اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مجدددین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان قادری حنفی رحمہ اللہ

وِلادت باسعادت  : اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مجدّد دین وملت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمہ کی ولادت باسعادت بریلی شریف کے محلّہ جَسولی میں ۱۰ /شَوَّالُ الْمُکَرَّم ۱۲۷۲ھ بروز ہفتہ بوقتِ ظہر مطابِق ۱۴ جون ۱۸۵۶ کو ہوئی۔ سن پیدائش کے اِعتبار سے آپ کا تاریخی نام ’’المُختار‘‘ (۱۲۷۲ھ) ہے ۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت / ج:۱/ص:۵۸)
آپ کا پیدائشی نام’’محمد ‘‘ہے، اورعرفیت ’’احمد رضا‘ہے،اسی سے مشہور ہیں۔
سلسلۂ نسب:آپ کا نسبی سلسلہ افغانستان کے مشہور و معروف قبیلہ بڑہیچ سے ہے جو افغانوں کے جدِا مجد قیس عبد الرشید( جنہیں سرکار دو عالم ﷺکی خدمتِ عالیہ میں حاضری دی کر دینِ اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی) کے پوتے ’’شرجنون‘‘الملقب بہ شرف الدین کے پانچ بیٹوں میں سے چوتھے بیٹے بڑہیچ سے جا ملتا ہے۔(گویا آپ ایک صحابی ء رسو ل صلی اللہ علیہ والہ ٖ وسلم کی اولاد سے ہیں)(شاہ احمد رضا خان بڑیچ افغانی/ محمد اکبر اعوان/ ص:35)
رئیس المتکلمین نقی علی خان صاحب علیہ الرحمہ:آپ کے والد گرامی مولانا شاہ نقی علی خان زبر دست عالمِ دین ،کثیر التصانیف بزرگ اور بڑے پائے کے عاشقِ رسول ﷺ تھے۔
حلیہ مبارکہ:برادر زادۂ اعلیٰ حضرت مولانا حسنین رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ آ پ کا حلیۂ مبار کہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:ابتدائی عمر میں آپ کا رنگ چمکد ار گند می تھا۔
·چہر ہء مبار ک پر ہر چیز نہایت موزوں و مناسب تھی۔
·بلند پیشانی ،بینی مبارک نہایت ستواں تھی۔
·ہر دو آنکھیں بہت موزوں اور خوبصورت تھیں ۔
·نگاہ میں قدرے تیزی تھی جو پٹھان قوم کی خاص علامت ہے۔
·ہر دو ابر و کمان ابرو کے پورے مصداق تھے۔
·لاغری کے سبب سے چہر ہ میں گدازی نہ رہی تھی مگران میں ملاحت اس قد رعطا ہوئی تھی کہ دیکھنے والے کو اس لاغری کا احسا س بھی نہ ہوتا تھا۔
·کنپٹیا ں اپنی جگہ بہت مناسب تھیں ۔
·داڑھی بڑی خوبصورت گردار تھی۔
·سر مبارک پرپٹے(زلفیں) تھے جو کان کی لو تک تھے۔
·سرمبارک پر ہمیشہ عمامہ بند ھا رہتا تھا جس کے نیچے دو پلی ٹوپی ضر ور اوڑھتے تھے۔
·آپ کا سینہ باوجود اس لا غری کے خوب چوڑا محسوس ہوتا تھا۔
·گرد ن صراحی دار تھی اور بلند تھی جو سرداری کی علامت ہوتی ہے۔
·آپ کا قد میانہ تھا۔
·ہر موسم میں سوائے موسمی لباس کے آپ سپید(سفید) ہی کپڑ ے زیب ِ تن فرماتے ۔
·موسم سرما میں رضائی بھی اوڑھا کرتے تھے۔
·مگر سبز کا ہی اونی چادر بہت پسند فرماتے تھے اور وہ آپ کے تن ِمبارک پر سجتی بھی خوب تھی۔
·آپ بچپن ہی میں کچھ روز گداز رہے پھر تو سب نے آپ کو چھریرا اور لاغر ہی دیکھا ۔
·آپ کی آواز نہایت پر درد تھی اور کسی قدر بلند بھی تھی۔
·آپ جب اذان دیتے تو سننے والے ہمہ تن گوش ہو جاتے۔
·آپ بخاری طرز پر قرآن ِپا ک پڑھتے تھے۔
·آپ کا طرز اداعام حفاظ سے جدا تھا۔
·آپ نے ہمیشہ ہندوستانی جوتا پہنا جسے سلیم شاہی جوتا کہتے ہیں ۔
·آپ کی رفتا ایسی نرم کہ برابر کے آدمی کو بھی چلتا محسوس نہ ہوتا تھا۔(مجدد اسلام/ از علامہ نسیم بستوی/ ص:33,32)
اساتذہ کرام:اعلیٰ حضرت کے اساتذ ہ کی فہرست بہت مختصر ہے:۔
·حضر تِ والدِ ماجد مولانا شاہ نقی علی خان رحمہ اللہ (اور ان کے علاوہ صر ف درجہ ذیل پانچ نفوسِ قدسیہ ہیں جن سے آپ کو نسبتِ تلمذ ہے)
·جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب رحمہ اللہ (جن سے آپ نے میزانِ منشعب تک کی تعلیم حاصل کی)
