موت العالم موت العالم

علامہ پیر سیداحمد علی شاہ حنفی سیفی ترمذ ی ،رکن سپریم کونسل جماعت اہلسنت پاکستان


واجب الوجود نےممکنات کی دنیااپنی معرفت کیلئےتخلیق فرمائی ہےحدیث قدسی میں ہےکہ:’’ كنت كنزا مخفيا فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق لاعرف۔‘‘میں ایک چھپاہوا خزانہ تھاپس مجھےمحبت ہوئی کہ میں پہچاناجاؤں تومخلوق کوپیداکیا۔(تفسیرروح البیان ج۶ص۶۱تحت الآیۃ سورۃ الحج ۶۶دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ۔جواہرالبحارفی فضائل النبی المختارﷺج۴ص۲۷۵دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان،المقاصدالحسنۃ باب الکاف ص۳۷۷رقم الحدیث ۸۳۶دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان،مثنوی شریف دفتراول ص۷ودفترچہارم ص۱۱۱شرح بحرالعلو م لمثنوی الرومی ص۶۱۸ودفترپنجم ص۱۳۲ودفترششم ص۷۴وص۸۸،عیدمیلادالنبی ﷺ کابنیادی مقدمہ ص۴)

اب انہی ممکنات کاوجودشیخ الاکبرمحی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کےنزدیک وجودنہیں بلکہ ظل الوجودہےوہ ممکن کی تعریف کرتےہوئےلکھتےہیں کہ :’’الممکنات ماتحت رائحۃ الوجود۔‘‘یعنی ممکنات وہ ہیں جنہیں وجودکی صرف بولگی ہو۔ دیگر علماء فرماتے ہیںکہ:’’ ممکن مستاوی الطرفین ہواکرتاہے‘‘یعنی اس کاوجوداورعدم یکساںہےجب کہ واجب الوجودکاوجودضروری، عدم محال اورشریک الباری کاعدم ضروری اوروجودممتنع ہے۔انہی ممکنات میں زمین وآسمان اوراس میں موجودسب کچھ شامل ہےلیکن ان کی انواع میں تفاوت ہےاورپھرانواع کےتحت افرادمیں فرق ہے۔نوع کےاعتبارسےانسان کومقام ارفع واعلیٰ عطاکیاگیاہےاورا سے خلیفۃ اللہ فی الارض کہاگیاہےفرمایا: ’’وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرْضِ خَلِیۡفَۃً‘‘(البقرۃ:۳۰)سو اس کومکرم واشرف بنادیاگیابنسبت دیگرمخلوقات کےپھراس نوع کےافرادمیں فرق کاہوناایک لازمی اورمنطقی امرہے۔

نہ ہرزن زن است نہ ہرمردمرد
خداپنج انگشت یکساں نہ کرد

انہی افرادمیں سےبعض افرا د اپنی ذات کےاعتبارسےکئی سارےکمالات وصفات کےحامل ہوتےہیں جن کاوجود رحمت اورعدم باعث نقصان عظیم ہوتاہے۔انہی باکمال افرادمیں سےایک شیخ العرب والعجم مولانامفتی اختررضاخان صاحب نوراللہ مرقدہ تھے۔ ایسےعلماءکےبارےمیں سراج الامۃ حضرت سیدناامام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایاکرتےتھے:’’الحکایات عن العلمآءومحاسنھم احب الی من کثیرمن الفقہ ۔‘‘علماءراسخین کےواقعات اوران کےمحاسن وفضائل اورصفات حمیدہ کےقصےمجھےفقہ کےبےشمارمسائل سےزیادہ محبوب ومرغوب ہیں یہ اس لیےکہ خاصان خداکےپاکیزہ تذکرےآداب وکمالات کےموتیوں سےمرصع ومزین ہوتے ہیںا ور ان نورانی چہروں کی روشن ودرخشندہ حکایات کےپڑھنےاورسننےسےمادیات کی تاریکیوں میں مستغرق پریشا ن دل مادہ پرستی کی کدورتوں سےپاک وصاف ہوکرایمانی بشاشت وطمانیت اوراستقامت علی الشریعۃ کےانواروتجلیات سےمنورہوجاتےہیں۔

احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی صلاحا

مشہورمحدث زمانہ امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نےفرمایا عندذکرالصالحین تنزل الرحمۃ۔صلحاء امت کے تذکرے کے دوران رحمتیں برستی ہیں۔(اخرجہ ابونعیم فی حلیۃ الاولیاءج۷ص۲۸۵،واحمدبن حنبل فی الورع ج۱ص۷۶،وابن ابی عاصم فی الزہد ج۱ص۳۲۶،واللالکائی فی کرامات الاولیاءج۱ص۹۶الرقم ۴۵،والخطیب البغدادی فی تاریخ بغدادج۳ص۲۴۹،والذھبی فی السیراعلام النبلاء ج۱۴ص۶۴،والسیوطی فی تدریب الراوی ج۲ص۱۴۱)

فرمان نبوی ﷺہے:’’ھم القوم لایشقی لھم جلیس ‘‘یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کاہم نشین محروم وبدبخت نہیں رہتا۔(اخرجہ ترمذی فی السنن کتاب الدعوات )

رحمۃ للعلمین ﷺ کاارشادگرامی ہےکہ:’’ خیارکم الذین اذارأواذکراللہ ‘‘تم میں سےپسندیدہ وہی ہیں جن کےدیکھنےسےاللہ تعالیٰ کی یادآجائے۔(اخرجہ ابن ماجہ فی السنن ،کتاب الزھد،باب من لایوبہ لہ،ج۲ص۱۳۷۹الرقم ۴۱۱۹،واحمدبن حنبل فی المسندج۶ص۴۵۹الرقم ۲۷۶۴۰والبخاری فی الادب المفردج۱ص۱۱۹الرقم ۳۲۳والطبرانی فی المعجم الکبیرج۲۴ص۱۶۷الرقم ۴۲۳)

ایک دوسری روایت میں ہے:’’ لَا يَحِقُّ الْعَبْدُ حَقَّ صَرِيحِ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلّٰهِ، وَيُبْغِضَ لِلَّهِ، فَإِذَا أَحَبَّ لِلّٰهِ، وَأَبْغَضَ لِلّٰهِ، فَقَدِ اسْتَحَقَّ الْوَلَاءَ مِنَ اللهِ، وَإِنَّ أَوْلِيَا ءِ مِنْ عِبَادِي، وَأَحِبَّائِي مِنْ خَلْقِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي، وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ ‘‘ یعنی ایک بندہ تب کامل مومن بن سکتاہےجب وہ مخلوق خداکےساتھ محبت صرف رضائےمولاکی ہی خاطر کرے سوایسےلوگ اللہ تعالیٰ کی مودت والفت کےمستحق ہیں ،(آگےفرمایا)مجھےاپنےبندو ں میں سےزیادہ قریب اورسب سےزیادہ محبوب وہی ہیں جومیری یاد سے یاد آجاتے ہیں اوران کی یادسےمیری یادتازہ ہو۔ (مسنداحمدج۳ص۴۳۰)

اس حدیث سےمعلوم ہواکہ اولیاءاللہ وہی ہیں جن کی مجالس میں بیٹھ کرخوف خدا،یادآخرت، ایمان اوراعمال صالحہ کی طرف رغبت پید ا ہو اورجن کے ساتھ بیٹھنےسےفسق وفجوراوریادالٰہی سےغفلت اوروہابیت اوربدمذہبیت کی طرف میلان ہووہ اولیاءالشیطان ہیں ، اولیاءالرحمٰن نہیں ہیں۔

