حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ ۔۔۔۔ایک تعارف

محمد دانش احمد اخترالقادری،کراچی ،پاکستان


تاریخ اسلام میں ایسے بے شمار نام محفوظ ہیں جن کے کارہائے نمایاں رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے لیکن جب ذکر سیدنا ا علیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کا آجائے تو تاریخ ڈھونڈتی ہےکہ ان جیسا دوسراکوئی ایک ہی اسے اپنے دامن میں مل جائے ۔ کوئی کسی فن کا اما م ہے تو کوئی کسی علم کا ماہر لیکن سیدنا اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مجدد دین ملت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ ہر علم ، ہر فن کے آفتاب و ماہتاب ہیں… ع

جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضاؔکا ہے

سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی ایک بالغ نظر مفتی بھی ہیں ایک ممتاز فقیہ بھی ، تفسیر و حدیث کے امام بھی ہیں ،صرف ونحو کے بادشاہ بھی ، وہ محقق بھی ہیں مؤرخ بھی ، مفکربھی ہیں مدبر بھی، ادیب بھی ہیں شاعر بھی ، مناظر بھی ہیں مصنف بھی ، سیاست داں بھی ہیں ماہر اقتصادیات بھی، طبیب بھی ہیں اورسائنسداں بھی ہیں،معلم بھی ہیں معلم ساز بھی،عاشق مصطفیٰ بھی ہیں اور عشاق کے قافلہ سالار بھی، مجتہد بھی ہیں مجدد بھی،حق کے علمبردار بھی ہیں اور حق کی پہچان بھی ۔کس کس خوبی کا ذکر کیا جائے ، کن کن خدمات کو یاد کیاجائے ۔خالق مطلق نے امام احمد رضابریلوی کو قدیم و جدید تمام علوم و فنون کاامام بنایا۔ صرف آپ کے نعتیہ دیوان ’’حدائق بخشش ‘‘ ہی میں ۲۱۵؍علوم سے متعلق اشعارموجود ہیں ۔

(فن شاعری اور حسان الہند/ ص : ۲۸۷)

جہاں مالک قدیر نے آپ کو نامور آباؤ اجداد اور معزز و مقدس قبیلہ میں پیدا فرمایا وہیں آپ کی اولاد اورخاندان میں بھی بے شمار بے مثال ولاجواب افراد پیدا فرمائے ۔ استاد زمن ، حجۃ الاسلام ، مفتیٔ اعظم ،مفسر اعظم ،حکیم الاسلام، ریحان ملت ، صدر العلماء ، امین شریعت (رضی اللہ عنھم)جس کسی کو دیکھ لیجئے ہر ایک اپنی مثال آپ ہے ۔ انہی میں ایک نام سر سبز وشاداب باغِ رضا کے گل شگفتہ ، روشن روشن فلک رضا کے نیر تاباں قاضی القضاۃ فی الہند ، جانشین مفتیٔ اعظم ،حضور تاج الشریعہ حضرۃ العلام مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری علیہ الرحمہ کا بھی ہے ۔

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمدابراہیم رضا خاں قادری جیلانی کے لخت جگر ، سرکار مفتیٔ اعظم ہند علامہ مفتی مصطفیٰ رضاخاں قادری نوری کے سچے جانشین ،حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد حامد رضا خاں قادری رضوی کے مظہر اور سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خاں قادری برکاتی بریلوی کی برکات و فیوضات کا منبع اور ان کے علوم و روایات کے وراث و امین ہیں۔ (رضی اللہ عنھم)

ان عظیم نسبتوں کا فیضان آپ کی شخصیت میں اوصاف حمیدہ اور اخلاق کریمانہ کی صورت میں جھلک رہا ہے ۔استاذ الفقہاءحضرت علامہ مفتی عبد الرحیم صاحب بستوی علیہ الرحمہ، حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ پر ان عظیم ہستیوں کے فیضان کی بارشوں کاتذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں: ’’ سب ہی حضرات گرامی کے کمالات علمی و عملی سے آپ کو گراں قدر حصہ ملا ہے ۔ فہم و ذکا ،قوت حافظہ و تقویٰ سیدی اعلیٰ حضرت سے ، جودت طبع و مہارت تامہ (عربی ادب ) میں حضور حجۃ الاسلام سے ،فقہ میں تبحر و اصابت سرکار مفتیٔ اعظم ہند سے ، قوت خطابت و بیان والد ذی وقار مفسر اعظم ہند سے یعنی وہ تمام خوبیاں آپ کووارثتہً حاصل ہیں جن کی رہبر شریعت و طریقت کو ضرورت ہوتی ہے۔ ‘‘

(پیش گفتار ،شرح حدیث نیت/صفحہ:۴ )

ولادت باسعادت:

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت ۲۴؍ذیقعدہ ۱۳۶۲ھ /۲۳؍ نومبر ۱۹۴۳ء بروز منگل ہندوستان کے شہر بریلی شریف کے محلہ سوداگران میں ہوئی۔

اسم گرامی :

آپ کااسم گرامی ’’محمداسماعیل رضا‘‘ جبکہ عرفیت ’’اختر رضا ‘‘ہے ۔ آپ’’ اخترؔ‘‘تخلص استعمال فرماتے ہیں۔آپ کے القابات میں تاج الشریعہ ، جانشین مفتیٔ اعظم،شیخ الاسلام و المسلمین زیادہ مشہور ہیں۔

شجرۂ نسب :

اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت تک آپ کا شجرۂ نصب یوں ہے۔ تاج الشریعہ حضرۃ العلام مفتی محمد اختررضاخاں قادری ازہری بن مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد ابرہیم رضا خاں قادری جیلانی بن حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمدحامد رضا خاں قادری رضوی بن اعلیٰ حضرت  امام احمد رضا خاں قادری برکاتی بریلوی  (رضی اللہ عنھم)

آپ کے۴؍ بھائی اور۳؍بہنیں ہیں۔۲؍بھائی آپ سے بڑے ہیں ۔ریحان ملت مولانا ریحان رضا خاں قادری اورتنویر رضا خاں قادری(آپ پچپن ہی سے جذب کی کیفیت میں غرق رہتے تھے بالآخر مفقود الخبرہوگئے)اور۲؍ آپ سے چھوٹے ہیں۔ڈاکٹر قمر رضا خاں قادری اور مولانا منان رضا خاں قادری ۔

تعلیم و تربیت:

جانشین مفتیٔ اعظم حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی عمر شریف جب ۴؍سال ،۴؍ ماہ اور۴؍ دن ہوئی توآپ کے والد ماجد مفسر اعظم ہندحضرت ابراہیم رضا خاں جیلانی علیہ الرحمہ نے تقریب بسم اللہ خوانی منعقد کی ۔اس تقریب سعید میں یاد گار اعلیٰ حضرت’’ دارالعلوم منظر الاسلام‘‘ کے تمام طلبہ کو دعوت دی گئی۔ رسم بسم اللہ نانا جان تاجدار اہلسنّت سرکار مفتیٔ اعظم ہندمحمد مصطفیٰ رضاخاں نور ی علیہ الرحمہ نے ادا کرائی۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے ’’ناظرہ قرآن کریم ‘‘اپنی والدہ ماجدہ شہزادیٔ مفتیٔ اعظم سے گھر پرہی ختم کیا ۔والدماجد سے ابتدائی اردو کتب پڑھیں۔ اس کے بعد والد بزرگوار نے ’’دارالعلوم منظرالاسلام‘‘ میں داخل کرا دیا۔ درس نظامی کی تکمیل آپ نے’’ منظر الاسلام‘‘ سے کی ۔ مروجہ دنیاوی تعلیم ’’اسلامیہ انٹر کالج‘‘بریلی شریف سے حاصل کی۔ اس کے بعد۱۹۶۳ء میں حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ ’’جامعۃ الازہر‘‘ قاہرہ ،مصرتشریف لے گئے ۔ وہاں آپ نے ’’کلیہ اصول الدین‘‘ میں داخلہ لیااورمسلسل تین سال تک ’’ جامعہ ازہر‘ ‘ مصر، کے فن تفسیر و حدیث کے ماہر اساتذہ سے اکتساب علم کیا۔ تاج الشریعہ ۱۹۶۶ء / ۱۳۸۶ھ میں جامعۃ الازہر سے فارغ ہوئے۔ اپنی جماعت میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر آپ ’’جامعہ ازہر ایوارڈ‘‘سے نوازے گئے۔ایوارڈ اور سند فراغت مصرکے اس وقت کے صدر کرنل جمال عبدالناصر نے دی۔

(بحوالہ : مفتیٔ اعظم ہند اور ان کے خلفاء /صفحہ :۱۵۰/جلد :۱(مع ترمیم)وسوانح تاج الشریعہ /ص:۲۰)

اساتذہ کرام :

آپ کے اساتذہ کرام میں حضور مفتی اعظم الشاہ مصطفیٰ رضاخاں نوری بریلوی ، بحر العلوم حضرت مفتی سید محمد افضل حسین رضوی مونگیری، مفسر اعظم ہند حضرت مفتی محمد ابراہیم رضا جیلانی رضوی بریلوی،فضیلت الشیخ علامہ محمد سماحی ،شیخ الحدیث و التفسیر جامعہ ازہر ،قاہرہ، حضرت علامہ مولانا محمود عبدالغفار ،استاذالحدیث جامعہ ازہر قاہرہ ، ریحان ملت ، قائداعظم مولانا محمد ریحان رضا رحمانی رضوی بریلوی، استاذ الاساتذہ مولانا مفتی محمد احمد عرف جہانگیر خاں رضوی اعظمی ،صدرالعلماء علامہ تحسین رضا خان بریلوی ،حافظ انعام اللہ خاں تسنیم حامدی رحمہم اللہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔

[مفتیٔ اعظم ہند اور ان کے خلفاء /صفحہ :۱۵۰/جلد :۱(مع ترمیم)]

ازدواجی زندگی:

جانشین مفتی اعظم کا عقد مسنون ’’ حکیم الاسلام مولانا حسنین رضا بریلوی علیہ الرحمہ ‘‘ کی دختر نیک اخترکے ساتھ ۳؍نومبر۱۹۶۸ء/ شعبان المعظم۱۳۸۸ھ بروز اتوار کو محلہ ’’ کا نکر ٹولہ، شہر کہنہ بریلی ‘‘ میں ہوا۔