·حضرت مولانا عبدا لعلی صاحب رامپوری رحمہ اللہ (ان سے اعلیٰ حضرت نے شرح چغمینی کے چند اسباق پڑھے)
·آپ کے پیر ومرشد حضرت شاہ آلِ رسول مارہروی رحمہ اللہ (آپ سے تصوف و طریقت اور افکا رکی تعلیم حاصل کی )
·حضر ت سالارِ خاندان برکاتیہ سید شاہ ابوالحسین احمدنوری رحمہ اللہ (ان سے علمِ جفر ،تکسیر اور علمِ تصوف حاصل کئے)
جب آپ زیارتِ حرمین شریفین کے لیے مکتہ المکرمہ حاضر ہوئے تو مندرجہ ذیل تین شیوخ سے بھی سند حدیث و فقہ حاصل فرمائی ۔
·شیخ احمد بن زین دحلان مکی رحمہ اللہ
·شیخ عبد الرحمن سراجِ مکی رحمہ اللہ
·شیخ حسین بن صالح مکی رحمہ اللہ
فتویٰ نویسی :پروفیسر مسعو داحمد صاحب تحر یر فرماتے ہیں: مولانا احمد رضاخان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تیر ہ سال دس مہینے اور چاردن کی عمر میں 14شعبان 1286ھ کو اپنے والد مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نگرانی میں فتویٰ نویسی کا آغا ز کیا ، سات برس بعد تقریباً 1293ھ میں فتویٰ نویسی کی مستقل اجازت مل گئی۔پھر جب 1297میں مولانا نقی علی خان علیہ الرحمہ کا انتقال ہوا تو کلی طور پر مولانا بریلوی فتویٰ نویسی کے فرائض انجام دینے لگے ۔(حیاتِ مولانا احمد رضا خان بریلوی/ از پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد/ ص:50)
شادی:آپ کا نکاح سن 1291ھ میں جناب ِ شیخ فضل حسین صاحب (رامپور) کی صاحبزادی’’ارشاد بیگم‘‘سے ہوا ،یہ شادی مسلمانوں کے لیے ایک شرعی نمونہ تھی ،مکان تو مکان آپ نے لڑکی والے کے یہاں بھی خبر بھجوا دی تھی کہ کوئی بات شریعتِ مطہرہ کے خلاف نہ ہو ،چنانچہ اُن حضرات نے غلط رسم ورواج سے اتنا لحاظ کیا کہ لوگ ان کی دین داری اور پاسِ شرع کے قائل ہو گئے اور بڑی تعریف کی۔(مجد د اسلام /از علامہ نسیم بستوی/ ص:45)
اولاد ِامجاد:اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو اللہ عزوجل نے سات اولادیں عطا فرمائیں ،دو صاحبزادے اور پانچ صاحبزادیاں۔
·حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خان علیہ الرحمہ
·مفتیٔ اعظم ِہند مولانا محمد مصطفی رضا خان علیہ الرحمہ
·مصطفائی بیگم·کنیزِ حسن·کنیزِ حسین·کنیزِ حسنین·مرتضائی بیگم
حیرت انگیز قُوتِ حافظہ:حضرت ابو حامِد سیِّد محمد محدِّث کچھوچھوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تکمیلِ جواب کے لیے جُزئِیّاتِ فِقْہ کی تلاشی میں جو لوگ تھک جاتے وہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی خدمت میں عَرض کرتے اور حوالہ جات طلب کرتے تو اُسی وقت آپ فرمادیتے کہ “رَدُّالمُحْتَار”جلد فُلاں کے فُلاں صَفَحہ پر فُلاں سَطر میں اِن الفاظ کے ساتھ جُزئِیّہ موجود ہے۔”دُرِّ مُخْتَار” کے فُلاں صَفَحے پر فُلاں سَطر میں عبارت یہ ہے۔ “عالمگیری”میں بقید جلد و صَفَحہ وَسَطر یہ الفاظ موجود ہیں۔ ہِندیہ میں خَیریہ میں “مَبْسُوط” میں ایک ایک کتاب فِقہ کی اصل عبارت مع صَفَحہ وسَطر بتادیتے اور جب کتابوں میں دیکھا جاتا تو وُہی صَفَحہ وسَطر و عبارت پاتے جو زَبانِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے فرمایا تھا۔ اِس کو ہم زِیادہ سے زِیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ خُداداد قوّتِ حافِظہ سے چودہ سو سال کی کتابیں حِفظ تھیں۔(حیاتِ اعلیٰ حضرت ؍ج ۱؍ص ؍۲۱۰ )
ترجمۂ قرآن کنز الا یمان:اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تفسیر ی مہارت کا ایک شاہکار آپ کا ترجمہ قرآن ’’کنزالایمان ‘‘ بھی ہے جس کے بارے میں محدثِ اعظم ہند سید محمد محدث کچھوچھوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :۔
