تذکرہ مشائخ قادریہ رضویہ

نورِ ہفت دہم

حضرت غوث الثقلین،قطب الکونین ،شیخ العالمین

سید ابو محمد محی الدین عبد القادر جیلانی حسنی حسینی

رضی اللہ تعالیٰ عنہ

یکم رمضان المبارک ۴۷۰ھ ؍۱۰۷۷ء . . . . . . . .  .۱۱یا ۱۷ ربیع الثانی ۵۶۱ھ؍ ۱۱۶۶ء

آہ ! یا غو ثا ہ یا غیثا ہ یا امداد کن

یا حیوٰۃ الجود یا روح المنا امداد کن
(اعلیٰ حضرت)


بِسْمِ اللہ ِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَللّٰھُمَّ صَلِ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ وَعَلَی الْمَوْلیٰ السَّیِّدِ الْکَرِیْم ِغَوْثِ الثَّقَلَیْنِ وَغَیْثِ الْکَوْنِینِ الاِمَامِ اَبِیْ مَحَمَّدْ عَبْدِ الْقَادِرِ الْحَسَنِیْ ِالْحُسَیْنِیِْ الْجَیْلَانِیْ صَلَّ اللہ ُ تَعَالیٰ عَلیٰ جَدِّ ہٖ الْکَرِ یْمِ وَعَلَیْہِ وَعَلیْہِ وَعَلیٰ مَشَائِخِہٖ الْعِظَامِ وَاُصُوْلِہِ الْکِرَامِ وَفُرُوْعِہِ الْفِخَامِ وَمُحِبِّیْہِ وَالْمُنْتِمِیْنَ اِلَیْہِ اِلیٰ الْقِیَامِ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ اَبَداً۔
قادری کر قادری رکھ قادریوں میں اُٹھا
قدرِ عبد القادرِ قدرت نما کے واسطے

ولادت شریف:آپ کی ولادت باسعادت یکم رمضان المبا رک بروز جمعہ ۴۷۰ھ؍۱۰۷۵ء کوگیلان میں ہو ئی ۔(سیرتِ غوثِ اعظم ص ۲۴)

اسمِ مبا رک:آپ کا نامِ نامی و اسم ِ گرامی سید عبد القادر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ ہے۔

لقب وکنیت:آپ کی کنیت ابی محمد اور لقب محی الدین ،محبوبِ سبحا نی ہے۔

والدین کریمین:آپ کے والد ما جد کا اسم شریف سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست اور والدہ ما جدہ کا نام اُمّ الخیر فاطمہ ہے۔(سیرتِ غوثِ اعظم ص۱۷و خزینۃ الاصفیاء ج۱ ص ۹)

[expander_maker id=”1″ more=”Read more” less=”Read less”]

نسب نامہ شریف:آپ کے نسب نا مہ کے سلسلہ میں یہ دو شعر بہت ہی عمدہ ہیں جسے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔

آں شاہ سرفراز کہ غوث الثقلین است
دراصل سیادت چہ صحیح النسبین است

از سوئے پدر تابہ حسن سلسلہ اوست
از جانبِ مادر ،در دریا ئے حسین است

اور آپ کا نسب نامہ شریف حسنی منجا نب والد ما جد اس طرح ہے:حضرت سید محی الدین عبد القادر بن سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست بن سید ابو عبداللہ بن سید یحییٰ زاہد بن سید محمد بن سید دا ؤد بن سید موسیٰ ثا نی بن سید موسیٰ بن سید عبد اللہ ثا نی بن عبد اللہ محض بن سید حسن مثنیٰ بن سرکا ر حسن بن امیر المؤمنین سیدنا علی مرتضیٰ۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین
آپ چونکہ نجیب الطرفین ہیں والد ما جد کی طرف سے حسنی اور والدہ ماجد ہ کی جا نب سے حسینی ہیں جس کی تفصیل اس طرح ہے:حضرت اُ مّ الخیر فاطمہ بنتِ سید عبدا للہ الصومعی بن ابو جما ل الدین بن سید محمد بن سید ابو العطا ء بن سید کما ل الدین عیسیٰ بن سید علا ء الدین الجواد بن امام علی رضابن امام موسیٰ کا ظم بن امام جعفر صا دق بن امام محمد با قر بن امام زین العا بدین بن سید الشہداء سرکار امام حسین بن سیدنا علی مرتضیٰ رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین۔(سیرتِ غوثِ اعظم ص ۱۷)

حُلیۂ مبا رکہ:آپ نحیف البدن ،میانہ قد،کشادہ سینہ ،لمبی چوڑی ڈا ڑھی،گندمی رنگ،پیو ستہ ابرو ،بلندآوا ز تھے،پا کیزہ سیرت ،بلند مرتبہ اورعلمِ کامل کے حا مل تھے ۔صاحبِ شہرت وسیرت اور خا موش طبع تھے ۔آپ کے کلام کی تیزی اور بلند آواز ،سننے والے کے دل میں رعب وہیبت زیا دہ کرتی تھی ۔اور آپ کی یہ خصوصیت تھی کہ مجلس میں قریب وبعید بیٹھنے والے بے کم و کا ست بغیر کسی تفا وت کے آپ کی آ واز بآ سا نی یکساں طور پر سن لیتے تھے ۔جب آپ کلا م کرتے تو ہر شخص پر خاموشی چھا جا تی تھی ،جب آپ کو ئی حکم دیتے تو اس کی تعمیل میں سرعت ومب ادرت کے سوا او ر کو ئی صورت نہ ہو تی اور بڑے سے بڑے سخت دل پر نظرِ جما ل پڑ جا تی تو وہ خشو ع وخضو ع اور عا جزی وانکسا ری کا مرقع بن جا تا اور جب آپ جا مع مسجد میں تشریف لا تے تو تمام مخلوق دعا کے لئے ہا تھ اٹھا کر با رگا ہِ قا ضی الحا جات میں دعا کرتی۔(اخبا ر الا خیار ص۱۴ فارسی ؍ مسالک السا لکین ج۱ ص ۳۳۰)

اولیائے سا بقین کی پیشن گو ئیاں:اکثر اولیا ئے کبا ر و مشائخِ ذی وقا ر نے آپ کی ولا دت با سعا دت سے پہلے آپ کے ورودِ مسعود کی خبر بتا ئی ۔کچھ نے ولا دت کے تھوڑے ہی دنوں بعد اور اکثر نے آپ کے مشہور ہو نے سے پہلے آپ کی عظمت وجلالت کی خبر دی ہے۔ان میں سے چند کے اقوال یہاں پیش کئے جا تے ہیں۔

قلا ئد الجو اہر میں شیخ محمد سبکی سے مروی ہے کہ میں نے اپنے شیخ حضرت ابو بکر بن ہو را رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ عرا ق کے اوتا د آٹھ ہیں جن کے اسما ئے گرا نی یہ ہیں ۔

۱۔حضرت خو اجہ معروف کر خی                                   ۲۔حضرت امام احمد بن حنبل                               ۳۔حضرت خو اجہ بشر حا فی                                  ۴۔حضرت منصور بن عمار                     ۵۔حضرت خو اجہ سرّی سقطی                                         ۶۔حضرت جنید بغدا دی                                ۷۔حضرت سہل بن عبد اللہ تستری                                    ۸۔حضرت شیخ عبد القادر جیلا نی
رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین

راوی نے پھر سوال کیا کہ حضرت کون عبد القادر ؟
تو ارشا د فر مایاکہ یہ شخص شرفا ئے عجم سے ہو گا ،اور بغداد میں آکر قیام کرے گا اورا س کا ظہور پانچویں صدی ہجری میں ہو گا اور یہ صدیقین و اوتا د و اقطا بِ زمانہ سے ہو گا۔
غبط الناظر میں ہے کہ حضرت شیخ ابو احمد عبداللہ بن علی بن مو سیٰ نے ۴۶۴۔؁ھ میں فرمایاکہ میں گوا ہی دیتا ہوں اس با ت کی کہ عنقریب عجم میں ایک لڑکا بڑا صاحبِ کرا مات اور ذی شرف پیدا ہو گا اور جو اس کو دیکھے گا فا ئدہ پا ئے گا ۔وہ فر ما ئے گا ۔قَدَمِیْ ھٰذِ ہٖ عَلیٰ رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللہ ِ۔۔۔۔اور اسی کتا ب میں ہے کہ حضرت شیخ عقیل سنجی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا گیا کہ اس زمانے کا قطب کون ہے ؟ تو ارشاد فرما یاکہ اس زمانے کا قطب مدینہ طیبہ میں پو شیدہ ہے سوا ئے اولیاء اللہ کے کو ئی اس کو نہیں جا نتا ۔پھر عراق کی جانب اشارہ کر کے فر ما یا کہ اس طرف ایک عجمی نو جو ان ظا ہر ہو گا ۔وہ بغدا د میں وعظ کہے گا اور اس کی کرامتوں کو ہر خاص وعام جان لے گا ۔وہ قطبِ زمانہ ہو گا اور فر ما ئے گا ۔قَدَمِیْ ھٰذِ ہٖ عَلیٰ رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِّ اللہ ِ۔

زبدۃ الابرار میں ہے کہ ایک روز چند درویش حضرت شیخ علی بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حا ضر ہو ئے تو آپ نے دریا فت فر مایاکہ کہاں سے آئے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ عجم سے ،پھر دریافت کیا کہ کس شہر سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ جیلان سے۔تو حضرت شیخ نے ارشاد فر مایا:
ان اللہ نور وجوھکم بظھو ر رجل منکم قریب من فضل اللہ تعالیٰ اسمہ عبد القادر مظھرہ فی العراق ومسکنہ فی البغداد یقول قدمی ھذہ علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ ویقرہ اولیاء عصرہ بامر اللہ تعالیٰ ۔(مسالک السالکین ج۱ ص۲۳۷)

اللہ تعالیٰ تمہا رے چہرے کو روشن کرے اس شخص کے ذریعے جو اللہ کے فضل سے تم میں عنقریب ظاہر ہو گا جس کا نا م عبدا لقادر ہو گا ، اس کے ظہور کی جگہ عراق اور مسکن بغدادہو گا ،وہ کہے گا میرا قدم تمام اولیاء کی گر دنوں پر ہے اور اس کے ہم عصر تمام اولیاء اللہ ،اللہ کے حکم سے اس کے قول کو قبول کریں گے۔

قلائد الجوہر میں ہے کہ جب آپ عالمِ شباب میں حضرت تا ج العارفین شیخ ابو الوفاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمتِ با برکت میں تشریف لا تے تو حضرت شیخ موصوف آپ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جا تے اور حا ضرین سے بھی ارشاد فر ما تے کہ ولی اللہ کی تعظیم کو اٹھو اور بعض اوقات دس پا نچ قدم آپ کے استقبال کو بھی آگے بڑھتے ۔ایک با ر لو گو ں نے حضرت موصوف سے اس تعظیم وتکریم کی وجہ پو چھی تو آپ نے ارشا د فر ما یا کہ یہ نوجوان ایک عظیم الشان ولی ہو گا ،ہر خاص وعام اس کی طرف رجو ع کریں گے اور گو یا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ بغداد میں ایک مجمعِ عظیم میں قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلیٰ رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیِ اللہ ِ کہہ رہا ہے ۔ اور یہ اپنے اس قول میں حق بجانب ہو گا ۔اور تمام اولیاء اللہ اس کے سامنے اپنی گردنیں جھکائیں گے ،یہ سب کا قطب ہو گا تو تم میں سے جو کوئی اس کا وقت پا ئے اس کو چا ہئے کہ اس کی خدمت اپنے اوپر لا زم کرے ۔اس کے بعد حضرت شیخ موصوف نے آپ سے فر مایا اے عبد القادر ! آج وقت ہما رے ہا تھ ہے اور قریب ہے کہ یہ وقت تمہا رے ہا تھ آئے گا ۔اوریہ دستور ہے کہ ہر ایک چرا غ روشن ہو کر گُل ہو جا تا ہے ۔مگر تمہا را چراغ قیامت تک رو شن رہے گا یہ فر ما کر حضرت شیخ نے اپنی جا ء نما ز ،تسبیح ،قمیص،پیالہ ،اور اپنا عصا آپ کو عنا یت فر مایااور کہا ۔اے عبد القا در ! تمہا را وقت ایک عظیم الشا ن وقت ہو گا ،اس وقت تم اِس سفید داڑھی کو مت بھولنا۔یہی کہتے کہتے روحِ پُر فتوح حضرت شیخ موصوف کی عالمِ بقاء کو پرواز کر گئی۔اِ نَّا لِلہ ِ وَاِ نَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔
حضرت عمر بزاز کہتے ہیں کہ وہ تسبیح جو آپ کو تا ج العارفین نے دی تھی جب اس کو زمین پر رکھا جا تا تو اس کا ہر ایک دا نہ از خود گر دش کرتا تھا ۔آپ کی وفات کے بعد حضرت شیخ علی بن ہیئتی نے اسے لیا اور پیا لہ کو جب کو ئی لینا چا ہتا تو وہ خو دبخود ہا تھ میں آجا تا تھا ۔

