’’کعبہ خداکاگھرہے‘‘کاکیامطلب؟اﷲ تعالیٰ زمان ومکان سے منزّہ ہے، قبرِاِسماعیل علیہ السلام کہاں ہے؟حطیم کے قریب یاحطیم میں یازمزم کے نیچے؟‘ ان اللّٰہ خلق آدم علٰی صورتہٖ کی تشریح‘ اہلِ سنت وجماعت کے نزدیک ابوطالب کاایمان ثابت نہیں


مـسـئلـہ: ۲ تا۴

محترم مفتی صاحب قبلہ، بریلی شریف سلام مسنون!

عرض اینکہ ذیل میں چند سوالات درج ہیں امید کہ جواب باصواب مرحمت فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں گے۔

زید کعبہ کو مقبرۂ آدم تصور کرتا ہے اور مندرجہ ذیل دلائل پیش کرتا ہے۔

(الف)سرکارِ دوجہاں صلی اﷲ علیہ وسلم بوقتِ ہجرت قربِ کعبہ یہ کہتے ہوئے رُخصت ہو رہے ہیں کہ اے کعبہ!تیرے فرزند مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ اس عبارت کو حفیظ جالندھری نے ’’شاہنامہ اسلام‘‘ میں یوں لکھا ہے۔

تیرے فرزنداب مجھ کو یہاں رہنے نہیں دیتے

تیری پاکیزگی کومادری کہنے نہیں دیتے

خدائی عارضی ہے پھر بھی دل کو بیقراری ہے

کہ تو اور تیری خدمت مجھ کو دنیا بھر سے پیاری ہے

(ب)امام اہلسنّت فاضل بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ نے ’’حدائقِ بخشش‘‘ حصۂ اوّل میں یوں تحریر کیا ہے۔

غور سے سُن تو رضا کعبے سے آتی ہے صدا

میری آنکھوں سے مِرے پیارے کا روضہ دیکھو!

اس شعر میں پیارے کا لفظ الفاظ رحمانی کے پردے میں حفیظ جالندھری صاحب کی تحریر کوتقویت دے رہا ہے۔

(ج)اعلیٰ حضرت ہی دوسری جگہ یوں رقمطراز ہیں۔

کعبہ دُلہن ہے تربتِ اطہرنئی دلہن 

یہ رشکِ آفتاب وہ عزت قمر کی ہے

جب دُلہن روضۂ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ہے تو دُلہن بھی روضہ ہی ہے۔

(د)نثر میں’’احکامِ شریعت‘‘ حصہ اوّل میں اعلیٰ حضرت یوں تحریر فرماتے ہیں:

’’حطیم مبارک روضۂ اسماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام ہے ‘‘۔

پھر کچھ آگے چل کر دوسرے صفحہ پر لکھتے ہیں:’’اور غور کرو تو پوششِ کعبۂ معظمہ میں بھی ایک بڑی حکمت یہی ہے جن کی حکومت عظمتِ اولیاء سے خالی ہے اس حقیقت سے نابلد ہیں‘‘۔

(ہ)اعلیٰ حضرت نے حطیم مبارک کو روضۂ اسماعیل بتلایا لیکن احادیثِ کریمہ میں یہ بات تفصیل سے ذکر ہے کہ حطیم مبارک بھی کعبہ معظمہ ہی ہے اور غور کرو تو پوشش کعبہ معظمہ میں ایک بڑی حکمت یہی ہے۔ روضۂ آدم علیہ السلام کی جانب واضح اشارہ ہے۔

اب وضاحت طلب امر یہ ہے کہ:

(۱) زید کے مندرجہ بالا دلائل کہاں تک درست ہیں؟ اور حفیظ جالندھری نے جو لفظ فرزند لکھا ہے، یہ کس کتاب سے اخذ کیا گیا ہے؟ اور امام اہل سنت نے جو روضۂ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو پیارے کے لفظ سے خطاب کیا ہے، یہ کس کتاب سے ماخوذ ہے؟

(۲)ساتھ ہی ساتھ حضور والا سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ ذرا اس معمے کو بھی از روئے شرع تحریری نوبت بہم پہنچائیں کہ خدا لامکاں ہے کا کیا مطلب ہے؟ اور کعبہ خدا کا گھر ہے کیا مطلب ؟اوران اللّٰہ خلق آدم علٰی صورتہٖ کی تشریح بھی فرمادیں تو عین نوازش ہوگی۔

(۳)زید ابو طالب کو مومن مانتا ہے تو کیا ان کے ایمان کے بارے میں کوئی ثبوت ہے۔ براہ کرم اثبات و نفی دونوں میں ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں تحریر فرمائیں۔