’’علم ِقرآن کا اندازہ صر ف اعلیٰ حضرت کے اس اردو ترجمہ سے کیجئے جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی مثال ِسابق نہ عربی میں ہے:                        نہ فارسی میں ہے ، نہ اردو زبان میں ہے ، اور جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اُس جگہ لایا نہیں جا سکتا جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگر در حقیقت وہ قرآن کی صحیح تفسیر اور اردو زبان میں قرآن(کی روح)ہے(جامع الاحادیث /جلد :8/از مولانا حنیف خان رضوی/ص :101)
پھر یہ ترجمہ کس طرح معرض ِ وجو د میں آیا، ایسے نہیں جس طرح دیگر مترجمین عام طور سے گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر متعلقہ کتابوں کا انبار لگا کر اور ترجمہ تفسیر کی کتابیں دیکھ دیکھ کر معانی کا تعین کرتے ہیں بلکہ اعلیٰ حضرت کی مصروف ترین زندگی عام مترجمین کی طرح ان تمام تیاریوں اور کامل اہتمامات کی متحمل کہا ں تھی ۔
’’سونح امام احمد رضا ‘‘ میں مولانا بد ر الدین قادری صاحب تحریر فرماتے ہیں :’’صدر الشریعہ‘‘ حضرت علامہ مولانا محمد امجد علی اعظمی نے قرآن مجید کے صحیح ترجمہ کی ضرورت پیش کرتے ہوئے امام احمد رضا سے ترجمہ کر دینے کی گزارش کی ۔ آپ نے وعدہ فرمالیا لیکن دوسرے مشاغل ِ د ینیہ کثیرہ کے ہجوم کے باعث تاخیر ہوتی رہی ،جب حضرت ’’صدر الشریعہ‘‘کی جانب سے اصرار بڑھا تو اعلیٰ حضرت نے فرمایا: چونکہ ترجمہ کے لیے میرے پاس مستقل وقت نہیں ہے اس لئے آپ رات میں سوتے وقت یا دن میں قیلولہ کے وقت آجایا کریں ۔چنانچہ حضرتِ ’’صدر الشریعہ‘‘ ایک دن کاغذ قلم اور دوات لے کر اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور یہ دینی کام بھی شروع ہو گیا۔
ترجمہ کا طریقہ یہ تھا کہ اعلیٰ حضرت زبانی طور پر آیات ِکریمہ کا ترجمہ بولتے جاتے اور’’ صدر الشریعہ‘‘ اس کو لکھتے رہتے ،لیکن یہ ترجمہ اس طرح پر نہیں تھا کہ آپ پہلے کتب ِتفسیر و لغت کو ملاحظہ فرماتے ،بعدہٗ آیت کے معنی کو سوچتے پھر ترجمہ بیان کرتے، بلکہ آپ قرآن مجید کا فی البدیہہ برجستہ ترجمہ زبانی طور پر اس طرح بولتے جاتے جیسے کوئی پختہ یادداشت کا حافظ اپنی قوتِ حافظہ پر بغیر زور ڈالے قرآن شریف روانگی سے پڑھتا جاتا ہے، پھر جب حضرتِ’’ صدر الشریعہ‘‘ اور دیگر علمائے حاضر ین اعلیٰ حضرت کے ترجمے کا کتب ِتفاسیر سے تقابل کرتے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ آ پ کا یہ برجستہ فی البدیہہ ترجمہ تفاسیر ِمعتبرہ کے بالکل مطابق ہے۔
الغرض اِسی قلیل وقت میں ترجمہ کا کام ہوتا رہاپھر وہ مبارک ساعت بھی آگئی کہ حضرتِ ’’صدر الشریعہ‘‘ نے اعلیٰ حضرت سے قرآن مجید کا مکمل ترجمہ کر والیا اور آپ کی کوششِ بلیغ کی بدولت دنیائے سنیت کو’’ کنز الایمان ‘‘کی دولت ِعظمیٰ نصیب ہوئی ۔(انوارِ رضا ؍ص: 81-82)
تصانیف:آپ علیہ الرحمہ نے مختلف عُنوانات پر کم وبیش ایک ہزار کتابیں لکھی ہیں۔یوں توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ۱۲۸۶ھ سے ۱۳۴۰ھ تک لاکھوں فتوے لکھے، لیکن افسوس! کہ سب کو نَقل نہ کیا جاسکا، جو نَقل کرلیے گئے تھے ان کا نام” العطایا النبّویۃ فی الفتاوی الرضویۃ”رکھا گیا ۔ فتاویٰ رضویہ (جدید) کی 30جلدیں ہیں جن کے کُل صفحات:21656، کل سُوالات وجوابات:6847اور کل رسائل: 206ہیں۔(فتاویٰ رضویہ؍ج؍ ۳۰؍ص :۱۰؍رضا فاؤنڈیشن؍ لاہور)ہر فتوے میں دلائل کا سمندر موجزن ہے۔ قرآن و حدیث ، فِقْہْ ،مَنْطِق اور کلام وغیرہ میں آپ کی وُسْعَتِ نظری کا اندازہ آپ کے فتاوٰی کے مُطالَعے سے ہی ہوسکتا ہے۔

مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام

اعلیٰ حضرت ،امام اہلسنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بے مثال عشق کا اظہار آپ کے اُس منظوم سلام سے بھی ہوتا ہے جس کے بارے میں علماء نے ارشاد فرمایا ہے کہ اعلیٰ حضرت اگر اور کوئی کام نہ بھی کرتے تو یہ سلام ہی آپ کی عظمت کے لیے کافی تھا ۔
جی ہاں! یہ وہ سلام ہے جس کی گونج پا ک و ہند کے گوشے گوشے میں سنائی دیتی ہے بلکہ یہاں سے نکل کر پوری دنیا میں یہ سلام پڑھا جار ہا ہے۔مساجد میں نماز ِ جمعہ کے بعد اور محافلِ میلا د کے اختتام پر اس کو بطورِخاص پڑھا جاتا ہے ،اردو جاننے والوں میں شاید ہی کو ئی ایسا ہو جسے اس سلام کا کوئی شعر یاد نہ ہو ۔
علمائے کرام ارشاد فرماتے ہیں’’دو کلام‘‘سرکارِ دوعالم ﷺکی بارگاہ میں بہت مقبول ہیں ،ایک اردو کا اور ایک عربی کا،عربی کا تو’’قصیدہ بردہ شریف‘‘ہے اور اُردو کا یہی اعلیٰ حضرت کا لکھا ہوا سلام’’مصطفی جان ِرحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ہے ۔
اس کی قبولیت میں کیسے شک ہو سکتا ہے جبکہ سنہری جالیوں کے رو برو زائرین جب سلام پیش کرتے ہیں تو اس مبارک سلام کے چند اشعار بھی سرکا ر ﷺکی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں ۔
اس سلام کے والہانہ پن کی خصوصیت یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت نے اپنے پیارے آقا و مولیٰﷺ کے ہر ہر عضوِ پاک پر الگ الگ سلام پیش کیا ہے جس سے آپ کے عشقِ رسول کا اور فناء فی الرسول ہونے کا بخوبی اندازہ ہو تا ہے۔
یہ سلام جہاں عشقِ رسولﷺ کا شاہکار ہے ،وہیں اعلیٰ حضرت کے فنی تبحر کی گواہی بھی دے رہاہے ۔آپ کا یہ سلام ایک سو بہتر اشعار پر مشتمل ہے۔ ( فیضان اعلیٰ حضرت؍ ص:281 )
شجرہء مبارکہ:اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شرائطِ اربعہ کے جامع پیر کامل وولیِّ کامل تھے آپ کا سلسلہ حضورﷺتک متصل تھا اعلیٰ حضرت کے کمالات ِ ولایت کے بیانات سے پہلے مناسب یہ ہے کہ ہم ان کی اتصال ِسند کو جان لیں۔
اگرچہ کئی (تیرہ)سلاسل بلخصوص’’ سلاسل ِ اربعہ‘‘(قادریہ ۔چشتیہ ۔ نقشبندیہ ۔سہروردیہ) میں خلافت و اجازت حاصل تھی لیکن اختصار کے پیشِ نظر یہاں صرف سلسلہءعالیہ قادریہ کے مشائخ ِکرام کے اسمائے گرامی پیش کئے جاتے ہیں :۔

سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے مشائخِ عظام

۔1.حضر ت سید المرسلین جنابِ احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم
۔2.حضرت امیر المومینن علی ِ مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم
۔3.حضرت امام ِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔4.حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔5.حضرت امام محمد الباقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔6.حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔7.حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔8.حضرت امام علی رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔9.حضرت شیخ معروف کرخی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔10.حضرت شیخ سری سقطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔11.حضرت شیخ جیند بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔12.حضرت شیخ ابوبکر شبلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔13.حضرت شیخ عبدا لواحد تمیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔14.حضرت شیخ ا بو الفرج طرطوسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔15.حضرت شیخ ابوالحسن علی ہکاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔16.حضرت شیخ ابو سعید مخزومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔17.