرینیں بدلتے ہوئے شام کو پہنچ سکے۔ (مفتی صاحب کے تازہ مضمون سے اقتباس)

(۵)

حکمرانوں سے بے اعتنائی: جنوری 1995 دوپہر دوبجے کی بات ہے کہ وزیر اعظم پی وی نرسمہاراؤ کے خصوصی سیکریٹری حضور تاج الشریعہ کی خدمت میں وزیر اعظم کا پیغام لیکر حاضر ہوئے. اور خط پڑھ کر سنایا کہ وزیر اعظم ہند آپ کی شخصیت سے بہت متاثر ہیں اور ملاقات کی خواہش کرتے ہیں. آپ نے جواب دیا : میں مصروف ہوں، میں سیاسی آدمی نہیں ہوں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کے ہاتھ بابری مسجد کی شہادت میں ملوث ہیں۔(فتاویٰ تاج الشریعہ،ج ۱، ص ۶۴)
مداریوں کے خلاف فتویٰ اور ان سے مناظرے میں پیش پیش رہنا، اعلیٰ عہدوں پر فائز حکمراں اور اسٹارس سے بے اعتنائی اور انہیں خاطر میں نہ لانا، ایم ایل سی کی سیٹ کے پیش کش کو ٹھکرا دینا، ٹائی پہنے دیکھ کر بروقت اتروانا، تصویر کی حرمت پر فتویٰ، اور چند آزاد رو اور مطلق العنان علمائے سو کی بے راہ روی کی بر وقت تنقید یہ چند کارنامے ہیں جو بریلی کے اختر رضا خان کو اسلام کا سچا داعی، قاضی اہل سنت، مسلک اعلیٰ حضرت کا سپہ سالار اور ”تاج الشریعہ“ بناتے ہیں۔

Menu
error: Content is protected !!