غبب النا ظر میں ہے کہ حضرت شیخ نجیب سہروردی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما تے ہیں کہ میں نے حضرت حماد دبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فر ماتے سنا کہا س عجمی کا قدم ایک وقت اولیا ء اللہ کی گر دنوں پر ہو گا اور حضرت شیخ نجیب یہ بھی فر ماتے کہ میں نے چالیس سے زیا دہ مشائخین کو ایسا ہی فرما تے سنا ہے۔

قلا ئد الجوا ھر میں ہے کہ جب آپ عالمِ شباب میں تھے تو حضرت شیخ حما د رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نسبت فر مایا کہ میں نے سر پر دو جھنڈے دیکھے جو زمین سے لے کر ملائِ اعلیٰ تک پہنچے تھے اور افقِ اعلیٰ میں ان کے نام کی دھوم سنی ہے۔(مسالک السالکین ۔ج۱ ص ۳۳۸)

فضا ئل:مقبولِ با رگا ہِ الٰہی ،مواردِ انوارِ نا متنا ہی ،شیرِ بستان ،کمالِ مردِ میداں ،جمال خورشید افلاک کرا مت ،گو ہرِ دریا ئے ولا یت ،گُلِ سر سبد گلشنِ شریعت ،بہارِ بے خزاں گلستانِ طریقت ،میوۂ اشجار بستانِ معرفت ،ذائقۂ نعمت خوارق حقیقت ،افضل اتقیائے عظا م ،اصلحِ اولیائے کرام،فیض بخش زما نہ ،مرشدِیگا نہ ،ہا دیٔ روز گار ،مظہرِ محبوبِ پروردگار،خلاصۂ خا ندان ِ مصطفوی،نقارۂ دودمانِ مرتضوی،مقتدائے اربابِ ہدا یت،پیشوا ئے اصحابِ استقامت ،سید صحیح النسب ،عالی نقب،والاحسب،سلطانِ اقلیم ،توکل رونقِ بزم،صبر وتحمل دلیلِ سبیل ،فلاح ورشاد ،رہبرِ طریقِ استقامت،خلفِ رشید حسن مجتبیٰ ،نوردیدۂ شہیدِ کربلا،زندگی بخش دینِ متین سید المرسلین ،پشت وپناہِ امت ِ خا تم النبیین ،محی السنہ،قامع البدعہ،قطب الاقطا ب ،فر د الاحباب ، مظہرِ ولایت خا صۂ سرورِ عالم ﷺ حضرت ابو محمد سید محی الدین ،محبوبِ سبحا نی شیخ عبد القادر جیلانی غوثِ اعظم قدس اللہ تعالیٰ سرہ‘ العزیز ۔آپ سلسلۂ قادریہ رضویہ کے سترہویں امام و شیخ ِ طریقت ہیں ۔آپ کے فضا ئل کا احاطہ طاقتِ بشری سے با لا تر ہے۔

تلخیص قلائد الجواہر میں حضرت ابو ذکریا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ حضرت محبوبِ سبحانی قطب ِ ربا نی نے ارشاد فر مایا کہ ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ حضور سرورِ کا ئنات ﷺ ایک تختِ مرصع پر جلوہ گر ہو کر تشریف لا ئے اور مجھے نہایت الفت ومحبت سے اپنے پا س بٹھا یا اور میری پیشانی پر بو سہ دیا اور اپنے جسمِ انور سے پیرا ہن مبا رک اتار کر مجھ کو پہنا یا اور ارشاد فر مایا : ’’ھٰذِ ہ ٖ خَلْعَۃُ الْغَوْ ثِیَۃِ عَلَی الْاَقْطَابِ وَا لْاَبْدَالِ وَالْاَوْتَادِ۔‘‘
آپ کی شان مبا رک میں جلیل القدر اولیا ئے عظام نے اس طرح خراجِ عقیدت پیش فر مایا صرف چند کا ذکر کیا جا تا ہے۔
۱۔حضرت نور الدین یوسف سطنو تی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فر مایا ۔

غوث الوریٰ غیث الندیٰ نور الھدیٰ

بد ر الدجیٰ شمس الضحیٰ کھف الوریٰ

۲۔حضرت خو اجہ غریب نواز معین الدین چشتی سنجری اجمیری ۶۳۳ھ ؍ ۱۲۳۵ء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فر مایا ۔

یا غوث معظم نورِ ہدیٰ مختارِ نبی مختارِ خدا

سلطانِ دوعالم قطبِ علیٰ حیراں زِ جلالت ارض وسما

۳۔حضرت خوا جہ قطب الدین بختیار کاکی ۶۳۳ھ؍۱۲۳۵ء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فر مایا ۔

خاک ِ پا ئے تو بود روشنیٔ اہلِ نظر

دیدہ را بخش ضیاء حضرتِ غوث الثقلین

۴۔حضرت مخدوم علی احمد صا بر کلیری ۶۹۰ھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فر مایا۔

من آمدم بہ پیش تو سلطانِ عاشقاں

ذات توست قبلۂ ایمان ِ عاشقاں

۵۔حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی ۶۶۱۔؁ھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فر مایا۔

معلی حُبِّ سبحا نی مقدس قطبِ ربا نی

علی سیرت حسن ثا نی محی الدین جیلانی

مدد یا شاہِ جیلانی بریں افتادہ حیرانی

تو ملجائی وجا نانی محی الدین جیلانی

چہ تا بد یا ثنا ء خوانی اگر خوا ہد ہمیدا نی

کنی ہر مشکل آسانی محی الدین جیلا نی

مدد یاشاہِ جیلانی نظر یا شاہِ صمدا نی

کرم یا شیخ ربّانی محی الدین جیلانی

بکن کارم کہ بتوانی غریبم در پریشانی

جہاں را پیر وپیرا نی محی الدین جیلانی

بدل از صدق ِ روحا نی چوں مدح پیر پیرا نی

مرا از غم تو بر ہا نی محی الدین جیلانی

سگِ درگا ہِ جیلانی بہا ء الدین ملتا نی

لقا ئے دین سلطا نی محی الدین جیلانی

۶۔حضرت عبد الرحمن جامی ۸۹۸ھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فر مایا ۔

گو یم زِ کمال تو چہ غوث الثقلینا

محبوبِ خدا ،ابنِ حسن ،آلِ حسینا

سر جملہ نہا دنددر قدمت وگفتند

تاللہ لقد آ ثَرَکَ اللہ ُ عَلَیْنَا

۷۔حضرت شاہ ابو المعالی ۱۰۲۴ھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فر ما تے ہیں ۔

گر کسے واللہ بہ عام از مئے عر فا نی است

از طفیلِ شاہ عبد القادرِ گیلانی است

یا رب بحقِ جمالِ عبد القا در

یا رب بحقِ کمالِ عبد القادر

بہر حا ل ابو المعالی زار وضعیف

رحمے کن ودہِ وصالِ عبد القادر

۸۔سلطان العارفین حضرت سلطان با ھو ۱۱۰۲ھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا فر مان ہے۔

شو مرید از جان با ہو بالیقین

خاکپا ئے شاہِ میراں راس دین

۹۔حضرت حا جی امداد اللہ مہا جر مکی ۱۳۱۷ھ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فر ما یا ۔

خدا وندا بحقِ شاہِ جیلاں

محی الدین غوث وقطبِ دوراں

بکن خالی مرا از ہر خیالے

ولیکن آنکہ زد پیدا ست حا لے

۱۰۔اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت شاہ احمد رضا بریلوی ۱۳۴۰ھ؍۱۹۲۱ء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فر ما تے ہیں۔

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے با لا تیرا

اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا

سر بھلا کیا کو ئی جا نے کہ ہے کیسا تیرا

اولیا ء ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا

خصائلِ مبا رکہ:اور آپ کے خصا ئلِ مبارکہ کو منا قبِ غو ثیہ میں اس طرح بیان فر مایاہے کہ : آپ کے جسم مبا رک پر کبھی مکھی نہیں بیٹھتی اور آ پ کے پسینہ مبا رک سے خو شبو آتی تھی اور آپ کے بو ل وبرا ز کو بھی زمین کھا جا تی تھی ۔ایک دن لو گوں نے عرض کیا کہ حضور ! یہ سب با تیں تو آپ کے جدِ امجد نبی ٔ کریم ﷺ کی ذاتِ مبا رکہ کے ساتھ مخصوص تھیں ،جو حضور کے اندر پا ئی جا تی ہیں اس کا کیا سبب ہے ؟ تو آپ نے ارشا د فر مایا کہ ربِّ کا ئنا ت کی قسم یہ وجود عبد القادرکا نہیں ہے ۔بلکہ وجودِ مسعود جدِ امجد ﷺ کا ہے ۔ اس با ت میں اشارہ ہے کہ صفت فنا فی الرسو ل آپ کے اندر بدرجۂ اتم موجو د تھیں اور ذات وکمال میں اس درجہ فنا ہو گئے تھے کہ آپ کا جسمِ پاک عین مقدس حضور نبیٔ کریم ﷺ کا سا ہو گیا تھا ۔اور اسی کو فنا ئے اتم کہتے ہیں۔(مسالک السا لکین ۔ج۱ ص۳۴۲)

عہدِ طفلی کے حالات:آپ کی جانب ابتداء ہی سے خداو ندِ قدوس کی رحمتیں متوجہ تھیںپھر آپ کے مرتبۂ فلک وارکوکون چھو سکے یا اس کا اندازہ لگا سکے ۔چنانچہ آپ نے خود ہی اپنے بچپنے کے واقعات کی اس طرح نشاندہی فر مائی ہے کہ عمر کے ابتدائی دور میں جب کبھی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلنا چاہتا تو غیب سے آواز آتی تھی کہ لہو ولعب سے با زرہو۔جسے سن کر میں رک جا یا کرتا تھا اورا پنے گرد وپیش پر جب نظر ڈا لتا تو کو ئی آوا زدینے والا دکھا ئی نہیں دیتا تھا ۔جس کی وجہ سے مجھے دہشت سی معلوم ہو تی اور میں جلدی سے بھا گتا ہو اگھر آتااوروالدہ محترمہ کی آغو شِ محبت میں چھپ جا تا تھا ۔اب وہی آواز اپنی تنہا ئیوں میں سنا کرتا ہوں ،اگر کبھی مجھے نیند آتی ہے تو وہ آواز فو راً میرے کانوں میں آکر مجھے آگا ہ کر دیتی ہے کہ تمہیں اس لئے پیدا نہیں کیا کہ تم سویا کرو۔(اخبا ر الاخیارص۲۰ فارسی)

