یوم الفرقان – غزوۂ  بدر (17رمضان المبارک)


معرکہ بدر تاریخ اسلام میں پہلا فیصلہ کن معرکہ ہونے کے لحاط سے خونریز مقابلہ کا پہلا مرحلہ ہے جس میں اسلام نے کفرو شرک کے خلاف فرضیت جہاد پر عمل کیا اور علی الاطلاق یہ پہلا معرکہ ہے جس میں فریقین نے ایک دوسرے کا سامنا کیا اور جب سے دعوتِ اسلام کاآغاز ہوا ہے اور اس کے اور کفر کے درمیان جنگ کی ٹھنی ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدۡرٍ وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾اِذۡ تَقُوۡلُ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَلَنۡ یَّکۡفِیَکُمۡ اَنۡ یُّمِدَّکُمۡ رَبُّکُمۡ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُنۡزَلِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾ؕ

بَلٰۤی ۙ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا وَ یَاۡتُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡرِہِمۡ ہٰذَا یُمۡدِدۡکُمۡ رَبُّکُمۡ بِخَمۡسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾

(پارہ ۴: آل عمران: ۱۲۳تا ۱۲۵)

(ترجمہ) اور بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سروسامان تھے۔ تو اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار ہو۔ جب اے محبوب! تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتہ اتار کر ہاں کیوں نہیں اگر تم صبر و تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا۔(کنز الایمان)

معرکۂ بدر سے قبل عسکری سرگرمی:

ہجرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے معرکہ بدر تک کا زمانہ تقریباً ۱۹ ماہ کا بنتا ہے اس دوران میں مکہ اور مدینہ کے درمیان کوئی خونی معرکہ نہیں ہوا، صرف اس سریہ میں کچھ خونریزی ہوئی تھی جس کی کمان عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کر رہے تھے جس کے فوراً بعد بدر کا معرکہ ہوا۔(طبقات ابن سعد ، ۱:۳۱۰)

معرکہ بدر سے قبل مسلمانوں کی گشتی پارٹیاں:

بقیہ عسکری کاروئیاں، جاسوسی پارٹیوں سے زیادہ مشابہ تھیں، جنہیں مسلمانوں نے مدینہ کا گھیراؤ کرنے والے راستوں اور مکہ پہنچانے والے راستوں کے حالات معلوم کرنے اور قبائل کی طاقت کا جائزہ لینے کیلئے تیار کیا تھا جو علاقہ کو گھیرے ہوئے تھے اور کم از کم ان کا مقصد بعض قبائل سے مصالحانہ اور حلیفانہ تعلقات پیدا کرنا تھا، نیز یہ مقصد بھی تھا کہ مشرکین اور یہود کو بتادیا جائے کہ مسلمان ہر پیش آمدہ زیادتی کو روکنے کی قوت رکھتے ہیں، جن گشتی پارٹیوں اور سرایا کو مسلمانوں نے معرکہ بدر سے قبل تیار کیا ان کا خلاصہ درجِ ذیل ہے۔

۱…..گشتی جنگی پارٹی:

یہ پارٹی حضرت سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی کمان میں تیار کی گئی اس میں تیس مہاجرین شامل تھے۔ یہ گشتی پارٹی قریش کے تجارتی قافلے سے ملی، جس کی حفاظت قریش کے تین سو جانباز ابو جہل بن ہشام کی کمان میں کر رہے تھے یہ واقعہ ساحلِ سمندر کے پاس عیص (سمندر کی جانب منیع اور مروہ کے درمیان کی جگہ) کی جانب ماہ رمضان میں ہجرت کے پہلے سال پیش آیا اور فریقین کے درمیان مجدی بن عمرو جہنی کی مداخلت کی وجہ سے جنگ نہ ہوئی۔ اس شخص نے سلامتی کی کبوتری کا کردار ادا کیا اور ان دونوں کے درمیان رکاوٹ بن گیا۔(طبقات : ۱:۳۰۷)

۲…..جنگی گشتی پارٹی:

یہ ساٹھ افراد پر مشتمل تھی،جسے حضرت عبید بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ وادیٔ رابغ تک لے گئے، یہ واقعہ ہجرت کے پہلے سال ماہ شوال میں ہوا۔ اس گشتی پارٹی کا مقصد قریش کی تجارت کو تہدید (یعنی خوف میں مبتلا )کرنا تھا، اس پارٹی نے قریش کے دو سو سے بھی زیادہ جانبازوں کے ساتھ ملاقات کی ، جن کی قیادت ابو سفیان کر رہا تھا مگر فریقین میں کوئی جنگ نہ ہوئی۔ اس غزوہ میں مکی فوج کے دو آدمی حضرت عبید بن حارث کی گشتی پارٹی میں شامل ہو گئے۔ یہ دو آدمی مقداد بن عمرو الجعرانی اور عتبہ بن غزوان تھے۔ یہ دونوں مسلمان تھے جو مکی فوج میں آگئے تھے۔(غزوئہ بدر :۱۲۹)

۳…..جاسوس گشتی پارٹی:

اس پارٹی میں آٹھ مہاجرین شامل تھے، جن کی کمان حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کر رہے تھے، یہ پارٹی مکہ اور شام کے درمیان قریش کے تجارتی راستے کی تہدید کے لئے الغراء تک پہنچ گئی۔ لیکن یہ گشتی پارٹی دشمن کے ساتھ جنگ میں نہیں الجھی، یہ واقعہ ہجرت کے پہلے سال ذوالقعدہ کا ہے۔(غزوئہ بدر :۱۲۹)

۴…..غزوۂ ودان:

یہ ایک جنگی گشتی پارٹی تھی جس میں دو سو جانباز شامل تھے۔ جن کی کمان خود رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ہجرت کے دوسرے سال صفر کے مہینے میں ودان کے علاقے تک کی اور آپ بغیر کسی جنگ کے واپس آگئے ، ہاں آپ نے حمزہ بن بکر بن کنانہ کے قبائل سے عدم جارحیت کا معاہدہ کیا۔(المرجع سابق)

۵…..غزوۂ بواط:

یہ ایک جنگی گشتی پارٹی تھی جس کی کمان خود رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے علاقہ بواط تک اس راستے پر کی جو شام سے مکہ پہنچتا ہے۔ یہ ربیع الاول ۲ھ کا واقعہ ہے۔ اس گشتی پارٹی کا مقصد قریش کے قافلہ پر حملہ کرنا تھا لیکن قافلہ بچ گیااور آنحضرت ا بغیر جنگ کیے واپس آگئے۔ اس گشتی پارٹی میں دو سو سوار شامل تھے۔(المرجع سابق)

۶…..غزوۂ العشیرہ:

یہ ایک جنگی گشتی پارٹی تھی جس میں دو سو جانباز شامل تھے ۔ اس کی کمان خود رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے قریش کی تجارت کی تہدید کیلئے العشیرہ مقام تک کی جو منیع کے علاقہ میں واقع ہے اور رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم بغیر کسی جنگ کے واپس آگئے کیونکہ قریش کا قافلہ اس علاقے سے گزر کر بچ گیا تھا، ہاں آپ نے (اس غزوہ کے دوران) بنی مدلج اور ان کے حلیفوں بنی حمزہ سے عدم جارحیت کا معاہدہ کیا۔ یہ جمادی الاولیٰ یکم ہجری کا واقعہ ہے۔(طبقات ابن سعد، اول :۳۱۰)

۷…..غزوۂ بدر الاولیٰ:

یہ ایک گشتی پارٹی تھی جو دو سو جانبازوں پر مشتمل تھی، اس کی کمان خود رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے کی۔ یہ واقعہ جمادی الآخر۲ھ کا ہے۔ آپ نے اس کے ذریعے مشرکین کی معمولی فوجوں کو بھگادیا، جنہوں نے مدینہ کی چراگاہوں پر حملہ کرکے بعض مویشی لوٹ لیے تھے، آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ان کے تعاقب میں وادی سنوان تک پہنچ گئے جو بدر کے قریب ہے لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو غارتگری کرنے والی فوجیں نہ ملیں اور آپ بغیر کسی جنگ کے واپس آگئے۔(غزوۂ بدر:۱۳۰)

معرکہ بدر کے اسباب:

ماہِ رمضان کے شروع میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ اہلِ قریش کا تجارتی مال و اسباب سے بھرا ہوا قافلہ شام سے مکہ آرہا ہے اس کے ساتھ تیس یا چالیس آدمی خاص اہلِ قریش کے ہیں جن کا سردار ابو سفیان ہے اور اس کے ہمراہیوں میں عمرو بن العاصی و محزمۃ بن نوفل ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مسلمانانِ مہاجرین و انصار رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جمع کرکے اس قافلے کی طرف پیش قدمی کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ (ابن خلدون /اول/۷۱)

آقائے دوجہاں ﷺ کا اپنے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مشورہ:

آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مہاجرین و انصار کوجمع کرکے مشورہ کیا ۔ پہلے مہاجرین نے نہایت خوبصورتی اور بسرو چشم ہر حکم بجالانے کا اقرار کیا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے انصار کی طرف رخ کیا ان میں سے حضرت سعد بن معاذ نے نکل کر عرض کیا ’’اے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم! ہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی ہے۔ اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم دریا میں کودنے کوفرمائیں گے تو ہم اس میں بھی غوطہ لگا دیں گے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اللہ کے نام پر ہمارے ساتھ چلئے، ہم ساتھ چھوڑنے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم یہ سن کر خوش ہوگئے اور یہ ارشاد فرمایا: ’’ کہ تم لوگوں کو بشارت ہو ،کہ اللہ جل شانہٗ نے مجھ سے فتح و نصرت کا وعدہ فرمایا ہے۔‘‘(طبقات ابن سعد، ۱:۳۱۵)

