آنکھوں دیکھا حال

علامہ مفتی محمد مقصود عالم فرحت ضیائی(سربراہ فخرازہردارالافتاء)ھاسپیٹ،انڈیا


شریعت وطریقت ، مذہب وملت ، معرفت ونورانیت ، ولایت وکرامت ، عبادت وریاضت ، علم وعمل ، اخلاص و وفا انسانیت وشرافت ، صورت وسیرت ، غیرت وحمیت ، رعب ودبدبہ ،ہمت وجرأت ، سعادت ونیک بختی ، وجاہت و دلکشی ، نفاست ولطافت ، فکر وتدبر ، شعور وآگہی ، بخشش وعطا ، اخلاق وکردار ، حسن وجمال ، حشمت وشوکت ، فصاحت و بلاغت ، خوبی وکمال ، محبت وشفقت ، صبر ورضا ، عدل وانصاف ، راست گوئی وپاک بازی ، لطافت وسنجیدگی ، ایثار و قربانی ، ایفائے عہد ، حق گوئی وبے باکی ، مروت و عزیمت ، زہد وورع ، صدق وصفا ، جلوت وخلوت ، ہوش مندی و دانائی ، بصارت وبصیرت ، فہم وفراست ، حکمت وسیاست ، سیاد ت و قیادت،عجز وانکساری ، عقل وخرد ، رہبری ورہنمائی ، تزکیہ وتصفیہ ، زبان وبیان ، لباس وطعام ، جلوس وقیام ، طہارت وپاکیزگی ، ملاحت ونمکینیت ، خوف وخشیت ، پارسائی و پاک دامنی ، خوش روئی وشگفتہ مزاجی ، خوش کلامی و بلند اخلاقی ،دعوت وتبلیغ ، اشاعت وترویج ، کسر نفسی وسادگی ، اصاغر نوازی واکابر پرستی ، حقوق اللہ کی ادائیگی وحقوق العباد کی پاسداری ، امانت ودیانت ، امامت وخطابت ، دینی تڑپ و ملی جذبہ وغیرہ وغیرہ مذکورہ بالااوصاف وخصوصیات اور اجزاءوعناصر سے جس کی حیات عبارت ہے ، نبی پاک ﷺ کی سیرت طیبہ اور صحابۂ کرام کے اسوۂ حسنہ کی نیابت کاملہ کا جو مظہر اتم ہے اس کمال ومحاسن اور خوبی وجمال کے اختر برج ھدیٰ کو دنیا تاج الشریعہ کہتی ہے ۔

جو لقد کان لکم کی ہو بہو تصویر ہو
وہ غلام مصطفیٰ ہیں سیدی اختر رضا

جب سے ہوش سنبھالااس نیر برج ہدایت کو دیکھتا رہا، کبھی مسند ارشاد پر جگمگاتادیکھا، کبھی بزم بیعت وارادت میں سعادت مندی وفیروز بختی کا گل کھلا کر مسکراتا دیکھا ، یہ سلسلہ بڑا دراز ہے البتہ جہاں دیکھا نور بار دیکھا، خلوت وجلوت ہر جگہ مدینے کی ضیا باریوں کا جامع پایا بلکہ اس جمال جہاں آرا میں جلوۂ مصطفیٰ کی تابناکیاں نقطۂ عروج پر مشاہدہ کیں۔ آج بھی ۱۹۹۶ ءکا وہ زمانہ یاد ہے جب بندہ دار العلوم شاہ جماعت ،ہاسن ،کرناٹک میں درس وتدریس کے فرائض انجام دے رہا تھا، فتاوی رضویہ کا مطالعہ کرتے ہوئے چند جگہوں پر تفہیمی وفکری قوت نے جواب دیدیا ۔جس کے باعث ان مسائل کے سمجھنے سے قاصر رہا، مفتیان کرناٹکا سے رجوع کیا مگر طمانیت بخش جواب نہیں ملے ۔مفتی شریف الرحمن صاحب ومفتی محمد مظہر الحق صاحب نوری سے تبادلۂ خیال کیا انہوں نے جواب دے کر مطمئن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن الجھنوں کے کانٹے فہم وفراست کے دامن سے نہ نکل سکے۔

چند مہینے گزرے ہونگے کہ حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کی آمد پر نور ’’ہاسن‘‘ کی زمین پر ہوئی ۔ مفتی شریف الرحمن صاحب بنگلور ایئر پورٹ سے لانے گئے تھے، راستے میں حضور تاج الشریعہ کے ہمراہ رہے انہوں نے علم وعمل اور فکر وفن کے سلطان ہفت اقلیم کی سماعت کے حوالے ہمارے لاینحل مسئلے کو کیا ۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کامجمع البحرین ، رسول ہاشمی ﷺ کی سیرت طیبہ کی مکمل تفسیر پر تنویر حضور تاج الشریعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دار العلوم میں جلوہ بار ہوئے آپ کے قدوم میمنت پڑتے ہی ادارہ نیر باریوں کا آماجگاہ بن گیا اور کیوں نہ بنتا مدینے کی بہار نے جو قدم رکھدیا تھا ، بغداد واجمیر کی نورانیت نے جلوہ باری کی تھی ، کالپی ومارہرہ کے فیضان بے نظیر کی آمد ہوئی تھی ، وارث علوم اعلیٰ حضرت ، مظہر جمال حجۃ الاسلام ، جانشین مفتی اعظم ، لخت جگر نور نظر مفسر اعظم اسلام اور بریلی کی عظمتوں کے آفتاب عالم تاب نے طلوع پذیر ی کی تھی ۔قسم خدا کی جب دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا ،محویت کی وہ کیفیت تھی کہ کوئی تن سے سر جدا کر دیتا تو کٹنے کا احساس تک نہیں ہوتا، یہ حالت تنہا میری نہیں تھی بلکہ سارے حاضرین مرغ بسمل تھے، حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن وجمال کی تاریخ پڑھی تھی ، بازار مصر کا دلکش ودلپذیرواقعہ سنا تھا ،زنان مصری کے انگشتان مبارک کے کٹ جانے اور خون کے فوارے پھوٹنے کا ذکر سماعت سے ٹکرایا تھا ، حضرت زلیخا کی وارفتگی وشیفتگی کا ہوش اڑا دینے والاقصہ نہاں خانۂ فکر وذہن میں محفوظ تھا ،آج وہ تمام دلکش نظارے آنکھوں کے سامنے رقص کناں تھے جس کے باعث لبوں پر یہ اشعار مچل اٹھے ۔

حسن یوسف کا لگا ہے مصر میں بازار پھر
اس کو لینے پھر چلی ہے اک زلیخا سوداگر

چشم آہو برق عشوہ روئے انور آفتاب
رب تعالیٰ کی تجلی کا ہویدا تھا قمر

ہجوم میکدہ کو باہر کر دیا گیا ،دروازے مقفل ہو گئے ،علم وفن کا کوہ گراں ، فکر وتدبر کا آسماں، کتاب وسنت کا عامل ، شریعت وطریقت کا حامل ، حفظ خانہ میں ضوبارہوا ، اساتذہ دائیں بائیں غلامانہ وعاشقانہ روش کے سانچے میں ڈھل کر باادب بیٹھ گئے اس گنہگار کو طلب کیا گیا ، سر خمیدہ ،لرزیدہ لرزیدہ، ایک مجرم کی حیثیت سے جرم کے کٹہرے میں کھڑا ہوا ، ملاحت سے لبریز ، نمکینیت سے مملو ، شیرینی سے ضو فشاں ،شفقت و محبت آمیز آواز دلپذیر سماعت میں رس گھولنے لگی کہ :’’بیٹھ جائیے ‘‘حکم پاتے ہی بیٹھ گیا، ارشاد ہوا آپ اپنے سوال لاینحل پر روشنی ڈالئے ۔

