صدرالعلماء، مظہر مفتیٔ اعظم حضرت علامہ مفتی محمد تحسین رضا خان قادری رضوی نوری علیہ الرحمہ

از: محمد دانش احمد اخترالقادری


تاریخ اسلام ایسے بیشمار افراد کا تذکرہ اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے جن کی زندگی کا ہرہر لمحہ دین کی خدمت و تبلیغ اور مذہب کی ترویج و اشاعت میں گزرا ۔گلشن اسلام کی ساری رونقیں اور رعنائیاں انہی دیوانگان عشق کے دم قدم سے ہیں ۔انہی عظیم فرزندان توحید کے اخلاص و للہیت اور جانبازی و سرفروشی نے ہر دور میںکفر و الحاد کی آندھیوں اور ’’احباب ‘‘ و اغیار کی سازشوں کے آگے بند باند ھے۔نہ عرب و عجم کی قید، نہ قلم و تلوار کا فرق جس میدان میں قدم رکھ دیں جھنڈے گاڑ دیتے ہیں ۔

صدر العلماء علامہ تحسین رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ بھی آسمان علم و فضل کے ماہ کامل تھے ۔آپ مجدد اسلام ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ کے برادر اوسط ،استاد زمن ،شہنشاہ سخن مولانا حسن رضاخان بریلوی علیہ الرحمہ کے منجھلے پوتے ہیں ۔آپ کے والد ماجد مولانا حسینن رضاخان علیہ الرحمہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بھتیجے ،شاگرد اور خلیفہ تھے ۔آپ کا نام’’ محمد‘‘ اور عرفیت ’’تحسین رضا ‘‘ ہے ، تخلص ’’تحسین ‘‘استعمال فرمایا کرتے تھے ،’’صدرالعلماء اور مظہر مفتیٔ اعظم ‘‘ آپ کے مشہور القابات ہیں ۔

14 شعبان المعظم1348ھ/1930ء میں محلہ سودا گران ،بریلی شریف میں آپ کی ولادت ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم مقامی مکتب سے حاصل کی ، بعد ازاں والد ماجد نے دارالعلوم منظر الاسلام میں داخل کرا دیا ،جہاں آپ نے درسیات کی کتب متداولہ پڑھیں ، پھر دار العلوم مظہراسلام ،مسجد بی بی جی والی ،بریلی میں داخلہ لے لیا ۔ تقسیم ہند کے وقت جب محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد قادری چشتیعلیہ الرحمہ پاکستان تشریف لے آئے تو آپ دورۂ حدیث کے لئے محدث اعظم علیہ الرحمہ کے پاس جامعہ رضویہ مظہر اسلام ، فیصل آباد تشریف لے آئے اور صر ف چھ (6)ماہ کی مختصر مدت میں دورۂ حدیث شریف مکمل کیا۔ آپ کو محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ علاوہ سرکار مفتیٔ اعظم ہندعلیہ الرحمہ سے بھی اجازت حدیث حاصل تھی ۔

آپ کے اساتذہ میں صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی ، مفتیٔ اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان قادری ،محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد صاحب ،شیخ العلماء مفتی شمس الدین رضوی جونپوری ،شیخ المعقولات علامہ سردار علی رضوی ، مولانا غلام یسین صاحب رضوی پورنوی ،مفتیٔ اعظم پاکستان مفتی وقار الدین قادری ،شیخ العلماء علامہ غلام جیلانی اعظمی علیہم الرحمہ جیسی جلیل القدر شخصیات شامل ہیں ۔

حضرت صدر العلماء نے دوران تعلیم ہی سرکار مفتیٔ اعظم علیہ الرحمہ کے حکم سے دار العلوم مظہر اسلام میں تدریس کا آغاز فرمادیا تھا ، پھر پاکستان سے واپسی بعد 1975ء تک یہ سلسلہ جار ی رہا ۔ اس کے بعد دار العلوم منظر اسلام میں صدر المدرسین کی حیثیت سے تشریف لے آئے اور سات(7)سال تک یہاں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ۔1982ء میں جامعہ نوریہ رضویہ ،بریلی شریف کے قیام سے لیکر تقریباً تئیس (23)سال بحیثیت شیخ الحدیث یہاں درس و تدریس میں مشغول رہے، پھر جب جانشین مفتیٔ اعظم حضورت تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضاخان علیہ الرحمہ نے 2005ء میں عظیم الشان اسلامی یونیورسٹی ’’مرکز الدرسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا ‘‘بریلی شریف قائم فرمائی تو حضورتاج الشریعہ دام ظلہٗ علینا کی دعوت پر آپ ’’جامعۃ الرضا ‘‘ تشریف لے آئے اور تادم وصال بحیثیت شیخ الحدیث و صدر المدرسین فیض کا دریا لٹاتے رہے ۔آپ کے تلامذہ میں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں جو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں حتیٰ المقدور دین و مذہب کی خدمت میں مشغول ہیں ۔