اولادامجاد:

آپ کے ایک صاحبزادہ مخدوم گرامی مولانامفتی محمد منور ضا محامد المعروف عسجدرضا خان قادری بریلوی اور پانچ (۵) صاحبزادیاں ہیں۔

درس وتدریس :

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے تدریس کی ابتدا ’’دارالعلوم منظر اسلام ،بریلی ‘‘ سے ۱۹۶۷ء میں کی۔۱۹۷۸ء میں آپ دارالعلوم کے صدر المدرس اور ’’ رضوی دارالافتاء ‘‘ کے صدر مفتی کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ درس و تدریس کا سلسلہ مسلسل بارہ سال جاری رہا لیکن حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی کثیر مصروفیات کے سبب یہ سلسلہ مستقل جاری نہیں رہ سکا ۔لیکن یہ سلسلہ مکمل ختم بھی نہ ہوا ،آ پ بعد میں بھی ’’مرکزی دارالافتاء، بریلی شریف ‘‘میں ’’تخصص فی الفقہ ‘‘ کے علمائے کرام کو ’’رسم المفتی،اجلی الاعلام‘‘ اور ’’بخاری شریف ‘‘ کا درس دیتے رہے۔

بیعت وخلافت :

حضورتا ج الشریعہ علیہ الرحمہ کو بیعت و خلافت کا شرف سرکار مفتیٔ اعظم سے حاصل ہے۔ سرکار مفتیٔ اعظم ہند علیہ الرحمہ نے بچپن ہی میں آپ کوبیعت کا شرف عطا فرمادیا تھااور صرف ۱۹؍ سال کی عمر میں۱۵؍جنوری۱۹۶۲ء/۸؍شعبان المعظم۱۳۸۱ ھ کوایک خصوصی محفل میں تمام سلاسل کی خلافت و اجازت سے نوازا۔ علاوہ ازیں آپ کوخلیفۂ اعلیٰ حضرت برہان ملت حضرت مفتی برہان الحق جبل پوری، سید العلماء حضرت سید شاہ آل مصطفیٰ برکاتی مارہروی، احسن العلماء حضرت سید حیدر حسن میاں برکاتی،والد ماجد مفسر اعظم علامہ مفتی ابراہیم رضا خاں قادری علیہم الرحمہ سے بھی جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت حاصل ہے ۔

(تجلیّات تاج الشریعہ / صفحہ: ۱۴۹ )

بارگاہ مرشد میں مقام:

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کو اپنے مرشد برحق ،شہزادہ ٔ اعلیٰ حضرت تاجدار اہلسنّت امام المشائخ مفتیٔ اعظم ہند ابو البرکات آل رحمن حضرت علامہ مفتی محمد مصطفیٰ رضاخاں نوری علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں بھی بلند مقام حاصل تھا۔ سرکار مفتی اعظم علیہ الرحمہ کو آپ سے بچپن ہی سے بے انتہا توقعات وابستہ تھیں جس کا اندازہ ان کے ارشادات عالیہ سے لگایا جاسکتاہے جو مختلف مواقع پر آپ نے ارشاد فرمائے :

’’ اس لڑکے(حضور تاج الشریعہ ) سے بہت اُمید ہے۔‘‘

سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے دارالافتاء کی عظیم ذمہ داری آپ کو سونپتے ہوئے فرمایا:

’’اختر میاں اب گھر میں بیٹھنے کا وقت نہیں، یہ لوگ جن کی بھیڑ لگی ہوئی ہے کبھی سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے ، اب تم اس کام کو انجام دو، میں تمہارے سپرد کرتا ہوں۔‘‘لوگوں سے مخاطب ہو کر مفتی اعظم علیہ الرحمہ نے فرمایا:’’آپ لوگ اب اختر میاں سلمہٗ سے رجوع کریں انہیں کو میرا قائم مقام اور جانشین جانیں۔ ‘‘

حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری دور میں حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کوتحریراًاپنا قائم مقام و جانشین مقرر فرمایا تھا۔ اس مبارک تحریر کا عکس  ملاحظہ فرمائیں۔

فتویٰ نویسی :

۱۸۱۶ء میں روہیلہ حکومت کے خاتمہ ، ’’بریلی شریف ‘‘پرانگریز وں کے قبضہ اور حضرت مفتی محمد عیوض صاحب کے ’’روہیلکھنڈ (بریلی) ‘‘ سے ’’ ٹونک ‘‘ تشریف لے جانے کے بعد بریلی کی مسند افتاء خالی تھی ۔ایسے نازک اور پر آشوب دور میں امام العلماء علامہ مفتی رضا علی خاں نقشبندی علیہ الر حمہ نے بریلی کی مسند افتاء کورونق بخشی ۔ یہیں سے خانوادۂ رضویہ میں فتاویٰ نویسی کی عظیم الشان روایت کی ابتداء ہوئی۔

(بحوالہ:مولانا نقی علی خاں علیہ الرحمہ حیات اور علمی وادبی کارنامے/ صفحہ ۷۸ )

لیکن مجموعۂ فتاویٰ بریلی شریف میںآپ کی فتویٰ نویسی کی ابتداء ۱۸۳۱ء لکھی ہے ۔ (غالباً درمیانی عرصہ انگریز قا بضوں کی ریشہ دوانیوں کے سبب مسند افتاء خالی ہی رہی) الحمدللہ! ۱۸۳۱ء سے آج ۲۰۱۸ء تک یہ تابناک سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ یعنی خاندان رضویہ میں فتاویٰ نویسی کی ایمان افروز روایت ۱۸۷؍ سال سے مسلسل چلی آرہی ہے ۔امام العلماء،حضرت علامہ مفتی محمد رضا علی خاں قادری بریلوی، امام المتکلمین ، حضرت علامہ مولانامحمد نقی علی خاں قادری برکاتی،اعلیٰ حضرت ،مجدد دین وملت ،حضرت علامہ مولانا مفتی محمد احمد رضا خاں قادری برکاتی ، شہزادۂ اعلیٰ حضرت ،حجۃ الاسلام ،جمال الانام حضرت علامہ مولانا مفتی حامد رضا خاں قادری رضوی، شہزادۂ اعلیٰ حضرت تاجدار اہل سنت ، مفتیٔ اعظم ہند ،علامہ مولانا مفتی محمد مصطفیٰ رضا خاں قادری نوری، نبیرۂ اعلیٰ حضرت ،مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی ابراہیم رضا خاں قادری رضوی اور ان کے بعد قاضی القضاۃ فی الہند ،تاج الشریعہ ،حضرت علامہ مولانا مفتی اختر رضا خاں قادری ازہری علیہم الرحمہ۱۹۶۷ء سے تادم وصال (۲۰؍جولائی۲۰۱۸ء)تک تقریباً۵۱؍سال تک یہ عظیم خدمت بحسن و خوبی سرانجام دیتے رہے ۔

(بحولہ: فتاویٰ بریلی شریف /صفحہ:۲۲ (مع ترمیم))

اللہ کریم خانوادۂ رضویہ کی اس عظیم روایت کو جانشین تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمدعسجد رضا خان المعروف اچھے میاں دام ظلہٗ علینا کے ذریعہ تادیر قائم رکھے۔آمین

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ خود اپنے فتوی نویسی کی ابتداء سے متعلق فرماتے ہیں:’’میں بچپن سے ہی حضرت (مفتیٔ اعظم) سے داخل سلسلہ ہو گیا ہوں، جامعہ ازہر سے واپسی کے بعد میں نے اپنی دلچسپی کی بناء پر فتویٰ کا کام شروع کیا۔ شروع شروع میں مفتی سید افضل حسین صاحب علیہ الرحمہ اور دوسرے مفتیانِ کرام کی نگرانی میں یہ کام کرتا رہا۔ اور کبھی کبھی حضرت(مفتیٔ اعظم علیہ الرحمہ) کی خدمت میں حاضر ہو کر فتویٰ دکھایا کرتا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد اس کام میں میری دلچسپی زیادہ بڑھ گئی اور پھر میں مستقل حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے لگا۔ حضرت کی توجہ سے مختصر مدت میں اس کام میں مجھے وہ فیض حاصل ہوا کہ جو کسی کے پاس مدتوں بیٹھنے سے بھی نہ ہوتا ۔‘‘

(مفتیٔ اعظم ہند اور ان کے خلفاء صفحہ : ۱۵۰/جلد :۱)

حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے فتاویٰ سارے عالم میں سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ وہ دقیق و پیچیدہ مسائل جو علماء اور مفتیان کرام کے درمیان مختلف فیہ ہوں ان میں حضرت کے قول کو ہی فیصل تسلیم کیا جاتا تھا اور جس فتویٰ پر آپ کی مہر تصدیق ثبت ہو خواص کے نزدیک بھی۔ وہ انتہائی معتبر ہوتاتھا۔حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے فتاویٰ سے متعلق جگرگوشۂ صدرالشریعہ ، محدث کبیر حضرت علامہ مفتی ضیاء المصطفیٰٰ اعظمی دامت برکاتہم العالیہ رقم طراز ہیں: ’’تاج الشریعہ کے قلم سے نکلے ہوئے فتاویٰ کے مطالعہ سے ایسا لگتا ہے ہم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی تحریر پڑھ رہے آپ کی تحریرمیںدلائل اور حوالہ جات کی بھر مار سے یہی ظاہر ہوتاہے ۔‘‘

(حیات تاج الشریعہ/صفحہ۶۶)

حج وزیارت:

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے پہلی مرتبہ حج وزیارت کی سعادت ۱۴۰۳ھ/ ۱۹۸۳ء میںحاصل کی ۔دوسری مرتبہ ۱۴۰۵ھ/ ۱۹۸۵ء اور تیسری مرتبہ ۱۴۰۶ھ/۱۹۸۶ء میں اس سعادت عظمیٰ سے مشرف ہوئے ۔جبکہ چوتھی مرتبہ ۱۴۲۹ھ/۲۰۰۸ء میں،پانچویں مرتبہ ۱۴۳۰ھ/۲۰۰۹ء میں،چھٹی مرتبہ ۱۴۳۱ھ/۲۰۱۰ء میںآپ نے حج بیت اللہ ادا فرمایا۔ نیز متعدد مرتبہ آپ کو سرکار عالی وقارﷺ کی بارگاہ بے کس پناہ سے عمرہ کی سعادت بھی عطا ہوئی ۔