کارشیطان مےکندنامش ولی

گرولی ایں است لعنت برولی

بحمداللہ تعالیٰ !مسلک اعلیٰ حضرت سےوابستہ اکابرعلماءومشائخ درحقیقت سلف صالحین اورائمہ مجتہدین کےصحیح جانشین ہیں۔ان خدارسیدہ بزرگوں کی تاریخ پڑھنےسےدلو ں میں ایمانی قوت بڑھتی ہےاورنیک اعمال کی طرف قلوب متوجہ ہوتےہیں۔

شیخ العرب والعجم جانشین اعلیٰ حضرت مفتی اختررضاخان صاحب افغانی قندھاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ:

بروز جمعۃ المبارک ۲۰ جولائی ۲۰۱۸ کو پاکستان خصوصاً صوبہ خیبر پختون خواہ کے نیٹ ورک ’’اشاعت رضا‘‘ نے ایک ایسا پیغام شائع اور نشر کیاجس کو دیکھنے اور پڑھنے سے ان لوگوں کی حالت دگرگوں ہوئی جو اپنے سینے میں عشقِ مصطفیﷺ و عاشقانِ مصطفیٰﷺ کی عقیدت کو سموئے ہوئےہیں۔ وہ خبر کیا تھی؟ وہ یہ خبر تھی کہ دنیائے سنیت کی عظیم شخصیت اور خانوادۂ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت عاشق رسول ﷺ امام احمد رضا خان افغانی بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے علمی و روحانی چشم و چراغ، ہزاروں نہیں بلکہ چاردانگ دنیا کے لاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن اور پیشوا، طالبانِ علمِ شریعت و طریقت کے مربی، ساقیٔ علوم حقیقت و معرفت، دریائےعشقِ رسولﷺ کے شناور، محقق و مدققِِ زمان، گستاخانِ رسول و اہل باطل کے لئے شمشیر بے نیام، جامع العلوم الرضویۃ، استاذ العلماء والمشائخ، حضرت علامہ مولانا مفتی اختر رضا خان القادری الرضوی البریلوی قدس سرہ ورحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس دارِ فانی سے پردہ فرماگئے (انا للّٰہ وانا الیہ راجعون)

قبل اس کے کہ ناچیز موصوف علیہ الرحمۃ کی زندگی اور ان کے علمی و فکری، انفرادی شانِ والاشان کے بارے میں کچھ ہدیہ ناظرین کرے، کچھ فضائلِ علم و علماء ہدیہ قارئین کرتا ہے۔

امام دارمی شان علمائےکرام کےبارےمیں روایت فرماتےہیں:’’عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: كَانُوا يَقُولُونَ:مَوْتُ الْعَالِمِ ثُلْمَةٌ فِي الْإِسْلَامِ لَا يَسُدُّهَا شَيْءٌ مَا اخْتَلَفَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ۔‘‘(مسند الدارمي المعروف بـ (سنن الدارمي)ج ۱ص۳۵۱باب فی فضل العلم والعالم دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية)

حضر ت سیدناحسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتےہیں کہ ہمارے اکابرین فرمایاکرتےتھےکہ عالم کی موت اسلام میں ایک ایسی دراڑ ہےجس کوقیامت تک کوئی چیزبندنہیں کرسکتی۔حضوراکرم امام الانبیاءمحمدرسول اللہ ﷺکافرمان مبارک ہےکہ:’’ وقال ﷺلموت قبيلة أيسر من موت عالم ۔‘‘ایک قبیلےکی موت ایک عالم کی موت سےآسان ترہے۔(إحياء علوم الدين،باب فضیلۃ العلم ج۱ص۶دار المعرفة – بيروت)یہ اس لئے ہےکہ قبیلے اوربستیاں بسانےکیلئےکوئی تگ ودونہیں کرناپڑتی لیکن ایک عالم بننےیابنانےکیلئےبڑی تکلیفیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نےاس بات کی طرف اشارہ کرتےہوئےکہاتھا۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بےنوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سےہوتاہےچمن میں دیدہ ورپیدا

