حضور تاج الشریعہ قدس سرہ العزیز کا سانحہ ارتحال

ڈاکٹرمفتی محمد اشرف آصف جلالی،لاہور ،پاکستان


بسم اللہ الرحمن الرحیم
والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الکریم و علی آلہ و اصحابہ اجمعین

نظام مصطفیٰ ﷺ کی حکمرانی اور ناموس مصطفیٰ ﷺ کی پاسبانی کے سلسلہ میں این اے82 گوجرانوالہ میں کمپین بڑی زور و شور سے جا ری تھی۔ 20جولائی کا بڑامصروف دن تھا اس دن تقریبا 18کے قریب جلسے تھے۔ مغرب کے بعد پاسبان مسلک رضا الحاج ابو داؤد محمد صادق قادری رضوی قدس سرہ العزیزکے لخت جگر اور جماعت رضائے مصطفیٰ ﷺ پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ محمد داؤد رضوی نے فون پر ایک ایسے ا ٓفتاب کے غروب ہونے کی خبر دی جو قیامت تک پھر طلوع نہیں ہو گا،ایسی خبر سنائی جو جہانِ سنیت کے لئے بہت بڑے سانحہ کی خبر تھی۔

عالمِ اسلام کے مفتی اعظم، اختر ملت، قاضی القضاۃ، تاج الشریعہ، بدرالطریقہ، شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مفتی محمد اختررضا خان قادری رضوی کے وصالِ پر ملال کے اس پیغام پر یکدم مستقبل کا نقشہ ہی بدل گیا۔ہجومِ غم حواس پر ایسے حملہ آور ہواکہ ہر طرف رات کی تاریکی سے خدشات کی تاریکی زیادہ بڑھنے لگی۔ میں سوچ رہاتھا کہ خانوادہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز پہ کیا بیتی ہوگی۔

حضور تاج الشریعہ کے جگر گوشہ حضرت صاحبزادہ محمد عسجد رضا خان قبلہ اور دخترانِ نیک اختر پہ کیا قیامت ٹوٹی ہو گی۔ حضرت شاہ محمد منان رضاخان منانی میاں، حضرت شاہ محمد عمران رضاسمنانی میاں، حضرت شاہ محمد تسلیم رضا خان اور دیگر صاحبزادگان کی داستانِ غم کتنی دلدوز ہو گی۔ شرق و غرب میں پھیلے ہوئے وابستگان، مریدین ، معتقدین ، متوسلین کے احساساتِ فراق کتنے شدید ہوں گے۔ جن کی مقبولیت اس درجے کی تھی کہ رازدان حقیقت کو کہناپڑا۔

نگاہِ مفتیٔ اعظم کی ہے یہ جلوہ گری
چمک رہا ہے جو اختر ہزار آنکھوں میں

آج ان کی وفات حسرت آیات پر وہی اشعار ان مضطرب کیفیات کی منظر کشی کے لئے پیش کرنا چاہتا ہوںجو حضور تاج الشریعہ قدس سرہٗ العزیز نے اپنے والد بزرگوار مفسرِ اعظم ہند حضرت جیلانی میاںقدس سرہٗ العزیز کے وصال کے وقت مصر سے ارسال کیے تھے۔

کس کے غم میں ہائے تڑپاتا ہے دل
اور کچھ زیادہ امنڈ آتا ہے دل
ہاے دل کا آسرا ہی چل بسا
ٹکڑے ٹکڑے اب ہوا جاتا ہے دل
اپنے اخترؔ پر عنایت کیجئے
میرے مولااس کو بہکاتا ہے دل

بندۂ ناچیز نے فورا سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیااور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اپنے نہایت مشفق و مربی اور عالمِ اسلام کے اس نابغۂ روزگارروحانی پیشواکی خبر ارتحال اور اپنے تاثرات کو پیش کیا۔ نظامِ مصطفی ﷺ کے انتخابی جلسوںمیں حضور تاج الشریعہ کی تقریباتِ ایصال ثواب کا بھی انعقاد ہوا بالخصوص مرکز اہل سنت جامع مسجد زینت المساجد گوجرانوالہ میں صاحبزادہ محمد داؤد رضوی کی سرپرستی میں حضور تاج الشریعہ کے قل شریف کا اجتماع ہوا جس میں بندہ ناچیز نے دوران خطاب منقبت کے ان اشعار سے حضور تاج الشریعہ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

ہمیں اسلاف کا ورثہ دیا اختر رضا خاں نے
حقائق کو دو بالاکر دیا اختر رضا خاں نے
جسے بھی حضرت اقدس سے نسبت ہو گئی کامل
معارف سے اسی کو بھر دیا اختر رضا خاں نے
پڑھایا جو زمانے کو امام احمد رضا خاں نے
وہ درس عشق تازہ کر دیا اختر رضا خاں نے