اکثر اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا گمان یہی تھا کہ حضور قافلہ پر حملہ آور ہونے کو جارہے ہیں وہ دل ہی میں خوش تھے کہ قافلہ ہی سے مڈبھیڑ ہو کیونکہ مسلمان بلحاظ جنگی سازو سامان کے مکمل نہ تھے ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے تو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو مدینہ ہی میں مطلع فرما دیا تھا کہ حملہ آور دشمن سے جنگ کیلئے جانا ہے۔

جنگ ناگزیر تھی کہ امر الٰہی تھا:

قافلۂ قریش تو چلا گیا تھا ، مسلمان چاہتے تو جنگ نہ ہوتی لیکن امر الٰہی مقدر تھا ۔ قرآن مجید میں ہے کہ:

اِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَۃِ الدُّنۡیَا وَ ہُمۡ بِالۡعُدۡوَۃِ الۡقُصۡوٰی وَ الرَّکۡبُ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ ؕ وَ لَوۡ تَوَاعَدۡتُّمۡ لَاخۡتَلَفۡتُمۡ فِی الۡمِیۡعٰدِ ۙ وَ لٰکِنۡ لِّیَقۡضِیَ اللّٰہُ اَمۡرًا کَانَ مَفۡعُوۡلًا ۬ۙ لِّیَہۡلِکَ مَنۡ ہَلَکَ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ وَّ یَحۡیٰی مَنۡ حَیَّ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَسَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۴۲﴾

 (پارہ ۱۰، سورۃ الانفال، آیت ۴۲)

( ترجمہ) اور اگر تم آپس میں کوئی وعدہ کرتے تو ضرور وقت پر برابر نہ پہنچتے لیکن یہ اس لئے کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے۔ کہ جو ہلاک ہو دلیل سے ہلاک ہو اور جو جئے دلیل سے جئے۔ اور بے شک اللہ ضرور سنتا جانتا ہے۔ (کنز الایمان )

غزوۂ بدر کو اللہ تعالیٰ نے یوم الفرقان بھی قرار دیا۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ:

 یَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ ؕ

 (پارہ : ۱۰، الانفال : ۴۱ )

( ترجمہ) فیصلے کے دن جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں۔

مجاہدین کی روانگی اور بحیثیت کمانڈر انچیف رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا ایثار

آٹھ رمضان کے بعد جناب رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم مدینہ سے روانہ ہوئے حضرت سیدنا عمرو ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کواپنے بجائے نماز پڑھانے کیلئے چھوڑ گئے پھر مقام رجاء میں پہنچ کر ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو مدینہ کا حاکم مقرر کرکے واپس کیا اس لشکر میں تین علم تھے ایک حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے دوسرا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے تیسرا کسی انصاری کے ہاتھ میں تھا ان آخری دو کی کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ سیاہ رنگ کے تھے۔(تاریخ ابن خلدون ، ۱:۷۱)

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کے ساتھ اس معرکہ میں صرف ستر(۷۰) اونٹ تھے جس پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اور مرثد بن ابی مرثد اور علی بن ابی طالب باری باری اونٹ پر سوار ہوتے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے دونوں ساتھیوں ابن ابی طالب اور ابن ابی مرثد سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنی حصے کے مطابق اونٹ پر سواری کریں ان دونوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے عرض کیا ہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی طرف سے بھی پیدل چلیں گے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں تمہاری طرح اجر سے بے نیاز ہوں۔‘‘ اورآپ نے انکار کرتے ہوئے فرمایاکہ میرا حصہ بھی تم میں سے ہر ایک کے مطابق ہوگا۔(غزوۂ بدر:۱۳۹۔۱۴۰)

نبوی انٹیلی جینس:

رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اونٹوں کی گردنوں سے گھنٹیاں اتارنے کا حکم دیا ، معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ کام فوج کی حرکت کو مخفی رکھنے کیلئے کیا۔ کیونکہ اونٹوں کے چلنے سے گھنٹیوں سے بلند آواز نکلتی ہے جس سے دشمن کو فوج کی جگہ معلوم کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے اس وجہ سے رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے گھنٹیوں کو اونٹوں کی گردنوں سے اتارنے کا حکم دیا۔ جنگی حالات کا عام دستور ہے اور ان حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ احتیاطی تدبیر اختیار کی جائے۔ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے دشمن کے حالات معلوم کرنے کیلئے اپنے جاسوس بھیجے۔

موجودہ دور میں انہیں انٹیلی جینس یا حالات معلوم کرنے کے آلات کہا جاتا ہے۔ انٹیلی جینس کے آدمی فوج کے آگے ادھر اُدھر پھیل جاتے ہیں، ان میں سے ایک حضرت بسبس بن عمرو جہنی اور دوسرے حضرت عدی بن ابی الزّغباء تھے یہ دونوں پہلے اشخاص ہیں جنہیں رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے بدر کی جانب ابو سفیان کے حالات معلوم کرنے کیلئے بھیجا ۔ اور وہ بدر سے یہ خبر سن کر آئے کہ قافلہ کل یا پرسوں بدر میں پہنچے گا ۔(طبقات ، ۱:۳۱۳)