’’وقال عمر رضي الله عنه موت ألف عابد قائم الليل صائم النهار أهون من موت عالم بصير بحلال الله وحرامه۔‘‘حضرت سیدناعمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاارشادپاک ہےکہ قائم اللیل صائم النہارعابدکی موت،حلال وحرام کےاحکامات جاننےوالےعالم کی موت سےبہت آسان ہے۔(إحياء علوم الدين،باب فضیلۃ التعلیم ج۱ص۹دار المعرفة – بيروت)

قرآن مجیدنےایمان باللہ اورتقویٰ کوولایت کامعیار بتایاہےاورجاہلوں نےجادہ ٔشریعت سےہٹ کراحکام الٰہی کی مٹی پلیدکرنےکوولایت کانام دیاہےحالانکہ عقائدکی کتابوں میں اس بات کی تصریح موجودہےکہ :’’لورأیت شخصاًیطیرفی الھواءویمشی علی المآء ویاکل النارویترک سنۃ من سنن رسول اللہ ﷺفھولیس بولی بل ھوساحرکذاب۔‘‘ اگرتوایک ایسےشخص کودیکھے جوہوامیں اڑتاہےاورپانی پرچلتاہے اورآگ کھاتاہےلیکن اس کےساتھ وہ حضرت رسول اللہ ﷺکی سنتوں میں سےکسی ایک سنت کوچھوڑتاہےتووہ ولی نہیں بلکہ جادوگراورپرلےدرجےکاجھوٹاہے۔

شیخ المشائخ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں ایک شخص حاضرہوااورعرض کرنےلگاکہ مسلمانوں میں ایک ایسافرقہ جنم لےرہاہےجن کانعرہ یہ ہے:’’نحن وصلنافلاحاجۃ لناالی الصلوۃ والصیام ۔‘‘ہم پہنچےہوئےہیں لہٰذاہمیں نمازروزےکی ضرورت نہیں۔حضرت جنید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاچہرہ انورمارےغصےکےانارکی طرح سرخ ہوگیااورسراپائے جلال بن کرفرمایا:’’ صدقوا فی الاصول لکن الی سقر۔‘‘یہ بےدین لوگ اصول کی بات توٹھیک کرتےہیں لیکن وہ خداتک پہنچےہیں ،نہ جنت میں بلکہ جہنم میں پہنچ گئےہیںاورفرمایا:’’واللہ لوعشت الف سنۃ ماترکت اورادی‘‘۔خداکی قسم اگرمیں ہزارسال کی زندگی بھی پاؤں تونمازروزہ چھوڑناتودرکناراپنےاورادووظائف کوبھی ترک نہ کرونگا۔

’’حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ العِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا۔‘‘(متفق علیہ)

حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہمابیان کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺنےفرمایا۔اللہ تعالیٰ بندوں کےسینوںمیں سےعلم کو نہیں نکالےگالیکن علماءکواٹھاکرعلم اٹھالےگاحتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں بچےگاتولوگ جاہلوں کواپناسرداربنالیں گےان سےسوال کیاجائےگااوروہ بغیرعلم کےجواب دیں گےسووہ خودبھی گمراہ ہوں گےاورلوگوں کوبھی گمراہ کریں گے۔(امام ابوعبداللہ محمدبن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ھ صحیح بخار ی ج۱ص۲۰مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱۳۸۵ھ)
قال الحافظ ابن حجر – رحمه الله- في فتح الباري: “فدل هذا على أن ذهاب العلم يكون بذهاب العلماء”.وقد ذكر المفسرون في قوله تعالى: {أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا نَأْتِي الأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا}(الرعد:۴۱)

