سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ نوریہ کے 9ویں امام و شیخ طریقت

حضرت شیخ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ


مقتدائے خلق ابو محفوظ حضرت معروف بن فیروز کرخی رحمۃ اللہ علیہ بغداد کے ایک محلہ ”کرخ“ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدین نصرانی تھے لیکن بچپن ہی سے آپ نصرانیت سے متنفر اور اسلام کی طرف مائل تھے۔ جب والدین نے ایک نصرانی معلم کے پاس تعلیم کے لیے بیٹھایا تو معلم نے پوچھا تمہارے گھر میں کتنے آدمی ہیں؟ انھوں نے جواب دیا میرے والدین اور میں کل تین نفر ہیں۔ معلم نے آپ کو پڑھانا شروع کیا ثالث ثلثہ۔ یعنی خدا تین ہے آپ نے کہا ہو اللہ احد وہ خدا تو ایک ہے۔ معلم نے اس جرات پر شدید زدو کوب کے زور سے ثالث ثلثہ پڑھانا چاہا ۔ مگر جوں جوں اس کا تشدد بڑھتا گیا ، ویسے ہی آپ کی جرات بڑھتی رہی۔ اور ہو اللہ احد فرماتے رہے۔ جب معلم کے دست تعدی سے نجات پائی سیدھے امام علی رضا بن حضرت موسی کاظم کی خدمت میں پہنچے اور آپ کے دست حق پرست پر اسلام قبول کیا اور بعد میں انھیں سے بیعت و خلافت حاصل کی ۔ ( تذکرۃ الاولیاء ص ۱۵۸ خزینہ جاص ۷۶ سفینۃ ص ۵۲)
والدین کا اسلام:
چونکہ آپ اپنے والدین کے اکلوتے فرزند تھے، انھیں آپ کی جدائی کا شدید قلق تھا، وہ کہا کرتے تھے” وہ جس دین پر بھی رہے ہمارے پاس آجائے “ جب آپ اپنے گھر گئے والدین آپ کے پاکیزہ اطوار سے متاثر ہو کر مشرف باسلام ہو گئے ۔ (ایضاً ۱۵۸)
تعلیم و تربیت:۔ حضرت معروف کرخی کی ظاہری و باطنی تعلیم وتربیت حضرت موسیٰ کاظم ، حضرت امام اعظم ابو حنیفہ اور حضرت داؤد طائی کی خدمت و صحبت میں ہوئی ۔ حبیب راعی سے بھی ارادت و عقیدت رکھتے تھے اور ان سے خرقۂ خلافت بھی پایا۔ اپنے وقت کی ان عظیم علمی و روحانی ہستیوں کی تعلیم و تربیت اور اپنی جدو جہد سےحضرت معروف کرخی نے شریعت و طریقت میں مقام بلند حاصل کر لیا تھا۔ اس طرح وہ امام طریقت اور مقتدائے حقیقت بن گئے تھے۔
غریب پروری :
آپ کو غریبوں ، یتیموں سے بڑا انس تھا۔ ان کی ضروریات پوری کرنا فرض تصور کرتے تھے۔ حضرت سری سقطی فرماتے ہیں:” میں نے عید کے دن آپ کو کھجوریں چنتے ہوئے دیکھا “تو پوچھا:” آپ کھجوریں کیوں چن رہے ہیں“؟ جواب دیا :”وہ سامنے والایتیم بچہ اس لیے اداس ہے کہ تمام بچے نئے لباس میں ملبوس ہیں اور میرے پاس کپڑے تک نہیں ،اس لیے میں کھجوریں چن کر فروخت کرنا چاہتا ہوں ۔ تاکہ اس کے لیے کپڑے فراہم کر سکوں“ ۔ میں نے عرض کیا :”یہ کام تو میں بھی کر سکتا ہوں ، آپ کیوں زحمت کرتے ہیں“۔ چنانچہ میں بچے کو ساتھ لایااور اسے نیا لباس پہنا کر رخصت کر دیا۔ اس یتیم نوازی کے صلہ میں جو نور مجھے عطا کیا گیا اس سے میری حالت ہی بدل گئی ۔ ( تذکرۃ الاولیاء ص ۱۵۸)
بڑھیا تائب ہو گئی :
ایک مرتبہ قرآن و مصلیٰ مسجد میں چھوڑ کر غسل کے لیے دریا پرتشریف لے گئے ایک بڑھیا مسجد میں آئی چونکہ وہاں کوئی موجود نہیں تھا اس لیے آپ کا قرآن اور مصلیٰ لے کر گھر کی راہ لی۔ حضرت معروف کرخی طہارت سے فارغ ہو کر واپس لوٹ رہے تھے،راستہ میں بڑھیا سے ملاقات ہوئی۔ قرآن و مصلیٰ اس کے پاس دیکھ کر گردن جھکائے ہوئے فرمایا کیا :”تمہارا کوئی بچہ قرآن پڑھتا ہے“؟ بڑھیا نے نفی میں جواب دیا۔ تو فرمایا :”میرا قرآن تو واپس کر دو البتہ مصلی میں نے تم کو ہبہ کر دیا“۔ جب بڑھیا نے علم و مروت کا یہ حال دیکھا تو سخت پشیماں ہوئی اور دونوں چیزیں آپ کو واپس کر دیں اور سچے دل سے تائب ہو کر پرہیز گار بن گئی ۔ (ایضاً ۱۵۸)