مستفتی: محمد عثمان غنی قادری، اچک پھول پوسٹ بڑسری جاگیر ضلع بلیا، یوپی

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(۱)یہ سیِّدُنا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کی اختراعی بات نہیں بلکہ جملہ محدثین کرام کا اجماعی قول ہے پھر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے روضۂ اسماعیل علیٰ نبینا و علیہ السلام کا اطلاق حطیم شریف پر نہیں کیا ہے بلکہ علمائے کرام سے یہ نقل فرمایا ہے کہ حطیم کے قریب اور ایک قول پر حجراسود اور زمزم کے بیچ میں، مرقد اسماعیل علیہ السلام اور ستر انبیاء علیہم السلام کی قبورہیں تو یہ اعلیٰ حضرت پر افترا ہوا کہ انہوں نے حطیم کو روضۂ اسماعیل فرمایا ہے اعلیٰ حضرت نے’’احکامِ شریعت‘‘ خواہ ’’فتاویٰ رضویہ ‘‘میں ایسا نہ لکھا۔ اور حطیم، کعبہ ہی کا ایک حصہ ہے اور اس میں مرقد اسماعیل علیٰ نبینا و علیہ السلام بھی ہے اور ان دونوں باتوں میں کوئی منافات نہیں ہے نہ اس میں مرقد اسماعیل علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام ہونے سے کعبہ کا انکار لازم آتا ہے۔ اور پوششِ کعبہ سے استدلال زیدکی اختراعی بات ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم

اور اشعارِ مذکورہ سے بھی اس کا مدعی حاصل نہیں ہوتا۔ واﷲ تعالٰی اعلم

اور فرزند سے مکہ معظمہ کے باشندے مراد ہیں جنہیں فرزندِ مکہ سے تعبیر کیا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم

(۲)اﷲ تعالیٰ زمان و مکان سے منزہ ہے، وہ کسی مکان میں نہیں، بلکہ وہ مکان و زمان سے پہلے بھی تھا اور زمان و مکان کی فنا کے بعد بھی رہے گا۔ قال تعالیٰ:

کُلُّ مَنْ عَلَیْْہَا فَانٍoوَّیَبْقٰی وَجْہُ ربِّکََ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ

(سورۂ رحمن۔ آیت-۲۶، ۲۷)

’’زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے اور باقی ہے تمہارے ر ب کی ذات، عظمت وبزرگی والا‘‘۔

(کنزالایمان)

عام کتبِ عقائد میں ہے:

’’لا یجری علیہ زمان ولایحویہ مکان‘‘۔

(نظم الدررفی تناسب الآیات والسور، سورۃ النساء، مطبع دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

تو خدا کا گھر اس معنی پر نہیں کہ خدا معاذ اﷲ اس گھر میں رہتا ہے بلکہ تعظیم کے لئے خدا کا گھر کہتے ہیں اور ایسی نظیر ہمارے محاورہ میں بھی ہے۔ اکثر بولتے ہیں یہ میرا گھر ہے، اگرچہ آدمی وہاں پر نہیں رہتا، بلکہ مثلاً کرایہ دار وہاں رہتا ہے تو اس مثال میں اضافت اختصاص و مِلک کے لئے ہے، اس طرح خدا کا گھر میں اضافت تعظیم کے لئے ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم

اور حدیث:’’ان اللّٰہ تعالٰی خلق آدم علٰی صورتہٖ ‘‘۔

(مشکٰوۃ المصابیح، ص۳۰۶، باب ما یضمن من الجنایات، فصل اول، مجلس برکات مبارکپور۔)

’’خلق اللّٰہ آدم علٰی صورتہٖ‘‘

(بخاری، ج۲، ص۹۱۹، کتاب الاستیذان، باب بدء السلام، مجلس برکات۔ فیض القدیر، ج۳، ص۵۹۳، مسلم ج۲، ص۳۲۷، مجلس برکات)

میں صورت خدا مراد نہیں ہے کہ وہ صورت سے پاک ہے بلکہ ضمیر آدم کی طرف راجع ہے یعنی اﷲ تعالیٰ نے آدم کو ان کی خاص صورت پر پیدا فرمایا۔ واﷲ تعالٰی اعلم

(۳)اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک ابو طالب کا ایمان لانا ثابت نہیں بلکہ قوم کی طعنہ زنی کے خوف سے اسلام کی حقانیت کا اعتراف کرنے کے باوجود کفر پر قائم رہنا ثابت ہے، چنانچہ ان اشعار سے جو خود ابوطالب کے ہیں، ظاہر ہے۔

ولقد علمت بان دین محمد

من خیر ادیان البریۃ دینا

یعنی’’میں نے بے شک جانا کہ محمد کا دین سب دینوں سے بہتر ہے۔

لولاالملامۃ اوحذار مسبۃ

لوجدتنی سمحابذاک مبینا

اگر ملامت یا قوم کی گالی کا ڈر نہ ہوتا تو میں اسے بخوشی قبول کر لیتا‘‘۔

(تفسیر الخازن، ج۱، سورۂ بقرہ، ص۲۶، مطبع دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

زید سے ثبوت مانگنا چاہیے۔ واﷲ تعالٰی اعلم

فقیر محمد اختر رضاخاںازہری قادری غفرلہٗ

یکم رمضان المبارک ۱۴۱۰ھ

صح الجواب۔ واﷲ تعالٰٰی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہٗ القوی

Menu
error: Content is protected !!