سیّدہ رقیہ رضی ا للہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم


آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صاحبزادی ہیں جوکہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ہیں سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا کے تین سال بعد آپ کی ولادت ہوئی ابتداء آپ کا اور حضرت سیّدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح ابولہب کے دوبیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے ہواتھا جب آیۂ کریمہ تبت یداابی لھب وتب نازل ہوئی توابولھب نے اپنے دونوں بیٹوں کو کہا رأسی من رؤوسکما حرام ان لم تطلقا ابنتی محمدصلی اللہ علیہ وسلم (اسدالغابہ) کہ اگر تم دونوں نے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی دونوں بیٹیوں کوطلاق نہ دی تومیراسر تمہارے سے حرام یعنی میں تم دونوں سے بیزار ہوں اب ان دونوں نے دونوں صاحبزادیوں کوطلاق دے دی عتیبہ بعد میں مسلمان ہو کر صحابہ میں شمار ہوئے جب کہ عتبہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کی توہین کی چنانچہ جس وقت عتبہ نے سیّدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے جدائی اختیار کرلی تووہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکریوں کہنے لگا میں آپ کے دین سے کافر ہوں مجھے آپ کادین پسند نہیں ہے اورنہ ہی مجھے آپ پسند ہیں علاوہ ازیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سا تھ گستاخی کامرتکب ہوا اور آنجناب کی قمیص پاک کوپھاڑ دیا نیز اپنے پلید منہ کا لعاب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھینکا اورکہامیں نے رقیہ کو طلاق دے دی ہے(مدارج شریف)

جلالین شریف کے حاشیہ پرہے وکان ولدہ عتیبہ شدید الاذی للنبّی صلی اللّٰہ علیہ وسلم (ص۵۰۸ حاشیہ نمبر ۱۰) یعنی ابولھب کالڑکا عتیبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کوشدت سے اذیت دیتاتھا۔

تنبیہ : اس عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عتیبہ گستاخ تھا واللہ اعلم بالصواب

اس پر آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللھم سلط علیہ کلبامن کلابک اے اللہ اس گستاخ پراپنے کتّوں میں سے ایک کتّامسلط فرمادے اس وقت ابوطالب بھی مجلس میں تھا. اس نے کہا مجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے تیر سے کوئی بچاسکے گا(مدارج)

اورابولھب بھی یہ بات خوب اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ دعا اس کو پہنچے گی فسافر الی الشام فاوصی بہ الرفاق لینجوہ من ھذہ الدعوۃ فکانوا یحدقون بہ اذ انام لیکون وسطھم (حاشیہ جلالین) جب اس نے شام کی طرف سفرکیا توابولھب نے اپنے خادموں کووصیت کی اس کے بیٹے کوحضور کی دعاپہنچنے سے بچائیں وہ خدام جب عتبہ(یا پھر عتیبہ واللّٰہ اعلم بالصواب )سوتاتواس کو چاروں طرف سے گھیرلیتے تاکہ وہ بیچ میں ہوجائے مدارج میں ہے کہ ابولھب اہل قافلہ سے کہنے لگا کہ آج کی رات تمام لوگ ہمارا تعاون کریں کیونکہ میں خدشہ محسوس کرتا ہوں کہ آج کی رات محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی دعا میرے بیٹے پراثر نہ کرجائے پس تمام لوگوں نے اپنا تمام اسباب وسامان جمع کرکے نیچے اوپر کرکے ایک جگہ پررکھ دیا اوراس ڈھیر کے اوپر عتبہ کے لئے سونے کی جگہ تیار کی گئی دیگر تمام لوگ اس جگہ کو گھیرے میں لئے ہوئے بیٹھ گئے (مدارج) فلم ینفعہ ذلک بل جاء الاسد فتشم الناس حتی وصل الیہ (حاشیہ جلالین) اس تمام نے عتبہ کو کچھ نفع نہ دیا بلکہ ایک شیر آیاباری باری ان کوسونگھتا جاتالیکن کسی کو ضرر نہ پہنچایا پھرچھلانگ لگا کر عتبہ پرکودا اور پنجہ کی ضرب لگائیں اورسینہ چاک کردیا ایک روایت میں ہے کہ عتبہ کی گردن دبوچ لی(مدارج شریف)

معلوم ہوا کہ اس بارگاہ میں بے ادبی کرنے والوں کے منہ سے ایسی بدبونکلتی ہے کہ جس کوجانور معلوم کرلیتے ہیں کہ گستاخ کامنہ یہ ہے (سلطنت مصطفی)

عتبہ سے طلاق کے بعد سیّدہ کانکاح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مکّہ میں ہوا آپ کے ساتھ سیّدہ نے ہجرت بھی فرمائی پہلے جانب حبشہ پھر سوئے مدینۃ المنورہ جب سیّدہ کاانتقال ہوا تو سیّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی قبر مبارک کے سرہانے بیٹھی روتی تھیں اورسید عالم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے آنسو پونچھ رہے تھے(مدارج شریف )

خیال رہے یہ رونا رحمت ورقت کے سبب تھا۔

Menu