قال ابن عباس في رواية: خرابها بموت علمائها وفقهائها وأهل الخير منها. وكذا قال مجاهد: هو موت العلماء. جاء في مجمع الزوائد عن سعيد بن المسيب قال: شهدت جنازة زيد بن ثابت فلما دفن في قبره قال ابن عباس: “يا هؤلاء من سره أن يعلم كيف ذهاب العلم فهكذا ذهاب العلم.. أيم الله لقد ذهب اليوم علم كثير” رواه الطبراني.وجاء في كتاب ’’أخلاق العلماء‘‘ للآجري: قال كعب: عليكم بالعلم قبل أن يذهب، فإن ذهاب العلم موت أهله، موت العالم نجم طمس، موت العالم كسر لا يجبر، وثلمة لا تسد۔قوله: ((لا يقبض العلم)). قال النووي: هذا الحديث يبين أن المراد بقبض العلم ليس هو محوه من صدور حفاظه، ولكن معناه أنہ يموت حملته، ويتخذ الناس جهالاً يحكمون بجهالاتهم فيضلون ويضلون. (شرح النووي على مسلم 16/224.)

قال ابن مسعود: عليكم بالعلم قبل أن يرفع، ورفعه هلاك العلماء، والذي نفسي بيده ليودن رجال قتلوا في سبيل الله أن يبعثهم الله علماء لما يرون من كرامتهم. (مفتاح دار السعادة 1/121.)

يقول ابن مسعود: أتدرون كيف ينقص الإسلام؟ يكون في القبيلة عالمان، فيموت أحدهما فيذهب نصف العلم، ويموت الآخر فيذهب علمهم كله.وعنه رضي الله عنه أنه قال: (أتدرون كيف ينقص الإسلام ؟ قالوا: كما ينقص الثوب، وكما ينقص سمن الدابة، وكما ينقص الدرهم. قال: إن ذلك لمنه. وأكبر من ذلك موت العلماء) (رواه الطبراني، وقال الهيثمي: رجاله موثوقون. مجمع الزوائد 1/202)

قوله: ((اتخذ الناس رؤساء جهالاً)).قال عقبة بن عامر رضي الله عنه: (تعلموا قبل الظانين)، قال البخاري: يعني الذين يتكلمون بالظن (ذكره البخاري معلقاً في باب الفرائض)

قال النووي: معناه: تعلموا العلم من أهله المحققين الورعين قبل ذهابهم ومجيء قوم يتكلمون في العلم بمثل نفوسهم وظنونهم التي ليس لها مستند شرعي. (المجموع 1/42].)

كان الإمام أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري في درسِه، وطلابُه من حوله، فورد إليه كتابٌ فيه نعيُ عبدالله بن عبدالرحمن الدارمي، فنكس البخاري رأسه، ثم رفع واسترجع، ودموعه تسيل على خدَّيه، ثم أنشأ يقول:

عَزَاءٌ فَمَا يَصْنَعُ الجَازِعُ
وَدَمْعُ الْأَسَى أَبَدًا ضَائِعُ

بَكَى النَّاسُ مِنْ قَبْلُ أَحْبَابَهُمْ
فَهَلْ مِنْهُمُ أَحَدٌ رَاجِعُ

تَدَلَّى ابْنُ عِشْرِينَ فِي قَبْرِهِ
وَتِسْعُونَ صَاحِبُهَا رَافِعُ

وَلِلْمَرْءِ لَوْ كَانَ يُنْجِي الْفِرَا رُ
فِي الْأَرْضِ مُضْطَرَبٌ واسعُ

يُسلِّمُ مُهْجَتَهُ سَامِحًا
كَمَا مَدَّ رَاحَتَهُ الْبَائِعُ

وَكَيْفَ يُوَقَّي الْفَتَى مَا يَخَافُ
إِذَا كَانَ حَاصِدَهُ الزَّارِعُ

شیخ وہ ہوناچاہیئے جوشریعت سےواقف ہویعنی عالم ہواورعلم تفسیرواحادیث وفقہ پر دسترس رکھتاہو۔کماقال الجنیدرحمہ اللہ تعالیٰ لشبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ:’’ یاشبلی اذارأیت صوفیاولم یکن بین یدیہ تفسیروعلی یمینہ احادیث وعلی شمالہ کتب الفقہ تعلم انہ شیطان وماصدرمنہ مکرواستدراج۔‘‘(ہدایۃ السالکین الی احسن الخالقین ص۶مصنفہ مولوی ضیاءالحق سواتی بازخیلہ)