تحصیلِ علم:جب آپ کی عمر شریف چار سال کی ہو ئی تو آپ کے والد ما جد سیدنا ابو صالح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو مکتب میں داخل کرنے کی غرض سے لے گئے ۔اور استاد کے سامنے آپ دو زانو ہو کر بیٹھ گئے ،استاد نے کہا ۔پڑھو بیٹے بِسْمِ اللہ ِ الرّٰحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ تو آپ نے بسم اللہ شریف پڑھنے کے سا تھ ساتھ الٓمٓ سے لے کر مکمل سترہ (۱۷) پا رے ازبر استاد کو سنا دیا ۔استاد نے حیرت سے دریافت کیا کہ یہ تو نے کب پڑھا اور کیسے یا دکیا ؟ آپ نے ارشاد فر مایا کہ میری والدہ ما جدہ سترہ (۱۷) سیپا رے کی حا فظہ ہیں ،جن کا وہ اکثر ورد کیا کرتی تھیں ۔جب میں شکمِ ما در میں تھا تو یہ سترہ(۱۷)سیپا رے سنتے سنتے یاد ہو گئے۔

گھر پر علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد ۴۸۸ھ میں جبکہ آپ کی عمر مبا رک اٹھا رہ سال کی تھی بغدا دتشریف لا ئے اور اس وقت کے شیوخ ائمہ ،بزرگانِ دین اور محدثین کی خدمت کا قصد فر مایا تو پہلے علومِ قرآنیہ کو روایت ودرایت اور تجوید و قرأت کے اسرار ورموز کے ساتھ حا صل کیا اور زما نے کے بڑے محدثین اور اہل ِ فضل وکمال ومستند علما ئے کرا م سے سماعِ حدیث فر ما کر علوم کی تحصیل فر ما ئی حتیٰ کہ تمام اصولی ،فروعی ،مذہبی اور اختلا فی علوم میں علما ئے بغداد ہی سے نہیں بلکہ تمام مما لکِ اسلامیہ کے علما ء سے سبقت لے گئے اورآپ کو تمام علما ء پر فوقیت حا صل ہو گئی اور سب نے آپ کو اپنا مرجع بنا لیا ،اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخلوق کے سامنے ظا ہر فر مایا اور آپ کی مقبولیتِ تا مّہ عوام وخواص کے قلوب میں ڈا ل دی اور آپ کو قطبیت کُبریٰ اور ولا یتِ عُظمیٰ کا مرتبہ عطا فر مایا حتیٰ کہ چا ر دانگِ عالم کے تما م فقہا ء علماءطلبا ء اور فقراء کی تو جہ آپ آستا نہ کی جانب ہو گئی حکمت و دانا ئی کے چشمے آپ کی زبان سے جا ری ہو گئے ۔اور عالمِ ملکوت سے عالمِ دنیا تک آپ کے جمال وجلال کا شہرہ ہو گیا ،اورا للہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے علاما ت قدرت وامارت اور دلائل خصوصیت وبراہین کرامت آفتاب نصف النہار سے زیادہ واضح اور ظا ہر کر دیا اور بخشش کے خزانوں کی کنجیاں اور تصرفات ِ وجود کی لگا میں آپ کے قبضہ ٔ اقتدار و دستِ اختیار میں سپردفر مایا ،تمام مخلوق کے دلوں کو آپ کی عظمت وہیبت کے سامنے سرنگوں کر دیا اورا س وقت کے تمام اولیاء کو آپ کے سایہ قدم اور دائرۂ حکم میں دے دیا کیونکہ آپ من جا نب اللہ اسی پر مامور تھے جیسا آپ خودفر ما تے ہیں کہ میرایہ قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے۔

بیعت وخلافت:آپ کو بیعت وخلا فت کا شرف حضرت شیخ ابو سعید مبا رک مخزومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حا صل تھا اور اپنے شیخِ طریقت کی با رگا ہ میں راہ ِ طریقت وسلوک کو حا صل کیا ۔نیز آپ نے آدابِ طریقت و تعلیم ِ سلوک محمد بن مسلم الابا س قدس سرہ‘ سے بھی حا صل کیا ان کے علا وہ وقت کے ممتا ز شیخِ طریقت سے بھی آپ نے فیوض و بر کات حا صل فر مایا ۔

اخلا قِ عظیمہ:آپ کے اخلا ق وعا دات اِ نَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْم کا نمونہ اور اِ نَّکَ لَعَلیٰ ھُدیً مُسْتَقِیْم کا مصداق تھے ۔آپ اتنے عالی مرتبت ،جلیل القدر ،وسیع العلم ہو نے اور شان وشوکت کے با وجو دضعیفوں میں بیٹھتے ،فقیروں کے ساتھ تواضع سے پیش آتے ،بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت فر ما تے ،سلام میں پہل کرتے اور طا لب علموں اور مہمانوں کے ساتھ کا فی دیر بیٹھتے ،بلکہ ان کی لغزشوں اور گستا خیوں سے
در گزر فر ماتے ،اگر آپ کے سامنے کو ئی جھو ٹی قسم بھی کھا تا تو اپنے علم وکشف سے جا ننے کے با وجود اس کو رسوا نہ کرتے ۔اپنے مہمان اور ہم نشیں سے دوسروں کی بہ نسبت انتہا ئی خو ش اخلا قی اور خند ہ پیشا نی سے پیش آتے ،آپ کبھی نا فر مانوں ،سر کشوں ،ظا لموں اور مالدا روں کے لئے کھڑے نہ ہو تے ،نہ کبھی کسی وزیر وحا کم کے دروازے پر جا تے ۔اور مشا ئخِ وقت میں سے کو ئی بھی حسنِ خلق ،وسعت ِ قلب ،کرمِ نفس ،مہر با نی اور عہد کی نگہدا شت میں آپ کی برا بری نہیں کر سکتا تھا ۔(اخبا ر الاخیار۔فارسی ص۲۱)

آپ کے اوصافِ کریما نہ:ایک روز آپ نے ایک فقیر کو شکستہ خا طر ایک گو شے میں بیٹھا ہو ادیکھا ،دریا فت فر مایا کہ کس خیال میں ہو اور کیا حال ہے؟ فقیر نے عرض کیا کہ میں دریا کے کنا رے گیا تھا اور ملا ح کو دینے کے لئے میرے پا س کچھ نہیں تھا کہ کشتی میں بیٹھ کر پار اتر جا تا ۔ابھی اس فقیر کی با ت پو ری نہ ہو ئی تھی کہ ایک شخص نے تیس اشرفیوں سے بھری ہو ئی ایک تھیلی آپ کو نذ ر کی ۔آپ نے وہ تھیلی فقیر کو دے کر فر ما یا کہ اسے لے جا کر ملا ح کو دے دو۔

بعض مشائخِ وقت نے آپ کے اوصا ف میں لکھا ہے کہ حضرت شیخ عبد القادر قدس سرہٗ العزیز بڑے با رونق ،ہنس مکھ ،خند ہ رو،بڑے شرمیلے ،وسیع الاخلا ق ،نرم طبیعت،کریم الاخلاق ،پا کیزہ اوصاف اور مہربا ن وشفیق تھے۔جلیس کی عزت کرتے اور مغموم کو دیکھ کر امداد فر ما تے،ہم نے آپ جیسا فصیح وبلیغ کسی کو نہیں دیکھا ۔۔۔۔اور بعض نے اس طرح وصف کا اظہا ر فر مایا ۔حضرت شیخ محی الدین قدس سرہٗ بکثرت رونے والے ،اللہ تعالیٰ سے بہت زیا دہ ڈرنے والے تھے۔آپ کی ہر دعا فوراً قبول ہو تی ۔نیک اخلاق ،پا کیزہ اوصاف ،بد گو ئی سے بہت دور بھا گنے والے اور حق کے سب سے زیا دہ قریب تھے ۔احکا م ِ الٰہی کے نا فر ما نوں کے لئے بڑے سخت گیر تھے ۔لیکن اپنے لئے کبھی غصہ نہ فر ما تے ،کسی سائل کو اگر چہ وہ آپ کے بد ن کے کپڑے ہی لے جا تے واپس نہ لیتے،توفیقِ الٰہی آپ کی رہنما اور
تا ئیدِ ایزدی آپ کی معاون تھی ۔علم نے آپ کو مہذب بنا ای ،قرب نے آپ کو مودب بنا یا ،خطا بِ الٰہی آپ کا مشیر اور ملاحظہ ٔ خدا وندی آپ کا سفیر تھا ۔انسیت آپ کی سا تھی اور خندہ روئی آپ کی صفت تھی ۔

سچائی آپ کا وظیفہ ،فتوحا ت آپ کا سرمایہ ،برد با ری آپ کا فن ،یا دِ الٰہی آپ کا وزیر،غورو فکر آپ کا مو نس ،مکا شفہ آپ کی غذا ،اور مشا ہدہ آپ کی شفا تھی۔آداب ِ شریعت آپ کا ظا ہر اور اوصافِ حقیقت آپ کا با طن تھا ۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعن جمیع الصالحین وعنا عن محبیہم اجمعین۔(اخبا ر الاخیار فارسی۔ص ۲۲)
عبادت وریا ضت:عبا دت وریا ضت کے متعلق آپ خو د ہی ارشاد فر ما تے ہیں کہ : پچیس سال تک میں دنیا سے قطع تعلق کر کے عراق کے صحرا ؤں اور ویرا نوں میں اس طرح گشت کرتا رہا کہ نہ میں کسی کو پہچا نتا،رجال الغیب اور جنات کی میرے پا س آمد رہتی تھی اور انہیں را ہِ حق کی تعلیم دیا کرتا تھا ۔چالیس سال تک میں نے فجر کی نما ز عشاء کے وضو سے ادا کی ہے اور پندرہ سال تک یہ حا ل رہا کہ نماز ِ عشا ء کے بعد قرآن مجید اس طرح شروع کرتا کہ ایک پا ؤں پر کھڑا ہو جا تا اور ایک ہا تھ سے دیوار کی میخ پکڑ لیتا ۔تمام شب اسی حالت میں رہتا حتیٰ کہ صبح کے وقت قرآن کریم ختم کر دیتا تین دن سے چالیس دن تک بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ نہ تو کچھ کھا نے پینے کو ملا اور نہ ہی سونے کی نو بت آئی ۔گیارہ سال تک برجِ بغداد میں عبا دتِ الٰہی کے اندر مصروف رہا حتیٰ کہ اس بر ج میں میری اقامت اتنی طویل مدت تک رہی کہ وہ برج ہی برج ِ عجمی کے نام سے مشہور ہو گیا اور اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ جب تک غیب سے کھا نا نہ ملے گا نہ کھا ؤں گا ،مدتِ درا زتک یہی کیفیت رہی لیکن میں نے اپنا عہد نہیں تو ڑا اور اللہ تعالیٰ سے جو وعدہ کیا اس کی خلا ف ورزی نہ کی ۔۔۔۔آپ نے فر ما یا کہ ایک مرتبہ سفر میں ایک شخص نے میرے پا س آکر کہا کہ اس شرط پر مجھے اپنی رفا قت میں لے لیجئے کہ صبر بھی کرو ں گا اور حکم کے خلا ف کچھ نہ کروں گا ۔ایک دفعہ اس مجھے ایک جگہ بٹھا یا اور وعدہ لے کر کہ جب تک میں نہ آؤں آپ یہاں سے نہ جا ئیں چلا گیا ۔میں ایک سال اس کے انتظا ر میں بیٹھا رہا لیکن وہ شخص نہ آیا ۔ایک سال بعد آکر مجھے اس جگہ بیٹھا دیکھا ۔پھر یہی وعدہ کر کے چلا گیا ۔تین مرتبہ اسی طرح ہوا ۔آخری مرتبہ وہ اپنے ساتھ دودھ اور روٹی لایا اور کہا کہ میں خضر ہوں اور مجھے حکم ہے کہ آپ کے ساتھ بیٹھ کر یہ کھانا کھا ؤں ،چنا نچہ ہم نے کھا نا کھا یا فارغ ہو نے کے بعد حضرت خضر علیہ السلام نے فر ما یا کہ اب اٹھئے سیرو سیا حت ختم کیجئے اور بغداد میں جا کر بیٹھ جا ئیے ۔لوگوں نے پو چھا کہ ان تین سالوں میں کھا نے پینے کی کیا شکل رہی؟ فر مایا کہ ہر چیز زمین سے پیدا کو کر میرے سامنے مو جو د ہو جا تی تھی۔(اخبا ر الاخیا ر فارسی۔ص۱۵،۱۶)