بدر کا راستہ:

رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم مدینہ سے بدرکی طرف مدینہ کے درّے کے راستے چلے پھر “عقیق”، پھر “ذوالحلیفہ”، پھر” اولات الجیش”، پھر “تربان”، پھر” ملل”، پھر” غمیس الحمام”، پھر” صخیرات الیمامہ”، پھر” سیالہ”، پھر” فج الروحاء”، پھر” شوکہ” (شنوکہ)گئے۔ “بیرالروحاء” سے آگے مقام ” منصرف” کو چھوڑتے وقت آپ نے مکہ کے راستے کو بائیں جانب چھوڑ دیا۔ پھر آپ دائیں جانب “نازیہ” کی طرف بدر جانے کیلئے مڑگئے۔ جب آپ “نازیہ” اور “مضیق الصفراء” کے درمیان “وادی وحقان” (یا رحقان)میں چلے تو اس سے سیدھے ہوگئے۔ پھر آپ نے “وادی اصفراء” کو بائیں جانب چھوڑدیا اور دائیں جانب “وادی ذفران” میں چلنے لگے۔ اس وادی سے نکلتے وقت آپ کو مکی فوج کے خروج کی اطلاع ملی کہ وہ بدر کی طرف آرہی ہے۔ “وادی ذفران” سے نکلنے کے بعد آپ “ثنایا” پر چلے، جسے “اصافر” کہتے ہیں پھر آپ وہاں سے بدر کے قریب ایک شہر کی طرف چلے گئے۔ جسے “الدبۃ” کہتے ہیں اور آپ نے “الحنان” کو دائیں جانب چھوڑدیا پھر بدر کے قریب اتر گئے۔(غزوۂ بدر صفحہ ۱۴۰و ضیاء النبی ﷺ، ۳:۳۰۶)

ابو سفیان کا مکہ سے مدد طلب کرنا:

اتفاق سے یہ خبر رفتہ رفتہ ابو سفیان تک پہنچ گئی اس نے مسلمانوں سے ڈر کر ضمضم بن عمرو غفاری کو اجرت دے کر مکہ کی طرف روانہ کیا اور یہ کہلا بھیجا کہ تمہارا قافلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اور انکے تابعین کی وجہ سے معرض زوال میں ہے، دوڑو اوراپنے قافلے کو بچاؤ۔ چنانچہ اہلِ مکہ یہ سنتے ہی سب کے سب نکل کھڑے ہوئے سوائے چند افراد کے جن میں ابو لہب بھی تھا۔ ابو سفیان اپنے قافلے کو ساحل کے ساتھ ساتھ لے کر مکہ کی جانب چلا تو راستے میں اہلِ مکہ بھی مل گئے اس نے خوش ہو کر کہا چلو واپس چلو ہمارا قافلہ صحیح و سالم بچ آیا مگر ابو جہل نے ابو سفیان کے مشورے کو رد کر دیا اور فوج کو بدر تک جانے پر اصرار کیا۔ اس نے بڑے تکبر اور غضب سے کہا ، خدا کی قسم! ہم واپس نہیں جائیں گے ہم بدر تک جائیں گے اور تین دن وہاں ٹھہریں گے اور اونٹ ذبح کریں گے اور کھائیں گے کھلائیں گے اور شراب نوشی کریں گے اور گلوکارائیں ہمارے لیے گانے گائیں گی اور عرب ہمارے متعلق اور ہماری پیش قدمی سے متعلق سنیں گے تو ہمیشہ ہم سے ڈرتے رہیں گے۔(سبل الہدی و الرشاد، ۴:۲۹)

آغازِ جنگ:

۱۷ رمضان المبارک جمعہ کا دن نمازِ فجر حضور سالارِ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے لشکر اسلام کو پڑھائی اور فرمانِ الٰہی کے مطابق ایک مختصر مگر بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔

’’جب تک کفار کی جانب سے پیشقدمی نہ ہو مسلمان ہر گز حملہ نہ کریں ، اگر کفار مسلمانوں کی جانب بڑھنے لگیں تو ان کو روکنے کیلئے پہلے تیر برسائیں، اگر وہ نہ رکیں اور آگے بڑھتے رہیں تو مسلمان جم کر لڑیں ، خبردار کوئی گھبرائے نہ، کوئی پیٹھ نہ پھیرے، اللہ سبحانہٗ تعالیٰ تمہیں ہدایت فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا زَحۡفًا فَلَا تُوَلُّوۡہُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴿ۚ۱۵﴾

وَ مَنۡ یُّوَلِّہِمۡ یَوۡمَئِذٍ دُبُرَہٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوۡ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ فَقَدۡ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاۡوٰٮہُ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۶﴾

(پارہ :۱۰،الانفال: ۱۵۔۱۶)

(ترجمہ) اے ایمان والو! جب کافروں کے لام (بڑے لشکر)سے تمہارا مقابلہ ہو تو انہیں پیٹھ نہ دو اور جو اُس دن انہیں پیٹھ دے گا مگر لڑائی کا ہنر کرنے یا اپنی جماعت میں جاملنے کو تو وہ اللہ کے غضب میں پلٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہےاور کیا بری جگہ ہے پلٹنے کی۔(کنز الایمان)