’’اقول سواءبالدرس أوبالمطالعۃ أوبالسماع من اکابرالعلماءوالاولیاء راجع روح المعانی سورۃ الجمعۃ ۔وفی تنبیہ المنکرین ومن لم یقدرعلی ان یعلمھالغیرہ فھوناقص لأن العلم بمنزلۃ الطھارۃ للصلوۃ کمالاتصح الصلوۃ بدون الطھارۃ لایصح لارشادبدون العلم ولھذاقال بعض الصوفیۃ من تزھدبغیرعلم جن فی آخرعمرہ أو مات کافرا۔ ‘‘ (ص۲۳)

علماءہی ابدال ہوتےہیں اورکوئی جاہل شخص ابدال نہیں ہوسکتاسلف صالحین کاارشادہےکہ:’’ مااتخذاللہ من ولی جاہل ولواتخذہ لعلمہ ‘‘یعنی اللہ تعالیٰ جل جلالہ نےکسی جاہل کوولی نہیں بنایااگرکسی کوبنایاہےتو(پہلے)اسےعلم دیاہے۔ (المقاصد حسنہ ص۴۲۶،تذکرۃ الابراروالاشرارص۱۱۲ )

’’ ولاتکن من جھال الصوفیۃ فانھم لصوص الدین وقطاع الطریق علی المسلمین۔‘‘(تذکرۃ الابراروالاشرارص۱۱۲ )

حضرت یزیدبن ہارون رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ الابدال ہم اہل العلم ۔اہل علم ہی ابدال ہیں۔امام احمدبن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں۔’’ان لم یکونوا اصحاب الحدیث فمنھم۔‘‘اگرمحدثین ابدال نہیں تواورکون ہیں ۔(المقاصد حسنہ ص۲۸ )

یہاں پرعلماءسےمراداہل سنت وجماعت ہیں نہ کہ بدمذہب ۔حضرت خواجہ عبدالعزیزدباغ قدس سرہ کاارشادمبارک ہےکہ:’’ ان لایفتح علی العبدالااذاکان علی عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ ولیس للہ ولی علی عقیدۃ غیرھم ولوکان علیھاقبل الفتح لوجب علیہ ان یتوب بعدالفتح ویرجع الی عقیدۃ اہل السنۃ۔‘‘(الابریز)یعنی کسی ایسےبندےکوجس کاعقیدہ اہل سنت وجماعت کاعقیدہ نہ ہواسےولایت نہیں مل سکتی اورکوئی بھی ولی ایسانہیں جس کاعقیدہ اہل سنت وجماعت کےخلاف ہو۔ہاںاگروہ شخص غیرعقیدۂ اہل سنت پرتھایعنی اللہ تعالیٰ کسی بندےکوولایت عطاکرناچاہےتواس بندےپرتوبہ کرنااوراہل سنت کےعقائدپرعامل ہوناواجب ہوگا۔

درج بالاعبارات سے علم وعلماء کی فضیلت اورشان چمکتے سورج کی طرح ظاہر ہوگئی اب ناچیز عرض کرتا ہے کہ حضرت جامع العلوم العقلیہ والنقلیہ، المحدث الجلیل، فقیہ العصر،حامی التوحید والسنۃ ،ماحی الشرک والبدعۃ، مجاہد الملۃ ،صاحب التالیفات الوافرۃ والکمالات الباھرۃ، المحب فی اللہ والمبغض للہ تعالیٰ، پیرطریقت تاج الشریعت حضرت علامہ مولانامفتی اختررضاخان صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں میرے تاثرات یہ ہیں کہ آ پ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ علم ومعلومات کےبلندوبالامقام پرفائزاورمعقولات ومنقولات میں یگانہ ٔروزگارتھے۔اللہ تعالیٰ نےانہیں قابل رشک حافظہ عطا فرمایا تھا۔سارےعلوم آپ کومستحضرفی الذہن تھےلیکن بایں ہمہ انہوں نےاپنی تمام ترصلاحیتیں علوم نبوی ﷺ کی خدمت واشاعت وتدریس وتعلیم کیلئےوقف کردی تھیں۔اورآںحضرت ﷺ کےاس فرمان مقدس کےمصداق قرارپائے۔