بندے نے مؤطا امام مالک کے حوالے سے قسطنطنیہ والی حدیث پڑھی اور عرض کیا کہ:’’ حضور! مغفور اسم کا صیغہ ہے جس کی دلالت دوام و استمرار پر ہوتی ہے ۔شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے نزھۃ القاری میں لکھا ہے کہ یزید پلید اس جنگ میں بنفس نفیس شامل تھا اس سے توظاہر ہے کہ وہ اس حدیث کا مصداق ہے۔ اس کے باوجود اس کو پلید کہنا کہاں تک درست ہے میرے ذہن میں اس وقت جتنے دلائل وبراہین تھے حضور تاج الشریعہ کی بارگاہ عرش جاہ میں حاضر کر دیا۔ بڑے کم وقتوں اور جامع لفظوں میں جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’ یزید کی شمولیت بسبب زجر وتوبیخ تھی ، اس لئے اس بشارت عظمی کا مستحق نہیں۔‘‘ اس پر دلائل وبراہین کا قیام فرمایا۔ اس کے بعد ارشاد فرماتے ہیں کہ:’’ یزید قسطنطنیہ کے جس جنگ میں شریک ہوا تھا، اس جنگ کے اول ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے۔ جمہور محققین عدم اولیت کے قائل ہیں۔‘‘ اس دعوی کے اثبات پر دلائل وبراہین کے انبار لگائے اور ارشاد فرمایا مفتی شفیع صاحب اکاڑوی پاکستانی علیہ الرحمہ کا ایک رسالہ’’ امام پاک اور یزید پلید ‘‘ہے اس کا مطالعہ کیجئے۔

ارشاد فرمایا:’’ دوسرا سوال کیا ہے ؟‘‘ عرض کیا:’’ حضور! محقق علی الاطلاق اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فتاویٰ رضویہ میں ہیٹ پہننے کو کفر رقم فرمایا ہے ۔‘‘ وقت کے امام اعظم ، زمانۂ موجودہ کے رازی وغزالی ، عصر حاضر کے جنید وبایزید ،غوث دوراں نے ارشاد فرمایا کہ:’’ اس کی وضاحت مفتی ٔ اعظم عالم اسلام نے فرمادی ہے کہ ہیٹ سے مراد وہ ہیٹ ہے جس پر صلیب کے نشان ہوں ،چونکہ صلیب پہننا عیسائی فرقوں میں کیتھولک فرقہ کا مذہبی شعار ہے اور سرکار ابد قرار ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’من تشبہ بقوم فھو منھم ‘‘اس کے علاوہ بھی دلائل وبراہین سے اپنے جواب لاجواب کو مزین فرمایا۔

دیگر سوالات کا جواب بھی مدلل دیا ، ما قل وما دل کے تحت بڑا جامع اور مسکت جواب عطا فرماکر بے چین دل کو پر سکون بنادیا اور مزید کتابوں کی جانب اشارہ فرماکر مطالعہ کرنے کی تاکید کی ۔جواب عنایت فرماتے وقت بار بار نور بار نگاہوں کو ہماری طرف ڈالتے اور ارشاد فرماتے:’’ بات سمجھ میں آگئی ؟‘‘اس وقت ایسا محسوس ہوتا کہ حقائق ومعارف کی نورانیت کا قلب وجگر پر نزول ہو رہا ہے اور فہم وادراک کو نور بار بنارہا ہے ۔ نہاں خانۂ فکر وذہن میں شکوک وشبہات کے جو جراثیم تھے یکلخت کافور ہو گئے اور میری منزل کا پتہ مل گیا۔ دل نے کہا اب کیا دیکھ رہا ہے تیرے ظاہر وباطن کے سوال کا کامل جواب جلوہ بار ہے، حجابات نے اپنا رخ موڑ لیا ہے ، مارہرہ ، بلگرام ، کالپی ، بغداد اور مدینہ کی ضو بار یاں عنفوان شباب پر ہیں ، نور ورحمت کی چھما چھم برسات ہو رہی ہے ، عشق وعرفان کے جام چھلک رہے ہیں ، ساقی بادۂ حقانی سے سیراب کرنے پر مائل ہے، دیر کس بات کی ہے شراب ارادت پی کر مد ہوش ہو جا، اس حسین خیال کا آنا تھا کہ مقدس وطلعت بار ہاتھوں میں ہاتھ ڈال دیا اور بازار قادریت میں خود کو فروخت کر کے اس کے عوض میں جنت خرید لیا اور مچل کر دل ہی دل میں بول پڑا ،

جب تک بکے نہ تھے تو کوئی پوچھتا نہ تھا
تم نے خرید کر مجھے انمول کر دیا

دوسرے سال ۱۹۹۷ءمیں حضور تاج الشریعہ کی آمد پر بہار ’’منگلور‘‘ سے متصل ’’اپلہ ،کیرلا‘‘کی زمین پر ہوئی ، دار العلوم کے اساتذہ کے ہمراہ’’ ہاسن‘‘ سے ’’منگلور‘‘ پہونچے معلوم ہوا کہ علم وادب کا آفتاب اور حسن وجمال کا مہتاب سر زمین ’’منگلور‘‘ ہی کو طلعت باریاں عطا کر رہا ہے۔ جہاں شمع ہو پروانے وہیں منڈلاتے ہیں ۔ ہم لوگ اسی کاشانۂ نور میں حاضر ہوئے، اہل خانہ نے اجازت دی ،حضرت کے حجرۂ پر نور میں حیات مستعار کو ضو بار کرنے حاضر خدمت ہو گئے ۔ زہد وتقویٰ کے فلک اعلیٰ کی دست بوسی وقدمبوسی کا شرف حاصل کیا ۔زہے نصیب ! قسمت کا ستارا تبسم ریز ہوا تھا، علم وعمل اور اخلاص کے گنگ وجمن نے قدم پاک کو ہماری جانب بڑھا دیا۔ اشارہ پاتے ہی خدمت کی سعادت کے حصول میں مصروف ہو گیا ۔تقدس کے عرش پر نگاہیں جم گئیں ،ضیائے چشم سے روئے منورکا بوسہ لیتا رہا اور قلب وجگر کو ٹھنڈک پہونچاتا رہا ، بڑے بڑے علماء وہاں موجود تھے لیکن نجم التفسیر والحدیث ،نیر الفقہ والقضاء اور امام فقاہت کے سامنے کسی میںلب کشائی کی جرأت نہیں ۔ اس گنہگار سے کہہ رہے تھے کہ، یہ سوال کریں ،وہ سوال کریں بندہ پوچھتا جاتا،حبر العلم والادب جواب دیتے جاتے ، دلائل وبراہین کے دریا بہاتے جاتے ، ایسا محسوس کر رہا تھا کہ سارے علوم وفنون کو اپنے سینۂ مبارکہ میں محفوظ کر لیا ہے۔ کبھی حدیث کی تلاوت فرمارہے ہیں تو ایک گلستان سجاتے چلے جا رہے ہیں ، کبھی تفسیر بیان فرماتے تو کبھی فقہی جزئیات وکلیات کا انبار لگاتے۔ جس موضوع پر سوال ہوا اس موضوع کے تحت دلائل کثیرہ کا انبار لگاتے رہے ۔آپ کی حاضر جوابی، تبحر علمی اور استدلالی ندرت کو دیکھ کر سارا مجمع عش عش کر اٹھا۔ اس محفل کی دلکش وایمانی چاشنی کا عالم نہ پوچھئے ، علوم وفنون کے ماہ تمام کا مقام کیا کہنا!