رندوں کی تو بہ : 
ایک دن آپ کچھ لوگوں کے ہمراہ کہیں تشریف لے جارہے تھے، راستہ میں عیش پرستوں کی ایک جماعت ملی جو رقص و سرود اور مے نوشی میں مصروف تھی۔ جب آپ کےسا تھیوں نے ان بدقماشوں کے حق میں دعا کرنے کی خواہش کی تو فرمایا:” خدا یا وہ جس طرح آج مسرور و مست ہیں آخرت میں بھی خوشی و مسرت عطا کر “۔ آپ کے ہمراہی اس دعا پر حیرت زدہ ہوئے اور عرض کی :”اس دعا کا راز کیا ہے! ہم نہیں سمجھ سکے “۔ جب ان رندوں کی نظر حضرت معروف کرخی پر پڑی تو فورا ہی چنگ و رباب توڑ دیے، جام و مینا پھینک دیے اور قدموں میں سر رکھ کر صدق دل سے تائب ہوئے ، اس کے بعد آپ نے لوگوں سے خطاب فرمایا :” جو شیرینی سے مرسکتا ہو اس کو زہر دینے سے کیا حاصل “۔( مرآۃ الاسرارص ۲۹۱)
خلق خدا پر کرم :
آپ کے ماموں شہر کے کوتوال تھے۔ انہوں نے آپ کو جنگل کے اندر اس حال میں دیکھا کہ ایک کتا آپ کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ ایک لقمہ کتے کو کھلاتے ہیں اور دوسر القمہ خود تناول فرماتے ہیں ۔ یہ کیفیت دیکھی تو ماموں نے کہا : ” تم کو حیا نہیں آتی کہ کتے کو اپنے پاس بیٹھا کر کھانا کھلا رہے ہو“؟ آپ نے فرمایا:” حیا کی وجہ سے ہی تو میں اس کو کھلا رہا ہوں ، یہ کہہ کر جب آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک پرندہ اپنی آنکھ اور چہرے کو چھپائے ہوئے آپ کے دست مبارک پر آبیٹھا“۔ پھر آپ نے ماموں جان سے فرمایا :” خدا سے حیا کرنے والوں سے ہر شے حیا کرتی ہے “۔ ( تذکرۃ الاولیا ء ص ۱۵۹ رخزینہ،ج۱ص۷۷)
ہر وقت با وضو مشغول بحق رہنا :
آپ ہر وقت بادضور ہتے ، حدث کے بعد وضو یا طہارت میں چند لمحوں کا توقف بھی گوارہ نہ کرتے ۔ ایک دن آپ دریائے دجلہ کے کنارے تشریف فرما تھے ، اتفاقاً وضو ٹوٹ گیا ۔ فوراً اس جگہ تمیم کیا ، اور وضو کے ارادے سے اٹھے ۔ حاضرین نے ادب کے ساتھ عرض کیا :جب کہ دریا کا پانی دس قدم کے فاصلے پر ہے تیمم کی کیا ضرورت پیش آئی “؟ فرمایا:” میں نے تیم اس لیے کر لیا کہ ایک لمحہ بھی نا پائیدار زندگی کی امید نہیں رکھتا ہوں ، ہو سکتا ہے کہ پانی تک پہنچنے سے پہلے ہی قضا آجائے اور میں بے وضو مر جاؤں“۔ ( خزینہ ج اص ۷۷ )
ہمہ وقت و ہمہ حال خدا کی یاد میں مشغول رہتے ،گردو پیش کیا ہو رہا ہے اس کی بھی خبر نہ ہوتی ۔ ایک دن ایک مہمان آیا ، ان کے مکان پر صحیح قبلہ رو معلوم نہ ہونے کی وجہ سے غلط سمت کی جانب منہ کر کے نماز ادا کر لی۔ نماز کے بعد جب اسے صحیح سمت قبلہ کا علم ہوا تو اس نے آپ سے عرض کیا کہ:” جب میں نے نیت باندھی تھی اس وقت آپ نے آگاہ کیوں نہیں کر دیا“ ؟ فرمایا :”فقراء کو دوسروں کے امور میں اس وقت مداخلت کی حاجت ہوتی ہے جب انہیں اپنے کاموں سے فرصت مل جائے “۔ ( تذکرۃ الاولیاء ص ۱۵۹) 
ڈاکو کی مغفرت :