’’نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا وَوَعَاهَا وَأَدَّاهَاکماقال النبی ﷺ۔‘‘ان کےچشمۂ علم سےہزارہاتشنگان علوم سیراب و فیضیاب ہوئےہیں۔آج ان کےتلامذہ نہ صرف ہندوستان وپاکستان میں ہیں بلکہ اطراف واکناف عالم میں پھیلےہوئےہیں۔یہ مرحوم کا ایساصدقہ جاریہ ہےجوان کی روح کوہمیشہ پہنچتارہےگا۔اس سلسلےمیں حضورﷺ کا ارشاد مبارک ہمارےلیےمشعل راہ ہے:’’ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ’’ إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ ‘‘

علامہ مفتی اختررضاخان قادری برکاتی رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دینی خدمات برصغیرپاک وہندمیں اس طرح تابناک ہیں جس طرح برصغیرپاک و ہند وافغانستان وایران اوردیگر اسلامی ممالک میں امام العصر،مجددوقت،مرشدالعلماءوالمحققین حضرت اخندزادہ سیف الرحمٰن پیرارچی مبارک علیہ رحمۃ الرحمٰن کی شان والاشان چمکتےدمکتےسورج کی طرح درخشندہ اورروشن ہے۔حضرت مبارک قدس سرہ نےبھی اپنی ظاہری زندگی میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی افغانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرح اپنی تمام ترصلاحیتیں اورعلمی شان کوگستاخان رسول کے تعاقب میں صرف کرکےان کی بیخ کنی کی ،حضرت مبارک قدس سرہ ،اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کوایک ولی کامل ،مجاہداعظم اورگستاخان رسول کیلئےایک شمشیربےنیام دیکھتےتھےاوراپنےخطبات میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی اس غیرت ایمانی کاتذکرہ فرماکرخوشی کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔حضرت مبارک قدس سرہ ماضی قریب کےوہ مردمجاہد اورسیف رحمانی تھےکہ انہوں نےبذات خوداوران کےفرزندان مبارکان اورخلفاءکرام مبارکان اوردیگرمتوسلین نےاپنی تمام ترصلاحیتیں عقائدحقہ اہلسنت والجماعت کی ترویج واشاعت اورسلسلہ نقشبندیہ اوردیگرسلاسل طریقت کی خدمات میں صرف کرکےرہتی دنیامیں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ سیفیہ کاایک عظیم نام چھوڑااورآپ مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نےاپنےمتوسلین کی ایسی روحانی تربیت فرمائی کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کامریددنیاکےکسی بھی کونےاورخطےمیں نظرآتاہےتوسنت مصطفیٰ ﷺکاایک نمونہ نظرآتاہےاوردیکھنےوالاحیرت سےانگشت بدنداں ہوکرسلسلہ عالیہ سیفیہ کی خدمات کوسراہتاہے۔(الحمدللہ علی ذلک)

آپ مبارک قدس سرہ نےپاکستان کےگستاخان رسول کےخلاف عَلم جہادبلندفرمایااورتحریری اورتقریری اندازسےان کاردبلیغ فرمایااوراس سلسلےمیں آپ مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اوران کےخلفاءنےنہایت سخت اذیتیں اورتکلیفیں برداشت کیں اوربعض نےجام شہادت بھی نوش فرمایااوربالآخرسنت ہجرت پرعمل پیراہوکر پشاور سےلاہورتشریف لائے۔آپ مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نےکسی گستاخ رسول سےصلح نہیں کی اورنہ ان کی حمایت کی خواہ وہ ان کےرشتےدارہوں یاغیر۔