صاحب علم وادب میں جب انہیں دیکھا لگا
سب خبر اک مبتدا ہیں سیدی اختررضا

دستر خوان بچھ چکا تھا کھانے کے سارے لوازمات لگ چکے تھے ۔اہل خانہ نے کھانے کی دعوت دی ،حضور تاج الشریعہ کے ساتھ کھانا کھانے کی برکت کا حصول ہوا۔ کچھ ہی وقفہ کے بعد ’’اپلہ‘‘ کے لئے روانگی ہوئی ۔ بے شمار گاڑیوںکے درمیان حضور تاج الشریعہ کی گاڑی بڑی سرعت کے ساتھ منزل کی مسافت کو طے کر رہی تھی ۔جب’’ اپلہ ‘‘تقریبا دو(۲) کیلو میٹر دوری پر رہا تو دیوانوں کا جم غفیر نظر آنے لگا ،تا حد نگاہ پروانوں کا سیل رواں دکھائی دے رہا تھا ، مشتاقان دید نے جونہی گاڑی دیکھی ،نعروں کے گونج میں اپنے کعبۂ قلب ونظر کا استقبال کرنے لگے ،تکبیر ورسالت کی صدائے دل نواز فضاؤں کو چیرنے لگی ،دیوانوں کا ہجوم گاڑی کی طرف ٹوٹ پڑا، گاڑی کی رفتار تھوڑی دیر کے لئے بالکل ختم ہو گئی ،رفتہ رفتہ بڑی مشکل سے پروانوں کی بھیڑ کو ہٹایا گیا ،وہ وقت بھی آگیا جب کہکشاں کے جمال کی منبر رسول پر تشریف آوری ہونے لگی ، دیوانے دیدار کو مچل اٹھے عوام ہو کہ خواص سب زیارت کو مضطرب ہو گئے جب، اس دیوانگی کی کیفیات کو دیکھا تو دل نے کہا کہ، اللہ! اللہ! کیا شان ہے تاج الشریعہ کی ،تو لب پر یہ اشعارمچلنے لگے :

آفاقہا گردیدہ ام
مہربتاں دزدیدہ ام
بسیار خوباں دیدہ ام
لکن تو چیزے دیگری

اس ہمہ گیر وہمہ جہت شخصیت کے وجودِ مسعود کا ظہور وورود ہو گیا، تو مائک پر کلام کرنے سے بڑے بڑے ماہرین علم وفن کترانے لگے، مفتی شریف الرحمن صاحب نے میرے نام کا اعلان کروادیا ،بندہ مائک پہ حاضر ہوا اور تقریبا ۲۰ ؍منٹ تک حضور تاج الشریعہ کی بارگاہ میں آموختہ بطور استقبالیہ پیش کرتا رہا، یہ سب فیضان مرشد کی کرم نوازیاں تھیں ،ورنہ ہماری کیا حقیقت وحیثیت ، صبح کو حضور تاج الشریعہ کی معیت میں واپسی ہوئی ۔اسی درمیان بے شمار کرامتوں کے صدور کا مشاہدہ ہوا اور ہر اعتبار سے ولایت وقطبیت کے اعلیٰ مقام پر فائز پایا ، اس کو سمجھنے کے لئے اتنا کافی ہے کہ:

عاشق بدر الدجی ہیں سیدی اختر رضا
نائب غوث الوری ہیں سیدی اختر رضا

ثانیٔ رازی ، غزالی ، شیخ اکبر با یزید
بو حنیفہ کی ضیا ہیں سیدی اختر رضا

اس کے بعد تسلسل کے ساتھ اس ملیح دلآرا کی ملاحت کی زیارت سے مشرف ہوتا، رہا اور ان کے فیوض وبرکات کو دامن حیات میں سمیٹتا رہا ، اس جمال جہاں آرا کی تصویر کشی کیجئے ،تو اس کا نقش سراپا کا مختصر خاکہ یہ ہوگا :

’’سیرت نورانی ،صورت نورانی ، لباس نورانی ، رنگت نورانی ، سرخی مائل سفید ،قد میانہ ، بدن بھرا بھرا ، سر بڑا گول ، اس پر عمامہ کی نورانیت ، چہرہ گول روشن وتابناک نورانیت بکھیرتا ہوا ، جس کودیکھ کر خدا کی یاد آجائے ،جبین اقدس کشادہ بلند وبالا، تقدس کے جھلملاتے ماہ ونجوم کی جلوہ باریاں ، پلکیں گھنی، بالکل سفید ہلالی شکل نما ، آنکھیں بڑی بڑی خمار آلود ، بھنویںگنجان ونور بار ، رخسار انور شگفتہ گلاب جمال وجلال کا آئینہ مبارک ،پتلی پتلی گل قدس کی پتیاں ، دندان چھوٹے چھوٹے ہموار موتیوں کی لڑی کی طرح ، کان متناسب قدرے دراز ، گردن معتدل ، وکشادہ سینہ فراز منور تابندہ ، کمر خمیدہ مائل ، ہاتھ لمبے لمبے جو لطف وعطا میں ضرب المثل ، پاؤں متوسط ، ایڑیاں گول موزوں ، دو پلی کڑھی وسادہ ٹوپی ، عمامہ بڑے عرض کا رنگ برنگا ، کرتا کلی دار ، اس پر قباء چھوٹی مہری علی گڑھی پاجامہ ، چھڑی پیتل یالکڑی کی سر تا پا نورانیت کا آماجگاہ ۔