حضور سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبدا لقادر حسنی حسینی جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔18.حضرت سید عبدا لرزاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔19.حضرت سید ابوصالح رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔20.حضرت سید محی الدین ابونصر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔21.حضرت سید علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔22.حضرت سید موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔23.حضرت سید حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔24.حضرت سید احمد الجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔25.حضرت شیخ بہاء الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔ 26.حضرت سید ابراہیم ایرجی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔ 27.حضرت سید محمدنظام الدین بھکاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔ 28.حضرت شیخ محمد ضیاء الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔ 29.حضرت سید شاہ جمال اولیا ء رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔ 30.حضرت سید شاہ محمد کالپوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔ 31.حضرت سید شاہ احمد کالپوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔ 32.حضرت سید شاہ فضل اللہ کالپوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔ 33.حضرت سیدشاہ برکت اللہ مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔ 34.حضرت سیدشاہ آلِ محمد مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔ 35.حضر ت سید شاہ حمزہ مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔ 36.حضرت سیدنا شاہ آلِ احمد اچھے میاں مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔ 37.حضرت سیدنا شاہ آلِ رسول مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۔ 38.اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ
(حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر الدین بہاری مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور ص728)

‏بیعت و ارادت:
حضرت شاہ آلِ رسول رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تیرھویں صدی ہجری کے اکابر اولیا ء اللہ میں سے تھے ۔آپ کی وہ عظیم شخصیت تھی جس کی مساعی و کوشش سے اسلام و مذہب ِاہلسنت وجماعت کو استحکام حاصل ہوا۔ بڑے نڈر، بے باک،شفیق اور مہربان تھے ۔ آپ کی شان بڑی ارفع و اعلیٰ ہے ۔
1294ھ جمادی الاخریٰ کا واقعہ ہے کہ ایک روز اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ(کسی خیال سے) روتے روتے سو گئے، خواب میں دیکھا کہ آپ کے جدامجد حضرت مولانا شاہ رضاعلی خان صاحب تشریف لائے، ایک صندوقچی عطا فرمائی اور فرمایا عنقریب وہ شخص آنے والا ہے جو تمہارے درد ِدل کی دوا کرے گا۔دوسرے ہی روز تاج الفحول محب ِ رسول حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب عثمانی بدایونی علیہ الرحمہ تشریف لائے اور اپنے ساتھ(بغرضِ بیعت) مارہر ہ مقدسہ لے گئے، مارہرہ مقدسہ کے اسٹیشن ہی پر اعلیٰ حضرت نے فرمایا! شیخ ِکامل کی خوشبو آرہی ہے ۔ (بعد ازاں ایک سرائے میں ٹھہرے اور نہا دھو کر نئے کپڑے پہننے کے بعد خانقاہِ برکاتیہ میں بیعت کے لئے حاضر ہوئے)۔