الغرض حضرت علامہ مفتی اختررضاخان صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اورحضرت مبارک قدس سرہ کامشن ایک ہی تھا۔تاج الشریعۃ حضرت مفتی اختررضاخان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات سےعلمی دنیامیں زبردست خلاپیداہوگیاہےکسی نےقیس کی موت پرکہاتھاکہ

وماکان قیس ہلکہ ہلک واحد

ولکنہ بنیان قوم تھدما

قیس کی ہلاکت کسی فردواحدکی ہلاکت نہیں بلکہ وہ ایک قوم کی عمارت تھےجومنہدم ہوئی،ہم تاج الشریعۃ کےبارےمیں ذراترمیم کےساتھ کہتےہیں ۔

وماکان شیخ موتہ موت واحد

ولکنہ بنیان علم تھدما

شیخ (حضرت علامہ مفتی اختررضاخان صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )کی موت صرف ایک شخص کی موت نہیں بلکہ وہ علم کی ایک عظیم عمارت تھےجومنہدم ہوگئی۔تدمع العین ویحزن القلب ولانقول الامایرضی ربناوانابفراقک یاتاج الشریعۃ لمحزنون تغمدک اللہ بنعمائہ واسکنک فسیح جنانہ۔واللہ یقول الحق وھویھدی السبیل۔

اللہ تعالیٰ تاج الشریعۃ حضرت علامہ مفتی اختررضاخان صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مغفرت فرماکردرجات عالیہ نصیب فرمائے اور جسمانی اورروحانی اولاد کوصبرجمیل عطافرمائےاوراللہ تعالیٰ آپ کےمشن کوجاری وساری رکھےاوران کی خدمات جلیلہ علمیہ کواپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطافرمائے۔آمین۔

درحقیقت یادرفتگان و تذکرۂ بزرگان کےسلسلہ میں علمائےربانیین کی بکھری ہوئی مناقب ومعاصرکواوراق تاریخ میں کتابی گلدستہ کی شکل میں پرونابہت بڑی علمی دینی خدمت ہےجوایک طرف ان قدسی صفات اکابروفرشتہ خصلت سلف صالحین کےشاندارکارنامہ ہائے مجدو شرف کورہتی دنیاتک آنےوالی نسلوں کیلئے زندہ جاویدبنادیتےہیںاوردوسری طرف اصحاب سیرت سےوابستہ خدام وتلامذۃ کیلئے خصوصاً اور جملہ فرزندان اسلام کیلئےعموماًگراں مایہ مجموعہ نصیحت اوربیش بہاگنجینۂ عبرت کاکام دیتےہیں۔’’ولاشیئایدوم فکن حدیثاجمیل الذکرفالدنیا‘‘حدیث۔داغ فرقت سےمجروح قلوب کیلئےاپنےمحبوب فوت شدہ بزرگوںکاذکرجمیل مرہم شافی سےبھی زیادہ موجب تسکین ہوتاہے۔نیزان کےمحاسن ذکر کرنے سے ان کےاحسانات کاحق قدرشناسی بھی قدرےاداہوجاتاہے۔اذکروامحاسن موتاکم ۔

حکایت ازقدآںیاردلنوازکنیم

بایں فسانہ مگرعمرخوددرازکنیم

طبعی طورپردینی پیشواؤں کےدینی ،علمی ،عملی اورتبلیغی کارناموں کوپڑھنےسےاخلاق میں پاکیزگی اوراعمال میں اخلاص وللہیت کے جواہرپیداہوتےہیں۔ان اللہ والوں کی زندگیاں زہدوقناعت ،دیانت وامانت کی چمک سےمنورہوتی ہیں اوران کےمقبول اعمال سے روح پروراوردل آویزخوشبومہکتی ہے۔

تلک آثارناتدل علینا

فانظروابعدناالی الآثار

Menu
error: Content is protected !!