نوری صورت نوری سیرت جلوۂ شمس الضحی
انتخاب کبریا ہیں سیدی اختر رضا

۲۰۰۸ءمیں حضور تاج الشریعہ’’ سلطان الہند کانفرس‘‘ میں ’’شیموگہ‘‘ جلوہ نما ہوئے ۔’’ لارڈج‘‘ میں زیارت کے لئے حاضر ہوا ، سلام کیا ، مصافحہ ہوا ، دست بوسی ہوئی ،قدم بوسی کی ۔محب گرامی عالیجناب موسیٰ رضوی صاحب نے کہا کہ ابا حضور (تاج الشریعہ) یہی مفتی مقصود عالم صاحب ہیں جو دار العلوم جامعہ رضویہ میں صدر المدرسین اور شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہیں اور ادارۂ شرعیہ شیموگہ کے قاضی بھی ہیں۔ اس مرد قلندر نے سر پر ہاتھ رکھ کر بے شمار دعائیں دیں مفتی شعیب رضا نعیمی علیہ الرحمہ جنہوں نے از راہ محبت اپنا چھوٹا بھائی بنا رکھا تھاان کی بھی دست بوسی کی ، اور ’’تاج الشریعہ کون؟‘‘ مقالہ نکال کر دیا انہوں نے مطالعہ کیا اور حضور تاج الشریعہ کو سنایا۔ ایک مقام پر حضور تاج الشریعہ نے ارشاد فرمایا یہ جملہ نکال دیں، کیونکہ معترضین بلا وجہ کلام کریں گے۔ پھر اسی مقالہ کو بطور استقبالیہ حضور تاج الشریعہ کی موجودگی میں منبر رسول پر پڑھنے کی سعادت ملی ۔جب پڑھ رہا تھا تو حضور تاج الشریعہ کے روئے درخشاں کے جلوۂ زیبا میں مدینہ وبغداد کا جلوہ نظر آیا۔ اسی جلسہ میں حضور تاج الشریعہ نے کرم نوازیاں فرماتے ہوئے اپنی خلافت واجازت سے بہرہ مند فرمایا ۔’’کرناٹکا ‘‘،’’ آندھرا‘‘ اور’’ کیرلا‘‘آمد ہوتی تو دیدارِ پر انوار کے لئے حاضر خدمت ہو جاتا ، اور فیوض وبرکات سمیٹتا رہتا ۔یہ سلسلہ بڑا دراز ہے ،سب کو احاطۂ تحریر میں لانا یہاں ممکن نہیں ۔

اس سال شعبان المعظم میں دیدار پر انوار سے شرف یابی کے لئے کعبۂ قلب ونظر بریلی شریف پہونچا ، محب گرامی عالیجناب اقبال شیخانی صاحب ، مفتی راحت خان صاحب ، ومفتی عاشق حسین صاحب کشمیری ، مفتی نشتر فاروقی صاحب کی کرم فرمائیوں کے سبب حضور تاج الشریعہ کے دیدار سے مشرف ہونے کا موقع ملا۔ تقریبا ۳۰ منٹ تک ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہا ، پورا رخ زیبا گلاب گلاب اور حسن وجمال کا آفتاب عالم تاب نظر آیا جب لوگ باہر آئے تو دست بوسی کیا ۔ دست مبارک کو آنکھوں سے لگایا اور سینے پر رکھا اور سر ہانے بیٹھ کر احوال وکوائف سنایا ۔وکالت سے جتنے لوگ مرید ہوئے تھے سب کی قبولیت کی سند حاصل کیا۔ اس کے بعد وہاں سے رخصت ہوا ۔ جب باہر آیا تو تقریبا دو گھنٹے تک میرے ہاتھ خوشبو سے معطر رہے ،دل نے کہا کہ خود تو معطر ہیں جو قریب جاتا ہے اس کو بھی معطر فرمادیتے ہیں ۔

اس کے بعد جانشین تاج الشریعہ مفتی عسجد رضا خان صاحب قادری مدظلہ النورانی سے مرکزی دار الافتا میں ملاقات ہوئی ۔ حضرت والانے جو علمی وفنی کلام فرمایا ،اس سے ان کی علمی وفنی گہرائی کا اندازہ ہوا اتنی تاخیر ہو گئی کہ میری گاڑی کا ٹائم ختم ہو گیا ۔ ایک پریشانی ستا رہی تھی ۔کہ بغیر ریزرویشن جانا کیسے ہوگا؟ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ مفتی راحت خان صاحب کا فون آیا کہ آپ کی گاڑی نو گھنٹے لیٹ ہے ۔یہ بھی حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کی ایک کرامت کہہ لی جائے جو غلاموں کو مشکلات سے بچا لیا جانشین تاج الشریعہ نے سند خلافت بھی دیا جو نہ لے سکا تھا۔ یہ بھی حضور تاج الشریعہ کی ایک کرامت ہے نقاب پوشی سے قبل ہی بلاکر ہر چیز سے نواز دیا۔ جب سانحۂ ارتحال سے قبل بریلی شریف جا رہا تھا تو مراد آباد اتر گیا اس کے بعد رامپور پہنچا حضور سید شاہد میاں رامپوری دام ظلہ النورانی سے ملاقات کی انہوں نے اپنی گفتگو کے درمیان فرمایا کہ :’’حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کے ہم کل بھی غلام تھے آج بھی ہیں اور ان شاء اللہ حین حیات رہیں گے ۔‘‘

اس کے بعد بریلی شریف میں نماز جمعہ سے پہلے حاضری ہوئی ، حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کو اس سے قبل خوب دیکھا، بے مثل ولاجواب پایا ۔ حضور ﷺ کا فرمان عالیشان ہے ـ’’عن ا بن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد ‘‘(جامع الترمذیج ۲/۹۳ باب ماجاء فی عالم المدینۃ ۔ مشکوۃ شریف ج ۱/۳۴ کتاب العلم ۔ ابن ماجہ ج ۲/۹۳ باب فضل العلماء )ہزار عابد سے شیطان پر ایک فقیہ بھاری ہے ۔ نگاہ دوڑاتا ہوںتو فقیہ کہلانے والے تو بہت نظر آتے ہیں مگر اس حدیث کا مصداق خال خال نظر آتا ہے۔ البتہ حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کی ذات ستودہ صفات کو دیکھاتو ہر اعتبار سے اس کی تفسیر پر تنویر پایا ۔

حضور ﷺ کا ارشاد ہے :’’ عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ ثلث منجیات وثلث مھلکات فاماا لمنجیات فتقوی اللہ فی السر والاعلانیۃ والقول بالحق فی الرضا والسخط والقصد فی الغناء والفقراء واما المھلکات فھوی ، متبع وشح ، مطاع واعجاب المرء بنفسہ وھو اشد ھن‘‘(مشکوۃ ج ۲ / ۴۳۴ ۔شعب الایمان للبیھقی)تین صفات ایسی ہیں کہ جس شخص کے اندر موجود ہیں وہ دارین میں نجات یافتہ ہے ، اس کا دل خلوت وجلوت میں خوف خدا سے عبارت ہو، جو کسی کی رضا وناراضگی کی پرواہ کئے بغیر حق بات پرڈٹا رہے۔ خرچ کرنے میں راہ اعتدال اختیار کرے چاہے ایام امیری ہو یا فقیری وفاقہ کشی۔پہلی صفت یہ ہے کہ خلوت وجلوت میں اس کا دل خشیت الٰہی سے مملو ہو ۔ اس کی پہچان وعلامت یہ ہےکہ اس شخص سے نہ حقوق اللہ تلف ہونگے نہ حقوق العباد وہ کامل طور پر حقوق کا پابند رہے گا۔ حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کی خلوت وجلوت دونوں کو دیکھا ،حقوق اللہ کی ادائیگی میں ایک ذرہ بھی کمی نہیں پایا ،حقوق العباد کی پاسداری میں حیات مستعار کا پل پل گذار دیا۔ اختلافی مسائل میں بھی اصول وقانون کے دائرے میں رہ کر اپنے موقف کا اظہار کیا۔ لوگوں نے کردار کشی کی لاکھوں جتن کئے ، انگشت نمائیاں ہوئیں ، عزت سے کھلواڑ ہوا ، ذاتیات پرپے در پے حملے ہوئے ، دشنام طرازیوں کے بازار گرم کئے گئے ، الزام وافترا کے ذریعے بد نام کرنے کی سازش رچی گئی، اس کے باوجود پلٹ کر جواب نہیں دیا ۔