اعلائے کلمۃ الحق: احقاق حق و ابطال باطل ،خانوادۂ رضویہ کی ان صفات میں سے ہے جس کا اعتراف نہ صرف اپنوں بلکہ بیگانوں کو بھی کرنا پڑا۔یہاں حق کے مقابل نہ اپنے پرائے کا فرق رکھا جاتا ہے نہ امیر و غریب کی تفریق کی جاتی ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا دور تو تھا ہی فتنوں کا دور ہر طرف کفرو الحاد کی آندھیاں چل رہی تھیں لیکن علم بردار حق سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے کبھی باطل کے سامنے سر نہ جھکایا چاہے ذبحِ گائے کا فتنہ ہویاہندو مسلم اتحاد کا ، تحریک ترک موالات ہو یا تحریک خلافت یہ مرد مومن آوازۂ حق بلند کرتا ہی رہا۔ سرکارمفتیٔ اعظم علیہ الرحمہ کی حق گوئی وبے باکی بھی تاریخ کا درخشندہ باب ہے۔ شدھی تحریک کا زمانہ ہو یانسبندی کاپر خطر دور ہوآپ نے علم حق کبھی سرنگوں نہ ہونے دیا۔ اللہ رب العزت نے جانشین مفتی اعظم علیہ الرحمہ کواپنے اسلاف کا پرتو بنایا ۔آپ کی حق گوئی اور بے باکی بھی قابل تقلید ہے۔ وقتی مصلحتیں،طعن و تشنیع ، مصائب وآلام یہاں تک کہ قید و بند کی صعوبتیں بھی آپ کو راہ حق سے نہ ہٹا سکیں ۔آپ نے کبھی اہل ثروت کی خوشی یا حکومتی منشاء کے مطابق فتویٰ نہیں تحریر فرمایا، ہمیشہ صداقت و حقانیت کا دامن تھامے رکھا ۔اس راہ میں کبھی آپ نے اپنے پرائے ، چھوٹے بڑے کافرق ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ ہر معاملہ میں آپ اپنے آباء و اجدادکی روشن اور تابناک روایتوں کی پاسداری فرماتے رہے ہیں۔شیخ عالم حضرت علامہ سیدشاہ فخر الدین اشرف الاشرفی کچھوچھوی دامت برکاتہم القدسیہ زیب سجادہ کچھوچھہ مقدسہ تحریر فرماتے ہیں: ’’علامہ (حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کا)……ہر ہر حال میں باد سموم کی تیز و تند،غضبناک آندھیوںکی زد میں بھی استقامت علی الحق کا مظاہر ہ کرنا اور ثابت قدم رہنا یہ وہ عظیم وصف ہے جس نے مجھے کافی متاثر کیا۔‘‘

(تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :۲۵۱)

اس سلسلہ میں ۲؍ واقعات درج ذیل ہیں ۔۱۹۸۶ء/۱۴۰۶ھ میں تیسری مر تبہ ادائیگیٔ حج کے موقع پرسعودی حکومت نے آپ کو بیجا گرفتار کرلیا اس موقع پر آپ نے حق گوئی و بے باکی کاجومظاہرہ کیا وہ آپ ہی کاحصہ ہے۔ سعودی مظالم کی مختصرسی جھلک خود حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:’’مختصر یہ کہ مسلسل سوالات کے باوجود میرا جرم میرے بار بار پوچھنے کے بعد بھی مجھے نہ بتایا بلکہ یہی کہتے رہے کہ : ’’میرا معاملہ اہمیت نہیں رکھتا۔‘‘ لیکن اس کے باوجود میری رہائی میں تاخیر کی اور بغیر اظہار جرم مجھے مدینہ منورہ کی حاضری سے موقوف رکھا اور۱۱؍ دنوں کے بعد جب مجھے جدہ روانہ کیا گیا تو میرے ہاتھوں میں جدہ ائیر پورٹ تک ہتھکڑی پہنائے رکھی اور راستے میں نماز ظہر کے لیے موقع بھی نہ دیا گیا اس وجہ سے میری نماز ظہر قضاہو گئی۔‘‘

(مفتیٔ اعظم ہند اور ان کے خلفاء صفحہ :۱۵۰/جلد :۱)

ذیل کے اشعار میں حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے اسی واقعہ کا ذکرفرمایا ہے :

نہ رکھا مجھ کو طیبہ کی قفس میں اس ستم گر نے
ستم کیسا ہوا بلبل پہ یہ قید ستم گر میں

ستم سے اپنے مٹ جائو گے تم خود اے ستمگارو
سنو ہم کہہ رہے ہیں بے خطرہ دورِستم گر میں

سعودی حکومت کے اس متعصب رویہ ،حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی بیجا گرفتاری اور مدینہ طیبہ کی حاضری سے روکے جانے پر پورے عالم اسلام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ، مسلمانان اہل سنت کی جانب سے ساری دنیا میں سعودی حکومت کے خلاف احتجاجات کا سلسلہ شروع ہوگیا ، اخبارات و رسائل نے بھی آپ کی بیجا گرفتاری کی شدید مذمت کی۔ آخر کاراہل سنت و جماعت کی قربانیاں رنگ لائیں ، سعودی حکومت کو سر جھکانا پڑا ،اس وقت کے سعودی فرنروا شاہ فہدنے لندن میں یہ اعلان کیاکہ ’’حرمین شریفین میں ہر مسلک کے لوگوں کو ان کے طریقے پر عبادات کرنے کی آزادی ہو گی۔‘‘اس دور کے پاک ہند اور عرب دنیا کے اخبارات گواہ ہیں ۔نیز سعودی حکومت نے آپ کو زیارت مدینہ طیبہ اور عمرہ کے لئے ایک ماہ کا خصوصی ویزہ بھی دیا۔ اس معاملہ میں قائد اہلسنّت حضرت علامہ ارشد القادری کی کاوشیں قابل ذکر ہیں۔
خلیفۂ سرکار مفتیٔ اعظم ہند ، علامہ بدر الدین احمد قادر ی علیہ الرحمہ حضور تاج الشریعہ علیہ الر حمہ کی حق گوئی سے متعلق رقم طراز ہیں :’’ امسال حضرت سرکار خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کے سالانہ عرس پاک کے موقع پر میں اجمیر مقدس حاضر ہوا، چھٹویں رجب ۱۴۰۹ھ بروز دوشنبۂ مبارکہ (پیر) مطابق ۱۳؍فروری۱۹۸۹ء کو حضرت سید احمد علی صاحب قبلہ خادم درگاہ سرکار خواجہ صاحب کے کاشانہ پر قل شریف کی محفل منعقد ہوئی ۔ محفل میں حضرت علامہ مولانا اختر رضاازہری قبلہ مدظلہٗ العالی اور حضرت مولانا مفتی رجب علی صاحب قبلہ ساکن نانپارہ بہرائچ شریف نیز دیگر علماء کرا م موجود تھے ۔ قل شریف کے اس مجمع میں سرکار شیر بیشۂ اہلسنّت امام المناظرین حضور مولانا علامہ محمد حشمت علی خاں علیہ الرحمۃ و الرضوان کے صاحبزادے مولانا ادریس رضا خاں صاحب تقریر کر رہے تھے ۔ اثنائے تقریر میں مولانا موصوف کی زبان سے یہ جملہ نکلا کہ:’’ ہمارے سرکار پیارے مصطفیٰ ﷺ اپنے غلاموں کو اپنی کالی کملی میں چھپائیں گے ۔ ‘‘ فوراً حضرت علامہ ازہری صاحب قبلہ نے مولانا موصوف کو ٹوکتے ہوئے فرمایا کہ (کالی کملی کے بجائے )نوری چادر کہو۔ یہ شرعی تنبیہ سنتے ہی مولانا موصوف نے اپنی تقریر روک کر پہلے حضرت علامہ ازہری قبلہ کی تنبیہ کو سراہا ، بعدہٗ بھرے مجمع میں یہ واضح کیا کہ ’’کملی ‘‘تصغیر کا کلمہ ہے جس کو سرکار ﷺ کی طرف نسبت کرکے بولنا ہر گز جائز نہیں اور چوں کہ میری زبان سے یہ خلاف شریعت کلمہ نکلا اس لئے میں بارگاہ الٰہی میں اس کلمہ کے بولنے سے توبہ کرتاہوں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے ۔ (ھٰذَا اَوْکَمَا قَالَ ) پھر توبہ کے بعد موصوف نے اپنی بقیہ تقریر پوری کی ۔ ‘‘ (عطیۂ ربانی در مقالۂ نورانی ،صفحہ :۲۳،۲۴)

زہد و تقویٰ :

حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ اخلاق حسنہ اور صفات عالیہ کا مرقع ہیں۔جہاںحکمت و دانائی ، طہارت و پاکیزگی ،بلندیٔ کردار خوش مزاجی و ملنساری ،حلم و بردباری ، خلوص و للّٰہیت،شرم و حیا،صبر و قناعت ،صداقت و استقامت بے شمار خوبیاں آپ کی شخصیت میں جمع ہیں ،وہیں آپ زہد و تقویٰ کا بھی مجسم پیکر ہیں۔آپ کے تقویٰ کی ایک جھلک ذیل کے واقعات میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
مولانا غلام معین الدین قادری (پرگنہ ،مغربی بنگال)لکھتے ہیں:’’حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے حضرت پیر سید محمد طاہر گیلانی صاحب قبلہ بہت محبت فرمایا کرتے ان کے اصرار پر حضرت پاکستان بھی تشریف لے گئے واہگہ سرحد پر حضرت کا استقبال صدر مملکت کی طرح ۷؍ توپوں کی سلامی دے کر کیا گیا۔حضرت کا قیام ان کے ایک عزیزشوکت حسن صاحب کے یہاں تھا۔ راستے میں ایک جگہ ناشتہ کا کچھ انتظام تھاجس میں انگریزی طرز کے ٹیبل لگے تھے حضرت نے فرمایا : ’’میں پاؤں پھیلاکر کھانا تناول نہیںکروں گا۔‘‘ پھر پاؤں سمیٹ کر سنت کے مطابق اسی کرسی پر بیٹھ گئے یہ سب دیکھ کر حاضرین کا زور دار نعرہ ’’بریلی کا تقویٰ زندہ باد ‘‘ گونج پڑا ۔ ‘‘ (تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :۲۵۵)
مولانا منصور فریدی رضوی (بلاسپور ،چھتیس گڑھ)حضرت کے ایک سفر کا حال بیان کرتے ہیں:’’محب مکرم حضرت حافظ وقاری محمد صادق حسین فرماتے ہیںکہ ، حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی خدمت کے لئے میں معمور تھا … اور اپنے مقدر پر ناز کررہا تھا کہ ایک ذرۂ ناچیز کو فلک کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہورہا تھا اچانک میری نگاہ حضوروالا(تاج الشریعہ ) کی ہتھیلیوں پر پڑی میں ایک لمحہ کے لئے تھرا گیا آخر یہ کیا ہورہا ہے میری نگاہیں کیا دیکھ رہی ہیں مجھے یقین نہیں ہورہا ہے ۔ آپ تو گہری نیند میں ہیںپھر آپ کی انگلیاں حرکت میں کیسے ہیں؟ میں نے مولانا عبد الوحید فتح پوری جو اس وقت موجود تھے اور دیگر افراد کو بھی اس جانب متوجہ کیا تما م کے تما م حیرت و استعجاب میں ڈوب گئے تھے ، معاملہ یہ ہے کہ آپ کی انگلیاں اس طرح حرکت کررہی تھیں گویا آپ تسبیح پڑھ رہے ہوںاور یہ منظرمیں اس وقت تک دیکھتا رہا جب تک آپ بیدار نہیں ہوگئے ۔ان تمام تر کیفیات کو دیکھنے کے بعد دل پکار اٹھتا ہے کہ ؎