تدریس کے علاوہ حضرت صدر العلماء نے ایک عرصہ تک فتویٰ نویسی بھی فرمائی لیکن افسوس یہ قیمتی سرمایہ محفوظ نہ رہ سکا ۔ تدریس ، فتویٰ نویسی ، بیعت وارشاد اور تعویذ نویسی برائے خدمت خلق کی بے انتہا مصروفیات باوجود احباب کے اصرار پر آپ نے تبلیغ دین کی غرض سے ہندوستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ ماریشس، مورابی ،رمبابوے اور پاکستان وغیرہ کا دورہ فرمایا ۔ نیز 1968ء میں زیارت حرمین شریفین کی زیارت کیلئے حجاز مقدس بھی تشریف لے گئے ۔

حضرت صدر العلماء 1943ء میں عرس رضوی کے حسین موقع پر والد ماجد علیہ الرحمہ کے حکم سے سرکار مفتیٔ اعظم ہندعلیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور 1380ھ میں عرس رضوی ہی کے پر بہار موقع پر سرکار مفتیٔ ہندعلیہ الرحمہ نے اکابر علماء و مشائخ کی موجودگی میں آپ کو اجازت و خلافت سے نوازا۔صدر العلماء کو مرشد بر حق کی بارگاہ میں خاص اہمیت حاصل تھی جس کا اندازہ مفتیٔ اعظم ہند علیہ الرحمہ کے درج ذیل ارشادات سے بخوبی ہوسکتی ہے ۔

1…صاحب (حضرت مولانا حسنین رضا خانعلیہ الرحمہوالدماجد حضرت صدر العلماء )کے جتنے لڑکے ہیں سبھی خوب ہیں ، باصلاحیت و بالیاقت ہیں ، مگر ان میں تحسین رضا کا جواب نہیں ۔

2…میر ے خاندان میں دو (2)لوگ ایسے ہیں جن پر مجھے مکمل اعتماد اور بھروسا ہے ،تحسین رضا اور اختر میاں(حضور تاج الشریعہ )

3…تحسین رضا’’گل سرسبد‘‘ ہیں … جانتے ہو ’’گل سرسبد‘‘ کیا ہے ؟ باغباں پھولوں کی ٹوکری میں سب سے خوبصورت اور پسندیدہ پھول نمایاںطورپر اوپر رکھتا ہے،اس پھول کو ’’گل سر سبد‘‘ کہتے ہیں ۔

حضرت صدر العلماء کوخانوادۂ رضویہ کی حسین روایت ثنائِ سرکار امیں بھی خاص ملکہ حاصل تھا ۔آپ کی شاعری شریعت مطہر کے عین مطابق اور محبت رسو ل ا کی مظہر ہے ۔چند اشعار ملاحظہ کیجئے :

مری جانب نگاہِ لطف ِسردارِ رسولاں ہے
مقدر پر میں نازاں ہوں ، مقدر مجھ پہ نازاں ہے

یار ب ! دل تحسینؔ کی بھی بر آئے تمنا
آجائے بلاوادرِ سرکارِ کرم سے

سکوں پر ور ہیں لمحے ذکرِ آقائے دو عالم کے
خدایا زندگی وقفِ غمِ سرکار ہوجائے

ارمان نکلتے ہیں دل کے آقا کی زیارت ہوتی ہے
کو ن اس کو قیامت کہتا ہے ایسی بھی قیامت ہوتی ہے

آپ کا نکاح15ذیقعدہ1386ھ/26فروری 1967ء بروز اتوارجناب سعید اللہ خان صاحب کی صاحبزادی سے ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین(3)صاحبزادے حضرت حسان رضا صاحب ،حضرت رضوان رضا صاحب ، صہیب رضا صاحب اور ایک صاحبزادی عطا فرمائی ۔

حضرت صدر العلماء کا وصال چندر پور کے تبلیغی دورے پر تشریف لے جاتے ہوئے ضلع وردھا ،مہاراشٹرا میں 18رجب المرجب 1428ھ/3اگست 2007 ء بروز جمعۃ المبارک وصال فرماگئے ۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

قلمی نگارشات

حیات و خدمات

مناقب

مضامین

متفرقات

Menu