جب امامُ الاولیاء، سلطان العارفین ،تا جدارِ مارہر ہ حضرت مولانا سید شاہ آلِ رسول صاحب حسینی علیہ الرحمہ کی خدمت ِبابرکت میں پہنچے حضرت نے دیکھتے ہی فرمایا: آئیے! ہم تو کئی روز سے انتظار کر رہے ہیں ۔ پھر بیعت فرمایا اور اُسی وقت تما م سلاسل کی اجازت بھی عطا فرمادی اور خلافت بھی بخش دی نیز جو عطیات سلف سے چلے آرہے تھے وہ بھی سب عطا فرمادیئے اور ایک صندوقچی جو وظیفہ کی صندوقچی کے نام سے منسوب تھی عطا فرمائی۔آپ کو جن سلاسل ِطریقت کی اجازت و خلافت حاصل ہوئی ان کی تفصیل درجہ ذیل ہے :
۱۔قادریہ برکاتیہ جدیدہ ۲۔قادریہ آبائیہ قدیمہ ۳۔قادریہ ہدایہ ۴۔قادریہ رزاقیہ ۵۔قادریہ منصوریہ ۶۔چشتیہ نظامیہ قدیمہ ۷۔چشتیہ محبوبیہ جدیدہ ۸۔سہروردیہ واحدیہ
۹۔سہروردیہ فضیلیہ ۱۰۔نقشبندیہ علائیہ صدیقیہ ۱۱۔نقشبندیہ علائیہ علویہ ۱۲۔بدیعہ ۱۳۔علویہ منامیہ
اتنی عطائیں دیکھ کر تمام مریدین کو جو حاضر تھے تعجب ہوا، جن میں قطب ِدوراں تاج الاولیاء حضرت مولانا شاہ سید ابوالحسین احمد نوری میاں صاحب علیہ الرحمہ نے( جو حضرت کے پوتے اور جانشین تھے) اپنے جدِا مجد سے عرض کیا حضور! بائیس سال کے اس بچہ پر یہ کر م کیوں ہوا؟ جبکہ حضور کے یہاں کی خلافت و اجازت اتنی عام نہیں، برسوں ،مہینوں آپ چلّے ریاضتیں کراتے ہیں ’’جو‘‘کی روٹی کھلواکر منزلیں طے کراتے ہیں ،پھر اگر اس قابل پاتے ہیں تب بھی ایک یا دو سلسلہ کی اجازت و خلافت عطا فرماتے ہیں (نہ کہ تمام سلاسل کی)۔
حضرت نوری میاں علیہ الرحمہ بھی بہت بڑے روشن ضمیر وعارف باللہ تھے، اِسی لئے یہ سب کچھ دریافت کیا تاکہ زمانے کو اس بچے کا مقام ولایت و شانِ مجددیت کا پتہ چل جائے ۔ سیدناشاہ آلِ رسول نے ارشاد فرمایا اے لوگو! احمدرضا کو کیا جانو یہ فرما کر رونے لگے اور ارشاد فرمایا۔میاں صاحب! میں متفکر تھا کہ اگر قیامت کے دن رب العزت جل مجدہ ٗ نے ارشاد فرمایا کہ آلِ رسول !تو دُنیا سے میرے لیے کیا لایا تو میں کیا جواب دوں گا ۔الحمد للہ آج وہ فکر دور ہو گئی، مجھ سے رب تعالیٰ جب یہ پوچھے گا کہ آلِ رسول! تو دُنیا سے میرے لیے کیا لایا تو میں مولانا احمد رضا کو پیش کر دوں گا،اور حضرات اپنے قلب زنگ آلود لیکر آتے ہیں، اُن کو تیار ہونا پڑتا ہے ،یہ اپنے قلب کو مجلّیٰ و مصفّیٰ لے کر بالکل تیار آئے، ان کو تو صرف نسبت کی ضرورت تھی ۔
غوثِ پاک سے محبت:
سید ی اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے پیر و مُرشِد سیدنا شاہ آلِ رسول مارہروی کے ذریعے محبوبِ سبحانی ،قطبِ ربانی ،حضرت سیدنا شیخ عبدا لقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی غلامی و نسبت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کو سرکارِ بغدادِ حضور ِ غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات ِ بابرکات سے بے پناہ عشق او روالہانہ لگاؤ تھا آ پ کی مجلس میں بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ حضو رِ غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لیا جاتا اور اس غلامی کا اظہار اعلیٰ حضرت اپنے اشعار میں کس والہانہ انداز سے کرتے ہیں:
تجھ سے در،در سے سگ اور سگ سے ہے مجھ کو نسبت
میری گردن میں بھی ہے دُور کا ڈورا تیرا
اس نشانی کے جو سگ ہیں نہیں مارے جاتے
حشر تک میرے گلے میں رہے پٹہ تیرا
اعلیٰ حضرت کے کمالِ ادب ِ غوثِ اعظم کی ایک جھلک آپ کے چہیتے خلیفہ و شاگرد حضرت ِ محدث اعظم ہند سید محمد محدث کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ( جو کہ غوثِ پاک کی اولاد میں سے تھے اور آپ سے کارِ افتا ء کی تربیت حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے )یوں دکھاتے ہیں ۔’’دوسرے دن کارِ افتاء پر لگانے سے پہلے خود گیارہ روپے کی شیرینی منگائی ،اپنے پلنگ پر مجھ کو بٹھا کر اور شیرینی رکھ کر فاتحہ ء غوثیہ پڑھ کر دستِ کرم سے شیرینی مجھ کو بھی عطا فرمائی اور حاضرین میں تقسیم کا حکم دیا۔