اور رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے دوسرا حکم الٰہی بھی سنایا:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمۡ فِئَۃً فَاثۡبُتُوۡا وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚ۴۵﴾

(پارہ ۱۰،الانفال: ۴۵)

(ترجمہ) اے ایمان والو! جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کی یاد بہت کرو کہ تم مراد کو پہنچو۔(کنز الایمان)

اشراق کے بعد کفار کی فوج اپنے دلدلی حصہ زمین سے اسلامی فوج کی طرف بڑھی اور بدر کی بے شجر وادی میں دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں، ایک جانب لوہے میں ڈھکے ہوئے سرتا پا مسلح فنِ جنگ کے خوب ماہر قہر مجسم ایک ہزار قریشی سرداروں، پہلوانوں اور نامور بہادروں کی پیش قدمی ہے تو دوسری جانب ۳۱۳ اسلامی لشکر کے افراد کہ جن کے پاس مکمل جنگی سازو سامان بھی نہیں ہے اکثر کے لباس بھی پھٹے پرانے ہیں۔ تمام ظاہری آثار بتاتے ہیں کہ قریشی لشکر اسلامی لشکر کا صفایا چند لمحوں میں بڑی آسانی سے کردے گا۔

سب سے پہلے مغرور سردارعتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ اور بیٹے ولیدکے ساتھ آگے بڑھا اور بڑے زعم سے مبارزت طلب کی ، انصار اصحاب میں سے حضرات عوف ، معاذ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مقابلہ کیلئے آگے بڑھے تو عتبہ نے کہا کہ ہم انصار مدینہ سے مقابلہ نہیں چاہتے تم ہمارے جوڑ کے نہیں مہاجرین میں سے کسی کو جرأت ہو تو آ گے آئے، تب چیلنج دینے والے اس مغرور کے سردار کے ایک فرزند (جو مسلمان ہو چکے تھے) حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے چاہا کہ اپنے کافر باپ کا مقابلہ کریں مگر حضور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے آپ کو روک دیااور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے محترم چچا اسد اللہ و اسد الرسول حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور حضرت عبیدہ ابن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو آگے بھیجا ۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے شیبہ بن ربیعہ کو ایک ہی وار میں واصل جہنم کردیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اسی آنِ واحد میں ولید بن عتبہ کا خاتمہ کیا اور عتبہ بن ربیعہ اور حضرت عبیدہ کے باہم مقابلے میں حضرت عبیدہ کے پاؤں کٹ گئے تو حضرت حمزہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عتبہ کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔(تاریخ طبری ، ۱:۱۷۹)

تین ممتاز و معزز و نامور سردارانِ قریش کے اس طرح مارے جانے پر کفار کی فوج میں صف ماتم بچھ گئی اور عجیب ہیبت کی دھاک بیٹھ گئی۔ اسلامی لشکر میں فرطِ فرحت و تشکر سے احد…احد …اور اللہ اکبر…اللہ اکبر … اللہ اکبر…. کے فلک بوس نعرے گونجنے لگے جو کفار کے حق میں جگر شگاف تھے ۔ بعد ازاں کفار نے اپنے مقام سے تیر برسائے جن سے حضرت مہجع بن صالح اور حضرت حارثہ بن سراقہ شہید ہو گئے۔ اور پھر گھمسان کی لڑائی شروع ہوگئی۔لشکر اسلام کے علم بردار حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنے حقیقی بھائی جو مشرک تھا عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا اور حضرت سیدنا فارقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنے حقیقی ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا۔

تین تین چار چار سوارو پیادہ آہن پوشوں کا اکیلے مہاجرین یا تن تنہا انصار پر ٹوٹ پڑنا، تیغ و تبر کی چقاچق، برچھیوں اور نیزوں کی جھنجھناہٹ، تیروں کی فشافش، کفار کے گھوڑوں کے ٹاپوئوں کی ٹھپا ٹھپ، ہوا کی سنسناہٹ کفارکے جنگی نقاروں کی ہیبت ناک گرج، لات و منات ، ہبل و عزّیٰ کی امداد کیلئے کفار کی شورو پکار ، مجاہدین اسلام کی اَحد…اَحد کی صدائیں اور ہر ضرب پر اللہ اکبر …اللہ اکبر کے پُرجوش و فلک بوس نعروں سے میدانِ کارزار ایسا ہولناک منظر ہوا کہ گویا زمین پر زلزلہ تھا، پہاڑ لرز رہے تھے، اور آسمان پھٹ رہا تھا، حضور انور و اقدس ا سپہ سالارِ لشکر اسلام علیہ افضل التحیاۃ والصلوٰۃ والسلام متاثر ہو کر داخل عریش ہوئے اور دونوں مبارک ہاتھوں کو پھیلا کر حق تعالیٰ جلِ جلالہٗ عم نوالہٗ سے نہایت خلوص و عجز سے عرض کرنے لگے ’’یا الٰہ العالمین، یا ذوالجلال والاکرام اگر آج اس میدان میں یہ نہتے مسلمان کٹ جائیں اور مٹ جائیں توپھر تیری عبادت کرنے والے بندے دنیا میں کوئی باقی نہ رہیں گے، یا الٰہی تیری عبادت کرنے والے ان نہتے مسلمانوں کو آج فتح سے نواز، اے مولیٰ تیرا وہ وعدہ کہ مسلمانوں کو فتح سے سرخرو فرمائے گا اب پورا فرما…الخ۔ (سیرت ابن ہشام، ۲:۶۲۷ و مسلم ۲:۹۳)

آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ عریش میں کوئی نہ تھا۔ سوا ئے قدیم یارِ غار سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے جو حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی حفاطت کیلئے تلوار لیے ہوئے آپ کی پشت پر داخل ہوئے تھے، عاجزانہ دعا کی حالت میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے مقدس ہاتھ جو ہلتے تھے تو آپ کی مبارک چادر آپ کے پاک کندھوں سے باربار گر جاتی اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اس کو پھر آپ کے کندھوں پر ڈالتے رہتے۔ اس دعا کی طوالت نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو متاثر کیاتو آپ نے عرض کیا …’’یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، دعا بس فرمایئے…بس فرمایئے، اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا فرمانے والا ہے۔‘‘(مسلم ،۲:۹۳)

یہ گذارش گویا الہام غیبی تھی کہ اسی وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے بشارت کا پیغام لے آئے اور سنایا:

اِذۡ تَسۡتَغِیۡثُوۡنَ رَبَّکُمۡ فَاسۡتَجَابَ لَکُمۡ اَنِّیۡ مُمِدُّکُمۡ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُرۡدِفِیۡنَ ﴿۹﴾

(پارہ ۱۰،الانفال: ۹)

(ترجمہ)جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزار فرشتوں کی قطار سے۔

اس پیاری وحی سے آپ کی تسلی میں مزید اضافہ ہوا اور آپ نے یہ نوید پہنچا کر لشکرِ اسلام کی مزیدخوب ہمت افزائی فرمائی۔

امدادِ ملائکہ:

معاً سفید عمامہ پوش ابلق گھوڑوں پر سوار فرشتوں کی فوج کا نزول ہوا، فرشتوں کو بارگاہِ الٰہی سے حکم ملا :

اِذۡ یُوۡحِیۡ رَبُّکَ اِلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ اَنِّیۡ مَعَکُمۡ فَثَبِّتُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ سَاُلۡقِیۡ فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الرُّعۡبَ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ وَ اضۡرِبُوۡا مِنۡہُمۡ کُلَّ بَنَانٍ ﴿ؕ۱۲﴾

(ترجمہ) اے (فرشتو)! میں تمہارے ساتھ ہوں ، تم مسلمانوں کی کو ثابت قدم رکھو، عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈالوں گا، پس کافروں کی گردنوں سے اوپر مارو اور ان کے ایک ایک پور پر ضرب لگاؤ۔ (پارہ ۱۰،الانفال :۱۲)

ابلیس لعین جو سراقہ سردار بنو کنانہ کی شکل میں مع ایک لشکر وارد تھا نزول ملائکہ دیکھتے ہی ہیبت زدہ ہو کر میدان سے یہ کہتے ہوئے فرار ہوا ’’میں تم سے الگ ہوں، میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ کا عذاب سخت ہے۔ (پارہ ۱۰،الانفال ۴۸)

پہلے ہزار فرشتے آئے پھر تین ہزار ہو گئے ۔ بعد ازاں بصورت صبر و تقویٰ پانچ ہزار ہوگئے۔ حضور اقد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ایک کنکریوں کی مٹھی لے کر شاہت الوجوہ (یعنی ذلیل ہوں چہرے) فرماتے ہوئے لشکر کفار کی جانب پھینکی۔ دفعتاً ایک ایسی تیز آندھی چلی کہ کفار میں ہر ایک کے منہ اور ناک ریت سے بھر گئے، سانس لینا دشوار ہوگیا، دم گھٹنے لگے وہ مبہوت ہو کر حیران و پریشان بھاگنے ، مرنے اور اپنے ہتھیار پھینک کر قید ہونے لگے۔ اس معجزہ کا ذکر ذوالجلال والاکرام نے بڑے لطف و پیارے الفاظ میں یوں فرمایا ہے۔

(ترجمہ) تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے محبوب (ا ) وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے۔ بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔(پارہ :۹، الانفال :۱۷)

حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کی قیادت کرتے ہوئے حضرات مہاجرین و انصار کی اس طرح مدد کر رہے تھے کہ حضرت ربیع بن انس انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنا مشاہدہ روایت کرتے ہیں کہ ہم جنگ بدر میں کشتگانِ ملائکہ کو پہچانتے تھے۔ کسی کا سر گردن سے اڑا دیا ہے ، کسی کے پوروں پر ضرب پہنچائی ہے ، گویا کہ وہ آ گ سے جلا ہوا ہے اور داغ ہو گیا ہے۔(رواہ بیہقی ، سبل الھدیٰ ۴:۴)