شیطا نی دھو کہ سے بچنا:شیخ جلیل ضیا ء الدین ابو نصر موسیٰ بن شیخ محی الدین عبد القادر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ آپ کے والد محترم نے آپ سے بیان فر ما یا کہ میں ایک دفعہ سفر پر روانہ ہوا ،جہاں مجھے کچھ دیر ہو گئی ،پانی نہ ملا اور اس طرح مجھے سخت پیا س معلوم ہو ئی ۔میرے سر پر با دل کا ایک ٹکڑا چھا گیا اور کو ئی چیز ان با دلوں سے نیچے اترتی دکھا ئی دی ۔پھر میں نے دیکھا کہ کو ئی روشنی نمودا ر ہو ئی ۔۔۔۔جس سے تمام افق روشن ہو گیا اور ایک شکل میرے سامنے ظا ہر ہو ئی جس نے بلند آ واز سے کہا : عبد القادر ! میں تمہارا رب ہوں ،میں نے تمہا رے لئے تمام حرا م چیزوں کو حلال کر دیا ،تم جو چا ہو کھا سکتے ہو ۔۔۔۔میں نے اسی وقت اعو ذ باللہ من الشیطن الرجیم کہا اور للکا را،ا و لعنتی ! دور ہو جا ؤ !! وہ نو ر تا ریکی میں تبدیل ہو گیا اور وہ صورت دھواں بن گئی اور کہنے لگی : عبد القادر ! تیرے علم نے تجھے بچا لیا اور منا ظرہ کے فن نے مجھے شکست دے دی ہے ۔حا لا نکہ میں نے اب تک ستر(۷۰) اولیائے طریقت کو اسی طرح گمراہ کر دیا ہے۔میں نے کہا : مجھے میرے علم اور منا ظرہ نے نہیں ، بلکہ میرے اللہ تعالیٰ کے فضل نے بچا لیا ہے۔(اخبا ر الا خیا ر فارسی۔ص۱۶)

عقدشریف:حضرت شیخ شہاب الدین سہر وردی قدس سرہ‘ ارشاد فر ما تے ہیں کہ ہم نے معتبر ذریعہ سے سنا ہے کہ کسی صا لح شخص نے حضرت شیخ عبد القا در جیلا نی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ آپ نے نکا ح کس غرض سے کیا ہے ؟ تو حضرت نے جوا ب دیا کہ میں نے اس وقت تک نکا ح نہیں کیا جب تک مجھ کو جنابِ رسولِ خدا ﷺ نے ارشا د نہیں فر مایا کہ نکا ح کرو ۔یہ سن کر اس شخص نے عر ض کیا کہ رسولِ خدا ﷺ نے اس امر میں اجا زت دی ہے ،پھر صو فیائے کرا م اس ارا دے پر الزا م کیوں دیتے ہیں ؟ میں نہیں کہہ سکتا کہ حضرت شیخ نے کیا جو اب دیا ، البتہ میں یہ کہوں کہ رسول ِ خد ا ﷺ نے رخصت کا حکم دیا ہے اور شریعت نے نکاح کی اجازت دی ہے ۔مگر جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہے اورا س کا نیا ز مند بن کر اس سے استخا رہ کرتا ہے تو عالمِ خواب میں یا بذریعہ کشف اللہ تعالیٰ اس کو متنبہ فر ما تا ہے تو اس وقت یہ حکم رخصت پر نہیں ہو تا بلکہ یہ ایک ایسا امر ہے جس کا اتبا ع ارباب ِ عزیمت کرتے ہیں ،کیو نکہ یہ علم حا ل سے ہے اور حکم سے نہیں ہے اور جو امر بذریعہ القا ء یا کشف دل میں واقع ہو اس کی صحت پر دلیل حضرت شیخ عبد القادر جیلا نی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول ہے کہ آپ خود فر ما تے ہیں :

میں مدت سے شادی کا خوا ستگا ر تھا ،مگر وقت خرا ب ہو نے کے با عث میں شادی کی جرأت نہیں کرات تھا لہٰذا میں نے صبر کیا یہاں تک کہ جب اس کا مقررہ وقت آگیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے چار بیویاں عطا فر ما ئیں ان میں سے ہر ایک بیوی میری مرضی اور منشا ء کے مطا بق نکلی ،پس یہ ثمرہ میرے اس صبرِ جمیل کا ہے جو شادی کرنے کے سلسلے میں کرتا رہا ۔(عوارف المعا رف ۔اردو۔ص۳۱۳)

آپ کے مرا تب واختیارات:حضرت غوث ِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ارشا د فر ماتے ہیں کہ:’’میں وہ مردِ خدا ہو ں کہ میری تلوا ر ننگی ہے ،اور میری کما ن عین نشا نے پر ہے ،میرا تیر نشانے پر ہے میرے نیزے صحیح مقام پر ما ر کرتے ہیں ۔میرا گھو ڑا چا ق و چوبند ہے ۔میں اللہ کی آگ (نا را للہ) ہوں میں لوگو ں کے احوا ل سلب کر لیتا ہوں ۔میں ایسا بحرِ بیکراں ہوں جس کا کو ئی سا حل نہیں ۔میں اپنے آپ سے ماوراء گفتگو کرتا ہوں ،مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے خا ص ملا حظہ میں رکھا ہے ،اے روزہ دارو! اے شب بیدا رو!اور پہا ڑ والو ! تمہا رے صومعے زمین بو س ہو جا ئیں گے ۔میرا حکم جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے قبول کرلو۔اے دخترانِ وقت ،اے ابدال و اطفالِ زمانہ ! آؤ اور وہ سمندر دیکھو جس کا کو ئی ساحل نہیں ،مجھے اللہ کی قسم ہے کہ میرے سامنے نیک بخت اور بد بخت پیش کئے جا تے ہیں ۔مجھے قسم ہے لوحِ محفوظ میری نگا ہوں کے سامنے ہو تی ہے ۔میں دریائے علومِ الٰہی کا غوا ص ہو ں ۔میرا مشا ہدہ ہی محبتِ الٰہی ہے ۔میں لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی محبت ہوں میں نا ئبِ رسولِ خدا ہوں ۔میں اس زمین پر اللہ کا وارث ہوں ۔انسان اور جنوں میں مشائخ ہو تے ہیں ۔فر شتوں میں بھی مشائخ ہو تے ہیں ۔مگر میں ان سب کا شیخ الکل ہوں ۔میری مرض ِموت اور تمہا ری مرض ِموت میں زمین وآسمان کا فا صل ہے ۔مجھے دوسروں پر قیاس نہ کرو اور نہ دوسرے مجھے اپنے آپ پر قیا س کریں ۔اے مشرق والو ! اے مغرب والو ! اور اے آسمان والو ! مجھ سے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں وہ چیزیں جا نتا ہوں جو تم میں سے کو ئی بھی نہیں جا نتا ،مجھے ہر روز ستر(۷۰) با ر حکم دیا جا تا ہے کہ یہ کام کرو ،ایسا کرو ،اے عبد القا در تمہیں میری قسم ہے ۔یہ چیز پی لو ،تمہیں میری قسم ہے یہ چیز کھالو ،میں تم سے با تیں کرتا ہوں اور امن میں رکھتا ہو ں ۔۔۔۔حضرت نے مزید فر ما یا کہ جب میں گفتگو کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے مجھے اپنی قسم یہ با ت پھر کہو ،کیونکہ تم سچ کہتے ہو ۔میں اس وقت تک با ت نہیں کرتا ۔جب تک مجھے یقین نہ دلا یا جا ئے ،اس میں شک وشبہ نہیں ہو تا ۔ میں ان تمام امور کی تقسیم وتفریق کرتا رہتا ہوں جن کے مجھے اختیارات دیئے جا تے ہیں ۔جب مجھے حکم دیا جا تا ہے تو میں وہی کام کرتا ہوں ،مجھے حکم دینے والا اللہ تعالیٰ ہے ۔اگر تم مجھے جھٹلا ؤ گے تو یہ با ت تمہا رے لئے زہرِ ہلا ہل ہو گی تمہارا یہ اقدا م ِ نا فر ما نی تمہیں ایک لمحہ میں تبا ہ کر دے گا ۔ میں تمہا ری دنیا وآخرت کو ایک لمحہ میں ختم کرنے کی قدرت رکھتا ہوں ۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمہیں اپنی ذات سے ڈرا تا ہوں ،اگر میرے منہ میں شریعت کی لگا م نہ ہو تی تو میں تمہیں ان چیزوں کی بھی خبر دیتا جو تم کھا تے ہو ،پیتے ہو اور گھروں میں چھپا ئے رکھتے ہو ۔اگر میرے منہ میں شریعت کی لگا م نہ ہو تی (یعنی شریعت کا پا س نہ ہوتا)تو میں حضرت یو سف علیہ السلام کے پیا لے کی خبر دیتا غرضیکہ دلوں کی ہر خبر واضح کر دیتا ۔چونکہ علم وامان عالم میں پنا ہ حا صل کرتا ہے اور ان کی خفیہ چیزوں کو ظا ہر نہیں کرتا ۔آپ نے مزید فر مایا کہ میں ہرا س خبر کو جا نتا ہوں جو تمہا رے ظا ہر میں ہے اور ہر اس چیز کی خبر رکھتا ہو ں جو تمہا رے با طن میں پو شیدہ ہے ۔میری نگا ہ میں تم لوگ شیشے کی طرح صاف ہو ۔تمام مردانِ خدا جب مقامِ قدر میں پہنچتے ہیں تو ان کی نگرا نی کی جا تی ہے ۔مگر مجھے اس طا قچہ سے اندر پہنچا یا جا تا ہے۔(اخبا ر الا خیار فارسی۔ص۱۸،۱۹)

قدمی ھذہ علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ:لطا ئف الغرا ئب میں ہے کہ جب آپ کو ربِ کا ئنات سے مرتبۂ غو ثیت ومحبوبیت عنا یت ہو ا ،تو آپ جمعہ مبا رکہ کے دن منبر پر خطبہ پڑھ رہے تھے ،نا گا ہ استغراق کی کیفیت آپ پر طا ری ہو ئی اور اسی حا لت میں زبانِ کرا مت بیان پر یہ کلمہ جا ری ہوا ۔قدمی ھذہ علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ یعنی میرا یہ قدم جملہ اولیاء اللہ کی گردن پر ہے معاً منا دیٔ غیب نے تمام عالم میں ندا کر دی کہ جمیع اولیاء اللہ محبوب ِ پاک کی اطا عت کریں اور ان کے ارشا د کو بسرو چشم بجا لا ویں ، یہ سنتے ہی جملہ اولیا ء اللہ نے گردنیں جھکا دیں اور ارشاد ِ واجب الاذعان کی تعمیل کی ۔(مسالک السالکین۔ج۱ ص۳۳۹)

جن اولیا ء اللہ نے سرِ تسلیم خم کیا ا س کی تفصیل اس طرح ہے:
۱۔حرمین شریفین میں سترہ(۱۷) ۲۔عراق میں ساٹھ (۶۰) ۳۔عجم میں چا لیس(۴۰) ۴۔شام میں تیس(۳۰) ۵۔مصر میں بیس(۲۰)  ۶۔مغرب میں ستا ئیس(۲۷) ۷۔یمن میں تیئس(۲۳) ۸۔حبشہ میں گیارہ(۱۱) ۹۔سدِّ یا جوج ما جوج میں سات(۷)  ۱۰۔ساندیپ میں سات(۷) ۱۱۔کوہ قاف میں سینتا لیس(۴۷) ۱۲۔جزا ئرِ بحرِ محیط میں چوبیس(۲۴) افرا د تھے۔

