رئیس المتکلمین حضرت علامہ نقی علی خاں قادری برکاتی بریلوی علیہ الرحمہ


انیسویں صدی کا ابتدائی دور ہندوستانيوں اور خصوصاً مسلمانوں کے لیے انتہائی پُرآشوب دَور تھا، مسلمانوں میں نئی نئی تحریکیں جنم لے رہی تھیں، جو مسلمانوں کوکافر ومشرک اور بدعتی بنانے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔ مسلمان زبردست کشمکش کا شکار تھے، ایک طرف پوری ملتِ اسلامیہ مذہبی خانہ جنگی کا شکار تھی، کفر وشرک وبدعت کے شور وغوغا سے پورا مذہبی ماحول گرد آلود تھا، دوسری جانب انگریز، مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرکے اپنے اقتدار کے مواقع بڑھارہے تھے، یہ ماحول مسلمانوں کے لیے انتہائی کس مپُرسی کا تھا، مسلمانوں کے ناموَر علماء اور دانشوروں میں سے بیشتر جہادِ آزادی میں کام آگئے تھے، اور جو باقی تھے وہ اس مذہبی اور سیاسی بحران سے ملتِ اسلامیہ کو بچانے میں مصروف ہوگئے۔

اس مسلم مخالف طوفان کو روکنے کے لیے ایک ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جسے علومِ نقلیہ وعقلیہ دونوں میں پوری دست گاہ حاصل ہو، اور تمام علوم وفنون میں ممتاز مقام رکھتا ہو، جو ایک جانب توحید کی شمع روشن کرے، تو دوسری جانب فخرِ کون ومکاںﷺ کی محبت ووارَفتگی کا پرچم لہرائے، اور نئی نئی مسلم کش تحریکوں کا منہ توڑ جواب دے سکے۔

انیسویں صدی کی تیسری دہائی کے آخری سال میں ایک ایسی ہی گراں مایہ اور عبقری شخصیت نے اس دنیا ئےآب و گِل میں قدم رکھا جسے عالمِ اسلام رئیس المتکلمین مولانا مفتی نقی علی خاں کے نام سے جانتا ہےامام العلماء مولانا رضا علی خاں صاحب کے فرزند مولانا نقی علی خان ﷫کی ولادت جُمادی لآخره كے آخری دن یا رجب كی چاند رات ۱۲۴۶ھ مطابق ۱۸۳۰ء کوبریلی کے محلہ ذخیرہ میں ہوئی۔ آپ نے جملہ علوم وفنون کی تعلیم اپنے والدِ ماجد امام العلماء مولانا رضا علی خاں سے حاصل کی، آپ ایّامِ طُفولت سے ہی پرہیزگار اور متّقی تھے؛ کیوں کہ آپ امام العلماء مولانا رضا علی خاں ﷫کے زیرِ تربیت رہے، جو ناموَر عالم اور عارف باللہ بزرگ تھے، جن کی پرہیز گاری کا جَوہر مولانا نقی علی خاں کو ورَثہ میں ملا تھا، اور پھر بفضلِ الہی میلانِ طبع بھی نیکی کی طر ف تھا، مولانا نقی علی خاں علم وعمل کے بحرِ ذخّار تھے، آپ کی ذات مرجعِ خلائق وعلماء تھی، آپ کی آراء واقوال کو علمائے عصر ترجیح دیتے تھے، کثیر علوم میں تصنیفات مطبوعہ وغیر مطبوعہ آپ کے علم وفضل کی شاہد ہیں۔

مولانا نقی علی خاں ﷫کا مطالعہ انتہائی وسیع تھا، آپ کے تبحّر ِعلمی کااعتراف آپ کے ہم عصرعلماء نے بھی کیا، آپ عالمِ اسلام کی اُن مقدّس ترین شخصیتوں میں سے ہیں جنہوں نے تاحیات علم وعرفان کے دریا بہائے۔ آپ نے زبان وقلم کے ذریعہ اِشاعتِ دین اورناموسِ رسالت کے لیے جہادِ پیہم کیا۔ آپ کے علم وفضل کی شہادت کے لیے آپ کی تصانیف شاہدعادل ہیں۔ عوام وخواص کی رُشد وہدایت کے لیے آپ کے چند جملے لمبی لمبی تقریروں اور کئی کئی صفحات پر بھاری ہوتے تھے۔

