موت بھی ہا تھ مل رہی ہو گی

ڈا کٹر غلام زرقا نی،چیئرمین حجا ز فا ؤنڈیشن آف امریکہ


دوڈھا ئی سا ل پہلے کچھ گھنٹوں کے لئے بریلی شریف جا نے کا مو قع ملا ۔قافلہ میں بنا رس سے محب گرا می قدر علا مہ قا ری دلشا داحمد رضوی ، ڈا کٹر مو لانا حا فظ شفیق اجمل اور حا فظ و قاری جنا ب سیف الملک بھی شامل ہو گئے تھے ۔طے شدہ پرو گرا م کے مطابق حضرت علامہ عسجدرضا خا ں صاحب کے ساتھ تھوڑی دیر با ت چیت ہو تی رہی ۔اس کے بعدہمیں ایک حجرے میں لے جا یا گیا ،جہا ں تا ج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا خا ں ازہری علیہ الرحمہ تشریف فر ما تھے ۔آہ ! کسے خبر تھی کہ یہ میری آخری ملا قا ت ثا بت ہو گی ،تاہم قضا ئے الٰہی کے فیصلوں کے آگے کسے پر ما رنے کی جرأت،سو ۲۰؍ جولائی جمعہ اور شنبہ کی درمیا نی رات میں وہ گھڑی آ ہی گئی ،جس سے کسی ذی روح کو چھٹکارا نہیں۔
خو برو جسا مت ،منا سب قدو قامت ،عشق الٰہی اور حب رسول ﷺ سے سر شار آنکھیں ،تقدس مآب ہا تھ،ستواں نا ک ،روشن وتا بنا ک چہرہ کہ جس پر کسی نے چا ندنی کا غاز ہ مل دیا ہو ،کو ثر وتسنیم کے آبشا ر میں نہا ئی ہو ئی پیشا نی کہ جس سے رحمت ونور کے سنہرے مو تی ہمہ وقت ڈھلک رہے ہو ں ۔چلتے تو سر جھکا ئے ہو ئے آہستہ آہستہ اور بو لتے توٹھہر ٹھہر کر تاکہ مفہوم خو ب اچھی طرح واضح ہو جا ئے ۔ہمہ وقت دیدہ ز یب ،پر کشش اور ہلکے رنگ کا عما مہ سر پر سجا ئے رہتے ۔تا ہم معمولی کپڑے کا کرتا اور پائجا مہ زیب تن کرتے ۔کھانے پینے میں سادہ غذا پسند کرتے اور کسی بھی طرح کے تکلف سے مکمل اجتنا ب ،لیکن کبھی کبھی چٹپٹی چیزیں بھی شوق سے تنا ول فر ما تے ۔
سکوت کا عالم ہو تو ایک سربستہ راز اور زبا ن کھلے تو ہا تف غیب کی آواز ،شریعت پر آنچ آجائے تو قہر وجلا ل کا دہکتا ہوا انگا رہ اور خود اپنا وجو د خطرے میں ہو توعجز وانکسا ری کا پیکر جمیل۔۔۔۔تملق وچا پلوسی نام کو نہ تھی ،شریعت اسلامیہ کے آئینے میں جسے درست سمجھا ،اس پر نہایت ہی سختی سے کا ر بند رہے اور جسے غلط سمجھا ،اس پر ببا نگ دہل گرفت کرتے ہو ئے کبھی بھی اپنوں اور غیروں کے درمیان تمیز نہ کی۔
شخصیت کی سحر طرا زی بہت مشہور ہے ،تا ہم میری آنکھوں نے آج تک حضور تا ج الشریعہ علیہ الرحمہ سے زیا دہ کسی کے ارد گرد پروا نوں کا اس قدر ہجوم نہیں دیکھا ۔جس علا قے سے موصوف کے گز رنے کی خبر ہو جا تی ،وہاں کے لو گ گھنٹو ں ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب ہو جا تے ،دست بو سی کی مہلت نہ مل سکے،تو جسم ناز ک سے لگے ہو ئے کپڑے کو ہی چھو کر بو سہ دے لیتے۔