23نومبر1943ء کو بریلی شریف کے آفاق اور آغوشِ رضویت سے طلوع ہونے والے اس خورشید کی کرنیں 20؍جولائی 2018کو غروب ہونے تک کتنے سینوں کو پر نور اور آنکھوں کو منور کر چکی تھیں۔ دارالعلوم منظر الاسلام بریلی شریف کی مسندِ تدریس سے لے کر مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضابریلی شریف کی مسند تدریس تک آپ کے انداز تدریس نے کتنے قرآن وسنت کے ماہرین تیار کیے جو پوری دنیا کے مختلف ممالک میں باطل کے سامنے سینہ تان کے کھڑے ہیں۔مجاہد جنگ آزادی امام العلماء مولانا رضا علی خان قدس سرہٗ العزیز نے 1831ء میں فتویٰ نویسی کی جس تحریک کا منفرد اندازمیں آغاز کیا تھاجو مجدد دین و ملت، امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہٗ العزیز نے فتاویٰ رضویہ جیسے فقہی انسائیکلو پیڈیا کی شکل میں بطریق احسن آگے بڑھائی حضور تاج الشریعہ قدس سرہٗ العزیز نے نصف صدی سے زائد فتویٰ نویسی کی اسی تحریک کو آگے بڑھایا۔آپ کے فتاویٰ کی علمی ، فقہی اور فنی لحاظ سے اعلیٰ معیار کی گواہی محدث کبیر علامہ محمد ضیاء المصطفے امجدی زید شرفہٗ نے اس انداز میں دی ’’علامہ ازہری کے قلم سے نکلے ہوئے فتویٰ کے مطالعہ سے ایسا لگتا ہے کہ ہم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحریر پڑھ رہے ہیں۔‘‘

آپ کو 36علوم میں مہارت حاصل تھی آپ نے عربی، اردو اور انگلش میں68؍سے زائد کتابیں لکھیں۔آپ نابغہ روز گارفقہیہ، عظیم محدث، اور بہت بڑے مصلح تھے ۔آپ کی علمی، روحانی اور اصلاحی تحریک نے کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا۔آپ نے ہندو مسلم اتحاد کے نظریے کے مقابلے میں مسلمانوں کے جداگانہ تشخص پر زور دیا۔ آپ نے ہندو سماج اور تہذیب افرنگ کے مقابلے میں تہذیب حجازی اور اسلامی اقدار کو فروغ دیا۔آپ باطل کے مقابلے میں حق کی بہت بڑی چٹان تھے۔ آپ کی ہمہ جہت خدمات کی وجہ سے آپ کو امام احمد رضا خاں ثانی کہا جاتا ہے۔ آپ سچے عقائد و نظریات کے علمبردار تھے۔ آپ کی فقہی بصیرت نے عالم اسلام کو در پیش مسائل میں ان کی رہنمائی کی۔ آپ نے دنیا بھر میں تبلیغی دورے کیے جس کے نتیجے میں کئی غیر مسلموں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ آپ نے زندگی بھر صلح کلیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا آپ افکار رضا کے ناشر بھی تھے اور شارح بھی آپ نے سلسلہ عالیہ رضویہ کو پوری دنیا میں پھیلانے کا بھرپور کردارادا کیا۔

بندۂ ناچیز نے حافظ الحدیث امام العصر حضرت پیر سید محمد جلال الدین شاہ صاحب نقشبندی قادری فاضل بریلی شریف قدس سرہٗ العزیز سے جو فکر رضا گھٹی میں پائی ،مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام سے گونجتی مقدس فضاؤں میں آنکھ کھولی اور بحر العلوم مولانا محمد نواز کیلانی فاضل بریلی شریف قدس سرہ العزیز کے سایہ ہما پایہ میں رضویات کو سمجھا ،اسی نسبت کی مزید آبیاری حضور تاج الشریعہ کے دامن سے وابستہ ہونے سے ہوئی ۔حضور تاج الشریعہ کے قلم کی سوغاتیں ، آپ کی خوشبو بھری باتیں،آپ کی صورت و سیرت کی ضیاء پاشیاں ، آپ کے علم وقلم کی ضوفشانیاں آپ کی تبلیغی سرگرمیاں،آپ کی تحقیقی نکتہ آفرینیاں، آپ کے حافظہ کی تجلیاں، آپ کے مجاہدہ کی رعنائیاں ، آپ کی طبیعت کا سوز و گداز، آپ کی تربیت کے اچھوتے انداز، جلال و جمال کا حسین امتزاج، محدثانہ لہجہ ، فقیہانہ مزاج، بھلا زمانہ کیسے بھول پائے گا۔