ایک بار امام احمد رضا فاضلِ بریلوی نے نہایت پیچیدہ مسئلہ کا حکم بڑی کوشش وجانفشانی سے لکھا، اور اُس کی تائید مع تنقیح آٹھ اَوراق میں جمع کیں، جب امام احمد رضاخان نے اپنا لکھا ہوا فتویٰ مولانا نقی علی خاں ﷫کے سامنے پیش کیا تو مولانا نے کوئی ایسا جملہ بتایا جس سے یہ سب ورق رَد ہوگئے، اس طرح کے جملوں کا اثر خود اعلیٰ حضرت مجدّد امام احمد رضا ﷫ کے الفاظ میں: “وہی جملے اب تک دل میں پڑے ہوئے ہیں اور قلب میں اب تک اُن کا اثرباقی ہے”(الملفوظ” حصّہ اوّل، ص۷۴)

مولانا نقی علی خاں کے علم وفضل، اُن کے تبحِّرعلمی اور جامعیت کا اندازہ امام احمد رضا کی اس ہدایت سے لگایا جاسکتا ہے جو آپ نے اپنے شاگرد مولانا احمد اشرف کچھوچھوی کو کی تھی، امام احمد رضا بیان فرماتے ہیں: “ردِّ وہابیہ اور اِفتاء یہ دونوں ایسے فن ہیں کہ طب کی طرح یہ بھی صرف پڑھنے سے نہیں آتے، ان میں بھی طبیبِ حاذق کے مطب میں بیٹھنے کی ضرورت ہے میں بھی ایک حاذِق طبیب (مولانا نقی علی خاں) کے مطب میں سات7 برس بیٹھا”(الملفوظ” حصّہ اوّل، ص۷۴)

اس طرح مولانا نقی علی خاں ﷫ علم وعرفان کا مخزن، اوررشد وہدایت کا شاہکار نظر آتے ہیں، قلمی طور پر آپ نے دینِ مبین کے لیے جو کارنامے انجام دئیے وہ رہتی دنیا تک آپ کے علم وفضل کی شہادت دیتے رہیں گے۔

اولاد :

حضرت علاّمہ نقی علی صاحب ﷫ کی اولاد میں تین3 صاحبزادے اور تین3 صاحبزادیاں ہیں، صاحبزادگان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

۱) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان

۲) استاذِ زمن حضرت مولانا حسن رضا خان

۳) حضرت مولانا محمد رضا خان

مشہورتلامذہ :

حضرت مولانا نقی علی صاحب کے مندرجہ ذیل تلامذہ مشہورِ زمانہ ہوئے:
۱) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا ۲) استاذِ زمن مولانا حسن رضا

۳) مولانا برکات احمد ۴) مولانا ہدایت رسول لکھنوی

۵) مفتی حافظ بخش آنولوی ۶) مولانا حشمت اللہ خاں

۷) مولانا سیّد امیر احمد بریلوی ۸) مولانا حکیم عبدالصمد

بیعت و خلافت:

حضرت مولانا نقی علی صاحب ﷫ اپنے صاحبزادے امام احمد رضافاضل بریلوی اور مولانا عبد القادر بَدایُونی صاحب کے ہمراہ ۵ جُمادی الآخره ۱۲۹۴ھ کو خانقاہِ برکاتیہ مارَہرَہ شریف حاضر ہوئے، اور حضرت شاہ آلِ رسول قادری برکاتی مارَہرَوی رحمہ اللہ تعالی سے شرفِ بیعت حاصل کیا، امام احمد رضا خاں بھی حضرت شاہ آلِ رسول کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اسی مجلس میں شاہ صاحب نے دونوں افراد کو خلافت وجملہ اجازات سے سرفراز فرمایا۔

اجازت وسندِ حدیث :

حضرت مولانا نقی علی صاحب کو سندِ حدیث مندرجہ ذَیل چار سلسلوں سے حاصل تھی:

۱) حضرت شاہ آلِ رسول مارَہرَوی سے، اور وہ اپنے جلیل القدر مشايخ سے بیان کرتے ہیں، جن میں شاہ عبدالعزیز محدّثِ دہلوی بھی ہیں، اوروہ اپنے والد شاہ ولی اللہ محدّثِ دہلوی سے جو کثیرُ العلم اور قویُ الفہم محدِّث ہیں۔

۲) اپنے والد امام العلماء مولانا محمد رضا علی خاں صاحب سے، وہ مولانا خلیل الرحمن محمود آبادی سے، وہ فاضل محمد سندَیلوی سے، اوروہ ابو العیاش محمد عبد العلی سے۔

۳) حضرت سیّد احمد زَینی دَحلان مکّی سے، اور وہ شیخ عثمان دمیاطی سے۔

۴) مولانا نقی علی صاحب کو حضرت شیخِ محقق مولانا عبد الحق دہلوی کی طرف سے بھی حدیثِ مسلسل بالاوّلیت کی سند حاصل تھی۔

معمولاتِ دینی ودنیاوی

کتب بینی:

حضرت علاّمہ نقی علی صاحب ﷫ کو کتب بینی کا بہت شوق تھا، آپ کا بیشتر وقت دینی کتابوں کے مطالعہ میں گزرتا تھا، آپ کے مطالعہ کا طریقہ یہ تھا کہ جس کتاب کو پڑھتے، اوّل تا آخر پڑھتے، درمیان میں نہیں چھوڑتے تھے۔ آپ کے وسعتِ مطالعہ کا اندازہ آپ کی تصنیفات سے لگایا جا سکتا ہے، مثلاً آپ نے “الکلام الأوضَح في تفسیر سوره ألَم نشرح” میں ستاسی87 سے زیادہ کتابوں کے حوالے دیئے ہیں، جس سے آپ کی علمی ودینی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔

فتویٰ نویسی:

تیرهویں صدی ہجری میں حضرت علاّمہ نقی علی صاحب ﷫ کے والدِ ماجد امام العلماء حضرت مولانا رضا علی خاں صاحب ﷫ نے ۱۲۴۶ھ مطابق۱۸۳۱ء میں سر زمینِ بریلی پر مسندِ اِفتاء کی بنیاد رکھی، اور چونتیس34 سال تک فتویٰ نویسی کا کام بحسن وخوبی انجام دیا، امام العلماء نے اپنے فرزندِ سعید حضرت علاّمہ نقی علی صاحب کو خصوصی تعلیم دے کر مسندِ اِفتاء پر فائز کیا،

مولانا نقی علی خاں نے مَسندِ اِفتاء پر رَونق افروز ہونے کے بعد سے ۱۲۹۷ھ تک نہ صرف فتویٰ نویسی کا گراں قدر فريضہ انجام دیا، بلکہ مُعاصر علماء وفقہاء سے اپنی علمی بصیرت کا لوہا منوالیا۔

حضرت رئیس المتکلمین نے طویل عرصہ تک ملک وبیرونِ ملک سے آنے والے سوالات کے جوابات انتہائی فقیہانہ بصیرت کے ساتھ فی سبیل اللہ تحریر کیے، مولانا کے فتاویٰ کا مجموعہ تیار نہ ہوسکا، اس لیے اُن کی فتویٰ نویسی پر سیر حاصل گفتگو نہیں کی جاسکتی، لیکن مختلف علوم و فنون پر آپ کی مطبوعہ وغیر طبوعہ تصانیف آپ کے علم وفضل کی شاہد ہیں۔ آپ کے اقوال وآراء کو علمائے عصر سند تسلیم کرتے تھے، اور اپنے فتاویٰ پر مولانا نقی علی خاں ﷛ کی تصدیق لازمی وضروری سمجھتے تھے، آپ کے پاس عام طور پر فتاوے تصدیقات کے لیے آتے تھے، آپ انتہائی احتیاط سے کام لیتے، اگر جوابات صحیح ہوتے، دستخط کرکے مہر ثبت کردیتے، اور اگر جواب غلط ہوتے تو علیحدہ کاغذ پر جواب لکھ دیتے، کسی کی تحریر سے تعرّض نہیں کرتے تھے، اس بارے میں مفتی حافظ بخش آنولوی لکھتے ہیں:

“مَولوی صاحب ممدوح (مولانا نقی علی خاں) کو کسی کی تکفیر مشتہر کرنے سے کیاغرض تھی نہ ان کی یہ عادت، مسائل جو مہر کے واسطے آتے ہیں اگر صحیح ہوتے ہیں مہر ثبت فرماتےہیں، اور جو خلافِ کتاب ہوتے ہیں، جواب علیحدہ سے لکھ دیتے ہیں، کسی کی تحریر سے تعرّض نہیں کرتے”(تنبيہ الجہّال بالہام الباسط المتعال،ص۲۳)

تصنیف و تالیف:

حضرت علاّمہ نقی علی صاحب ﷫ کو کتب بینی، فتویٰ نویسی، درس وتدریس، عبادت وریاضت، خدماتِ دینی وملی کے علاوہ تصنیف وتالیف سے بھی بہت شغف تھا، تصنیف وتالیف کے میدان میں بھی آپ اپنے دَور میں نادر روزگار تھے، اورجامعیّتِ علوم میں ہم عصر علماءپر فَوقیت رکھتے تھے، آپ کو متعدد علوم پر دسترس حاصل تھی، آپ نے اردو زبان کو اپنی گراں قدر تصانیف سے مالا مال کیا، آپ نے مختلف علوم وفنون اور موضوعات پر کتابیں لکھیں، خاص طَور پر سیرتِ نبوی، اصلاحِ مُعاشرہ، تعلیم و تعلّم، علمِ مُعاشرت، تصوّف وغیرہ موضوعات ومسائل پر نہایت جامع اور بلند پایہ تصانیف قلم بند کی ہیں۔

آپ کے خَلفِ اکبر امام احمد رضا ﷫ نے چھبیس26 کتابوں کا ذکرفرمایا ہے، اور باقی کتابوں کے مُسوّدات ملے ہیں، جن کے اوّل وآخر یا وسط سے اَوراق غائب ہیں، اس طرح سے ایک اندازہ کے مطابق آپ نے چالیس40 کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔

آپ کی بیش بہا تصانیف اور دینی تحقیقات آپ کی حیات میں طبع نہ ہوسکیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالی نے آپ کو علم وفضل کی دَولت کے ساتھ اِستغناء کی دَولت سے بھی مالامال فرمایا تھا، جس وقت کچھ علماء اپنے علم کو جنسِ تجارت بناکر برطانوی حکّام سے نذرانے وصول کرکے، اور دَولت مندوں سے چندہ لے کر اپنے عقائد ونظریات کی ترویج واِشاعت کررہے تھے، اُس وقت مولانا نقی علی خاں ﷛ کی غیرتِ دینی کا یہ عالم تھا کہ آپ نے اپنے ہم مسلک اور معتقدین رؤسا کے پاس جانا بھی منظور نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ آپ کی مذہبی تصانیف اور دینی تحقیقات آپ کی حیات میں زیورِ طبع سے آراستہ نہ ہوسکیں۔

درس وتدریس :

حضرت علاّمہ نقی علی صاحب ﷫ ایک بلند پایہ عالم اور اپنے وقت کے بے مثال فقیہ تھے، آپ نے درس کی طرف خصوصی توجہ فرمائی، آپ کی شخصیت من حیث التدریس مشہور تھی، طلبا دُور دُور سے آپ کے پاس اکتسابِ علم کے لیے آتے، آپ بہت ذَوق وشَوق کے ساتھ طلبا کو تعلیم فرماتے، حضرت علّامہ قوم کی فلاح وبہبود کے لیے دینی تعلیم کو لازمی قرار دیتے، حضرت علاّمہ کومسلمانوں کی علمِ دین کی جانب سے لاپرواہی پر بہت تشویش تھی، چنانچہ آپ نے دینی تعلیم کے فروغ کے لیے بریلی میں “مدرسۂ اَہلِ سنّت” قائم فرمایا۔