حضرت شیخ مکا رم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فر ما تے ہیں کہ میں انوارِ الٰہی کو حا ضر جا ن کر کہتا ہوں کہ جس روز آپ نے قدمی ھذہ علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ فر ما یا اس روز جملہ اولیا ء اللہ نے معا ئنہ کیا کہ نشان ِ قطبیت آپ کے سامنے گا ڑا گیا ہے اور غو ثیت کا تا ج آپ کے سرِمبا رک پر رکھا گیا اور خلعتِ تصرف زیب تن کئے ہو ئے ہیں ۔تو سب نے ایک ہی آن میں سر جھکا کر آپ کے مرتبے کا اعتراف کیا ۔یہاں تک کہ دسوں ابدال نے بھی جو سلاطینِ وقت تھے اپنی گردنیں جھکا ئیں جن کے اسما ئے گرامی حسبِ ذیل ہیں:
۱۔حضرت شیخ بقا بن بطو             ۲ ۔حضرت شیخ ابو سعید قیلوی          ۳۔حضرت شیخ علی بن ہیئتی           ۴۔حضرت شیخ عدی بن مسا فر           ۵۔حضرت شیخ موسیٰ الزولی         ۶۔حضرت شیخ احمد رفا عی      ۷۔حضرت شیخ عبدا لرحمن طفسونجی         ۸۔حضرت شیخ ابو محمد عبد اللہ البصری        ۹۔حضرت شیخ حیات بن قیس الحرّانی      ۱۰۔حضرت شیخ ابو مد ین العربی رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین ۔

حضرت قدوۃ العارفین شیخ ابو سعید قیلوی رحمۃ اللہ علیہ فر ما تے ہیں کہ جب آپ نے قدمی ھذہ علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ فر ما یا ،اس وقت آپ کے قلبِ مبا رک پر تجلیاتِ الٰہی نا زل ہو رہی تھی اور حضرت رسولِ خدا ﷺ نے آپ کو خلعت بھیجا تھا جس کو ملا ئکہ مقربین نے مجمعِ عام میں آپ کو پہنا یا ،اس وقت ملا ئکہ ورجال الغیب صف با ندھے ہوئے اس کثرت سے ہو امیں کھڑے تھے کہ افق سماں نظر نہیں آتا تھا اورا س وقت روئے زمین پر کو ئی ایسا ولی نہ تھا جس نے گردن نہ جھکا ئی ہو۔(مسالک السالکین۔ج۱ ص ۳۴۰)

خلاصۃ القادر میں ہے کہ جب منادی ٔ غیب کی ندا عالمِ ارواح میں پہنچی ،تو حضرت سلطا ن العا رفین خو اجہ با یزید بسطا می رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روحِ پاک نے با رگا ہِ ایزدی میں عر ض کیا:یا احکم الحا کمین ! تیرا فر مان واجب الاذعان ہے ۔مگر سید عبد القا در کو با یزید پر کون سی فوقیت اور ترجیح حا صل ہے ؟ارشا د ہو اکہ دو فوقیتیں ہیں ۔ایک یہ کہ وہ فر زندِ دلبند خوا جۂ عالم ﷺ ہے ۔اور دوسرا یہ کہ تو فا رغِ مشغول ہے اور وہ مشغولِ فا رغ،تو عاشق ہے ،وہ معشوق ہے ۔یہ سنتے ہی حضرت سلطا ن العا رفین نے گردن جھکا دی اور فر ما یا ۔سمعنا واطعنا۔

منقول ہے کہ شیخ ابو البرکات بن صخر بن مسا فر نے اپنے عمِ بزرگوار حضرت شیخ عدی بن مسا فر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا کہ سوائے حضرت محبوبِ سبحا نی کے کسی اور ولی اللہ نے بھی قدمی ھذہ علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ کہا ہے ؟ تو ارشا د فر مایا کہ نہیں ۔پو چھا کہ پھر حضرت محبوبِ سبحا نی کے ارشا د کا کیا سبب ہے ؟ تو ارشاد فر مایا کہ یہ کلمہ ان کے مقامِ فر دیت کی خبر دیتا ہے ۔پھر پو چھا کہ فرد تو ہر زمانے میں ہو تا ہے ،مگر کسی کو سوائے حضرت محبوبِ سبحا نی کے یہ کہنے کا حکم نہیں ہو اہے ۔عرض کیا کہ آپ اس کہنے پر مامور ہو ئے تھے ؟ فر ما یا ہا ں ! اور تمام اولیاء اللہ نے حکمِ الٰہی کے بمو جب اپنی گردنیں جھکا ئیں ۔(مسا لک السالکین ۔ج۱ ص ۳۴۱)

وجہ تسمیہ بمحی الدین:مشا ئخ ِ قادریہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے آپ سے محی الدین لقب کی وجہ دریافت کی ،تو آپ نے فر ما یا ۔ ۵۱۱۔؁ھ میں ایک دفعہ میں ایک لمبے سفر سے بغداد کی طرف لوٹ رہا تھا ۔میرے پاؤں ننگے تھے ،مجھے ایک بیما ر آدمی ملا جس کا رنگ اڑا ہو اتھا اور بڑا ہی کمزور جسم نظر آتا تھا ۔مجھے اس نے سلام کیا ،میں نے وعلیکم السلام کہا اس کے بعد مجھ سے کہنے لگا مجھ سے قریب ہو جا ؤ ۔میں قریب ہو اتو کہنے لگا مجھے اٹھا ؤ ۔میں نے اسے اٹھا کر بٹھا دیا تو اس کا جسم اچھا وتوانا ہو گیا اورا س کے چہرے پر رونق نظر آنے لگی ۔مجھے اس نے پو چھا کہ کیا تم مجھے پہچا نتے ہو ؟ میں نے نفی میں جوا ب دیا تو وہ خود ہی کہنے لگا کہ:’’ میں تمہا را دین ہوں جو ایسا نحیف ونزار ہو گیا تھا چنانچہ آپ نے دیکھ لیا ہے کہ آپ کی وجہ سے مجھے اللہ تعالیٰ نے از سرِ نو زندگی بخشی ہے ،آج سے تمہا را نام محی الدین ہو گا ۔‘‘

یہاں تک کہ جب میں جا مع مسجد کی طرف واپس آیا تو مجھے ایک شخص ملا اور مجھ سے کہنے لگا یا سید محی الدین ! میں نے نما ز ادا کی تو لوگ میرے سامنے ادباً کھڑے ہو گئے اور ہا تھوں کو بو سہ دینے لگے ۔اور زبان سے یا محی الدین پکا رتے جا تے تھے ۔حا لانکہ اس سے پہلے کو ئی بھی مجھے اس لقب سے نہیں پکا رتا تھا۔(خزینۃ الاصفیاء ۔ج۱ ص ۹۴؍ تلخیص بہجۃ الاسرار)

مسندِ رُ شد وہدا یت

حضرت غو ث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فر ماتے ہیں کہ ابتداء میں مجھے سوتے جا گتے کرنے اور نہ کرنے والے کا م بتا ئےجا تے اور مجھ پر کلا م کرنے کا غلبہ اتنی شدت سے ہو تا کہ میں بے اختیار ہو جا تا اور خا موش رہنے کی قدرت نہیں رکھتا تھا ۔صرف دو تین آدمی میری با تیں سنتے رہتے تھے ۔پھر لوگو ں کی تعداد بڑھنے لگی حتیٰ کہ مخلوقِ خدا کا ہجو م ہو نے لگا یہاں تک کہ ایک وقت آیا کہ میری مجلس میں جگہ با قی نہ رہتی چنانچہ میں شہر کی عید گا ہ میں چلا گیا اوروعظ کہنے لگا وہاں بھی جگہ تنگ ہو گئی تو منبر شہر کے با ہر لے گیا اور بے شمار مخلوق سوارو پیا دہ آتی ۔اور مجلس کے با ہر کھڑی ہو کر وعظ سنتی حتیٰ کہ سننے والوں کی تعداد ستر(۷۰) ہزار کے قریب پہنچ گئی۔(اخبا ر الاخیار اردو۔ص ۳۷،۳۸)

آپ ارشاد فر ما تے ہیں کہ: شروع زمانے میں ،میں نے نبیٔ کریم ﷺ اور حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو خواب میں دیکھا کہ مجھے وعظ کہنے کا حکم فرما رہے ہیں اور میرے منہ میں انہوں نے اپنا لعابِ دہن ڈالا ۔بس اس کی تاثیر ہو ئی کہ میرے لئے ابوابِ سخن کھل گئے ۔۔۔۔آپ کی مجلسِ وعظ میں چا رسو اشخاص قلم دوات لے کر بیٹھتے اور جو کچھ سنتے اس کو لکھتے رہتے۔۔۔۔اور جب منبر پر تشریف لا تے تو مختلف علوم کا بیان فر ماتے ۔تمام حا ضرین آپ کی ہیبت وعظمت کے سامنے بالکل ساکت رہتے کبھی اثنا ئے وعظ میں فر ما تے کہ قال ختم ہوا اور حال کی طرف ما ئل ہو ئے ۔یہ کہتے ہی لوگو ں میں اضطراب وجد اور حال کی کیفیت طاری ہو جا تی کو ئی گریہ وفریا دکرتا ،کو ئی کپڑے پھا ڑ کر جنگل کی را ہ لیتا اور کو ئی بیہوش ہو کر اپنی جان دے دیتا ،بسا اوقات آپ کی مجلس سے شوق ،ہیبت،تصرف،عظمت اور جلال کے با عث کئی کئی جنا زے نکلتے آپ کی مجلسِ وعظ میں جن خوا رق،کرامات ،تجلیات اور عجائبات وغرا ئب کا ظہور بیان کیا جا تا وہ بے شما ر ہیں۔
روایت ہے کہ جب آپ منبر پر تشریف لا تے تو فر ما تے اے صاحبزادے ! ہما رے منبر پر بیٹھ جا نے کے بعد دیر نہ کیا کر،ولا یت یہاں حا صل ہو تی ہے ،اعلیٰ درجا ت یہاں ملتے ہیں ۔اےطلب گا رِ تو بہ! ہمارے پا س آ،اے طا لبِ عفو ! بسم اللہ تو بھی آ ۔اے اخلاص کے چا ہنے والے ! بسم اللہ ہفتہ میں ایک با ر آ ،مہینہ میں ایک با ر آ ،اگر یہ بھی مشکل ہو تو سال میں ایک دفعہ آ ،اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو عمر میں ایک مرتبہ آ ،اور ہزار نعمتیں لے جا،اے عالم ہزار مہینہ کی مسافت طے کر کے میرے پاس آ اور میری با ت سن جا ۔اور جب تو یہاں آئے تو اپنے عمل زہد ،تقویٰ اور ورع کو نظر اندا زکر،تا کہ تو اپنے نصیب کے مطا بق مجھ سے اپنا حصہ حا صل کر سکے ۔میری مجلس میں مقرب فر شتے ،مخصوص اولیاء اور رجال الغیب اس لئے آتے ہیں کہ مجھ سے با رگا ہِ اقدس کے آداب وتواضع سیکھ سکیں ،میرا وعظ رجالِ غیب کے لئے ہو تا ہے جو کو ہِ قاف کے ما وراء سے آتے ہیں کہ ان کے قدمِ دوش ِ ہوا پر ہو تے ہیں ،لیکن خدا وند ِ عالم کے لئے ان کے دلوں میں آتشِ شوق و سوزش ِ اشتیاق شعلہ زن ہو تی ہے۔