سوئے ہیں یہ بظاہر د ل ان کا جاگتاہے ‘‘

(تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :۳۱۴)

ولیٔ باکرامت :

حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ جہاں ایک عاشق صادق، باعمل عالم ،لاثانی فقیہ ، باکمال محدث ،لاجواب خطیب ،بے مثال ادیب ، کہنہ مشق شاعرہیں وہیں آپ باکرامت ولی بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے استقامت سب سے بڑی کرامت ہے اور حضورتاج الشر یعہ علیہ الرحمہ کی یہی کرامت سب سے بڑھ کر ہے ۔ ضمناًآپ کی چند کرامات پیش خدمت ہیں۔
مفتی عابد حسین قادری (جمشید پور، جھارکھنڈ )لکھتے ہیں:’’۲۲؍جون ۲۰۰۸ء محب محترم جناب قاری عبد الجلیل صاحب شعبۂ قرأت مدرسہ فیض العلوم جمشید پور نے راقم الحروف سے فرمایا کہ: ’’۵؍ سال قبل حضرت ازہری میاں قبلہ دار العلوم حنفیہ ضیا القرآن ،لکھنؤ کی دستار بندی کی ایک کانفرنس میں خطاب کے لئے مدعو تھے ۔ ان دنوں وہاں بارش نہیں ہو رہی تھی ،سخت قحط سالی کے ایام گزررہے تھے، لوگوں نے حضرت سے عرض کی کہ حضور بارش کے لئے دعا فرمادیں ۔ حضرت نے نماز ِ استسقاء پڑھی اور دعائیں کیں ابھی دعا کرہی رہے تھے کہ وہاں موسلادھار بارش ہونے لگی اور سارے لوگ بھیگ گئے ۔ ‘‘(تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :۲۲۹)
ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری (ممبئی)لکھتے ہیں :’’ میسور میں حضرت کے ایک مرید کی دکان کے بازو میں کسی متعصب مارواڑی کی دکان تھی ، وہ بہت کوشش کرتاتھا کہ دکان اس کے ہاتھ بیچ کر یہ مسلمان یہاں سے چلا جائے ، اپنی اس جدو جہد میں وہ انسانیت سوز حرکتیں بھی کرگزرتا ، اخلاقی حدوں کو پار کرجاتا، مجبور ہو کر حضرت کے اس مرید نے حضرت کو فون کیا ، حالات کی خبر دی ، معاملات سے مطلع کیا ،حضرت نے فرمایا:’’میں یہاں تمہارے لئے دعا گو ہوں، تم وہاں ہر نماز کے بعد خصوصاًاورچلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھے سوتے جاگتے عموماً ’’یاقادر‘‘کا ورد کرتے رہو۔‘‘اس وظیفے کے ورد کو ابھی ۱۵؍دن ہی ہوا تھا کہ نہ معلوم اس مارواڑی کو کیا ہوا ، وہ جو بیچارے مسلمان کو دکان بیچنے پر مجبور کردیا تھااب خود اسی کے ہاتھ اپنی دکان بیچنے پر اچانک تیار ہوگیا ۔ مارواڑی نے دکان بیچی ،مسلمان نے دکان خریدی، جو شکار کرنے چلا تھا خود شکار ہو کر رہ گیا۔ آج وہ حضرت کا مرید باغ و بہار زندگی گزار رہا ہے ۔ ‘‘(تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :۱۷۵،۱۷۶)
موصوف مزیدلکھتے ہیں:’’ہبلی میں ایک صاحب نے کروڑوں روپے کے صرفے سے عالیشان محل تیار کیا ، مگر جب سکونت اختیار کی تو یہ غارت گرسکون تجربہ ہوا کہ رات میں پورے گھر میں تیز آندھی چلنے کی آواز آتی ہے ۔ گھبرا کر مجبوراً اپنا گھر چھوڑ کر پھر پرانے گھر میں مکین ہونا پڑا۔ اس اثناء میں جس کو بھی بھاڑے (کرایہ )پر دیا سب نے وہ آواز سنی اور گھر خالی کردیا۔ ایک عرصے سے وہ مکان خالی پڑا تھا کہ ہبلی میں حضرت کا پروگرام طے ہوا ، صاحب مکان نے انتظامیہ کو اس بات پر راضی کرلیا کہ حضرت کا قیام میرے نئے کشادہ مکان میں رہے گا ، مہمان نوازی کی اوردیگر لوازمات کی بھی ذمہ داری اس نے قبول کرلی ، حضرت ہبلی تشریف لائے اور رات میں صرف چند گھنٹہ اس مکان میں قیام کیا ، عشاء اور فجر کی ۲؍رکعت نماز باجماعت ادا فرمائی،اس مختصر قیام کی برکت یہ ہوئی کہ کہاں کی آندھی اورکہاں کا طوفان ، کہاں کی سنسناہٹ اور کہا ں کی گڑگڑاہٹ سب یکسر معدوم ، آج تک وہ مکان سکون و اطمینان کا گہوارہ ہے ۔‘‘(تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :۱۷۶)

تصانیف :

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ اپنے جد امجد،مجدد دین ملت سیدنا اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے مظہر اتم اور پر تو کامل ہیں ۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تحریری خدمات اور طرز تحریر محتاج تعارف نہیں ہے۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الر حمہ میدان تحریر میں بھی اعلیٰ حضرت کا عکس جمیل نظر آتے ہیں۔ آپ کی تصانیف و تحقیقات مختلف علوم و فنون پر مشتمل ہیں۔تحقیقی انداز ،مضبوط طرزا ستدلال ، کثرت حوالہ جات، سلاست وروانی آپ کی تحریر کو شاہکار بنا دیتی ہے۔ آپ اپنی تصانیف کی روشنی میں یگانۂ عصر اور فرید الدہر نظر آتے ہیں۔حضرت محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰٰ اعظمی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: ’’تاج الشریعہ کے قلم سے نکلے ہوئے فتاویٰ کے مطالعہ سے ایسا لگتا ہے کہ ہم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی تحریر پڑھ رہے ہیں، آپ کی تحریر میں دلائل اور حوالہ جات کی بھر مار سے یہی ظاہر ہوتا ہے ۔‘‘(حیات تاج الشریعہ/صفحہ :۶۶)
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ افتاء و قضا، کثیر تبلیغی اسفار اوردیگر بے تحاشہ مصرفیات کے باوجود تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھے رہے۔آپ کی قلمی نگارشات(مطبوعہ و غیر مطبوعہ)کی فہرست درج ذیل ہے۔(نوٹ:اس فہرست میں بعض دیگر زبانوں میں حضرت کی کتب کے تراجم بھی شامل ہیں۔)

اردو

1 ہجرت رسول ﷺ

2 آثار قیامت (تخریج شدہ)

3 ٹائی کا مسئلہ

4 حضرت ابراہیم کے والد تارخ یا آزر(مقالہ)

5 ٹی وی اور ویڈیوکا آپریشن مع شرعی حکم

6 شرح حدیث نیت

7 سنو، چپ رہو(دوران تلاوت’’ نعرۂ حق نبی‘‘ کی ممانعت)

8 دفاع کنز الایمان(2جلد)

9 الحق المبین

10 تین طلاقوں کا شرعی حکم

11 کیا دین کی مہم پوری ہوچکی ؟(مقالہ)

12 جشن عید میلاد النبی ﷺ

13 سفینۂ بخشش (دیوانِ شاعری)

14 تبصرہ بر حدیث افتراق امت
15 تصویر کا مسئلہ

16 اسمائے سورۂ فاتحہ کی وجہ تسمیہ

17 القول الفائق بحکم الاقتداء بالفاسق

18 افضلیت صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ عنہما

19 سعودی مظالم کی کہانی اختر رضا کی زبانی

20 المواہب الرضویہ فی فتاویٰ الازہریہ المعروف فتاویٰ تاج الشریعہ

21 چلتی ٹرین پر فرض و واجب نمازوں کی ادائیگی کا حکم

22 تقدیم (تجلیۃ السلم فی مسائل نصف العلم از اعلیٰ حضرت)

23 تراجم قرآن میں کنزالایمان کی اہمیت (غیرمطبوعہ)

24 منحۃ الباری فی حل صحیح البخاری

25 ملفوظات تاج الشریعہ(غیرمطبوعہ )

26 حاشیہ المعتقد المنتقد

27 رویت ہلال کا ثبوت

28 تراجم قرآن میں کنزالایمان کی اہمیت(غیر مطبوعہ)

29متعدد مقالہ جات (مطبوعہ/غیر مطبوعہ)