اللہ ارشاد فرماتا ہے :’’ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ‘‘رب قدیر صابرین کے ساتھ ہے ۔’’ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ خَشِیَ رَبَّہٗ ‘‘ جس کا دل خشیت الٰہی سے لبریز ہوتا ہے اللہ اس سے راضی ہو جاتا ہے اور وہ لوگ اللہ سے راضی ہوجاتے ہیں۔

’’ اِنۡ اَوۡلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ ‘‘ اللہ کے ولی متقین ہی ہوتے ہیں ۔

’’ اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ۶۲﴾ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ‘‘ ۔ سن لو خبر دار ہو جاؤ بے شک اللہ کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی غم، جو لوگ ایمان لائے اور تقوی اختیار کرتے ہیں ۔ عمدۃ المفسرین امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں : ’’ الذین یحترزون عن المنکرات ‘‘(تفسیر کبیر ج ۵ /۱۲۷)جو لوگ منکرات سے اجتناب کرتے ہیں ۔

ارشاد باری ہے :’’  وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ‘ ۔ توشہ ساتھ رکھو اور سب سے بہتر توشہ تقوی وپرہیزگاری ہے ۔

’’هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ‘‘ ۔ ہدایت متقین کے لئے ہے ۔ابو طالب مکی علیہ الرحمہ اپنی تصنیف قوت القلوب میں فرماتے ہیں : ’’الایمان عریان ولباسہ التقویٰ‘‘۔ ایمان ایک عریاں حقیقت ہے اور اس کا لباس تقوی ہے ۔

حدیث میں ہے :’’ اتق المحارم تکن اعبد الناس‘‘ ۔اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کر تب لوگوںمیں بڑا عابد ہوگا ۔

حدیث میں ہے :’’ اتق اللہ حیثما کنت ‘‘۔جہاں کہیں رہو اللہ سے ڈرتے رہو ۔ امام نووی فرماتے ہیں : ’’ای اتقہ فی الخلوۃ کما تتقیہ فی الجلوۃ بحضرۃ الناس واتقہ فی سائر الامکنۃ والازمنۃ‘‘ (شر ح الاربعین النبویہ /۹۵) جس طرح لوگوں کے سامنے، جلوت میں ڈرتے ہو اسی طرح خلوت میں بھی اللہ سے ڈرو اور تقوی اختیار کرو اور ہر جگہ، ہر لمحہ اور ہر زمانے میں تقوی کا ثبوت دو ۔

حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کی ورق گردانی کرنے والے جانتے ہیں کہ خلوت وجلوت میں یکساں تھے اور عالم اسلام میں آپ کے تقویٰ کی شہرت تھی ، خشیت الٰہی کا نتیجہ ہی تو تھا کہ بلا خوف وخطر احقاق حق وابطال باطل کے فرائض انجام دیتے تھے۔ کون خوش ہوتا ہے کون ناراض ہے اس کی پرواہ کئے بغیر حق بات کہدیا کرتے تھے اور اپنے موقف پر مضبوطی سے ڈٹے رہتے تھے ۔ ٹی وی ، ویڈیو اور مووی کو حرام کہتے رہے ، تصویر کشی کے خلاف فتویٰ صادر فرماتے رہے ۔ لاؤڈ اسپیکر پر نماز کی اقتداء کو فساد صلاۃ کا باعث بتاتے رہے۔ چلتی ٹرین پر عدم جواز کے قائل رہے ۔اس کے علاوہ بھی بے شمار مسائل ہیں جس کے باعث کتنے لوگ مخالف ہو گئے ۔کتنے لوگوں نے جنگ کا آغاز کر دیا مگر کسی کی پرواہ نہ کی ، جس نے فعل کفر کا ارتکاب کیا اپنے تھے کہ بیگانے سب پر یکساں شریعت کے حکم کا اظہار فرمایا ،لوگ دشمن بن گئے اس کا غم نہیں کیا، ان امور کے مشاہدے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آپ کی ذات مذکورہ بالاآیات واحادیث اور اقوال کی کامل مصداق تھی ۔ دوسری صفت یہ ہے کہ حق بات پر ڈٹا رہے، دنیا نے اس کا مشاہدہ بھی اپنی نگاہوں سے کیا اور خرچ میں بھی راہ اعتدال پر قائم تھے۔ اس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ آپ نجات یافتہ بھی تھے اور نجات دہندہ بھی ۔

مہلکات: دو جہاں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لئے بھی تین صفات کا وجود لازم ہے۔ خواہشات نفسانیہ کی پیروی سے اجتناب مخالفت اکبر المنجیات سے ہے اور نفسانی خواہشات کی اتباع اکبر المہلکات سے ہے اور بخالت سے اجتناب اور اس سے مراد وہ بخل ہےجو حرص سے مقرون ہو ۔تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کا دامن ان گرد وغبار سے بھی محفوظ و مامون تھا۔ اس لئے تو دنیا آپ پر فدا تھی اور آپ کا وجود مسعود نورانی تھا ۔جو چہرہ دیکھ لیتا شیدا ہو جاتا، ولی کی ایک پہچان یہ بھی بتائی گئی ہے ،جوحدیث میں مذکور ہے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں :’’ اذا رای ذکر اللہ‘‘۔ جسے دیکھ کر خدا یاد آجائے سمجھو وہ ولی ہے ۔

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات مستعار کا ہر فعل کتاب وسنت کے مطابق تھا ۔وہ ایسے تھے جن کی عالم اسلام میں کوئی مثال نہیں ۔ علم میں لاجواب تھے ،عمل میں لاجواب تھے، امر بالمعروف میں لاجواب تھے، زہد و تقویٰ میں لاجواب تھے ،حسن وجمال میں لاجواب تھے ، استقامت واستقلال میںلاجواب تھے، احقاق حق وابطال باطل میں لاجواب تھے ، حیات کے جس گوشے کو دیکھئےاور جس زاوئیے سے دیکھئےاس میں لاجواب وبے مثال نظر آتے ۔

اب کہاں سے لاؤگے اے سنیو!
ایسا کامل رہنما اختر رضا

صوفیۃ الزمن، ناشر مسلک اعلیٰ حضرت ،حضور محمد لیاقت رضا صاحب نوری مراد آبادی خلیفۂ حضور مفتیٔ اعظم ہند دام ظلہ النورانی سے جب بھی ملاقات ہوتی تو وہ حضور تاج الشریعہ کا ذکر جمیل ان کلمات بالغہ کے ذریعے فرماتے کہ میاں ان آنکھوں نے مفتیٔ اعظم عالم اسلام کو دیکھا ہے ان کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے ہمارے مخدوم ہمارے مطلوب ہمارے مقصود حضور تاج الشریعہ سے محبت فرماتے تھے۔ ان کی ذات پر کامل اعتماد فرماتے تھے ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ اپنا قائم مقام بنا دیا۔ اپنی جگہ پر بیٹھا کر اپنے علوم وفنون ، زہد وتقویٰ ، رعب ودبدبہ ،شان وشوکت اور تمام تر رفعت وبلندی عطا فرماکر اوج ثریا پر پہونچا دیا۔ ان کی شان ہی کیا کہنا انہیں دیکھتا ہوں تو آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے۔ دل کو سکون ملتا ہے وہ چلتے ہیں تو مفتیٔ اعظم کا چلنا یاد آجاتا ہے، بیٹھتے ہیں تو مفتیٔ اعظم کا بیٹھنا یاد آجاتا ہے۔ ان کی ہر ادا میں ہر کمال میں مفتیٔ اعظم ہیں ،اوجِ ثریا اگر ان کی قدم بوسی کرے تو کیا تعجب ہے ۔