آپ کا معمول تھا کہ ہفتہ میں تین بار وعظ فر مایا کرتے ۔جمعہ کی صبح ،منگل کی رات اور اتوار کی صبح کو۔آپ کی مجلس میں عراق کے مشا ئخ ،مفتی اور علماء شریک ہو اکرتے تھے ان میں شیخ بقا بن بطو ،شیخ ابو سعید قیلوی ،شیخ علی بن ہیئتی،شیخ عبد القاہر سہروردی ،شیخ ماجد کردوی اور شیخ مطر بادرا نی وغیرہم خاص طور پرقابلِ ذکر ہیں (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین)آپ کی کو ئی مجلس ایسی نہ ہو تی تھی جس میں کو ئی یہودی یا عیسا ئی دامنِ اسلام میں نہ آتا ہو ،اور راہزن ،چور ،ملحد ،بے دین اور بد عقیدہ لو گ آپ کی مجلس میں آ کر تا ئب ہو تے ،یہودی اور عیسا ئیوں میں سے پا نچ سو کے قریب آپ کے دستِ حق پر ست پراسلام لا ئے ،ایک لا کھ سے زیا دہ چور اور قزاق تا ئب ہو ئے۔(اخبا ر الاخیار وتلخیص بہجۃ الاسرار۔ص ۵۸)

کشف وکرامات

آپ کے کشف وکرا مات کے متعلق حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اخبا ر الاخیار میں ارشاد فر ما تے ہیں:آپ سے لا تعداد کرا متیں ظاہر ہو ئیں ،مخلوق کے ظا ہر وبا طن میں تصرف کرنا ،انسان اور جنات پر آپ کی حکومت ،لوگوں کے راز اور پو شیدہ امور سے واقفیت ،عالمِ ملکوت کے بوا طن کی خبر،عالمِ جبروت کے حقا ئق کا کشف ،عالم ِ لا ہوت کے سربستہ اسرار کا علم ،مواہبِ غیبیہ کی عطا ،باذنِ الٰہی حوادث ِ زمانہ کا تصرف وانقلاب ،باذ نِ الٰہی ما رنے اور جلانے کے ساتھ متصف ہو نا ،اندھے اور کو ڑھی کو اچھا کرنا ،مریضوں کی صحت ،بیما روں کی شفا ،طے زمان ومکان ،زمین وآسمان پر اجرائے حکم ،پا نی پر چلنا ،ہوا میں اڑنا ، لوگوں کے تخیل کا بدلنا ،اشیاء کی طبیعت کا تبدیل کر دینا ،غیب کی اشیاء کا منگا نا ،ما ضی و مستقبل کی با توں کا بتا نا اورا سی طرح کے دوسرے کرا مات ِ مسلسل اور عام وخا ص کے درمیان آپ کے قصد وارا دہ سے بلکہ اظہار ِ حقا نیت کے طریقے پر ظاہر ہو ئے اور مذکو رہ کرا متوں میں سے ہر ایک سے متعلق اتنی روا یات وحکایات ہیں کہ زبان وقلم ان کے احا طہ سے قا صر ہیں ۔

حضرت شیخ علی بن ہیئتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فر ما تے ہیں کہ: میں نے اپنے زمانہ میں شیخ عبد القادر سے زیا دہ کرا مت والا کو ئی نہیں دیکھا جس وقت جس کا دل چاہتا آپ کی کرا مت کا مشا ہدہ کر لیتا اور کرا مت کبھی آپ کے با رے میں کبھی آپ کی وجہ سے۔
شیخ ابو مسعود احمد بن ابو بکر خزیمی اور شیخ ابو عمر عثمان صریفینی نے فر ما یا کہ : حضرت شیخ عبد القادر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرا متیں اس ہا ر کی طرح ہیں جس میں جو ہر تہ بہ تہ ہیں ۔

شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فر ما تے ہیں کہ : شیخ عبد القا در جیلا نی رضی اللہ تعالیٰ عنہ با دشاہِ طریقت اور مو جو دات میں تصرف کرنے والے تھے اور منجانب اللہ آپ کو تصرف وکرامتوں کا ہمیشہ اختیار حاصل رہا ۔

امام عبد اللہ یا فعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیان ہے کہ : آپ کی کرا متیں حدِّ تو اتر تک پہنچ گئی ہیں اور با لا تفاق سب کو اس کا علم ہے ۔دنیا کے کسی شیخ میں ایسی کرا متیں نہیں پا ئی گئیں ۔(اخبا ر الاخیار فا رسی ۔ص۲۰،۲۱)

یہاں پر سرکا ر غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صرف چند کرا ما ت تبرکاً پیش کئے جا تے ہیں ۔تفصیل کے لئے دیگر سوانح کی کتب دیکھیں ۔

مردوں کو زندہ کرنا :

وہ کہہ کر قم باذن اللہ جلا دیتے ہیں مردوں کو
بہت مشہور ہے احیا ئے مو تیٰ غو ثِ اعظم کا

اسرار السالکین میں ہے کہ ایک دن آپ با زار میں تشریف لے جا رہے تھے ،دیکھتے کیا ہیں کہ ایک نصرا نی اور ایک مسلمان میں مبا حثہ ومجا دلہ ہو رہا ہے۔نصرا نی بہت سے دلا ئل سے اپنے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کی فضیلت ثابت کر رہا تھا اور مسلمان اپنے پیغمبر نبیٔ آخر الزماں علیہ الصلوٰۃ والسلام کی فضیلت میں بہت سے دلا ئل پیش کر رہا تھا ۔آخر میں نصرا نی نے کہا کہ میرے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام قم باذن اللہ کہہ کر مردے زندہ کر دیتے تھے ،تم بتا ؤ کہ تمہا رے پیغمبر نے کتنے مردے زندہ کئے ہیں ؟ یہ سن کر مسلمان نے سکوت اختیا ر کیا یہ سکوت سرکا ر غوث ِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کونہا یت ہی نا گو ار معلوم ہو ا اور نصرا نی سے ارشا د فر مایا کہ: میرے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ادنیٰ معجزہ یہ ہے کہ ان کے ادنیٰ خا دم مردوں کو جلا سکتے ہیں ۔تو جس مردہ کو کہے اسے میں ابھی زندہ کر دوں ۔یہ سن کر نصرا نی آپ کو ایک بہت ہی پرا نے قبرستان میں لے گیا ۔اور ایک بہت ہی پرا نی قبر کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ آپ اس مردہ کو زندہ کر دیجیئے ۔آپ نے فر ما یا کہ یہ قبر ایک قوال کی ہے اور تیرے پیغمبر قم باذن اللہ کہہ کر مردوں کو جلا تے تھے( یعنی اٹھ اللہ کے حکم سے) مگر میں کہتا ہوں قم باذنی یعنی اٹھ میرے حکم سے ۔صرف اتنا کہنا تھا کہ قبر شق ہو ئی اور صاحبِ قبر جو قوال تھا اپنے سازو سامان کے ساتھ قبر سے گا تا بجا تا با ہر آگیا ۔ا ور کلمۂ شہا دت زبان سے ادا کیا ۔یہ دیکھ کر نصرا نی بصدقِ دل ایمان لا یا اور آپ کے خدامِ ذوی الاحتشام میں داخل ہو گیا ۔(مسالک السالکین۔ج۱ ص ۳۴۶)

کرا ماتِ عجیبہ:ایک مرتبہ آپ نے سید احمد رفا عی کو کہلا بھیجا ما العشق؟ عشق کی حقیقت کیا ہے ؟ سید صاحب کو یہ سنتے ہی ایک کیفیت پید اہو ئی اورا لعشق نا ر یحرق ما سواللہ یعنی عشق ایک آگ ہے کہ جلا دیتی ہے سب کو جو سوائے اللہ ہے کے نعرے لگا نے لگے ،سامنے ایک درخت تھا ،ا س میں آگ لگی اور اس درخت کے ساتھ یہ جل کر راکھ ہو گئے اورا سکے بعد پا نی میں تبدیل ہو ئے ۔آپ نے یہ سن کرخا دم سے کہا : جلد جا ؤ اور اس پا نی کو اٹھا لا ؤ ۔اب جو خا دم دیکھتا ہے تو اس پا نی نے پھر انسانی شکل اختیا ر کر لی اور سید صاحب زندہ ہو گئے ۔خا دم سے یہ کیفیت سن کر آپ نے فر ما یا جو ولی اس مقام ِ فنا در فنا پر پہنچتا ہے پھر اپنے قالبِ عنصری کی طرف رجوع نہیں کر سکتا ۔سوائے ان کے اور ایک اور بزرگ کے کسی کو یہ مرتبہ حا صل نہیں ہوا ۔یہ سید صا حب آپ کے بھا نجے تھے اور ان کی مدح میں آپ یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔

فمن فی اولیاء اللہ مثلی ومن فی العلم والتصریف حا لی
کذا ابن الرفا عی کان منی فیسلک فی طریقی واشتغا لی

پا نی پر نماز با جماعت پڑھنا:ایک مرتبہ آپ اہلِ بغداد کی نظروں سے غا ئب ہو گئے ۔لوگوں نے تلا ش کیا تو معلوم ہوا کہ دریا ئے دجلہ کی طرف تشریف لے گئے ہیں یہاں تک کہ لوگ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ آپ پا نی پر چل رہے ہیں اور مچھلیاں پا نی سے نکل نکل کر آپ کو سلام علیک کر رہی ہیں اور قدم مبا رک کو چھو رہی ہیں ۔اسی اثنا ء میں ایک بڑی نفیس جا نما ز دیکھی جو تختِ سلیمانی کی طرح ہوا میں معلق ہو کر بچھ گئی ۔اور اس پر دو سطریں لکھی تھیں پہلی سطر میں الا ان اولیا ء اللہ کا خوف علیہم ولا ہم یحزنون ۔اور دوسری سطر میں سلام علیکم اہل البیت انہ‘ حمید مجید لکھا تھا ۔ا تنے میں بہت سے لوگ آکر جا نما زکے گرد جمع ہو گئے وہ ظہر کا وقت تھا تکبیر ہو ئی اور آپ امام ہو ئے اور نما ز قا ئم ہو ئی ،جب آپ تکبیر کہتے تو حا ملانِ عرش آپ کے ساتھ تکبیر کہتے اور جب آپ تسبیح پڑھتے تو ساتوںآسما نوں کے فرشتے آپ کے ساتھ تسبیح پڑھتے اور جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو آپ کے لبوں سے سبز رنگ کا نور نکل کر آسمانوں کی طرف جاتا جب نماز سے فا رغ ہو ئے تو یہ دعا کی کہ:اے پروردگا ر ! میں تیری درگا ہ میں تیرے حبیب اور بہترین خلا ئق حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو وسیلہ کر کے دعا کرتا ہوں کہ تو میرے مریدوںا ور مریدوں کے مریدوں کو جو میری طرف منسوب ہوں بغیر توبہ کے روح قبض نہ کرنا ۔حضرت سہل بن عبد اللہ تستری فر ما تے ہیں کہ ہم نے آپ کی اس دعا ء پر فرشتوں کے بڑے گروہ کو آمین کہتے سنا ۔جب دعا ختم ہو ئی تو ہم نے ایک ندا سنی۔۔۔۔ابشر فا نی قد استجبتلک۔اے عبد القادر خوش ہو جا ؤ کہ ہم نے تمہاری دعا قبول فر ما ئی ۔شیخ بقا بن بطو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے پو چھا کہ آپ کے مریدوں میں پر ہیز گا ر اور گنا ہ گا ر دونو ں ہی ہوں گے ؟ فر ما یا ہاں ! مگر پرہیز گا ر میرے لئے اور میں گناہ گا روں کے لئے ہوں۔(برکاتِ قادریت۔ص ۲۴)

