علامہ  مفتی ابو داؤد محمدصادق قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ


حضرت نباض قوم جمادی الاخریٰ ۱۳۴۸ھ/دسمبر ۱۹۲۹ء میں محلّہ رنگپورہ (نزد جامع مسجد صدیقی) سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ وطن اصلی کوٹلی لوہاراں مشرقی ضلع سیالکوٹ ہے۔کوٹلی لوہاراں ہی میں ابتدائی تعلیم ناظرہ قرآن پاک اور اسکول کی ابتدائی چند جماعتوں تک ہوئی۔آپکے والد بزرگوار شاہ محمد مرحوم کا ملازمت کے دوران ۱۹۴۵ء میں بریلی شریف تبادلہ ہوا تو مولانا موصوف بھی اپنے والدین مرحومین کے ساتھ بریلی شریف پہنچ گئے اور وہاں دوران قیام اعلیٰ حضرت ﷫ کے مزار سےمتصل جامعہ رضویہ منظر اسلام کے شعبہ حفظ میں داخل ہوگئے اور حافظ محمد یوسف علی صاحب ﷫سے چند پارے حفظ کیے۔

کچھ عرصہ بعد سیالکوٹ واپسی ہوئی تو دو تین جگہ کسی کسب و ہنر کیلئے داخل کرایا گیا مگر خوش قسمتی سے بریلی شریف میں جودینی ماحول میسر آیا،دل میں وہی لگن تازہ رہی اور بالآخر باقاعدہ تعلیم کے حصول کیلئے کوٹلی لوہاراں مغربی ضلع سیالکوٹ میں سلطان الواعظین مولانا محمد بشیر صاحب﷫ (مدیر ماہنامہ طیبہ) کے والد ماجد ،خلیفۂ اعلیٰ حضرت، فقیہہ اعظم مولانا محمد شریف صاحب محدث کوٹلوی(رحمۃ اللہ علیہم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

حضرت فقیہہ اعظم نے صَرف کے ابتدائی چند اسباق پڑھا کر رجب المرجب ۱۳۶۴ھ میں بنفس نفیس مولانا ابو داؤد محمد صادق کو ساتھ لے کر حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب کے آستانہ عالیہ پر حاضر ہو کر مدرسہ نقشبند یہ میں داخل کرادیا۔ وہاں مولانا ابو داؤد نے حضرت علامہ آل حسن سنبھلی صاحب ﷫سے ابدائی اسباق اور حضرت علامہ محمد عبد الرشید جھنگوی (فاضل جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف) سے عربی، فاررسی کی چھوٹی بڑی کتابیں پڑھیں۔

محدث اعظم پاکستان نے شوال المکرّم ۱۳۶۸ھ/اگست ۱۹۴۹ میں مستقل طور پر لائل پور (فیصل آباد)تشریف لانے کےبعد ’’جامعہ رضویہ مظہرالاسلام ‘‘قائم فرمایا تو ابتدائی دنوں میں ہی مولانا ابو داؤد محمد صادق نے بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دورہ حدیث شریف میں داخلہ لیا اورشعبان المعظم ۱۳۶۹ ھ/۲ جون ۱۹۵۰ ءمیں پہلے سالانہ جلسہ دستار فضیلت میں دستاروسند سےمشرف ہوئے۔ دستار فضیلت کے بعد حضرت محدث اعظم﷫ کے حکم سے لائل پور ہی میں ایک مسجد میں امامت، ایک میں خطابت اور جامعہ رضویہ میں شوال المکرّم ۱۳۶۹ ھ میں تدریس کی خدمت سپرد ہوئی پھر ایک سال بعد حضرت محدث اعظم پاکستان کے حکم پر ۲۹ ذیقعد ۱۳۷۰ ھ/یکم ستمبر ۱۹۵۱ء گوجرانوالہ تشریف لے گئےاور مرکزی جامع مسجدزینت المساجد گوجرانوالہ میں خدمات سر انجام دینے لگے۔دینِ مصطفیٰ ﷺ کی خدمات کے فرائض سنبھالے ہوئے ہجری کےلحاظ سےآپکو ۶۶ سال اور عیسوی کےلحاظ سے ۶۴سال مکمل ہو ئے آپ کی آمد سے قبل گوجرانوالہ شہر دیوبندت ووہابیت کا مرکز تھا لیکن الحمد للہ آپکی محنت اور خلوص کی بدولت اب یہ شہر اہل حق اہل سنت کا مرکز بن گیا اور ہر طرف سے یا رسول اللہ ﷺ کی صدائیں آنے لگیں ۔