حلقہ ارادت میں داخلے کے لئے مجمع عام کے سا منے کسی حا ضر با ش کو تمہید با ندھنے کی ضرورت نہ تھی ،بلکہ لوگ نہ صرف ایک جھلک دیکھ کر ،بلکہ تا ج الشریعہ علیہ الرحمہ کے نا م سے اس قدر ما نو س ہو گئے تھے کہ خود ہی دیر تک حلقہ ارا دت میں داخلے کے وقت کا بے چینی سے انتظا ر کرتے رہتے ۔ایک ایک با ر میں کثرت اژ دھام کا یہ عالم تھا کہ لمبی لمبی رسی لائی جا تی اور ہزاروں کی تعدادمیں لوگ یہاں وہاں سے رسی کا کو نہ تھا م لیتے اور یوں تا ج الشریعہ علیہ الرحمہ کی غلا می میں آجا نے پر فخر کیا کرتے ۔عقیدت مندوں کی بھیڑ جب عروج پر پہنچتی اور ایک دوسرے پر سبقت لے جا نے کی کوشش میں دھکم دھکا ہو تا ،تو حا شیہ نشینوں کو غصہ بھی آتا اور خوشی بھی ہو تی ،غصہ اس با ت پر کہ لو گ اپنے مر کز عقیدت کے تحفظ و صیا نت کی بھی پروا ہ نہیں کر رہے ہیں اور خو شی اس با ت پر ہو تی کہ تا ج الشریعہ کی عوامی مقبو لیت کا یہ عالم ہے کہ لو گ ایک جھلک دیکھنے کے لئے اپنے آپ کو تکلیف دہ صورت حا ل کے حوا لے کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں۔
حضور تا ج الشریعہ علیہ الرحمہ عمل وآگہی کا بحر بیکرا ں تھے ۔دنیا ئے اسلام کی مشہو ر ومعرو ف یو نیورسٹی جا مع ازہر سے نہ صرف فا رغ التحصیل تھے ،بلکہ ایسے فا رغ التحصیل تھے کہ خود جا مع ازہر کو بھی آپ پر بڑا نا ز تھا ۔یہی وجہ ہے کہ جا مع از ہر کے ار با ب حل وعقد نے آپ کی خدمت میں ’’فخر ازہر‘‘ سے مو سوم ایوا رڈ پیش کیا ۔فرا غت کے بعد آپ نے درس وتد ریس کا سلسلہ شروع کیا جو اخیر وقت تک گا ہے بگا ہے جا ری رہا ۔اس حوا لے سے آپ کے شا گردوں کی درست تعداد بتا نی تو مشکل ہے تا ہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سبقاً سبقا ً پڑھنے والے طلبہ کی تعداد سے کہیں زیا دہ لاکھو ں ایسے تشنگا ن معرفت ،علما ئے کرا م اور مفتیان عظا م ہیں ،جنہوں نے دورا ن سفر وحضر مشکل ترین دینی مسا ئل میں حضور تا ج الشریعہ علیہ الرحمہ کے خرمن علوم وفنون سے خوشہ چینی کی سعا دت حاصل کی ہے۔
آپ درجنوں کتا بوں کے مصنف تھے ۔شرعی فیصلہ ،تین طلاقوں کا شرعی حکم،ٹی وی اور ویڈیو کا آپریشن،سیدنا ابرا ہیم علیہ السلام کے والد ’’تا رح‘‘ تھے نہ کہ’’ آزر‘‘،مسئلہ حق نبی پر سنو چپ رہو،آثا ر قیامت،رویت ہلال کا ثبوت اور حدود قضا ،افضلیت صدیق اکبر وفاروق اعظم ، الحق المبین، ازہر الفتاویٰ ،دفا ع کنز الایمان ،الصحا بۃ نجوم الاہتداء،شرح حدیث الاخلا ص وغیرہ قا بل ذکر ہیں ۔اسی کے ساتھ آپ نے بخا ری شریف پر’ ’تعلیقات ازہری‘ ‘ کے نا م سے حا شیہ بھی تحریر فر مایا ہے۔اسی کے ساتھ آپ نے اپنے جد امجد امام احمد رضا خا ںرضی اللہ عنہ کے کئی رسا ئل وکتب کی تحقیق وتخریج فر مائی اور بعض کو عربی زبا ن میں بھی منتقل کر کے عام لو گو ں کے لئے مصنفا ت اعلیٰ حضرت سے استفادہ سہل بنا دیا ۔