مدرسۂ اَہلِ سنّت کا قیام:

حضرت علاّمہ نقی علی صاحب ﷫کے عہد تک بریلی میں مختلف علمائے کرام اِنفرادی طَور پر دینی ومذہبی تعلیم دیتے رہے، جن میں مولانا ہدایت علی فاروقی اور مولانا یعقوب علی کے نام قا بل ذکر ہیں، مولانا ہدایت علی بریلوی، بریلی کے محلّہ قردلان کےساکن تھے، اور علاّمہ فضلِ حق خیر آبادی ﷫ کے شاگرد تھے، آپ نے “مدرسۂ شریعت” کے نام سے بریلی میں ایک مدرسہ قائم کیا، جس میں آپ دینی تعلیم دیتے تھے، اکبر حسین کمبوہ کی بیوی نے بھی ایک مدرسہ قائم کیا تھا، وہ تنہا اس مدرسہ کے مصارف برداشت کرتی تھیں، بریلی میں یہ پہلا دینی مدرسہ تھا، مدرسہ میں شہر کہنہ کے رئیس مولانا یعقوب علی نے بھی کچھ عرصہ تک درس وتدریس کے فرائض انجام دیئے۔

ان مدارس کے باوجو د بریلی میں کوئی اَیسا مدرسہ نہ تھا جو باقاعدہ تعلیم دے سکتا، اس لیے حضرت علاّمہ نقی علی صاحب ﷫ نے کوٹھی رحیم داد خاں واقع محلہ گلاب نگر، بریلی میں “مدرسۂ اَہلِ سنّت” کے نام سے ایک دینی مدرسہ قائم کیا۔ تلاش و جستجو کے باوجود مدرسہ کے قیام کی سن وتاریخ کا کوئی دستاویز ی ثبوت حاصل نہیں ہوسکا، مدرسہ کے مصارف عوام کی مددو تعاوُن سے پورے ہوتے تھے۔

حضرت رئیس المتکلمین ﷫ درس وتدریس سے خاص شغف رکھتے تھے، مسلمانوں کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے، آپ علمِ معقول ومنقول پر پوری دسترس رکھتے تھے، مولانا کے شغف اور علم وفضل کے کمال کا اعتراف کرتے ہوئے مولانا کے ہم عصر اور دوست نوّاب نیاز احمد خاں ہوؔش لکھتے ہیں:

“مَولوی صاحب سلّمہ تعالی (مولانا نقی علی خاں) کا گلِ اسلام تازہ رنگ لایا، یعنی اکثر اشخاص کو تعلیمِ علم کا شَوق دلاتے ہیں، اپنا وقت دینیات کے پڑھانے میں بہت صرف فرماتے ہیں، ہنگامِ کلام کا دریا بہ جاتا ہے، العالم إذا تکلّم فهو البحرُ وتموّج (عالم جب گفتگو کرتا ہے تو علم کے سمندر میں غَوطہ لگاتا ہے) کا مضمون انہیں کی ذاتِ مجمع حسَنات پر صادق آتا ہے۔ کسی علم میں عار نہیں، ہر علم میں دخل معقول ہونا بجز عنایتِ باری نہیں، اور خیر میں اپنی اوقاتِ عزیز صرف کرنے میں دشواری نہیں، مسائلِ مشکلہ معقول نے ان کے سامنے مرتبہ حضوری پایا، منقول میں بدوں حوالہ آیت اور حدیث کلام نہ کرنا ان کا قاعدہ کلی نظر آیا۔ ان کے حضور اکثر منطقی اپنے اپنے قیاس وشعور کے مطابق صغرائے ثنا اور کبرائے مدح شکل بدیہیُ الاِتّباع بنا کر دعویٰ توصیف کو ثابت کر دکھاتے ہیں، آخر الامر نتیجہ نکالتے وقت یہ شعر زبان پر لاتے ہیں:

کیا عجب مدرسہ علم میں اس عالم کے

شمس آ کر سبق شمسیہ پڑھتا ہو اگر (ہوؔش)

(سرور القلوب بذکر المحبوب” تقریظ برعایتِ گلزار، ص۴)

عبادت و ریاضت:

حضرت علاّمہ نقی علی صاحب ﷫زبردست عالم، مفتئ وقت، فقیہِ عصر، پابندِ شرع اور عابدِ شب بیدار تھے، ہر وقت باوضو رہتے، نمازِ باجماعت کے پابند تھے، اور قلب درود شریف کا ذاکر رہتا۔ روزے پابندی سے رکھتے تھے، آپ کی زندگی کا ہر شعبہ اِتّباعِ سنّت کے انوار سے منوّر تھا، طبیعت ناساز ہوتی تب بھی نماز باجماعت مسجد ہی میں ادا فرماتے، فرض روزوں کے علاوہ اکثرنفل روزے بھی رکھتے۔ تصنیفی، تبلیغی اور علمی مصروفیات کے باوجود آپ نہ صرف فرائض وواجبات، بلکہ نوافلِ مستحبہ، اوراد ووظائف، اور ارشادِ شعبہ جات عبادت کو محيط تھے۔

اَخلاق و عادات:

حضرت علاّمہ نقی علی صاحب ﷫ کے اخلاق وعادات بہت عمدہ تھے، پوری زندگی عشقِ رسول ﷺ اور اتّباعِ سنّت میں گزری، اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا، دوسروں کو بھی یہی تلقین کرتے تھے، سلام کرنے میں ہمیشہ سبقت کرتے، قبلہ کی طرف کبھی پاؤں نہ کرتے، اور نہ کبھی قبلہ کی طرف تھوکتے تھے۔ غربا ومساکین اور طلبہ کے ساتھ انتہائی شفقت کے ساتھ پیش آتے، اور اکثر اُن کی مالی مدد بھی کرتے۔ علماء وطلباء کا بہت احترام کرتے تھے، اِن کے آنے پر بہت خوش ہوتے۔ انتہائی خوش مزاج اور بااَخلاق تھے، غرور وتکبر نام کو نہ تھا، خدام اور ملازمین سے بہت خوش اخلاقی سے پیش آتے، خدا کی رضا کے لیے خدمتِ دین آپ کا مشغلہ تھا، کسی غرض یا ذاتی مفاد کا معمولی شائبہ بھی نہ تھا۔

عشقِ رسول ﷺ:

عشقِ رسول ﷺ ہی عشقِ الہی کا ذریعہ ہے، عشقِ رسول کے بغیر بندہ عشقِ الہی سے محروم رہتا ہے، عاشقِ رسول کا سینہ جتنا عشقِ رسول سے معمور رہتا ہے، اتنا ہی عبادات وطاعت میں حلاوت محسوس ہوتی ہے۔ حضرت علاّمہ نقی علی صاحب ﷬ کو تاجدارِ کائنات ﷺسے سچا عشق تھا، مولانا کے ہر قول وفعل سے عشقِ رسول کی جھلک نمایاں تھی، آپ حضور نبی کریم ﷺکے زبردست گرویدہ اور اُن کے عشق میں وارفتہ تھے، سفر میں ہوں یا حضر میں، گھر ہوں یا عوام کے عظیم اجتماع میں، ہر جگہ سنّتِ رسول کی اتّباع کی ترغیب وتلقین میں مصروف ومشغو ل رہے۔ کبھی غیر ضروری گفتگو نہیں فرمائی، آپ تمام عمر پورے عالم کو اتّباعِ نبوی ﷺ میں ڈھالنے کی کوشش کرتے رہے۔ عوام ہوں یا علماء، حاجتمند ہوں یا سرمایہ دار، دانشور ہوں یا کم عقل، سب کے سامنے آپ کی گفتگو کا موضوع حضور نبئ کریم ﷺ کا عشق ومحبت ہوتا، اور اتّباع کی تلقین ہوتی۔

ایک بار مولانا نقی علی خاں بیمار ہوگئے جس کی وجہ سے کافی نقاہت ہوگئی۔ محبوبِ ربّ العالمین ﷺ نے فدائی کے جذبۂ محبت کی لاج رکھی اور خواب ہی میں ایک پیالے میں دوا عنایت فرمائی جس کے پینے سے اِفاقہ ہوا اور وہ جلد ہی رُو بصحت ہوگئے۔