جب حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی سے آپکی ملاقات ہوئی تو انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئےفرمایا!مولانا!’’آپ نے تو گوجرانوالہ میں اسلام کا چرچا فرما دیا ہے ارر ماشا ء اللہ خوب کام کیا ہے‘‘ اور پھر آپ ﷫نے آپکو اپنی دعاؤں سے نوازا۔

1) گوجرانوالہ شہر میں اہلسنت کی سب سے پہلی دینی درسگاہ ’’جامعہ سراج العلوم ‘‘ کا قیام جہاں سے کثیر تعداد میں حفاظ،قراء،اور جیدعلماء کرام (جن میں شہید ناموسِ مصطفیٰﷺ علامہ اکرم رضوی شہید﷫ بھی شامل ہیں) پڑھ کر پوری دنیا میں دینِ متین کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔

2) اہلسنت کامحبوب ترین مجلّہ ’’ماہنامہ رضائے مصطفیٰ ‘‘جو پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ’’فکر رضا‘‘ کا امین اور اہلسنت کا ترجمان ہے ۔اس سے بڑھ کر اور کیا بڑی سعادت ہوسکتی ہے کہ رضائے مصطفیٰ کے قارئین میں حضور قطبِ مدینہ سیدی ضیاء الدین مدنی ،اور مفتی اعظم ہند،اور حجۃ الاسلام، جیسی عظیم شخصیات شامل رہیں ہیں۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی وقارالدین  نے ’’وقار الفتاویٰ‘‘ میں تو یہاں تک لکھ دیا کہ ’’مولانا ابو داؤد محمد صادق رضوی اپنے رسالہ ماہنامہ رضائے مصطفیٰ میں جو کچھ لکھ رہے ہیں وہ سب درست ہے۔‘‘(وقار الفتاویٰ،ج1،ص،۳۳۶)

3) تمام موضوعات پر کتب و رسائل کی تصنیفات ۔

4) سینکڑوں کی تعداد میں اہم موضوعات پر پوسٹرز،اشتہارات،اور مضامین کی تألیف واشاعت ۔

5) انجمن رضائے مصطفیٰﷺ کا قیام جس سے منتشر عوامِ اہل سنت ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہوکر ایک قوت بن گئے۔

6) پوری دنیا میں بد مذہبوں،نام نہاد اسکالروں،اور جعلی مولویوں اور پیروں،کا علمی تعاقب۔

7) تحریکِ پاکستان ،تحریک ختمِ نبوت اور تحریک نظامِ مصطفیٰ ﷺ میں بھر پور حصہ لیا اورکئی بار قید و بند کی صعوبتیں براشت کیں۔

یہ قصۂ لطیف ابھی نا تمام ہے
جو کچھ بیاں ہواوہ تمہید بیان ہے

وصالِ پر ملال:

۱۸۔ذوالحجہ ۱۴۳۶ھ بمطابق۳۔اکتوبر۲۰۱۵ بروز ہفتہ انتقال فرمایا اور نمازجنازہ۴۔اکتوبر بروز اتوار سہ پہر ۳بجے ادا کی گئی نماز جنازہ جناح اسٹیڈیم گوجرانوالہ میں مشہور عالِم ِدین مفتی غلام عباس رضوی نے پڑھائی۔ نمازجنازہ میں تقریباًً ۱۔لاکھ افراد نے شرکت فرمائی اور گوجرانوالہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

Menu