30 ایک غلط فہمی کا ازالہ

عربی

31 الحق المبین

32 الصحابۃ نجوم الاھتداء

33 شرح حدیث الاخلاص

34 نبذۃ حیاۃ الامام احمد رضا

35 حاشیہ عصیدۃ الشہدہ شرح القصیدۃ البردہ

36 الفردہ شرح القصیدۃالبردۃ

37 حاشیۃ الازہری علی صحیح البخاری

38 تحقیق أن أباسیدنا إبراہیم ں (تارح)لا(آزر)

39 مراۃ النجدیہ بجواب البریلویہ(حقیقۃ البریلویہ)

40 القمح المبین لامال المکذبین

41 روح الفوٗاد بذکریٰ خیر العباد(دیوانِ شاعری )

42 نهاية الزين في التخفيف عن أبي لهب يوم الإثنين

43 سد المشارع علی من یقوان الدین یستغنی عن الشارع

تعاریب

44 برکات الامداد لاہل استمداد

45 فقہ شہنشاہ

46 عطایا القدیر فی حکم التصویر

47 صلاۃ الصفا بنور المصطفیٰ

48 تیسیر الماعون لسکن فی الطاةعون

49 شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام

50 قوارع القھارفی الردالمجسمۃ الفجار

51 الہاد الکاف فی حکم الضعاف

52 سبحن السبوح عن عیب کذب مقبوح

53 دامان باغ سبحان السبوح

54 انہی الاکید

55 حاجز البحرین

56 اہلاک الوہابین علی توہین القبور المسلمین(صیانۃ القبور)

57 القمر المبین

58 فتاویٰ رضویہ (جلد اول)

تراجم

59 انوار المنان فی توحید القرآن

60 المعتقد والمنتقد مع المعتمد المستمد

61 الزلال النقیٰ من بحر سبقۃ الاتقی(تخریج شدہ)

62 قصیدتان رائعتان(غیر مطبوعہ)

63 عطایا القدیر فی حکم التصویر(عربی عبارات کا ترجمہ)

64 فضیلت نسب (اراءۃ الادب لفاضل النسب)

English

61 Aasar e Qiyamat 62 Azhar ul Fatawa (Few Eng. Fataw)
63 Tai ka masala 64 A Just answer to the beased Author
65 The Companions are the Stars of Guidance
66 Of Pure Origin (On the Identity of Prophet IbrhÏm’s Father)
67 THE PINNACLE OF BEAUTY
68 On the Lightening of Abu Lahab’s Punishment each Monday

عربی ادب :

حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ عربی ادب پر بھی کمال مہارت اور مکمل دسترس رکھتے ہیںآپ کی عربی تصانیف بالخصوص تعلیقاتِ زاہرہ ( صحیح البخاری پرابتداء تا باب بنیان الکعبہ آپ کی گرانقدر تعلیقات)اور سیدنا اعلیٰ حضرت کی جن کتب کی آپ نے تعریب فرمائی ہے ہمارے دعوے کی بین دلیل ہیں۔حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی عربی زبان و ادب پر کامل عبور کا اندازہ سیدنا اعلیٰ حضرت کے رسالہ ’’ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرم ‘‘ (جس کی تعریب آپ نے فرمائی ہے )اورآپ کے رسالہ ’’أن أباسیدنا ابراہیم تارح -لا-آزر‘‘پر علمائے عرب کی شاندار تقاریظ اور حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کو دیئے گئے القابات و خطابات سے کیا جاسکتاہے ۔
حضرت شیخ عبداللہ بن محمد بن حسن بن فدعق ہاشمی(مکہ مکرمہ)فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: یہ کتاب نہایت مفیدواہم مباحث اور مضامین عالیہ پر حاوی ہے ،طلبہ و علماء کو اس کی اشد ضرورت ہے ۔‘‘
آپ حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کو ان القاب سے ملقب کرتے ہیں: ’’فضیلۃ الامام الشیخ محمد اختر رضا خاں الازہری، المفتی الاعظم فی الہند،سلمکم اللہ وبارک فیکم‘‘
ڈاکٹر شیخ عیسیٰ ابن عبداللہ بن محمد بن مانع حمیری(سابق ڈائریکٹر محکمۂ اوقاف وامور اسلامیہ،دبئی و پرنسپل امام مالک کالج برائے شریعت و قانون ، دبئی )ڈھائی صفحات پر مشتمل اپنے تاثرات کے اظہار کے بعد فرماتے ہیں: ’’الشیخ العارف باللّٰہ المحدث محمد اختر رضا الحنفی القادری الازہری‘‘
حضرت شیخ موسیٰ عبدہ یوسف اسحاقی (مدرس فقہ و علوم شرعیہ،نسابۃ الاشراف الاسحاقیہ ،صومالیہ) محو تحریر ہیں: ’’استاذالاکبر تاج الشریعہ فضیلۃ الشیخ محمد اختر رضا ، نفعنااللہ بعلومہ وبارک فیہ ولاعجب فی ذلک فانہ فی بیت بالعلم معرف و بالارشاد موصوف وفی ھذا الباب قادۃ اعلام‘‘
حضرت شیخ واثق فواد العبیدی (مدیر ثانویۃ الشیخ عبدالقادرالجیلانی)اپنے تاثرات کا اظہار یو ں کرتے ہیں: ’’ترجمہ: حضرت تاج الشریعہ کی یہ تحقیق جو شیخ احمد شاکر محدث مصر کے رد میں ہے قرآن و سنت کے عین مطابق ہے آپ نے اس تحقیق میں جہد مسلسل اور جانفشانی سے کام لیاہے میں نے اس کے مصادر و مراجع کامراجعہ کیا تو تمام حوالہ جات قرآن وحدیث کے ادلہ عقلیہ و نقلیہ پر مشتمل پائے ، اور مشہور اعلام مثلاً امام سبکی ، امام سیوطی ، امام رازی اور امام آلوسی وغیرہ کے اقوال نقل کئے ہیں۔‘‘
اور آپ حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کا تذکر ہ ان الفاظ میں کرتے ہیں: ’’شیخنا الجلیل ،صاحب الرد قاطع ، مرشدالسالیکن ، المحفوظ برعایۃ رب العالمین،العالم فاضل ،محمد اختر رضا خاں الحنفی القادری الازہری ، وجزاء خیر مایجازی عبد ا مین عبادہ‘‘
حضرت مفتی ٔ اعظم عراق شیخ جمال عبدالکریم الدبان حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کو ان القابات سے یاد کرتے ہیں:’’الامام العلامۃ القدوۃ ،صاحب الفضیلۃ الشیخ محمد اختر رضاالحنفی القادری ، ادامہ اللہ وحفظہ ونفع المسلمین ببرکۃ‘‘

علم حدیث:

حضورتاج الشریعہ دعلیہ الرحمہ اس میدان کے بھی شہہ سوار ہیں۔ علم حدیث ایک وسیع میدان ، متعدد انواع ،کثرت علوم اور مختلف فنون سے عبارت ہے جو علم قواعدمصطلحات حدیث ،دراستہ الاسانید ، علم اسماء الرجال ، علم جرح و تعدیل وغیرہم علوم و فنون پر مشتمل ہے ۔ علم حدیث میں حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی قدرت تامہ ، لیاقت عامہ،فقاہت کاملہ،عالمانہ شعور ،ناقدانہ بصیرت اور محققانہ شان وشوکت علم حدیث سے متعلق آپ کی تصانیف ’’ شرح حدیث الاخلاص ‘ ‘ (عربی)شرح حدیث نیت(اردو)،’’ الصحابہ نجوم الاھتداء‘ ‘ ’’ تعلیقات الازہری علیٰ صحیح البخاری‘ ‘ ،’’ آثار قیامت ‘ ‘سے خصوصاً ودیگر کتب سے عموماً آشکار ہے ۔مولانا محمد حسن ازہری (جامعۃ الازہر ،مصر)رقم طراز ہیں:’’اصحابی کالنجوم الخ کے تعلق سے حضورتاج الشریعہ مدظلہٗ العالی نے جو تحقیقی مرقع پیش کیاہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اصول حدیث پر حضورتاج الشریعہ کو کس قدر ملکہ حاصل ہے ۔‘‘ [تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ۳۸۶]
مفتی محمد سلیم بریلوی مدظلہٗ العالی مدرس دارالعلوم منظر اسلام ومدیر اعزازی ماہنامہ اعلیٰ حضرت بریلی شریف ’’الصحابۃ نجوم الاھتداء‘‘ سے متعلق لکھتے ہیں:’’ فن حدیث اور اس کے متعلقہ فنون میں سرکار تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی اگر مہارت تامہ دیکھنا ہو تو دلیل کے طور پر یہی مختصر رسالہ ہی کافی ہے۔آپ نے اس رسالے میں ’’نقدرجال ‘‘کے تعلق سے جو فاضلانہ بحث کی ہے اسے دیکھ کر یہ یقین ہوجاتا ہے کہ بلا شبہ آپ وارث علوم اعلیٰ حضرت تھے۔اگر کسی نے سیدی سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فن حدیث سے متعلق مباحث و رسائل خاص کر ’’الھاد الکاف‘‘ ،’’تقبیل الابہامین‘‘،’’حاجز البحرین‘‘ اور ’’شمائم العنبر‘‘جیسے رسائل کا مطالعہ کیا ہے تو وہ ’’الصحابہ نجوم الاہتداء‘‘ پڑھ کر ضرور یہ نتیجہ اخذ کرے گا کہ اس رسالے کی ہر بحث ، اس کی ہر بحث کی ہر سطر اور اس کے ہر ہر لفظ میں سیدی سرکار اعلیٰ حضرت ،سرکار حجۃ الاسلام ، سرکار مفتیٔ اعظم ہند اور سرکار مفسر اعظم ہند کے علوم و فنون کے جلوے نظر آتے ہیں۔
سرکار تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے سلفی ذہن رکھنے والے معاصر محققین کا جس انداز میں روایتاً اور درایتاً تعاقب کیا ہے وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔اس حدیث پر الزام وضع کوآپ نے ۷؍وجوہات سے دفع فرمایا ہے۔‘‘(ماہنامہ اعلیٰ حضرت ،بریلی شریف ،ستمبر /اکتوبر۲۰۱۸ء’’تاج الشریعہ نمبر‘‘صفحہ ۶۰،۶۱)

ترجمہ نگاری :