’’کرناٹکا ‘‘میں بے شمارمرتبہ منبر رسول پہ دیکھا کہ زار وقطار رو رو کر حضور تاج الشریعہ کی صحت وتندرستی کے لئے دعا مانگتے ان کے صاحب زادے محمد رضا صاحب نوری المعروف بھائی جان نے بتایا کہ جب ابا حضور کو سانحۂ ارتحال کی خبر ملی تو بچوں کی طرح بلک بلک کر رو پڑے اور کہنے لگے آج عالم اسلام کا سب سے بڑا فقیہ ، محدث ، مفسر ، مفکر، مدبر ، محقق رخصت ہوگیا ۔ ہمارے مخدوم کی امانت نے مجھ سے رخ موڑ لیا۔ آفتاب قطب الارشاد روپوش ہو گیا بیٹا آج ہم ہی نہیں عالم اسلام یتیم ہو گیا ۔ اس کے بعد بریلی شریف چلنے کا حکم دیا جب حضور محمد لیاقت رضا نوری مدظلہ العالی کی ملاقات مجھ سے ہوئی تو وہی کیفیت تھی بلا شک وشبہ حضور تاج الشریعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جانے سے عالم اسلام سوگوار ہے ۔

آپ کا ہر لمحہ گزرا رب کے ذکروفکر میں
وہ ہے حق پر آپ کا جو تابع فرمان ہے

علامہ محمد اظہار حسین صاحب نعیمی نوری مد ظلہ العالی نے سانحۂ ارتحال کی خبر پاتے ہی’’ ہا سپیٹ، کرناٹک‘‘ سے فون کیا کہ: آپ کہاں ہیں؟ عرض کیا :بریلی شریف میں ہوں۔ کچھ سن رہا ہوں: احقر نے بڑی مشکل سے کہا :’’سچ ہے‘‘ تو رو پڑے اور کہا اس دور پر فتن میں ایک تو سہارا تھا وہ بھی چھن گیا۔ اس کے بعد رو رو کر سنانے لگے کہ ۱۹۹۹ ء؁ میں حضرت کا پروگرام شہر ’’ہاسپیٹ، کرناٹک‘‘ کے لئے کیا گیا تھا۔ اسی تاریخ میں حضور تاج الشریعہ کی تشریف آوری ’’کرناٹک‘‘ کے علاقہ’’ ہبلی ،ڈانڈلی‘‘ میں ہونے والی تھی ۔ہمارے یہاں آنے کا ڈیٹ بھی مل گیا جب’’ ہبلی‘‘ پہنچا تو پتہ چلا کہ اس پروگرام کی اطلاع حضور تاج الشریعہ کو نہیں ہے۔ ہم لوگوں نے حضور امین میاں مد ظلہ العالی کا تعاون لیا جن کی مدد سے حضور تاج الشریعہ کی جلوہ باری’’ ہاسپیٹ‘‘ میں ہوئی۔ پورا’’ ہاسپیٹ‘‘ آپ کی تشریف آوری سے مسرت وشادمانی کے سمندر میں غوطہ زن تھا۔ جب منبر نور پر آمد ہوئی تو ہر طرف نور ہی نور کا سماں ہو گیا ۔ اللہ اللہ وہ نوری چہرہ جو دیکھتا دیکھتا ہی رہ جاتا ۔آج عالم اسلام کی وہ مقتدر شخصیت ہمیں یتیم کر گئی ۔ اس طوفان بد تمیزی میں اب ہمارے ایمان وعقیدے کی حفاظت کون کرے گا ۔

دار ومدار جس پہ ہے ساری بہار کا
وہ کیف ہے تبسم جاناں لئے ہوئے

دیکھی ہے جس نے ایک جھلک حسن یار کی
وہ پھر رہا ہے تار گریباں لئے ہوئے

سن ۲۰۰۹ ءیا ۲۰۱۰ ءمیں ہبلی تشریف لائے بندہ ایئرپورٹ پہونچا محب گرامی عالی جناب موسیٰ رضوی صاحب، بنگلور کی معرفت ایئرپورٹ کے اندر داخل ہوا جب جہاز لینڈ کی تو باہر ہزاروں لوگوں کا مجمع اکٹھا ہو گیا ایئر پورٹ کا پورا عملہ اس منظر کو دیکھ کر پریشان ہوا تھا تقریبا ایک گھنٹے تک حضور تاج الشریعہ کے پاس اندر رہنے کا موقع ملا اپنی نگاہوں سے دیکھا کہ پورا عملہ حضرت کی بارگاہ عرش جاہ میں قدم بوسی کے لئے حاضر ہو گیا اجازت پا کر سب نے قدم بوسی کی حضرت کرسی پر جلوہ بار تھے اللہ اللہ کیا چہرہ اس قدر نور بار تھا کہ اس کو لفظوں میں ڈالنا ممکن نہیں تفہیم طبع کے لئے اتنا سمجھ لیں کہ جب سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے تو جو سرخی رونما ہوتی ہے اس وقت لگ رہا تھا کہ وہی سورج حضور تاج الشریعہ کے روئے منور میں تیر رہا ہو اس لئے تو کائنات کی ساری رعنائیاں اس حسن وجمال پر قربان تھیں بلا شک وشبہ ان اللہ جمیل یحب الجمال کے کامل مصداق جملہ شعبہ ہائے حیات میں تھے ۔

باغ رضواں میں نہیں ہے حسن کا تیرے جواب
اے فقیہ دین وملت بار ہا تم پر سلام

آپ کی ولادت باسعادت24؍ذیقعد 1362ھ بمطابق 23؍نومبر 1943ءبروز منگل محلہ سودا گران بریلی شریف کی پاک سرزمین پر ہوئی ۔دنیا ئے اسلام کی وہ سب سے عظیم و برتر ہستی ،شیخ الاسلام و المسلمین ، معین الملت و الد ین ،امام الفقہاء والمحدثین ، عماد المفسرین و المتکلمین ، برھان العارفین، حجۃ السالکین، فارق الحق والباطل، قائد المشارق و المغارب ، سلطان الدرس و التد ریس، حاکم الزہد و التقویٰ ،حبر العلم و الادب ، سماء اللوح والقلم ،مرجع العرب و العجم ، ماہر اللسان و البیان ، بحر الشعر و السخن ،شمس التصنیف و التا لیف، نیر التقریر و التحریر ، جامع العلوم والفنون ۔ قمر الحکیم و الادیب ، کوکب المعرفۃ والحقیقۃ ،صاحب الرشد و الھدایۃ ، واقف الرموز و الاسرار ، ملک الخلوۃ و الجلوۃ ، دا فع البد عۃ و الضلالۃ ، رافع المذھب و السنۃ ، فنا فی اللہ وفنا فی الرسول ، مظہر الغوث الاعظم ، وارث علوم اعلیٰ حضرت ، نبیرۂ حجۃ الاسلام ، جانشین مفتی ٔاعظم ، ابن مفسر اعظم ، قدوۃ المحققین ، زبدۃ المدبرین ،قاضی القضاۃ فی الہند ، غسال کعبہ ، فخر ازہر، شیخ اکبر ، مخدوم العلماء ، سید الفضلا، تا ج الشریعۃ، بدر الطریقۃ ، شیخنا المکرم حضرت علامہ فہامہ مفتی محمد اسما عیل رضا خان المعروف محمد اختر رضا خان الملقب بہ ازہری میاں علیہ الرحمۃ والرضوان ’’کل نفس ذائقۃ الموت ‘‘ کے تحت تقریبا 75 ؍ سال کی حیات مستعار پاکر دنیا ئے فانی سے 7 ذیقعدہ 1439ء بمطابق 20 جولائی 2018ءبروز جمعہ ’’اللہ اکبر ، اللہ اکبر‘‘ کی صدا ئے دلنواز بلند کرتے ہوئے ’’مو ت العالم موت العالم‘‘کےتحت عالم اسلام کو سوگوار کرکے ،درد و الم، رنج و محن کا داغ د یکر ، یتیم و یسیر بناکر، سسکتا بلکتا چھوڑ کرخود واصل بحق ہو گئے ۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون

چھوڑ کر اہل چمن کو فخر ا ز ھر چل بسے
غم ز د ہ کر کے ز من کو فخر ا ز ھر چل بسے

ا ن سے قا ئم تھا جہا ن علم میں با غ و بہا ر
کر کے سو نا ا نجمن کو فخر ازہر چل بسے

تیری فرقت خون کے آ نسو رلاتی ہےمجھے
درد کاعالم نہ پو چھو کس قدر خو ں خوار ہے

حضور تاج الشریعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعرات ہی کو اپنے کاشانۂ مبارک پر تشریف لاچکے تھے ۔ عالیجناب الحاج ہا رون عثمان صاحب نوری، چھتیس گڑھ، اپنے ہمراہیوں کے ساتھ جمعرات کو گھر پر ہی حضرت کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔’’ آل کرنا ٹکا سنی علماء بورڈ‘‘ کا ایک وفد اصحاب ثلاثہ پر مشتمل مالیگاؤ ں ، دہلی ، مراد آباد ، رامپور ،حضور سید شاہد میاں رامپوری سے ملاقات کرتا ہو ا حضرت کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو نور بار بنانے بریلی شریف پہنچا۔ بریلی شریف کا یہ سفر غیر ارادی طور پرہوا تھا جس کو قطب زمن کا تصرف و کرامت ہی کہا جا سکتا ہے۔ جمعہ کی نماز ادا کیا اس کے بعد بار گاہ رضا میں حاضری ہوئی ۔ فراغت کے بعد مرکزی دارالافتاء بریلی شریف میں حاضر باش ہوا حضرت مفتی نشتر صاحب فاروقی ایڈیٹر سنی دنیا بریلی شریف سے ملاقات ہوئی ۔انہوں نے ارشاد فرمایا کہ جانشین حضور تاج الشریعہ حضرت مفتی عسجد رضا خان صاحب مدظلہ العالیٰ کو آپ کی آمد کی اطلاع دی جا چکی ہے، انہوں نے بیٹھنے کا حکم دیا ہے۔ بندہ ، عالیجناب صادق اللہ صاحب رضوی ایڈووکیٹ، چتر درگہ، کرنا ٹک، مولانا مشتاق احمد صاحب نظامی،ھرپن ہلی، کرناٹک جو وفد کی صورت میں تھے بیٹھ کر آمد کا انتظار کر نے لگے ۔ کیا پتہ تھا کہ یہ انتظار حیات ظاہری کا آخری انتظار اور یہی آخری دیدار ہوگا۔ مولانا مشتاق احمد صاحب نظامی نے بتایا کہ حضور مفتی عسجد رضا خان صاحب مدظلہ العالی سے ہماری ملاقات ہوئی انہوں نے ملنے اور ملاقات کرانے کا یقین دلایا ہے۔ ایڈیٹر سنی دنیا بریلی شریف نے فرمایا کہ جانشین حضور تاج الشریعہ نماز مغرب کے بعد ہی تشریف لائیں گے کیوں کہ حضور تاج الشریعہ انہیں کی اقتدا میں نماز ادا فرماتے ہیں ۔ اور وعدے کے مطابق ضرور مخدوم الکل سے ملاقات کروائیں گے۔ شوق دیدار کی حسرت لئے انتظار کر تا رہا۔ مفتی نشتر فاروقی صاحب نے اطلاع دی کہ نیچے چلئے حضرت کی طبیعت دوبارہ بگڑ چکی ہے۔ اوپر سے نیچے آ نے تک دیوانوں کا ایک بہت بڑا جم غفیر گھر کے پاس پہنچ چکا تھا۔ تل رکھنے کو بھی جگہ نہ تھی ۔ سید کیفی صاحب گھر سے روتے ہوئے باہر آئے تب پتہ چلا کہ قطب زمن سفر آخرت طے کرچکے ہیں۔ آپ کا سانحۂ ارتحال گھر پر اذان مغرب کے وقت ہوا ۔جس کا احقر اوراس کے علاوہ سینکڑوں لوگ چشم دید گواہ ہیں ۔آپ کا سا نحۂ ارتحال عالم اسلام کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے جس کی بھر پائی ممکن نہیں ۔

حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ دنیائے اسلام کی وہ واحد شخصیت ہیں جن کے وصال کی خبر پھیلتے ہی عالم کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں ۔ اس حادثۂ عظیمہ کی رونمائی پر بلا امتیاز مذہب و ملت ہر ایک نے اپنے درد و غم اور رنج و ملال کا اظہار کیا ۔ شہر بریلی کے ہندوو مسلم سب نے آپ کی رحلت کے غم میں د و ر و ز تک اپنی اپنی دکانیں بند رکھیں ۔ راہل گاندھی، اکلیش جی اور نتیش کمار وغیرہم نے تعزیتی پیغام نشر کیا ۔عالم اسلام کے اکثر ممالک سے تعزیتی پیغام نشر ہوئے عالمی سطح پرپرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، سوشیل میڈیا کے ذریعے تعزیتی پیغام نشر ہوتے رہے جس سے شخصیت کی مقبولیت عظمت و رفعت اور شہرت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

آپ نے اپنی حیات میں اسلام کی تبلیغ کیلئے پوری دنیا کا سفر کیاہزاروں لوگوں نے آپ کے دست حق پرست پر قبولیت اسلام کی سعادت حاصل کی، کرو ڑوں لوگ آپ کے ہاتھوں پر بیعت ہوئے اور سلسلئہ عالیہ قادریہ سے اپنا انسلاک پیدا کرلیا ۔ لاکھوں لوگوں نے اپنے اپنے گناہوں سے توبہ کی، کرو ڑوں کی تعداد میں آپ کے مریدین پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ آپ کی علمی شخصیت بے مثال تقویٰ و طہارت کی مالک تھی۔ آ پ آ فا قی عظمت و شہرت کے حامل تھے ۔ جس کے باعث غسل کعبہ کا شرف پایا ، اندرون کعبہ نماز ادا کرنے کی فضیلت ملی ،اسلامک یونیورسٹی جامع ازھر مصر نے’’ فخر ازھر ‘‘ایوارڈ سے نوازا ۔آپ کو ارباب بصیرت نے ہزاروں لقب سے ملقب کیا ،جس میں تاج الشریعہ کا لقب بھی شامل ہے۔