للہ الحمد کہ یا ور ہے نصیبہ میرا

بن گیا دم میں کبھی کا جو تھا بگڑا میرا

کر سکے گا کو ئی بد خواہ بھلا کیا میرا

مہر با ں مجھ پہ ہے اللہ تعالیٰ میرا

غوثِ اعظم کو کیا فضل سے آقا میرا

سید المکا شفین آپ کی دعا سے پیدا ہو ئے :محبو ب المعانی میں منا قب کے حوالے سے مذکو ر ہے کہ شیخ علی بن محمد عربی قدس سرہ‘ صاحبِ جا ہ وجلال اور ما لکِ ملک وما ل تھے ۔مگر انھیں کو ئی فر زند نہ تھا جس کی وجہ سے ہمیشہ آپ کو رنج والم رہتا ۔مشائخِ کبا ر واکا بر ِ روز گا ر کی خدمت میں حا ضرہو کر دعا کے لئے التجا کرتے مگر کسی کی دعا ان کے واسطے مقبو ل نہ ہوئی ۔ایک مرتبہ ایک مجذوب نے شیخ علی سے فر مایا کہ تو خدمتِ با برکت ِحضرت غوثِ اعظم میں جا ،وہ محبوبِ خدا ہیں دعا فر ما ئیں گے ،ان کی دعا سے تیرا مطلب بر آئے گا ۔

حضرت شیخ علی نے اس بشارتِ عظیمہ سے شاد کام ہو کربغداد شریف کا رختِ سفر با ندھا ۔جب دولتِ زیا رت سے شرف یا بی ہو ئی تو قبل ِ اظہارِ مدعا کے حضرت نے خو دہی فر ما یا کہ: تیری قسمت میں فر زند نہیں ہے ۔کیا کروں؟ حضرت شیخ علی قدس سرہ‘ نے عرض کیا کہ حضور اگر میری قسمت میں فر زندہو تا تو اتنا رنج والم کیوں اٹھا تا اور یہاں تک کیوں آتا ،یہ جا نتا ہوں کہ بے نصیب ہوں ،مگر آپ کی خدمت میں آیا ہوں اب امید قوی ہے کہ خدا ئے تعالیٰ میرا مدعا پور اکرے گا اور میرا مطلب حل ہو گا ۔

ہر کس کہ بدرگا ہ توآید بہ نیا ز محروم زِ درگا ہ تو کے گردد با ز

اس کے بعد حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشا د فر مایا کہ: آ میری پشت سے پشت رگڑ ۔ایک فر زند جو مجھ کو ہو نے والابا قی ہے تجھ کو دیا۔۔۔۔حضرت شیخ نے حسب الحکم ویسا ہی کیا اور وہاں سے رخصت ہو نے لگے تو بوقتِ رخصت ارشا د ہوا کہ اس فر زند کا نام محمد رکھنا اور اس کا لقب محی الدین ہو گا ۔حضرت شیخ موصوف وہاں سے اپنے وطن کو آئے ،بی بی ان کی حا ملہ ہو ئیں ،بعد ایامِ حمل کے خدا وند تعالیٰ نے انہیں فر زندِ ارجمند عطا فر مایا ۔ولا دت کے بعد شیخ اپنے بچے کو لے کر خدمتِ غوثیت میں حا ضر ہو ئے ،حضرت نے ان پر نظرِ رحمت فر مائی اور ارشاد فر مایا ۔سبحا ن ا،للہ ! عجیب مردجہان میں پیدا ہوا ہے یہ اپنے وقت میں میری زبا ن ہو گا ۔جو اسرار اولیا ء اللہ نے پو شیدہ رکھا ہے اس کا اظہا ر اور بیان ہو گا ۔(مقاماتِ دستگیری)

حضرت شیخ محمد محی الدین بن عر بی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرح آپ کی دعا سے حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی پیدا ہو ئے۔(مقا ماتِ دستگیری)

ذوقِ شاعری:آپ اپنے وقت کے قاد ر الکلام شاعر اور ادیب بھی تھے ۔چنا نچہ قصیدۂ غو ثیہ کو دنیا ئے اسلا م میں بڑی شہرت اور مقبو لیت حا صل ہے اور یہ واقعی نہا یت مؤ ثر اور متبرّک کلا م ہے پڑھتے پڑھتے دل پراثر ہو تا ہے اس کی تا ثیر انتہا کو پہنچ جا نے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک خا ص جذب کی حا لت میں کہا گیا ہے اور خاص اثرات کا حا مل ہے آٹھ سو برس سے دنیا ئے اسلام نے اسے حا جتوں اور حصولِ مرا د کے لئے اپنے وظا ئف میں رکھا ہے ۔بلکہ بے شما ر افراد ایسے ہیں جنہوں نے ان قصیدوں کی برکات سے دینی اور دنیوی فوا ئد حاصل کئے ہیں ۔مشائخِ عظا م حصولِ مرا د کے لئے اسے نہایت پر تا ثیر بتا تے ہیں ذیل میں تبرکاً چند اشعار درج کئے گئے ہیں ۔اس کے علا وہ متعدد قصا ئد ہیں ۔جن کے پہلے اشعار کو ہد یۂ نا ظرین کیا جا تا ہے۔

سقانی الحب کا سا تی الوصا لٖ

فقلت لخمرتی نحوی تعالٖ

سعت ومشت لنحوی فی کؤ سٍ

فہمت بسکرتی بین الموالی

۲۔قصیدہ عینیہ کا پہلا شعر یہ ہے:

فواد بہ شمش المحبۃ طالع

ولیس لنجم العذل فیہ موا قع

۳۔قصیدہ یا ئیہ کا ابتدا ئی شعر:

علی الاولیاء القیت سری وبر ھا نی

فھا موا بہ فی سرّ سرّی واعلا نی

۴۔قصیدہ با ئیہ کا ابتدائی شعر:

دنوت من المحبوب اعلی المراتب

فاو ھبنی بالقرب ازکی المواھب

۵۔قصیدہ الفیہ کا ابتدائی شعر:

رفعت علیٰ اعلی الوریٰ اعلامنا

لما بلغنا فی الغرام مرا منا

۶۔ایک قصیدہ الفیہ اور ہے جس کا ابتدائی شعر:

سالتک یا جبا ر یا سامع الندا

یا حا کم احکم فی الذی قد تحبرا

۷۔قصیدہ لامیہ کا ابتدائی شعر:

اتطلب ان تکون کثیر مال

ویسمع منک دوما فی کل قال

۸۔آٹھواں قصیدہ جس کا ابتدا ئی شعر:

ولما صفا قلبی وطا بت سریری

ومنی دنا صحوی لفتح البصیرۃ

۹۔نواں قصیدہ جس کا ابتدائی شعر:

نظرت بعین الفکر فی حان حضرتی

حبیبا تجلی القلوب فجنتی

۱۰۔دسواں قصیدہ جس کا ابتدائی شعر:

با من یحل بذکرہ

عقد النوا ئب والشدائد

۱۱۔گیا رہواں قصیدہ جس کا پہلا شعر:

طف بحا می سبعا ولذبد ما می

وتجرد لزورتی کل عام

مذکو رہ قصا ئد کے علا وہ بھی بہت سے قصائد ہیں بخوف طوالت اسی پر اکتفا کیا جا تا ہے۔

تصانیف:حضرت محبوبِ سبحا نی اپنے وقت کے کا میاب مصنف بھی تھے۔چنا نچہ آپ کی تصا نیف سے شریعت وطریقت ،سلوک ومعرفت ،فنا و بقا ،تزکیۂ نفس وتصفیۂ قلب ،فرقۂ با طلہ کا بھر پور رد ،فقہ اسلامی کی بھر پور اشاعت کا انداز ہ ہو تا ہے ۔چند مشاہیر کتب کے نا م درج ذیل ہیں ۔
۱۔غنیۃ الطا لبین ۲۔فتوح الغیب ۳۔فتح ربا نی ۴۔دیوانِ غوث ِ اعظم ۵۔جلاء الخا طر فی البا طن والظا ہر ۶۔یواقیت الحکم ۷۔کبریتِ احمر ۸۔اسبو ع شریف ۹۔قصیدۂ غوثیہ ۱۰۔مکتو باتِ محبوبِ سبحا نی

سلسلۂ قادریہ کا فیض دیگر سلاسل پر

مزرعِ چشت وبخارا و عراق و اجمیر

کو ن سی کشت پہ برسا نہیں جھا لا تیرا

(اعلیٰ حضرت)

چشتیہ:جناب محمد صادق بن محمد حسین اویسی اللطیفی القادری المتخلص بہ مشربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی ما یہ نا ز کتاب محبوب المعانی محبوبِ سبحا نی میں لکھا ہے کہ مخدوم ِ دین ودنیا حضرت سید محمد گیسو درا زالمشہوربہ بندہ نواز قدس سرہٗ العزیز( ۸۲۵ھ) نے لطا ئف الغرا ئب نا می کتاب میں کیا ہے کہ ایک روز زبانِ فیض ترجمان ،قطبِ عالم خواجہ نصیر الدین محمود چرا غ دہلوی نورا للہ مرقدہٗ(۷۵۷ھ) سے میں نے سنا ہے کہ فر ما تے ہیں کہ جب حضرت غوث الثقلین ،قطب الکونین ،شیخ العالم سید ابو محمد محی الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ’’قدمی ھذہٖ علیٰ رقبۃ کل ولی اللّٰہ‘‘ کہنے پر مامور ہو ئے تو جتنے اولیاء اللہ زمین پر تھے سبھوں نے اپنی گردنیں جھکا دیں اور اطا عت کی ۔اس وقت امام السالکین ،قطب العارفین خوا جہ معین الحق والدین (۶۳۳ھ) جوان تھے اور ملک خرا سان کے پہاڑوں کے دامن میں مجا ہدہ اور ریا ضت میں مشغول تھے ۔جب اس اعلان ’’ قدمی ھذہٖ علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ‘‘    کو سنا تو اپنی گردن مبارک جھکا دی کہ پیشا نی مبا رک زمین سے لگ گئی اور فر مایا : ’’قدمک علیٰ رأ سی وعینی‘‘ یعنی آپ کا قدم مبارک میرے سر اور آنکھوں پر ،اسی وقت حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے نورِ با طن سے مطلع ہو کر تمام اولیا ء اللہ کی مجلس میں روبرو فر مایا:

فرزند ِخوا جہ غیاث الدین سنجری اطاعت میں تمام اولیا ء اللہ سے سبقت لے گیا ،اس حسنِ ادب وتواضع سے ،خدا ئے جل وعلیٰ اور رسولِ کبریا ﷺ کو خو ش کیا ،عنقریب وہ صاحبِ ولا یت ملکِ ہند وستان ہو گا۔۔۔۔اور ایسا ہی ہوا ۔سیر العارفین میں ہے کہ جب حضرت خو اجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وا لد ما جد کا وصا ل ہوا تو حضرت کی عمر اس وقت پندرہ سال کی تھی ،آپ کے والد ما جد کا ایک با غ تھا جس سے اپنی ضروریاتِ زندگی پوری کرتے تھے اس با غ میں ایک مجذوب جن کا نام ابرا ہیم قندوزی ہے رہا کرتے تھے ایک رو زمعمول کے مطا بق وہ مجذوب اس باغ میں تشریف لا ئے اس وقت حضرت خوا جہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے با غ کے درختوں میں پا نی ڈا ل رہے تھے ،جب آپ نے ان مجذوب موصوف کو دیکھا تو دست بو سی کر کے ایک درخت کے نیچے بٹھایا اور ایک خو شہ انگور کا ان کے سامنے رکھ کر مؤدب بیٹھ گئے مجذوب صا حب نے کو ئی چیز اپنے بغل سے نکال کر چبا ئی اور اپنے ہا تھ سے خو اجہ بزرگوا ر کو کھلا ئی ۔جس کو کھا تے ہی ایک نو ر آپ کے قلب میں روشن ہوا اور تمام اسبا ب واملاک سے دل بھر گیا ۔جو کچھ مال واسبا ب تھے محتا جوں میں تقسیم کر کے رختِ سفر با ندھا ۔۔۔۔ایک مدت تک سمر قند ،بخا را میں رہ کرحفظِ قرآن وقرأت اور علمِ ظا ہری سے آرا ستہ ہو کر عراق کی طرف سفر اختیار فر مایا ۔جب قصبہ ہرون (نواح ِ نیشا پور میں واقع ہے) میں پہنچے تو حضرت شیخ عثمان ہارونی (۵۶۷ھ) کی خدمتِ با برکت سے مشرف ہو کر مرید ہو ئے قریب ڈھا ئی سال مرشدِ بر حق کی خدمت میں ریا ضت ومجا ہدہ کر نے کے بعد خرقۂ خلا فت پا کر بغدا د شریف کی جا نب سفر اختیار فر مایا ،پہلے قصبۂ جیل پہنچے اور حضرت غوث الثقلین کی خدمتِ فیض درجت سے مشرف ومعزز ہو ئے ۔حضرت غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں پا نچ مہینے سات دن صحبتِ اکسیر ۔۔۔صیت میں رہ کر افاضاتِ صوری ومعنوی اور کسبِ نورِ با طن کرکے فیض یاب ہو ئے۔