حضرت سہیل بن حنیف انصاری اور حضرت ابو داؤد عمیر بن عامر انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معرکہ بدر میں ہم سے کوئی تلوار اٹھاتا تو اس کی تلوار مشرک تک پہنچنے سے قبل ہی مشرک کا سر جسم سے جدا ہو کر گر جاتا تھا ۔(رواہ البیہقی دلائل النبوۃ)

رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ایک چچا عباس بن عبدالمطلب ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے اور مشرکوں کے ساتھ فوج میں تھے طویل قامت اور قوی جسم والے تھے انہیں ایک دبلے پتلے پستہ قد انصاری صحابی حضرت ابو الیسر خزرجی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے گرفتار کر کے حضور سید الانبیا والمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، اے ابوالیسر! تم نے عباس کو کیسے گرفتار کیا، ایسے مرد نے میری مدد کی جسے میں نے پہلے یا بعد نہیں دیکھا وہ ایسا ایسا تھا، حضور علیہ الصلوٰۃ السلام نے فرمایا کہ تمہاری مدد (ملک کریم) یعنی حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمائی۔ (سبل الہدیٰ، ۴:۴۱)

ظہورِ معجزات:

معرکہ بدر میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کئی معجزات ظاہر ہوئے ، میدانِ جنگ میں اپنی صفوں کو لے کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میدان کے وسط میں تشریف لائے اور جنگ سے ایک روز قبل آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے عصائے مبارکہ سے مختلف لکیریں میدان میں کھینچتے ہوئے فرمایا: ’’ کل یہاں عتبہ بن ربیعہ کی موت ہوگی، اور یہاں اس دور کے فرعون ابو جہل کی موت واقع ہوگی، الغرض مشرکین کی موت اور ان کے مقتل کی جیسی نشاندہی فرمائی گئی تھی اس سے ہٹ کر وقوع نہ ہوا ۔ ‘‘ (مسلم شریف ، ۲:۱۰۲)

حضرت عکاشہ کے پاس ایک زنگ آلود پُرانی تلوار تھی جو ٹوٹ گئی تو رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے میدان سے ایک سوکھی جنگلی جلانے والی لکڑی اپنے دست مبارک سے اٹھا کر انہیں دے دی اور ارشاد فرمایا : ’’جاؤ اس سے لڑو‘‘ وہ لکڑی حضرت عکاشہ کے ہاتھ میں ایک سفید چمکدار فولادی تیز تلوار بن گئی اور عرصۂ دراز تک (۱۱ہجری) ان کے پاس رہی ۔ اسی طرح حضرت سلمہ بن اسلم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو بھی حضور ا نے کھجور کی سوکھی شاخ دی جو کہ فوراً ایک تیز دھار تلوار بن گئی ۔ حضرت رفاعہ بن رافع بن مالک خزرجی انصاری و حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی زخمی آنکھوں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے لعابِ دہن سے تندرست کر دیا ۔ (ابن کثیر،۲:۴۴۶۔۴۴۷)

حیرت انگیز واقعات

مرتدین کا عبرتناک انجام:

یہ معرکہ ٔ بدر امر الٰہی کے نتیجے میں اسلئے بھی پیش آیا تھا کہ مکہ مکرمہ میں مشرکین کے ساتھ پانچ افراد ایسے بھی تھے کہ جو ایمان لانے کے بعد حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے حکم سے ہجرت کر کے مدینہ نہیں آئے ، اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی نافرمانی کی اور ان کے اعزا و اقرباء نے انہیں سمجھا بجھا کر اسلام چھوڑنے پر راضی کرلیا اور اس طرح یہ مرتد ہو گئے۔ ان میں (۱)بنو اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی سے حرث بن زمعہ (۲) بنو مخزوم سے ابو قیس ابن الفاکہہ بن مغیرہ (۳) ابو قیس بن الولید بن مغیرہ (۴) بنو جمح سے علی بن امیہ بن خلف(۵) بنو سہم سے عاصی بن منبہ، یہ قریش کے لشکر میں شامل ہوکر بدر تک آئے تھے اور واصل جہنم ہوئے۔ اس سے معلوم ہو ا کہ اللہ تعالیٰ مرتدین کو جلد از جلد کیفرِ کردار تک پہنچا دیتا ہے۔

(ابن خلدون/اول/۷۶)

حضرت عبداللہ بن سہیل کی ثابت قدمی:

رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ایک صحابی حضرت عبداللہ بن سہیل مہاجر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ مکہ مکرمہ میں اپنا اسلام ظاہر کیے بغیر قیام فرما تھے مگر پیکر استقامت تھے۔لشکر کفار میں داخل ہو کر میدانِ بدر میں وارد ہوئے اور مشرکین کے لشکر کو چھوڑ کر حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی قدم بوسی کا شرف حاصل کیا اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر کافروں سے خوب مقابلہ کیا۔ (کوکبۂ غزوۂ بدر:۱۵)