پاکستان کی عالمی صوفی کانفرنس میں شہزادۂ غوث پاک نے عالم اسلام کے صوفیوں کا صدرو مقتدیٰ ہونے کا اعلان کیا، سارے شرکاء نے اس کو بسرو چشم قبول کیا ۔ عالمی سروے میں آپ کی ذات کو پچاسویں نمبر پر رکھا گیا اورہندوستان میں سب سے فائق قرار دیا گیا ۔یہ تو ا ن لوگوں کا سروے ہے جنہو ں نے منفرد چیزوں کو پیش نظر رکھا۔ خالص اسلامی اعتبار سے اسلامی دنیا نےہر ا عتبا ر سے آ پ کو یکتا و تنہا پیشواوررہنما جا نا ۔ جس پر عالم اسلام کے تعز یتی پیغام شاہد عد ل ہیں۔ شیخ ابو بکر مصلیار ،بانی و مبانی الثقافۃ السنیہ ،کیرلانے کھلے دل سے اس بات کا اظہار کیا اور اخباری بیان جاری فرمایا اور کہا کہ عالم اسلام میں سب سے بڑے عالم تھے حضور تاج الشریعہ،دنیامیں کہیں بھی اور کوئی بھی آپ کا نظیر نہیں ۔ حضور سید حسینی میا ں اشرفی ،ناگپور نے کسی کے سوال کے جواب میں اس صدی کا آپ کو مجدد قرار دیا۔ جس کا آڈ یو سوشیل میڈیا پر جاری ہوا ۔ آپ کی دینی، مذہبی ،ملی ،تصنیفی ،ادبی، سماجی، تحریری، تقریری، تبلیغی ،نثری اور شعری خدمات شہرۂ آفاق ہیں ، آخری سانس تک خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔

22 جولائی 2018ءبروز اتوار بعد نماز فجر’’ بیت الرضا‘‘(حضورتاج الشریعہ کی رہائش گاہ) میں غسل دیا گیا . اس کا ر خیر کو جانشین تاج الشریعہ مفتی عسجد رضا خان ، مفتی سلمان رضاخان اوربرہان رضا خان صاحبا ن نے انجام دیا شرکائے غسل میں شہزادۂ محدث کبیر مفتی جمال مصطفیٰ صاحب ،جناب سید کیفی صاحب اور خاندان کے کچھ افراد بھی شامل رہے۔ آپ کی نماز جنازہ تقریبا 11 بجے اسلامیہ انٹر کالج میں ہوئی ۔ نماز جنازہ آپ کے جانشین و صاحب زادہ حضرت علامہ مفتی عسجد رضا خان قادری مدظلہ العالی نے پڑھائی، جس میں شرکاء کی تعداد سے متعلق میڈیا کی رپورٹ مختلف ہیں کسی نے تین کروڑ کسی نے دو کروڑ تو کسی نے سوا کروڑ بیان کیا ۔ان روایت مختلفہ کی روشنی میں سوا کروڑ کا ہونا یقینی معلوم ہوتا ہے۔ نگاہوں نے دیکھاہے کہ اسلامیہ انٹر کا لج، سڑک، گلی ، چھت، درخت اس سے متصل دیگر میدان کھچا کھچ بھرے پڑے تھے ۔ حتیٰ کہ جنازہ کا دیدار کرنے لوگ ٹرانسفرمر پر بھی چڑھ گئے تھے ۔خدشہ کے پیش نظر فوراً ہی بجلی کاٹ دی گئی تھی تاکہ کوئی حادثہ رونما نہ ہو۔ جدھر نگا ہ اٹھا تے آدمیوں کا سیلاب ہی دکھائی دیتا تھا ۔ مزار اعلیٰ حضرت سے’’ متصل ازھری گیسٹ ہاؤس ‘‘میں آپ کی تدفین کا عمل تقریبا 12:30 بجے پائے تکمیل کو پہنچا ۔ مزار پاک کے اندر مفتی عسجد رضا خان صاحب مفتی سلمان رضاخان صاحب اور برھان خان صاحب اترے ۔ قبر مبارک میں موئے مبارک ، حضور غوث پاک کے جبہ شریف کا ٹکڑا ، شجرہ شریف ، عہد نامہ ، دلائل الخیرات شریف اور بیر کی سوکھی ٹہنی کو رکھا گیا ان چیزوں کی اطلاع حضور امین شریعت کے خادم علامہ اشرف رضا صاحب، چھتیس گڑھ نے دی ان کو حضور مفتی سلمان رضاخان صاحب اور سفیان رضا خان صاحب نے اس کی آگا ہی دی ۔ حضور تاج الشریعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیات طیبہ کے مطالعہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ آپ در جۂ قطب الارشاد پر فائز تھے۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نو رستہ ترے در کی نگہبانی کرے

ابر رحمت تیری تر بت پر گہر باری کرے
حشر تک شا ن کر یمی ناز برداری کرے

مریدین و معتقدین اور متوسلین یاد ر کھیں آپ کا پیر کامل ،استقامت فی الدین کا کوہ گراں تھا، جب بھی صلح کلیت کا بد تمیز طوفان اٹھا ، ضلالت و گمراہیت کی کا لی گھٹاؤں نے اپنا پر پھیلایا ، بے ادبی و گستاخی کی بجلیاں کڑ کیں ،بے راہ روی کے شب دیجور نے اٹھکھیلیاں کیں، اس مرد قلندر نے بیباکی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا اور اسے کیفر کردار تک پہنچادیا، اپنے عزم و حوصلہ میں ذرہ برابر تزلزل پیدا نہ ہونے دیا ،جن پر آپ کی شش جہات خدمات شاہد عدل ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ روحانیت کے اعتبار سے شیخنا المکرم اب بھی ہمارے درمیان موجود ہیں اور اپنے جانشین حضرت علامہ مفتی محمد عسجد رضا خان دام ظلہ النورانی کی شکل میں ایک عظیم و مضبوط و مستحکم سہارا ہمیں دے رکھاہے۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم قلعہ کوہراعتبار سے فیوض و برکات کا منبع و مصدر بنادے ،مسلک حق کی اشاعت و ترویج کیلئے بےباک مجاہداور کمانڈر انچیف کی حیثیت میں مزید تابناکیاں عطافرمادے حضور تاج الشریعہ کا کامل و اکمل مظہر و نمونہ بنا دے آمین ۔

غلامان تا ج الشریعہ یاد رکھیں اس وقت آپ کی ذمہ داریاں مزید بڑھ چکی ہیں ۔ ہمیں اسی طرح اپنے مسلک پر ڈٹے رہنا ہے، جس طرح حضور تاج الشریعہ کے حیات ظاہری میں ڈٹے ہوئے تھے اور اپنے مرکز عقیدت سے چمٹے رہنا ہے اور دنیا کو یہ بتا دینا ہے کہ صبح قیامت تک بریلی ہی ہمارا مرکز رہیگا ۔ یہی عشق کا تقاضہ ہے ۔ شیخنا المکرم کا فیضان کل بھی جاری تھا آج بھی جاری ہے اور صبح قیامت تک جاری رہے گا ۔ رب قدیر اہل خانہ ، جملہ متوسلین و معتقدین و جملہ اہل سنت، مسلک اعلی حضرت کے پیروکار وں کو صبر جمیل کی توفیق بخشے اور استقامت فی المسلک کی دولت لازوال سے بہرہ مند فرمائے ۔آمین

Menu
error: Content is protected !!