ایک بار ایک ڈاکو گرفتار ہوا ۔ حاکم نے رہزنی کے جرم کی پاداش میں اسے سولی دینے کا حکم دیا تعمیل حکم میں اسے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا، اس نے دم توڑ دیا۔ لاش ابھی سولی ہی پر تھی کہ حضرت معروف کرخی اس طرف سے گزرے۔ یہ منظر دیکھ کر آپ نے ڈاکو کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہوئے فرمایا :” اے رحمن و رحیم! اس شخص نے اپنے جرم کی سزاد نیا ہی میں پالی، تو غفور رحیم ہے اگر اس کی خطا بخش دے اور دارین میں عزت بخش دے تو تیرے خزانہ کرم میں کمی نہیں ہو سکتی“ ۔ یکایک غیبی آواز آئی جسے پورے شہر نے سنا :”جو اس سولی والے شخص کی نماز جنازہ پڑھے گا وہ آخرت میں بڑے رتبے والاہوگا“ ۔ اس آواز کو سنتے ہی تمام شہر کے لوگ جمع ہو گئے اور اسے غسل و کفن دیگر نماز جنازہ ادا کی اور دفن کر دیا۔
رات میں ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہےاور وہ ڈاکو نمازیوں کے ساتھ وہاں شاندار لباس پہنے ہوئے موجود ہے۔ اس سے پوچھا کہ:” اتنی عظیم دولت تجھے کس طرح ملی“؟ اس نے جواب دیا کہ:” حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کی دعا اللہ رب العزت نے قبول فرمائی اور میری بخشش فرمادی“۔( تذکرہ مشائخ قادریہ ص ۱۷۹)
گرانقدر ارشادات :
 (۱) صوفی اس دنیا میں مہمان ہے،مہمان کا میزبان سے تقاضا کرنا اس پر زیادتی ہے۔ جو مہمان مؤدب ہوتا ہے وہ منتظر رہتا ہے تقاضا نہیں کرتا۔
(۲) اس بات سے ڈرو کہ خداوند تعالیٰ تم کو مسکینی کے لباس کے سوا کسی اور لباس میں نہ دیکھے۔
(۳) محبت لوگوں کے سکھانے اور تعلیم دینے سے نہیں آتی  بلکہ وہ تو خدا کا فضل اور اس کی دین ہے۔ اللہ کی جب تک عطانہ ہو انسان کے بس کا کام نہیں۔ (نفحات الانس ص ۸۷ )
(۴) نفس کی اتباع خدا کی گرفت ہےاور جو خدا کو یاد کرتا ہے وہ اس کا محبوب ہے اور وہ جس کومحبوب بنالے اس پر خیر کے دروازے کھول کر شر کے دروازے بند کر دیتا ہے۔
(۵) لغو باتیں گمراہی کی دلیل ہیںاور غافل نہ ہونا حقیقت وفا کی نشانی ہے۔
(۶) اعمال صالحہ کے بغیر جنت کی طلب اور اتباع سنت کے بغیر شفاعت کی امید اور نافرمانی کے بعد رحمت کی تمنا حماقت ہے۔
(۷) حقائق کو معتبر تصور کرتے ہوئے دقیق مسائل بیان کرنا اور مخلوق سے امید وابستہ نہ کرنا خالص تصوف ہے۔ لہذا مخلوق سے آس تو ڑ کر خالق سے طلب کرنا چاہئے۔
(۸) دنیا سے کنارہ کش رہنے والاحب الہی کے ذائقہ سے لذت حاصل کرتا ہے۔ لیکن یہ محبت بھی اس کے کرم سے نصیب ہوتی ہے۔
(۹) عارفین خود سرا پا دولت ہیں، انہیں کسی دولت کی ضرورت نہیں۔
(۱۰) خدا پر توکل کرنے والامخلوق کے ضرر سے محفوظ رہتا ہے۔
(۱۱) جوانمردی کی تین علامتیں ہیں 
(۱) وفاداری : جس پر بے وفائی کی پرچھائیں تک نہ پڑے 
(۲)ستائش :جو کسی کی جو دوسخا کے نتیجہ میں نہ ہو
(۳) داد و دہش : بغیر طلب ۔ (کشف المجوب ص۱۹۲ رسفینہ ص ۵۳)
(۱۲) جو بنیاد کبھی ویران نہ ہو وہ عدل ہے۔ تلخی جس کا آخر شیریں ہو صبر ہے۔ اور وہ شیریں جس کا آخر تلخ ہو وہ شہرت ہے۔ اور وہ بلا جس سے لوگوں کو بھا گنا چاہئے عیش ہے۔
(۱۳) رنج و مصیبت آئے تو اس کا علاج اسے چھپانے ہی میں ہے۔ (مشائخ قادریہ ص ۱۸۱)
(۱۴) خدا پر توکل کر،تا کہ خدا تیرے ساتھ ہو اور تیرا انیس ہو جائے۔ (مرأۃ الاسرارص ۲۹۱)