مجاہد ِجنگ ِآزادی:

حضرت علاّمہ نقی علی صاحب ﷫ کوملک میں انگریز اقتدار سے شدید نفرت تھی، آپ نے تاحیات انگریزوں کی سخت مخالفت کی، اور انگریزی اقتدار کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے، وطنِ عزیز کو انگریزوں کے جبر واستبداد سے آزاد کرانے کے لیے آپ نے زبردست قلمی ولسانی جہادی خدمات انجام دیں، اس بارے میں چندہ شاہ حسینی لکھتے ہیں: “مولانا رضا علی خاں ﷫ انگریزوں کے خلاف لسانی وقلمی جہاد میں مشہورہوچکےتھے، انگریز مولانا کی علمی وجاہت ودبدبہ سے بہت گھبراتا تھا، آپ کے صاحبزادے مولانا نقی علی خاں ﷫ بھی انگریزوں کے خلاف جہاد میں مصروف تھے، مولانا نقی علی خاں کا ہند کے علماء میں بہت اونچا مقام تھا، انگریزوں کے خلاف آپ کی عظیم قربانیاں ہیں”۔

ملک سے انگریزوں کو نکال باہر کرنے کے لیے ہندکے علما نے ایک جہاد کمیٹی بنائی، انگریزوں کے خلاف عملاً جہاد کا آغاز کرنے کے لیے جہاد کمیٹی نے جہاد کا فتویٰ صادر کیا، اس جہاد کمیٹی میں امام العلماء مولانا رضا علی خاں، علامہ فضلِ حق خیر آبادی، مفتی عنایت احمد کاکوروی، مولانا نقی علی خاں بریلوی، مولانا شاہ احمد اللہ شاہ، مولانا سیّد احمد مشہدی بدایُونی ثمّ بریلوی، جنرل بخت خاں وغیرہا کے اسمائے گرامی خاص طَور پر قابل ِذکر ہیں۔

مولانا نقی علی خاں انگریزوں کے خلاف جہاد کرنے کے لیے مجاہدین کو مناسب مقامات پر گھوڑے پہنچاتے تھے، آپ نے اپنی انگریز مخالف تقاریر سے مسلمانوں میں جہاد کا جوش وولولہ پیدا کیا، بریلی کا جہاد کامیاب ہوا، انگریزوں کو مسلمانوں نے شکست دی، اور بریلی چھوڑنے پر مجبور کردیا۔

شہیدِ محبت کا سفرِ آخرت:

حضرت علاّمہ نقی علی صاحب ﷫ کا خونی اِسہال کے عارضہ میں ذیقعدہ ۱۲۹۷ھ مطابق ۱۸۸۰ء کو وصال ہوا، علماء نے اس کو شہادت سے تعبیر کیا، آپ کے والد ماجد امام العلماء مولانا رضا علی خاں کے پہلو میں محوِ استراحت ہوئے۔ امام احمد رضاخاں فاضل بریلی آپ کے آخری لمحات کا اس طرح بیان کرتے ہیں: “سَلخ ذی القعدہ روزِپنج شنبہ وقتِ نمازِظہر ۱۲۹۷ہجريہ قُدسیہ کو اکیاوَن51 برس پانچ5 مہینے کی عمر میں بعارضۂ اِسہال ِدَموی شہادت پاکر شبِ جمعہ اپنے حضرت والدِ ماجد قدّس سرّہ کے کنار میں جگہ پائی”( “جواہر البيان فى اَسرار الاركان” مختصر حالات حضرت مصنف علام قدّس سرّہ الملک المنعام، ص۱۰)

(رئیس المتکلمین کے یہ حالات ڈاکٹر محمد حسن صاحب کی تالیف بعنوان: “مولانا نقی علی خان ﷫ حیت اور علمی وادبی کارنامے”

(مطبوعہ ادارہ تحقیقات ِامام احمد رضا کراچی ۱۴۲۶ھ) سے اختصاراً ماخوذ ہیں۔ از: مفتى محمد اسلم رضا شیوانی تحسینی)

Menu
error: Content is protected !!