(کیا دیکھتا ہوں ) کہ اچانک اعلیٰ حضرت پلنگ سے اُٹھ پڑے ۔ سب حاضرین بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے کہ شاید کسی حاجت سے اندر تشریف لے جائیں گے ۔لیکن حیرت بالائے حیرت یہ ہوئی کہ اعلیٰ حضرت زمین پر اکڑوں بیٹھ گئے ۔سمجھ میں نہ آیا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ دیکھا تو یہ دیکھا کہ تقسیم کرنے والے کی غفلت سے شیرینی کا ایک ذرہ زمین پر گر گیا تھا اور اعلیٰ حضرت اس ذرہ کوزبان کی نوک سے اُٹھا رہے ہیں،اور پھر اپنی نشت گاہ پر بدستور تشریف فرما ہوئے ۔
اس واقعہ کو دیکھ کر سارے حاضرین سرکارِ غوثیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت و محبت میں ڈوب گئے اور فاتحہءغوثیہ کی شیرینی کے ایک ایک ذرے کے تبرک ہو جانے میں کسی دوسری دلیل کی حاجت نہ رہ گئی۔
اور اب میں نے سمجھا کہ بار بار مجھ سے جو فرمایا جاتا کہ میں کچھ نہیں یہ آپ کے جد امجد (حضور ِ غوث ِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کا صدقہ ہے و ہ مجھے خاموش کر دینے کے لیے ہی نہ تھا،اور نہ صرف مجھ کو شرم دلانا ہی تھا بلکہ درحقیقت اعلیٰ حضرت حضور ِ غوث ِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں ’’چوں قلم دردستِ کاتب ‘‘(جیسے لکھنے والے کے ہاتھ میں قلم) تھے، جس طرح کہ غوث ِ پا ک سرکا ر ِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے ہاتھ میں ’’چوں قلم دردستِ کاتب ‘‘تھے ۔‘‘(فیضانِ اعلیٰ حضرت؍ ص:322)
بارگاہ غوثیت میں مقامِ اعلیٰ حضرت:
’’علی پورسیداں‘‘ ضلع سیالکوٹ کے مشہور و معروف بزرگ امیرِ ملت حضرت مولانا الحاج پیر سید جماعت علی شاہ صاحب نقشبند ی مجددی محدث علی پوری علیہ الرحمہ کی ذات ِگرامی محتاج تعارف نہیں۔انہیں کا واقعہ ہے کہ اپنے نانا جا ن’’ قطبِ اقطابِ جہاں‘‘’’شہنشاہِ بغداد‘‘سرکارِغوث ِ اعظم رضی للہ تعالیٰ عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہو اتو آ پ سے سرکارِ غوث ِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :
’’ہندوستان میں میرے نائب مولانا احمد رضا خان ہیں‘‘
چنانچہ امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب اعلیٰ حضر ت کی زیارت کے لیے بریلی تشریف لائے اور اعلیٰ حضرت سے یہ خواب بھی بیان کیا ۔(تجلیاتِ امام احمد رضا ؍از مولانا امانت رسول قادری؍ ص:89)
خلفائے اعلیٰ حضرت
اعلیٰ حضر ت رضی اللہ تعالی عنہ کے خلفاء کی صحیح تعدا د کا تعین تو نہیں کیا جا سکتا لیکن قرین ِ قیاس یہ تعد ا دسو سے اوپر تجاوز کر تی ہے۔ اعلیٰ حضرت کے خلفاء نہ صرف برصغیر پاک و ہند سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ عرب و افریقہ کے بلاد میں بھی ایک کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے خلفاء کی فہرست ذیل میں پیش کی جاتی ہے:
خلفاء و پاک و ہند:
·حضرت ِ حجۃُ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خان
·مفتیء اعظم ہند مولانا محمد مصطفی رضا خان
·صدر الشریعہ مولانا محمدامجد علی اعظمی
·صدرالافاضل مولانا محمد نعیم الدین مرادآبادی
·ملک العلماء مولانا طفرالدین بہاری
·سیدا حمد اشرف کچھوچھوی
·سید محمد محدث کچھوچھوی
·مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی
·قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی
·مولانا شاہ عبدالسلام جبل پوری
·قاری بشیر الدین صاحب جبلپوری
·مولانا عبدالباقی برھان الحق جبلپوری
·مولانا سید سلیمان اشرف بہاری
·مولانا سید محمد دیدار علی شاہ الوری
·ابوالبرکات سید احمد قادری
·مداح الحبیب مولانا جمیل الرحمن قادری
·فقیہ اعظم مولانا محمد شریف محدث کوٹلوی
·مولانا محمد امام الدین کوٹلوی
·مولانا شاہ ہدایت رسول قادری
