ایک شعر کی وضاحت


مـسـئلـہ: ۱۲

کیا حکم شرع ہے مندرجہ ذیل شعر کے بارے میں بیان فرمائیے۔

وہی جو مستوی عرش ہے خدا ہو کر

اترپڑاہے مدینے میں مصطفیٰ ہوکر

اگر یہ شعر خلاف شرع ہے تو پڑھنے اور سننے والوں کا کیا حکم ہے ؟

سائل: کبیر احمد، ساکن موضع جوکھن پور ڈاکخانہ رچھا روڈ، ضلع بریلی شریف

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اس شعر کا ظاہر حلول و اتحاد و عینیتِ خالق و مخلوق ہے اور یہ بلا شُبہہ کفر ہے، جس نے بھی ظاہری معنی اعتقاد کیے، شعر پڑھنے والا یا سننے والا وہ بے شک کافر ہے، توبہ و تجدیدِ ایمان فرض ہے اور بیوی والوں پر تجدید ِنکاح بھی ضرور اور اگر اس معنی کا اعتقاد نہ کیا تو تکفیر نہیں، البتہ عوام کے سامنے ایسے اشعار پڑھنا سخت حرام ہے کہ بد خواہیِ عوام ہے اور یہ شعر ایک تاویلِ صحیح رکھتا ہے اور قائل اس کا ایک مردِحق آگاہ ہے جس سے غلبہ و شوق و استغراق میں یہ شعر نکلا ہے(۱) لہٰذا اس کی تکفیر کی طرف راہ نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم

فقیر محمد اختر رضا خاں ازہری قادری غفرلہٗ


(۱) اس شعرکی مزیدوضاحت کے لیے ’’فتاویٰ امجدیہ‘‘جلد۴، صفحہ۲۷۸تا۲۸۷(مطبوعہ دارالعلوم امجدیہ، مکتبہ رضویہ، آرام باغ، کراچی) اور ’’فتاویٰ شارح بخاری ‘‘جلد۱، صفحہ۶۰۸(مطبوعہ مکتبہ برکات المدینہ، جامع مسجدبہارشریعت، بہادرآباد، کراچی) کامطالعہ کریں۔ (میثم قادری)

Menu
error: Content is protected !!