وفات :
آپ اپنے استاد و مرشد کے آستانے پر دربان تھے ۔ امام علی رضا بن موسیٰ کاظم نے لوگوں کو زیارت کی عام اجازت دیدی۔ خلق خدا کا اس قدر ہجوم ہوا کہ کھڑے کھڑے آپ سخت نڈھال ہو گئے ، وہیں گر پڑے جب وقت نزع آپہنچا ۔اپنے مرید و خلیفہ حضرت سری سقطی کو وصیت کی کہ میری موت سے پہلے ہی میرا پیراہن صرف میں دیدو۔ میں چاہتا ہوں کہ دنیا سے اس برہنگی کے عالم میں رخصت ہوں جس عالم میں دنیا میں آیا تھا۔
وفات کے بعد حضرت محمد ابن حسین نے خواب دیکھا اورپوچھا :”اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا “؟جواب میں فرمایا :”خدا نے میری مغفرت فرمائی“ ۔ پھر انھوں نے پوچھا:” کیا عبادت و ریاضت کی وجہ سے مغفرت ہوئی “۔ تو جواب دیا:” نہیں بلکہ میں نے ابن سماک کی اس نصیحت پر عمل کیا تھا کہ جو دنیا سے انقطاع کر کے اللہ کی طرف رجوع کر لیتا ہے اللہ تعالی بھی اس کی طرف رجوع فرماتا ہے“۔
حضرت سری سقطی نے فرمایا:” وفات کے بعد میں نے آپ کو خواب میں عرش الٰہی کے نیچے اس طرح دیکھا کہ آپ پر غشی طاری ہے اور پوچھا جا رہا ہے یہ کون ہے“؟ اس پر فرشتے کہہ رہے ہیں:” خدایا تو ہم سے زیادہ جانتا ہے“۔ پھر آواز آئی:” یہ معروف کرخی ہیں ، جس کو ہماری محبوبیت نے بے خود بنا دیا ہے اور اب ہمارے دیدار کے بغیر اس کو ہوش نہیں آسکتا“۔ (تذکرۃ الاولیاء ص ۱۶۰)
حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۲ محرم الحرام ۲۰۰ھ کو مامون رشید کے عہد خلافت میں ہوا ۔مزار مقدس بغداد میں زیارت گاہ خلائق ہے ۔ خطیب بغدادی کا بیان ہے ۔ قبر مجرب بقضا حوائج    یعنی حضرت معروف کرخی کا مزار حاجتیں پوری ہونے کے لیے مجرب ہے۔ ( تذکرہ مشائخ قادریہ ص ۱۸۱)
شجرہ بیعت و خلافت :
 حضرت معروف کرخی نے متعدد صلحائے روزگار سے فیض باطنی حاصل کیا۔ ان میں صرف دو سے خرقہ خلافت حاصل کیا:
(۱) امام علی رضا بن موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ سے ۔ ان کا سلسلہ ارادت یہ ہے:امام علی رضا ، امام موسی کاظم ، امام جعفر صادق، امام محمد باقر امام زین العابدین ، امام حسین ، امام حسن ، امیر المومنین حضرت علی ، سرور کونین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
نوٹ : امام جعفر صادق نے دوسری جانب اپنے نانا امام قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق سے خلافت پائی تھی۔ اس طرح حضرت معروف کرخی کا سلسلہ ارادت و بیعت سید نا ابو بکر صدیق سے بھی ملتا ہے۔( قصر عارفاں ص ۷۵ )
خلفاء : 
(۱) حضرت شیخ سری سقطی (۲) حضرت شاہ محمد (۳) حضرت شاہ قاسم بغدادی (۴)حضرت عثمان مغربی (۵) حضرت حمزہ خراسانی (۶) حضرت ابونصر ابرار (۷) حضرت شاہ مستعانی (۸)حضرت شاہ ابوسعید (۹) حضرت ابو ابراہیم داوودی (۱۰) حضرت ابو الحسن ہارونی (۱۱) حضرت شاہ جعفر خلیدی (۱۲) حضرت شاہ محمد رومی (۱۳) حضرت شاہ منصور عارف ابو کاتب (۱۴) حضرت شاہ ابو الحق حقائق آگاہ(۱۵) حضرت شاہ علی رودباری رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔ ( تذکرہ مشائخ قادریہ ص ۱۸۰) 
آپ کے خلفائے عظام نے سلسلہ کرخیہ کی اشاعت کی۔

حیات و خدمات

Menu