ترجمہ نگاری انتہائی مشکل فن ہے ۔ترجمہ کا مطلب کسی بھی زبان کے مضمون کو اس انداز سے دوسری زبان میں منتقل کرنا ہے کہ قاری کو یہ احساس نہ ہونے پائے کہ عبارت بے ترتیب ہے یا اس میں پیوند کاری کی گئی ہے۔ کماحقہٗ ترجمہ کرنا انتہائی مشکل امر ہے۔ اس میں ایک زبان کے معانی اور مطالب کودوسری زبان میں اس طرح منتقل کیا جاتاہے کہ اصل عبارت کی خوبی اور مطلب ومفہوم قاری تک صحیح سلامت پہنچ جائے۔یعنی اس بات کا پورا خیال رکھاجائے اصل عبارت کے نہ صرف پورے خیالات و مفاہیم بلکہ لہجہ و انداز ،چاشنی و مٹھاس ، جاذبیت و دلکشی ،سختی و درشتگی،بے کیفی و بے رنگی اسی احتیاط کے ساتھ آئے جو محرر کا منشا ء ہے اور پھر زبان و بیان کا معیار بھی نقل بمطابق اصل کامصداق ہو۔
علمی و ادبی ترجمے تو صرف دنیاوی اعتبار سے دیکھے جاتے ہیں لیکن دینی کتب خاص کر قرآن وحدیث کا ترجمہ انتہائی مشکل اور دقت طلب امرہے ۔ یہاں صرف فن ترجمہ کی سختیاں ہی درپیش نہیںہوتیں بلکہ شرعی اعتبار سے بھی انتہائی خطرہ لاحق رہتاہے کہ کہیں اصل معنی میں تحریف نہ ہوجائے کہ سارا کیا دھرا برباد اور دنیا و آخرت میں سخت مؤاخذہ بھی ہو۔ اس کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جس کاا س سے واسطہ پڑ اہو۔
حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ جہاں دیگر علوم و فنون پر مکمل عبور اور کامل مہارت رکھتے ہیں وہیں ترجمہ نگاری کے میدان میں بھی آپ اپنی مثال آپ ہیں۔ حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی ترجمہ نگاری سے متعلق نبیرۂ محد ث اعظم ہند ،شیخ طریقت علامہ سیدمحمد جیلانی اشرف الاشرفی کچھوچھوی دامت برکاتہم العالیہ کا یہ تبصرہ ملاحظہ فرمایں : ’’ارے پیارے! ’’المعتقدو المنتقد‘‘ فاضل بدایونی نے اور اس پر حاشیہ ’’ المعتمد المستند ‘‘ فاضل بریلوی نے عربی زبان میں لکھا ہے اور جس مندرجہ بالااقتباس کو ہم نے پڑھا اسے اہل سنت کی نئی نسل کے لئے تاج الشریعہ ، ملک الفقہاء حضرت العلام اختر رضا خاںازہری صاحب نے ان دونوں اکابر ین کے ادق مباحث کو آسان اور فہم سے قریب اسلوب سے مزین ایسا ترجمہ کیا کہ گویا خود ان کی تصنیف ہے ۔ ’’المعتمد‘‘ کے ترجمہ میں اگر ایک طرف ثقاہت و صلابت ہے تو دوسری طرف دِقتِ نظر و ہمہ گیریت بھی ہے ۔ صحت و قوت کے ساتھ پختگی و مہارت بھی ہے ۔ ترجمہ مذکورہ علامہ ازہری میاں کی ارفع صلاحیتوں کا زندہ ثبوت ہے ۔ اللّٰھم زد فزد ‘‘[تجلیّاتِ تاج الشریعہ/صفحہ:۴۳]

وعظ و تقریر:

والد ماجد حضورتاج الشریعہ مفسر اعظم ہند علامہ مفتی ابراہیم رضا خاں جیلانی میاںرضی اللہ عنہ کو قدرت نے زورِ خطابت وبیان وافر مقدار میں عطا فرمایا تھا اور حضورتاج الشریعہ کو تقریروخطاب کا ملکہ اپنے والد ماجد سے ملا ہے ۔آپ کی تقریرانتہائی مؤثر، نہایت جامع ، پرمغز،دل پزیر،دلائل سے مزین ہوتی ہے۔اردو تو ہے ہی آپ کی مادری زبان مگر عربی اور انگریزی میں بھی آپ کی مہارت اہل زبان کے لئے باعث حیرت ہوتی ہے ۔ اس کا اندازہ حضرت محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰٰ اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کے اس بیان سے باآسانی کیا جاسکتا ہے ، آپ فرماتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ نے آپ کو کئی زبانوں پر ملکہ خاص عطا فرمایا ہے۔زبان اردو تو آپ کی گھریلو زبان ہے اور عربی آپ کی مذہبی زبان ہے ۔ ان دونوں زبانوں میں آپ کو خصوصی ملکہ حاصل ہے ……عربی کے قدیم وجدید اسلوب پر آپ کو ملکۂ راسخ حاصل ہے … … میں نے انگلینڈ ، امریکہ ،ساؤتھ افریقہ ،زمبابوے وغیرہ میں برجستہ انگریزی زبان میں تقریر ووعظ کرتے دیکھاہے اور وہاں کے تعلیم یافتہ لوگوں سے آپ کی تعریفیںبھی سنیں ہیںاور یہ بھی ان سے سنا کہ حضرت کو انگریزی زبان کے کلاسیکی اسلوب پرعبور حاصل ہے ۔‘‘ [تجلیّاتِ تاج الشریعہ/صفحہ:۴۷]

شاعری :

بنیادی طور پر نعت گوئی کا محرک عشق رسول ہے اور شاعر کا عشق رسول جس عمق یاپائے کا ہوگا اس کی نعت بھی اتنی ہی پر اثر و پرسوز ہو گی ۔ سیدنا اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کے عشق رسول نے ان کی شاعری کو جو امتیاز و انفرادیت بخشی اردو شاعری اس کی مثال لانے سے قاصر ہے ۔ آپ کی نعتیہ شاعر ی کا اعتراف اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کے آج آپ دنیا بھر میں ’’امام نعت گویاں ‘‘کے لقب سے پہچانے جاتے ہیں۔
امام احمد رضا کی اس طرز لاجواب کی جھلک آپ کے خلفاء و متعلقین اور خاندان کے شعراء کی شاعری میں نظر آتی ہے ۔حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کو خاندان اور خصوصاً اعلیٰ حضرت سے جہاں اور بے شمار کمالات ورثہ میں ملے ہیں وہیں موزونیٔ طبع، خوش کلامی ، شعر گوئی اور شاعرانہ ذوق بھی ورثہ میں ملا ہے ۔آپ کی نعتیہ شاعری سیدنا اعلیٰ حضرت کے کلام کی گہرائی و گیرائی ، استادِ زمن کی رنگینی و روانی ، حجۃ الاسلام کی فصاحت و بلاغت ، مفتیٔ اعظم کی سادگی و خلوص کا عکس جمیل نظر آتی ہے ۔ آپ کی شاعری معنویت ، پیکر تراشی ، سرشاری و شیفتگی ، فصاحت و بلاغت ، حلاوت و ملاحت، جذب وکیف اورسوز وگدازکا نادر نمونہ ہے۔
علامہ عبد النعیم عزیزی رقم طراز ہیں:’’حضرت علامہ اختر رضا خاں صاحب اخترؔ کے ایک ایک شعر کو پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتاہے کہ حسن معنی حسن عقیدت میں ضم ہوکر سرمدی نغموں میں ڈھل گیا ہے ۔ زبان کی سلاست اور روانی ، فصاحت و بلاغت ،حسن کلام، طرز ادا کا بانکپن، تشبیہات و استعارات اور صنائع لفظی و معنوی سب کچھ ہے گویا حسن ہی حسن ہے ،بہار ہی بہار ہے اور ہر نغمہ وجہ سکون و قرار ہے ۔ [نغمات اختر المعروف سفینۂ بخشش/صفحہ:۴]
حضرت علامہ بدر الدین احمد قادری علیہ الرحمہ، سیدنا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی شاعری سے متعلق تحریرفرماتے ہیں:’’آپ عام ارباب سخن کی طرح صبح سے شام تک اشعار کی تیاری میں مصروف نہیں رہتے تھے بلکہ جب پیارے مصطفیٰ ﷺ کی یاد تڑپاتی اور دردِ عشق آپ کو بے تاب کرتا تو از خود زبان پر نعتیہ اشعار جاری ہوجاتے اور یہی اشعار آپ کی سوزش عشق کی تسکین کا سامان بن جاتے ۔‘‘[سوانح اعلیٰ حضرت /صفحہ:۳۸۵]
بعینہٖ یہی حال حضور تا ج الشریعہ کاتھا ، جب یاد مصطفیٰ ﷺدل کو بے چین کردیتی تھی توبے قراری کے اظہار کی صورت نعت ہوتی تھی ۔ آپ نے اپنی شاعری میں جہاں شرعی حدود کا لحاظ رکھا ہے وہیںفنی و عروضی نزاکتوںکی محافظت میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ ہونے دیا اور ادب کو خوب برتا، استعمال کیا ، سجایا،نبھایاتاکہ جب یہ کلام تنقید نگاروں کی چمکتی میز پر قدم رنجہ ہو توانہیں یہ سوچنے پر مجبور کردے کہ فکر کی یہ جولانی ،خیال کی یہ بلند پرواز ،تعبیر کی یہ ندرت،عشق کی یہ حلاوت واقعی ایک کہنہ مشق اور قادر الکلام شاعر کی عظیم صلاحیتوں کی مظہر ہیں۔فن شاعری،زبان و بیان اورادب سے واقفیت رکھنے والاہی یہ اندازہ کرسکتاہے کہ حضرت اخترؔ بریلوی کے کلام میں کن کن نکات کی جلوہ سامانیاں ہیں، کیسے کیسے حقائق پوشیدہ ہیں،کلمات کی کتنی رعنائیاںپنہاں ہیں اور خیالات میں کیسی وسعت ہے؟
آپ کاکلام اگرچہ تعداد میں زیادہ نہیں ہے لیکن آپ کے عشق رسول ﷺ کا مظہر، شرعی قوانین کی پاسداری کی شاندار مثال ہے ،آپ کے اسلاف کی عظیم وراثتوں کابہترین نمونہ اور اردو شاعری خصوصاً صنف نعت میں گرانقدر اضافہ بھی ہے، چند اشعار ملاحظہ کیجئے:

اس طرف بھی اک نظر مہر درخشانِ جمال
ہم بھی رکھتے ہیں بہت مدت سے ارمانِ جمال

وجہ نشاط زندگی راحت جاں تم ہی تو ہو
رو ح روان زندگی جان جہاں تم ہی تو ہو

مصطفائے ذات یکتا آپ ہیں
یک نے جس کو یک بنایا آپ ہیں

جاں توئی جاناں قرار جاں توئی
جان جاں جانِ مسیحا آپ ا ہیں

نور کے ٹکڑوں پر ان کے بدر و اخترؔ بھی فدا
مرحبا کتنی ہیں پیاری ان کی دلبر ایڑیاں

تبسم سے گماں گزرےشب تاریک پر دن کا
ضیائے رخ سے دیواروں کو روشن آئینہ کردیں

ہر شب ہجرلگی رہتی ہے اشکوں کی جھڑی
کوئی موسم ہو یہاں رہتی ہے برسات کی رات

مجھے کیا فکر ہو اخترؔ میرے یاور ہیں وہ یاور
بلاؤں کو جو میری خود گرفتار بلا کردیں

آپ کو نئے لب ولہجہ اور فی البدیہہ اشعار کہنے میں زبردست ملکہ حاصل ہے۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے جسے خلیفۂ مفتیٔ اعظم ہند حضرت مولانا قاری امانت رسول قادری رضوی صاحب مرتب ’’سامانِ بخشش‘‘( نعتیہ دیوان سرکار مفتیٔ اعظم ہندعلیہ الرحمہ) نے مفتیٔ اعظم ہند کی مشہور نعت شریف ؎

تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
تو ماہ نبوت ہے اے جلوۂ جانانہ

سے متعلق حاشیہ میں لکھتے ہیں :’’مولوی عبد الحمید رضوی افریقی یہ نعت پاک حضور مفتیٔ اعظم ہند قبلہ قدس سرہٗ کی مجلس میں پڑھ رہے تھے، جب یہ مقطع ؎

آباد اسے فرما ویراں ہے دل نوریؔ
جلوے تیرے بس جائیں آباد ہو ویرانہ

پڑھا تو حضرت قبلہ نے فرمایا ،بحمدہٖ تعالیٰ فقیر کا دل تو روشن ہے اب اس کو یوں پڑھو…ع

آباد اسے فرما ویراں ہے دل نجدی

جانشین مفتی اعظم ہند مفتی شاہ اختر رضا خاں صاحب قبلہ نے برجستہ عرض کیا،مقطع کو اس طرح پڑھ لیا جائے ؎

سرکار کے جلوؤں سے روشن ہے دل نوریؔ
تا حشر رہے روشن نوریؔ کا یہ کاشانہ

حضرت قبلہ (سرکار مفتیٔ اعظم ہند قدس سرہ)نے پسند فرمایا۔‘‘[سامانِ بخشش/صفحہ:۱۵۴]
حضورتاج الشریعہ اور علمائے عرب:سیدنااعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کو جو عزت و تکریم اور القاب وخطابات علمائے عرب نے دیئے ہیںشاید ہی کسی دوسرے عجمی عالم دین کو ملے ہوں۔بعینہٖ پرتو اعلیٰ حضرت ،حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کاجو اعزاز و اکرام علمائے عرب نے کیا شاید ہی فی زمانہ کسی کو نصیب ہوا ہو۔ اس کے چند نمونے’’ علم حدیث‘‘ کے عنوان کے تحت گزرے ہیں بعض یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
مئی ۲۰۰۹ء میں حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے دورۂ مصر کے موقع پرکعبۃ العلم والعلماء’’ جامعۃ الازہر ‘‘قاہر ہ، مصر میں آپ کے اعزاز میں عظیم الشان کانفرنس منعقد کی گئی ۔ جس میں جامعہ کے جید اساتذہ اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے طلباء نے شرکت کی ۔ اس کانفرنس کی انفرادیت یہ تھی کہ برصغیر کے کسی عالم دین کے اعزاز میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی کانفرنس تھی۔
اسی دورۂ مصر کے موقع پر جامعۃ الازہر کی جانب سے آپ کو جامعہ کا اعلیٰ ترین اعزاز ’’شکر و تقدیر‘‘ بھی دیا گیا۔
جید علمائے مصر خصوصاً شیخ یسریٰ رشدی (مدرس بخاری شریف ،جامعۃ الازہر) نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت بھی کی اور اجازت حدیث و سلاسل بھی طلب کیں۔
حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے رسائل ’’ الصحابۃ نجوم الاھتداء‘‘اور’’أن أباسیدنا ابراہیم علیہ السلام تارح لاآزر‘‘کے مطالعہ کےاور آپ سے گفت و شنیدکے بعد ’’ جامعۃ الازہر‘ ‘ قاہرہ، مصر کے شیخ الجامعہ علامہ سید محمد طنطاوی نے اپنے سابقہ موقف سے رجوع کیا اور حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے موقف کو قبول فرمایا ۔ قبل ازیں آپ کا موقف اس کے برعکس تھا آپ مذکورہ حدیث کو موضوع خیال کرتے اور’’آزر‘‘ جو ابراہیم علیہ السلام کا چچا اور مشرک تھا کو آپ علیہ السلام کا والد قرار دیتے تھے ۔ [بحوالہ:سہہ ماہی سفینۂ بخشش/ربیع الثانی تا جمادی الثانی۱۴۳۰ھ /صفحہ ۳۴]
یاد رہے یہ حضورتا ج الشریعہ کا’’ جامعۃ الازہر‘ ‘ سے سند فراغت کے حصول کے بعد پہلا دورہ تھا ۔درمیان کے ۴۳؍سالوں میں کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
۲۰۰۸ء اور۲۰۰۹ء میں شام کے دوروں کے موقع پر مفتیٔ دمشق شیخ عبدالفتاح البزم ،اعلم علمائے شام شیخ عبدالرزاق حلبی ،قاضی القضاۃ حمص (شام)اور حمص کی جامع مسجد ’’جامع سیدنا خالد بن ولید‘‘کے امام و خطیب شیخ سعید الکحیل،مشہور شامی بزرگ عالم دین شیخ ہشام الدین البرہانی،جلیل القدر عالم دین شیخ عبدالہادی الخرسہ ،خطیب دمشق شیخ السید عبد العزیز الخطیب الحسنی ،رکن مجلس الشعب (National Assembly) و مدیر شعبۂ تخصص جامعہ ابو النور،دکتور عبدالسلام راجع،مشہور شامی عالم و محقق شیخ عبدالہادی الشنار، مشہور حنفی عالم اور محشی کتب کثیرہ شیخ عبدالجلیل عطاء ودیگر کئی علماء نے سلاسل طریقت و سند حدیث طلب کی اور کئی ایک آپ سے بیعت بھی ہوئے ۔
۲۰۰۸ء میں آپ نے شام کے علماء کے سامنے جب اپنا مشہورزمانہ عربی قصیدہ ؎

اللہ، اللہ،اللہ ھُو مالی رب الاہو

پڑھا۔ جب آپ نے مقطع ؎

ہذا اخترؔادنا کم ربی أحسن مثواہٗ

پڑھاتو خطیب دمشق الدکتور عبد العزیز الخطیب الحسنی نے برجستہ یہ الفاظ کہے :

’’أختر سیدنا وابن سیدنا‘‘

مفتیٔ دمشق عبدالفتاح البزم نے ۲۰۰۹ء میں حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کےدورۂ شام کے موقع پراپنی ایک تقریر میںاپنے بریلی شریف کے سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’جب میںنے آپ (حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ )سے محبت کرنے والوں کو دیکھا تو مجھے صحابہ کی محبت کی یاد تازہ ہوگئی کہ ایمان یہ کہتاہے کہ اپنے اساتذہ اور مشائخ کی اسی طرح قدر کرنی چاہئے ۔‘‘
مولانا کلیم القادری رضوی (بولٹن ،انگلینڈ)۲۰۰۸ء کے دورۂ شام کی روئیداد میں لکھتے ہیں:’’اسی دن فخر سادات ،صاحب القاب کثیرہ ، عظیم روحانی شخصیت سیدنا موسیٰ الکاظم کے شہزادے الشیخ الصباح تشریف لائے ۔آپ نے فرمایاکہ چند روز قبل میں اس علاقے کے قریب سے گزرا تو مجھے یہاں انوار نظر آئے میں سمجھ گیا کہ یہاں کوئی ولی اللہ مقیم ہیں، معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ حضرت تشریف لائے ہوئے ہیںتو ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ ‘‘ [تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :۵۶۶،۵۶۷]

وصال باکمال:

مرشد کریم حضورتاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کافی عرصے سے علالت کا شکار تھے۔وصال سے چار(۴)دن قبل طبعیت ناساز ہونے کے سبب ہسپتال لے جایا گیا ،دو ،تین دن ہسپتال میں رہنے کے بعدبروز جمعرات حضرت کی ہسپتال سے گھر تشریف آوری ہوئی، طبیعت کافی بہتر تھی۔بروز جمعہ بعد نمازِ عصر چائے نوش فرمائی ، دلائل الخیرات سنی اور پڑھی ۔بعد ازاں علامہ عاشق حسین کشمیری صاحب قبلہ(داماد شہزادۂ حضورتاج الشریعہ علامہ مفتی عسجد رضا خان قادری دام ظلہٗ علینا)حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کو نمازِمغرب کے لئے تازہ وضوکرانے کی تیاری کرنے لگے ۔اسی دوران حضرت کی سا نس پھولنے لگی ، جانشین تاج الشریعہ علامہ عسجد رضا خان قادری دام ظلہٗ علیناکے حکم پر حضرت کو بسترپر لٹا دیا گیا۔لیٹتے ہی حضرت نے’’یا اللہ ‘‘’’اللہ اکبر‘‘کا ورد شروع فرما دیا،جب آواز زیادہ اونچی ہوئی تو علامہ عاشق صاحب قبلہ نےعرض کی :’’ابا!سینے میںدرد ہورہاہے ؟‘‘فرمایا:’’نہیں‘‘۔پھر ’’یااللہ‘‘ کا ورد کرتے رہے۔عین وقت غروب(۷بج کر ۹منٹ پر بریلی شریف میں) حضرت نے وقت دریافت فرمایا۔علامہ عاشق صاحب قبلہ نے عرض کی :’’۷بجے کے آس پاس ہورہا ہے۔‘‘ادھرمؤذن نےاذان شروع کی اورآپ کی روحِ مبارکہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوگئی ۔
اس دوران جانشین حضورتاج الشریعہ علامہ عسجد رضاخان قادری دام ظلہٗ علینا نے ’’اسٹیتھواسکوپ‘‘سے دل کی دھڑکن چیک کی ، حضرت کے بلند آواز سے ذکر فرمانے کے سبب سنائی نہ دی،پھر الیکٹرانک مشین سے بلڈ پریشر جانچنے کی کوشش کی لیکن اس کا نتیجہ دکھانے سے قبل ہی حضرت اپنے محبوبِ حقیقی سےجاملے۔اس سے قبل بھی کئی مرتبہ سانس پھولی تھی لیکن صحیح ہوجایاکرتی تھی ۔اس لئے حاضرین میں سے کسی کا دھیان بھی اس طرف نہیں گیا کہ یہ حضرت کی آخری سانسیں ہوسکتی ہیں۔
یعنی حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے شب ہفتہ۷ذیقعدہ۱۴۳۹ھ/ 20جولائی 2018ء کو وصال فرمایا۔موجود اہل خانہ ابھی صحیح طور پر حالات کو سمجھ بھی نہ پائے تھے،لمحوں میں محلہ سوداگران لوگوں سے بھر گیا ۔تل دھرنے کی جگہ نہ رہی ۔ حضرت کو مکان کے باہر والے کمرے میں منتقل کیا گیا ،ہفتہ کی ساری رات ، پورادن اور اتوار کی ساری رات زیارت کا سلسلہ چلتا رہا لوگ میلوں دور تک قطار بنائے مرشد کریم کے دیدار کیلئے کھڑے رہے۔
وصال پر ملال کی خبر وحشت انگیز لمحوں میں دنیا بھر میں پھیل گئی اور مسلمانان اہل سنت غم و الم کی تصویر نظر آنےلگے۔ نہ صرف شہر بریلی ، ہندوستان بلکہ دنیا بھر سے جس سے ممکن ہوا جنازہ میں شرکت لئے چل پڑا۔
بروز اتوار۸؍ذیقعدہ ۱۴۳۹ھ/22؍ جولائی 2018ء نمازِ فجراول وقت میں ادا کی گئی اور آپ کی رہائش گاہ’’بیت الرضا‘‘ میں غسل دیا گیا۔ غسل کےفرائض جانشین حضورتاج الشریعہ حضرت علامہ عسجد رضا خان، شہزادۂ امین شریعت سلمان میاں صاحب ،داماد تاج الشریعہ برہان میاں صاحب،جگرگوشۂ محدث کبیر علامہ جمال مصطفیٰ صاحب،علامہ عاشق حسین صاحب ،سید کیفی،محمد عارف نیپالی (خادم حضورتاج الشریعہ) نے انجام دیئے۔غسل کے بعد تکفین کا مرحلہ طے ہوا ۔’’الحرف الحسن‘‘میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے جو دعائیں نقل فرمائی ہیں ان کو کپڑے کے ایک ٹکڑے پرلکھ کر سینے پر رکھا گیا،حضرت کے سرمبارک پر عمامہ شریف سجایاگیا۔
بعدہٗ جنازۂ مبارکہ باہرآنگن میں(جہاں دورِ اعلیٰ حضر ت ہی سے بارہویں شریف کی محفل کا اہتمام ہوتاہے) رکھاگیا اور محفل نعت شروع ہوئی۔تقریباً ساڑھے آٹھ(۳۰:۸ )بجےجنازہ گاہ(اسلامیہ انٹرکالج گراؤنڈ)لے جانے کےلئےپہلے سے تیار شدہ گاڑی کودروازے سے لگا کر اس میں جنازہ منتقل کردیا گیا، اہل خانہ سوار ہوئے اور طے شدہ راستے سے ہوتا ہوا یہ قافلہ اپنے شیخ کے ساتھ اسلامیہ کے لئے روانہ ہوا۔حد سے زیادہ بھیڑکے سبب جنازہ گاہ پہنچنے میںڈیڑھ سے دوگھنٹے لگےاور جنازہ گراؤنڈ کے اندر لے جانے کے بجائےباہر روڈ پر ہی جانب قبلہ لے جایاگیا اور وہیں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
امامت کے فرائض جانشین تاج الشریعہ نے انجام دیئے،کثرت اژدھام کے سبب نمازِ جنازہ گاڑی ہی میں اس طرح اداکی گئی کہ مصلیٔ امامت پر حضورعسجد میاں صاحب اور ان کے پیچھے گاڑی ہی میں پانچ ،چھ لوگوں کی صف بنادی گئی اور باقی لوگوں نے نیچے زمین پر رہ کر اقتداء کی۔اعلیٰ حضرت نے رسالہ’’المنۃ الممتازہ‘‘ میں جتنی دعائیں تحریرفرمائی ہیں حضورعسجد میاں نے وہ تمام دعائیں پڑھیں۔
نمازِ جنازہ بروز اتوار صبح تقریباً ۱۱بجے ادا کی گئی، اس کے بعد ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت میں یہ قافلہ دوبارہ اسی شان سے محلہ سوداگران پہنچا ۔۳۰:۱۲بجے آپ کی تدفین ازہری گیسٹ ہاؤس عقب مزار اعلیٰ حضرت ،بریلی شریف میں عمل میں آئی ۔پلنگ سے حاجی اقبال شیخانی،سید کیفی، محمد یوسف ،علامہ عاشق حسین کشمیری اور کچھ دیگر لوگوں نے اٹھایاپھر جانشین تاج الشریعہ ، جگرگوشۂ امین شریعت سلمان میاں صاحب اور دامادِ تاج الشریعہ برہان میاں صاحب نے قبر میں اپنے ہاتھوں سےاتارا،پھر یہ تینوں حضرت قبر سے باہر آئےاور قبرکوبند کرکے مٹی دی گئی اور فاتحہ خوانی کاسلسلہ شروع ہوا۔
ان دو دنوں (ہفتہ اور اتوار)بریلی شریف میں معمولات زندگی تقریباً معطل رہے ،خصوصاً بروز اتوار،اور بالخصوص جنازۂ مبارکہ کو جنازہ گاہ تک لاتےاور لے جاتے وقت عالم یہ تھا کہ مسلم تو مسلم ،غیرمسلموں کے گھروں کی چھتیں تک لوگوں سے بھری ہوئی تھیں۔ راستے بھر جنازۂ مبارکہ پر غیر مسلم بھی گل پاشی کرتے رہے ، شہرمیں کافی مقامات پر انہوں نے بھی پینے اور وضو کے پانی کا انتظام کر رکھا تھابلکہ اور ان کے گھر کے آس پاس کوئی گر کر بے ہوش ہوجاتا تو اٹھا کر اپنے گھر لاتے اور اس کے ہوش میں آنے تک اس کا بھر پور خیال رکھتے۔
اللہ والوں کی باتیں قلم و قرطاس کی قید سے ماورا ہیں ۔ولیٔ کامل حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی ذات بھی وہ آئینہ تھی جس کے بے شمار زاویے اور ہر زاویہ ہزاروں جہتوں پر مشتمل تھا ۔جن کا تذکرہ نہ میرے بس کی بات ہے نہ ہی اس مختصر سے مضمون میں ممکن ہے ۔میں برادرطریقت مولانا منصور فریدی رضوی کے ان الفاظ پر مضمون کا اختتام کرتا ہوں کہ : ’’مصدر علم وحکمت ،پیکر جام الفت،سراج بزم طریقت، وارث علم مصطفیٰ، مظہر علم رضا، میر بزم اصفیا،صاحب زہد وتقویٰ ، عاشق شاہ ہدیٰ ﷺ،غلام خیر الوریٰ ﷺ،حامل علم نبویہ ، سیدی آقائی ، حضورتاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی الحاج الشاہ اختررضاخاں ازہری مدظلہٗ النورانی اس عظیم شخصیت کا نام ہے جن کی زندگی کے کسی ایک گوشہ پر اگر سیر حاصل گفتگو کی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہزاروں صفحات کی ضرورت ہے ۔‘‘[تجلیّات ِتاج الشریعہ /صفحہ:۳۱۱]
اللہ کریم ان کی برکات سےہمیں متمتع فرمائے اور ان کے نقش قدم کی پیروی کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین بحرمۃ سید المرسلین ﷺ

کتابیات

سامانِ بخشش/کلام: مفتیٔ اعظم ہند علامہ مفتی مصطفیٰ رضا خاں نوری /مطبوعہ:مصلح الدین پبلی کیشنز ،کراچی

بہار شریعت/صدرالشریعہ بدرالطریقہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی /مطبوعہ :ضیاء القرآن پبلیکیشنز، لاہور

عطیۂ ربانی در مقالۂ نورانی /بدر العلمأعلامہ بدر الدین احمد قادری رضوی /مطبوعہ:ادارۂ شرعیہ،مہارشٹر، ہند

تجلیّات تاج الشریعہ /مرتبہ:مولانا شاہد القادری / مطبوعہ:رضا اکیڈمی،بمبئی

نغمات ِ اختر المعروف سفینۂ بخشش /کلام: تاج الشریعہ حضرۃ العلام مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری/مطبوعہ : برکاتی پبلشرز ،کراچی

پیش گفتار ،شرح حدیث نیت/ تاج الشریعہ حضرۃ العلام مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری /مطبوعہ : ادارہ معارف نعمانیہ ،لاہور

حیات تاج الشریعہ/مولانا شہاب الدین رضوی /مطبوعہ :بمبئی

مفتیٔ اعظم ہند اور ان کے خلفاء /مولانا شہاب الدین رضوی/ مطبوعہ : رضا اکیڈمی ،بمبئی

فن شاعری اور حسان الہند/مولانا عبد الستار ہمدانی /مطبوعہ: ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا ،کراچی

سالنامہ الرضا ،’’جامعۃ الرضا‘‘بریلی شریف کا سالانہ تعلیمی و تعمیری ترجمان

سہہ ماہی سفینۂ بخشش/ربیع الثانی تا جمادی الثانی۱۴۳۰ھ

ماہنامہ’’ سنی دنیا‘‘ بریلی شریف ’’نقوش تاج الشریعہ نمبر‘‘

 

 

Menu
error: Content is protected !!