·مفتی محمد غلام جان ہزاروی
·سید محمد عبدالسلام باندوی
·مولانا عبد الاحد صاحب پیلی بھیتی
·سلطان الوعظین
·مولانا عبدالحق صاحب پیلی بھیتی
·مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی
·مولانا حبیب الرحمن خان صاحب پیلی بھیتی
·مولانا عبدالحئی صاحب پیلی بھیتی
·مولانا شاہ محمد حبیب اللہ قادری میرٹھی
·مولانا محمد شفیع صاحب بیسلپوری
·مولانا محمد عمرالدین ہزاروی
·مولانا احمد بخش صادق صاحب
·مولانا احمد حسین امروہوی
·مولانا رحیم بخش آروی قادری
·مولانا رحم الہٰی منگلوری
·مولانا عبدالعزیز خاں بجنوری
·مولانا عزیز الحسن پھپھوندوی
·مولانا محمد حسنین رضا خان
·مولانا احمد مختار صدیقی میرٹھی
·قاضی عبدالوحید عظیم آبادی
·قاضی شمس الدین جونپوری
·مولانا سید غلام جان جود ہپوری
·مولانا محمد اسمعیل فخری محمود آبادی
·حضرت مولانا سید محمد حسین میرٹھی
·منشی حاجی محمد لعل خان مدراسی
·مولانا مشتاق احمد کانپوری
·میر مومن علی جنیدی
·مولانا سید نور الحسن نگینوی
·مولانا نثار احمد کانپوری
·مولانا حافظ یقین الدین بریلوی
·حاجی کفایت اللہ صاحب
خلفائے عرب و افریقہ:
·سید اسمعیل خلیل مکی
·الشیخ احمد الخضراوی المکی
·الشیخ اسعد بن احمد الدھان مکی
·سید ابو بکر بن سالم البار العلوی
·مولانا شیخ بکر رفیع
·حضرت شیخ حسن العجیمی
·حضرت سید حسین جمال بن عبدالرحیم
·سید حسین بن سید عبدالقادرمدنی
·مولانا سید عبدالرشید مظفر پوری
·سید فتح علی شاہ صاحب
·حضرت شیخ عبداللہ بن ابو الخیر میرداد
·علامہ سید عبداللہ دحلان مکی
·حضرت شیخ عبداللہ فرید بن عبد القادرکردی
·شیخ علی بن حسین مکی
·سید علوی بن حسن الکاف الحضری
·حضرت شیخ عمر بن حمدان المحرسی
·حضرت شیخ مامون البری المدنی
·مولانا سید محمد ابراھیم مدنی
·ابوالحسن بن عبدالرحمن المرزوقی
·سید محمد بن عثمان دحلان
·حضرت شیخ محمد جمال بن محمد الامیر
·محمد سعید بن محمد بالصبیل مفتیء شافعیہ
·السید محمد سعید بن السید محمد المغربی
·الشیخ محمد صالح کمال مفتیء حنفیہ
·محمد عبدالحئی بن سید عبدالکبیر الکتانی
·السید محمد عمر بن ابو بکر رشیدی
·الشیخ مولانا محمد یوسف
·سید مصطفی خلیل مکی آفندی
تلامذہء اعلیٰ حضرت
اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تلامذہ کی فہرست بہت طویل ہے،مندرجہ بالاخلفاء وخدام کے علاوہ درجہ ذیل حضرات کا ذکر بھی مولانا حسنین رضا خان نے’’سیرتِ اعلیٰ حضرت‘‘ میں کیا ہے،تحریر فرماتے ہیں:
حسبِ ذیل حضرات بھی اعلیٰ حضرت کے حلقہء درس میں شامل تھے :
·مولانا شاہ ابو الخیر سید غلام محمد صاحب بہاری
·مولانا سید عبدا لرشید صاحب بہاری
·مولوی حکیم عزیر غوث صاحب
·مولوی واعظ الدین صاحب چاٹگام
·مولوی سلطان الدین سلہٹ
·مولوی نوراحمد صاحب بنگال
·نواب مرزا طوسی ۔۔۔وغیرہ
یہ حضرات آپ کے پا س خصوصیت سے توقیت ، لوگارثم ،تکسیر ، ریاضی اور کتبِ احادیث پڑھتے تھے۔
حسبِ مراتب فتاویٰ بھی اِنکے سپر د ہوتے تھے اِن دنوں اعلیٰ حضرت کو بہت کام کرنا پڑتا تھا تو اِن سب حضرات کی مشاورت سے ایک نیا نظم قائم کیا گیا۔(سیرتِ اعلیٰ حضرت ؍ص: 133)
وفات حسرت آیات:
۲۵صفَر الْمُظَفَّر ۱۳۴۰ھ مطابق ۱۹۲۱ کو جُمُعَۃُ الْمبارَک کے دن ہندوستان کے وقت کے مطابق2 بج کر38 منٹ پر،عین اذان کے وقت اِدھر مُؤَذِّن نے حَیَّ عَلَی الفَلاح کہا اور اُدھر اِمامِ اَہلسُنَّت الشاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ الرح٘ہنے داعئ اَجل کو لبیک کہا۔انا للہ وانا الیہ راجعون
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزارِپُراَنوار بریلی شریف میں آج بھی زیارت گاہِ خاص و عام بنا ہوا ہے۔

Menu
error: Content is protected !!