خیال رہے کہ مو صوف کو فارسی،عربی ،اردو اور انگریزی میں یکسا ں مہا رت تھی ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کو بلا تکلف متذکرہ زبا نو ں میں لکھنے ، پڑھنے اور بو لنے پر عبو ر حا صل تھا ۔حاضر با ش گو اہ ہیں کہ موصوف نے عالم عرب کا دورہ کرتے ہو ئے فصیح وبلیغ عر بی میں خطا ب فر ما یا ۔ افغا نستا ن کے علما ئے کرا م سے با ت کرتے ہو ئے فارسی زبا ن استعما ل کی اور جب یو رپ و امریکہ میں انگریزی خطا ب کی ضرورت محسوس کی تو بلا تکلف انگریزی میں با ت شروع کر دی۔
موصوف بلند پا یہ شاعر بھی تھے ۔آپ نے عربی ،فارسی اور اردو زبا نوں میں کا میاب شاعر ی کی ہے ۔نغمات اختر(روح الفؤاد بذکریٰ خیرالعباد) اور سفینہ بخشش بہت مشہور مجمو عے ہیں۔آپ کی شاعری تصنع ،بنا وٹ اور با زاری لب ولہجے سے پو ری طرح پا ک ہے ۔اپنے محبوب مکرم ﷺ کی بار گا ہ میں اپنی عقیدتوں کا خرا ج پیش کرتے ہو ئے پر کشش ردیف اور قا فیے استعمال کئے ،بلکہ آپ کی بیشتر نعتیں مترنم بحروں میں ہیں ،جنہیں عالم اسلام کے مشہور ومعروف نعت خواں اپنے اپنے لب ولہجے میں گنگناتے ہو ئے دینی محفلوں میں جان ڈا ل دیتے ہیں ۔
صاحبو ! کو ئی شک وشبہ نہیں کہ عہد حا ضر میں لو گ بہت مصروف ہو گئے ہیں اور غیر تو غیر سہی ،اپنوں سے ملا قا ت کے لئے بھی لوگو ں کے پا س وقت نہیں ہے ،تا ہم اسے شخصیت کی غیر معمو لی مقبو لیت ہی کہئے کہ جو ں ہی تا ج الشریعہ علیہ الرحمہ کے وصا ل کی خبر پہنچی ،جا ں نثا روں ، عقیدت مندوں اور حلقہ ارا دت میں داخلے کا شرف رکھنے والوں کے جتھے کے جتھے ،لاکھو ں لاکھ کی تعداد میں بریلی پہنچ گئے ۔میں نے تو یہا ں تک سنا کہ موسلا دھا ر با رش کی وجہ سے محلہ سودا گرا ں کی گلیوں میں گھٹنے تک پا نی رکا ہوا ہے اور لو گ ہیں کہ لائن میں گھنٹو ں لگے ہو ئے ہیں ،تا کہ آخری با ر اپنے محبوب کی ایک جھلک دیکھ سکیں ۔ظا ہر ہے کہ یہ دیوا نگی بلا سبب نہیں ہے ،بلکہ سچی با ت تو یہ ہے کہ علما ء اور عوا م کے درمیان موصو ف کی یکساں مقبو لیت صرف اس لئے تھی کہ حضور تا ج الشریعہ علیہ الرحمہ علم اور عمل دونو ں پس منظر میں اوج ثریا پر پہنچے ہو ئے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ علم وعمل ،زہد وتقویٰ اور فکر وفن کا رو شن وتابنا ک آفتا ب شام کے وقت جب بریلی کے افق پر غروب ہوا ،تو صبح ہو تے ہو تے ظلمت وتا ریکی رو ئے زمین کے چپہ چپہ پر پھیل گئی ۔

Menu
error: Content is protected !!