حضرت سواد رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی والہانہ عقیدت:

جب سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اپنے جاں نثاروں کی صفیں درست فرما رہے تھے تو ایک صحابی حضرت سواد بن غزیہ کو صف سے باہر ملاحظہ فرما کر اپنے عصا سے ان کے جسم کو مس کیا اور فرمایا: ’’سواد سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔‘‘ جس پر حضرت سواد نے احتجاجاً عرض کیا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم! آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی میں اس کا بدلہ چاہتا ہوں۔‘‘ تو نبی کریم ا نے اپنا کرتا اٹھا لیا اور اپنا عصا انہیں دے کر فرمایا :’’ لو اپنا بدلہ لے لو۔‘‘ جس پر حضرت سواد نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے برہنہ سینہ اور پیٹ کو بوسے دیے اور فرطِ عقیدت سے چومنے لگے اور انہوں نے عرض کیا کہ میں نے بدلہ لینے کی گستاخی کا جملہ اس لیے کہا تھا کہ آج پتہ نہیں میں زندہ رہوں یا نہیں کم از کم موت سے پہلے آپ کے جسم اقدس کا لمس حاصل کرلوں۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کی بھلائی کیلئے دعا فرمائی۔(سیرت ابن ہشام ) (الاصابہ، جلد ۴:۱۹۵)

نتیجۂ جنگ:

٭ سید الشہدا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے سات مشرکین کو قتل کیا۔

٭ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ۱۲ مشرکین کو قتل کیا

٭ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنے حقیقی ماموں کو قتل کیا۔

٭ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ۲ مشرکین کو قتل کیا۔

٭ حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ۳ مشرکین کو قتل کیا۔

٭ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ۲ مشرکین کو قتل کیا۔

٭ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ۲ مشرکین کو قتل کیا۔

٭ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ایک مشرک کو قتل کیا۔

اور دیگر مہاجر و انصار صحابہ نے مجموعی طور پر ۷۰ مشرکین قتل کیے۔ اور ستر کے قریب مشرکین اسیر ہوئے۔جب کہ صرف ۱۴ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم شہید ہوئے۔

شہداء و شرکائے بدر کی فضیلت:

رفاعہ بن رافع الزرقی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے ،

’’جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا آپ اہلِ بدر کو مسلمانوں میں کیسا سمجھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ! سب مسلمانوں سے افضل سمجھتا ہوں ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ فرشتوں میں سے جو فرشتے بدر میں حاضر تھے ان کا درجہ بھی ملائکہ میں ایسا ہی سمجھاجاتا ہے۔ ‘‘ (بخاری: کتاب المغازی، باب شھود الملٓئکۃ بدرا، فتح الباری، ۷:۳۶۲)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے روایت کیا کہ،

’’ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اہلِ بدر کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا ہے اب تم جو چاہو سو کرو۔‘‘(ابو داؤدشریف، ۲:۲۹۱۔۲۹۲، مطبوعہ امدادیہ ملتان)

اندلس کے مشہور سیاح محمد بن جبیر (متوفی ۲۷ شعبان ۶۱۴ھ ) نے بدر کے حال میں یوں لکھا ہے۔

’’اس موضع میں کھجور کے بہت باغات ہیں۔ اور آبِ رواں کاایک چشمہ ہے۔موضع کا قلعہ بلند ٹیلے پر ہے۔ اور قلعہ کاراستہ پہاڑوں کے بیچ میں ہے۔ وہ قطعہ زمین نشیب میں ہے جہاں اسلامی لڑائی ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت اور اہلِ شرک کو ذلت دی۔ آج کل اس زمین میں کھجور کا باغ ہے اور اس کے بیچ میں گنج شہیداں ہے۔ اس آبادی میں داخل ہوتے وقت بائیں طرف جبل الرحمۃ ہے ۔ لڑائی کے دن اس پہاڑ پر فرشتے اترے تھے۔ اس پہاڑ کے ساتھ جبل الطبول ہے ۔ اس کی قطع ریت کے ٹیلے کی سی ہے۔ کہتے ہیں ہر شب جمعہ کواس پہاڑ سے نقارے کی صدا آتی ہے۔ اس لیے اس کا نام جبل الطبول رکھا ہے۔ ہنوز نصرت نبوی ا کا یہ بھی ایک معجزہ باقی ہے۔ اس بستی کے ایک عرب باشندے نے بیان کیا کہ میں نے اپنے کانوں سے نقاروں کی آواز سنی ہے اور یہ آوا زہر جمعرات اور دو شنبے کو آیا کرتی ہے اس پہاڑ کی سطح کے قریب حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے تشریف رکھنے کی جگہ ہے اور اس کے سامنے میدانِ جنگ ہے ۔‘‘ (سیرت رسول عربی:۱۳۷ و رحلۃ ابن جبیر : ۱۹۲)

غزوۂ بدر سے متعلق کتب

Menu