بندۂ ناچیز کو پہلی مرتبہ آپ کے دیدار کا شرف مرکز اہل سنت جامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف یاد گارِ حضرت حافظ الحدیث قدس سرہٗ العزیز میں حاصل ہوابعد میں لاہور میں کئی بار شرف ملاقات حاصل ہوا حرمین شریفین میںبار بارآپ کے ہمراہ حاضری بالخصوص مدینہ منورہ میں مواجہہ شریف پر آپ کی معیت میں حاضری میرے لیے عظیم توشہ آخرت ہے۔بندہ ناچیز کو آپ کی طرف سے کیے گئے المعتقد کے ترجمہ پر تقریظ لکھنے کا بھی شرف حاصل ہوا جسے بریلی شریف سے شائع کیا گیا۔2008ء میںوالٹن لاہور کے ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھائی جانے والی ایک کتاب (قربان آگہی)کے ایک سبق کے بارے میں صاحبزادہ رضائے مصطفےٰ نقشبندی اور مولانا خادم حسین رضوی کی طرف سے مجھ سے استفتاء کیا گیااسی سلسلہ میں جامعہ رسولیہ شیرازیہ کی لائبریری میں صاحبزادہ رضائے مصطفیٰ نے مفتیان کرام کا ایک اجلاس طلب کیاجس میں بندۂ ناچیز نے اپنا موقف دلائل کے ساتھ پیش کیاپھر اس استفتاء کے جواب میںاس کتاب میں پائے گئے گستاخانہ مواد کے خلاف تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے اصولوں پر مشتمل ایک مفصل فتویٰ تحریر کیاجبکہ کچھ علماء اہل سنت کاموقف دوسری طرف تھا ۔حج کے موقع پر بندۂ ناچیز نے حضور تاج الشریعہ سے مکہ مکرمہ میں ملاقات کی اور آپ سے یہ فتوی آپ کو سنانے کے لئے خصوصی وقت لیا آپ نے کمال شفقت فرماتے ہوئے دوسرے دن کا وقت عطا فرمایا۔

بندۂ ناچیز وقت معین پر حضور تاج الشریعہ کے پاس حاضر خدمت ہوا اور تقریباً تیس (۳۰)صفحات کااپنا لکھا ہوا یہ فتوی حضور تاج الشریعہ کو لفظ بلفظ پڑھ کے سنایا جس میں اس حساس مسئلہ کے بارے میں بہت سی عربی عبارات بھی تھیں جو میں نے حضرت کو پڑھ کے سنائیں آپ نے سننے کے بعد مکمل تصدیق اور تحسین فرمائی اس وقت حضور تاج الشریعہ کے پاس آپ کے داماد حضرت مفتی محمد شعیب رضا قادری موجود تھے یہ فتویٰ سنانے کے دوران حضور تاج الشریعہ میرے پیش کردہ حوالہ جات پر بار بار متوجہ ہوئے بعض امور پر مختصر مکالمہ بھی ہوا ایک مشفق استاذ کی طرح بغیر کسی اکتاہٹ کے آپ نے میری تمام دلیلیں سنیں یوں مجھے مہبط وحی مکہ مکرمہ میں حضور تاج الشریعہ سے خصوصی تلمذکا شرف بھی حاصل ہوا ،اور آ پ کی منفرد توجہات کے حصول کا موقع ملا ،یاد رہے کہ یہ میرا وہی فتویٰ تھا جو مولانا خادم حسین رضوی نے جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں شیخ الحدیث حافظ محمد عبد الستار سعیدی صاحب کے سامنے پیش کر کے انہیں اس مسئلہ میں اپنا موقف تبدیل کرنے پر زور دیا اور انہوں نے دلائل کو دیکھ کر اپنا موقف تبدیل کر لیا جس طرح کہ اہل علم کی شان ہے ۔

یہ حضور تاج الشریعہ کی اصاغر نوازی تھی کہ اسی دوران مکہ مکرمہ میں بندۂ ناچیز آپ کی خدمت میں حاضر تھا کہ بھارت میں چند علماء کرام محفل میں تشریف لائے حضور تاج الشریعہ قدس سرہٗ العزیز نے بڑی خوشی سے انہیں خود میرا تعارف کروایا۔آج آپ اگرچہ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں مگر آپ کے روشن کیے ہوئے چراغ آج بھی اندھیروں کو کافور کر رہے ہیں۔بندۂ ناچیز اپنے مخدوم و محترم حضرت صاحبزادہ الشاہ محمد عسجد رضا خان حفظہٗ اللہ تعالیٰ اور فضیلت الشیخ الشاہ محمد منان رضا خان حفظہٗ اللہ تعالیٰ سے تعزیت گزار ہےاللہ تعالیٰ حضور تاج الشریعہ کے درجات کو بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔آمین

Menu
error: Content is protected !!