آئینِ اکبری کی جلد سوم اور گلزارِ ابرار میں حضرت خوا جہ معین الدین چشتی علیہ الرحمۃ کی ولادت ۵۳۷ھ پا نصد سی وہفت مذکور ہے اور رحلت اکثر کتب میں سال شش صد وسی وسہ ۶۳۳ھ مذکو ر ہے ۔اس حساب سے آ پ کی عمر شریف نو دو شش (۹۶) سال کی ظا ہر ہو ئی اور بعض نے نو دو ہفت(۹۷) سال بھی لکھا ہے ۔اگر کسرات کے مہینوں کا شما ر ہو تو شا ید نو دو ہفت (۹۷) سال ہوں اور حضرت غوث الثقلین کا وصال ۵۶۱ ھ ہے ۔اس حساب سے جنا ب خوا جہ بز رگ کی عمر شریف حضرت کے رحلت کے وقت چو بیس(۲۴) سال متحقق ہو ئی گلزارِ ابرار میں حضرت خوا جہ بزرگوار کے حالا ت میں یہ لکھا ہے کہ:’’نخست بدامن کوہ جو دی کہ از بغداد ہفت کو چ راہ دورا ست ،اسوۃ العرفاء شیخ محی الدین عبد القا در جیلی را دریا فت وبا ندازہ ٔ برات ازلی فیض اندوخت۔‘‘

اور آئینِ اکبری میں مرقوم ہے کہ:’’بصحبت خو اجہ عثمان چشتی رسید وبریا ضت گری بر نشست وخرقۂ خلا فت یا فت سیس در تکادو پر طلبی بر آمد واز شیخ عبد القادر جیلی وبسیاری بزرگا فیض اندوخت۔‘‘

الحا صل طریقۂ عالیہ قادریہ کو سلسلۂ مکرمہ چشتیہ پر زمانۂ حضرت غوث الثقلین سے فخر وشرف حاصل ہے ،اور ایک جہان اس با ت کا قائل ہے حضرت سید آدم بنوری نقشبندی قدس سرہ‘ نکا ت الاسرار میں لکھتے ہیں کہ: ایک روز محفلِ قدس مشاکل حضرت شیخ فرید الدین محمد گنجِ شکر (۶۹۰ھ) قدس سرہٗ کی مجلس میں حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قدمِ مبا رک کا ذکر آیا تو حضرت شیخ گنجِ شکر قدس سرہٗ نے ارشا د فرما یا :’’ پیر کے پیر حضرت خو اجہ معین الدین چشتی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وضعِ رقابِ اولیاء میں داخل فمنصبی ان اقول علیٰ حدقۃ عینی کے مشرف ہو ئے۔‘‘

اور ایساہی برہان المتقدمین حضرت سید اکرم محمد شاہ عالم ،محبوبِ عالم گجرا تی (۸۵۷؁۔ھ) قدس سرہ‘ العزیز نے بھی لکھا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہ جس وقت آپ کی مجلس میں حضرت غو ثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر آتا تو حضرت غوثِ اعظم کی منقبت میں یہ بیت فر ماتے۔ع

صد چشم وام خوا ہم تادر تو بنگرم

ویں دام از کہ خوا ہم ویں چشم خود کر است

اور اسرار السا لکین ملفوظ جناب شیخ جنید نبیرۂ شیخ فرید الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں لکھا ہے کہ حضرت سلطا ن المشا ئخ ،برہان الاتقیاء شیخ نظا م الدین اولیاء (۷۲۵ھ) قدس سرہ‘ العزیز بھی جنابِ فیض مآب غوثیۂ محبو بیہ سے بہرہ مند ہو ئے ہیں اور خرقۂ خلا فت سلسلۂ عالیہ قادریہ حضرت سید عمر (غوثِ پاک کے پو تے کے لڑکے) علیہ الرحمۃ سے خرقۂ خلا فت پہنا اور مقامِ محبوبیت سے مشرف ہو ئے ۔۔۔۔اس لئے جناب سلطا ن المشائخ حضرت نظا م الدین اولیاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو رتبۂ محبوبیت ملا ۔۔۔۔اس میں فیضِ خلا فتِ خا ندانِ عالیہ قادریہ شامل ہے۔
سہرو ردیہ:صاحبِ محبوب المعانی نے نقل کیا ہے کہ والدہ ما جدہ حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہر وردی(۶۳۲ھ)رحمہم اللہ تعالیٰ نے ایک روز حضرت محبوبِ سبحا نی شیخ عبد القادر جیلا نی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خد متِ با برکت میں عرض کی کہ:خدا ئے تعالیٰ نے اس ضعیفہ کو مال ودولت کی کثرت عطا فر ما ئی ہے ،لیکن فر زندِ صالح جو تو شۂ آخرت ہے اس سے محروم ہوں ۔آپ کی دعا سے اللہ تعالیٰ میری آرزو بر لا ئے گا اور فر زندِ صالح عطا فر ما ئے گابعدہ‘ حضرت نے دعا کی تو غیب سے آواز آئی کہ اس ضعیفہ کی قسمت میں فر زند نہیں ہے ،اسی طرح تین با ر سوال وجو اب ہوا تو تیسری بار حضرت محبوبِ سبحا نی ،مقبولِ با رگاہِ ربا نی نے اپنا خرقہ ٔ مبا رکہ جسمِ مطہر سے نکال کر ہوا میں پھینکا اور ارشا د فر مایا کہ : جب تک میرا معروضہ مقبول نہ ہو گا یہ خرقۂ فقر نہ پہنوں گا ۔اس وقت زیارتِ سرکا ر ابد قرار ﷺ سے مشرف ہو ئے اور سرکا رنے خرقہ ہوا سے لے کر اپنے دستِ مبا رک سے غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہنا یا ۔اور ارشا د فر مایا کہ: اے فر زند ! درگا ہِ عالی بے نیاز ہے ،ہر وقت کہاں مقامِ نا ز ہے ۔محبوبِ سبحا نی نے عرض کیا ۔یا جدی ! اس مقام میں ،میں تنہا تھا ،اب مجھ پر شفقتِ پدری سایہ گستر ہے مجھ کو امید ِقوی ہو گئی ہے کہ اس عورت کو فر زند عطا ہو ۔توا سی کے درمیان مژدۂ غیب آیا کہ اے محبوب ! تیرا معروضہ قبول ہوا ۔اور ہم نے سائلہ کو فر زند عطا کیا ۔حضرت نے اس ضعیفہ سے فر مایا کہ تیرا مدعا بر آیا جا تجھے فر زند ہو گا ۔چند ہی مہینوں کے بعد وہ ضعیفہ حا ملہ ہوئیں بعد تمام ایامِ حمل کے اس کو لڑکی پیدا ہو ئی ا س لئے چند روز کے بعد اس لڑکی کو سرخ پا رچہ پہنا کر حضرت کی خدمت میں لا کر عرض کی کہ : حضور ! بشارت تو فر زند کی تھی مگر یہ تو لڑکی ہے ۔حضرت نے فر مایا کہ یہ لڑکی کیوں کر ہو گی ،اس ارشا د کے بعد تمام کپڑا اس بچی کے جسم سے نکالا اور تو جہ فر ما ئی پھر ارشا د فر مایا ۔۔۔۔یہ تو فر زند ہے ۔۔۔۔فی الفور علامتِ مردا نگی ظاہر ہو ئی اور ارشا د ہوا کہ: یہ فر زند میرا ہے ،اور اس کا نام میں نے شیخ شہا ب الدین عمر رکھا ہے ،اس کی عمر طویل ہو گی ،ابرو اور پستا ن درا ز ہو گی ،کہتے ہیں کہ بھوؤں کے با ل اتنے دراز تھے کہ جنا ب شیخ الشیوخ کتا بت کے وقت سر پر ڈا ل لیتے تھے اور پستا ن اتنے درا ز تھے کہ ایک با زو سے دوسرے با زو پر رکھ لیتے تھے ۔حسنِ صورت وسیرت میں نہایت مستحسن اور پیشوا ئے اہلِ زما نہ تھے ۔نفحا ت الانس میں ہے کہ جنا ب شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین عمرسہر وردی(۶۳۲ھ )قدس سرہٗ العزیز نے حضرت غوث الا عظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبتِ با برکت میں بڑا رتبہ اور مقام حا صل کیا اور حضرت غوث الثقلین نے پیشن گو ئی فر ما ئی تھی کہ : ’’انت اٰخر المشہو رین با لعراق ‘‘اور فر مایا کہ یہ لڑکا سرِ حلقۂ اولیاء اور اس کے مریدوں سے بزرگ اور صاحبِ ارشاد ہوں گے ۔۔۔۔چنا نچہ ویسا ہی ہوا کہ آپ سے آپ کا سلسلہ بہت ہی ترویج پا یا آپ کے چند خلفاء ومریدین کے اسما ئے گرامی یہ ہیں ۔

۱۔مخدوم بہاء الدین زکریا ملتا نی(۶۶۱ھ)

۲۔قاضی حمید الدین نا گو ری (۶۷۳ھ)

۳۔حضرت شیخ سعدی شیرازی(۶۹۱ھ) رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین

ہر ایک ان میں سے اپنے وقت کے امام ما نے جا تے ہیں ۔سلسلۂ سہروردیہ جو اب تک جا ری ہے آپ ہی کی طرف منسوب ہے اور آپ بھی بدرجۂ کامل واکمل سر کا ر غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فیض یاب ہو ئے ہیں۔(مقا ماتِ دستگیری۔ص۴۸؍۴۹)

نقشبندیہ:محبوب المعانی میں مذ کو ر ہے کہ شیخ عا رف عبد اللہ بلخی نے اپنی مشہور کتا ب ’’خوا رق الاحبا ب فی معرفت قطب الا قطاب ‘‘میں قطب العبا د ،غوث البلاد حضرت خوا جہ بہا ء الدین محمد بن محمد نقشبندی بخا ری قدس سرہٗ کے حالا ت میں اس طرح تحریر کیا ہے کہ: میں نے خو اجۂ خو اجگا ن ،زبانِ فیض بیان سرمست سے سنا ہے اور وہ بعض قلندران ِ دیرینہ سال اور عا رفانِ صاحبِ کمال سے جو بلدۂ شریفہ بخا را میں رہتے تھے نقل کرتے ہیں کہ ایک روز حضرت غوثِ اعظم شیخ محی الدین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چند مصا حبوں کے ساتھ با لا ئے بام جلوہ فرما تھے نا گا ہ آپ نے بخا را کی جانب نظر کر کے فر مایا کہ : میرے بعد جب ایک سو ستا ون(۱۵۷) سال گزرا تو ایک مرد محمد ہو گا جس کا مشرب قلندری ہو گا وہ میدانِ وجود میں خوش خرا م ہو گا بہاء الدین نقشبند اس کا لقب اور نام ہو گا اور میری دولت ونعمت اس کو ملے گی ۔
حضرت نے جیسافر مایا تھا ویسا ہی ہوا۔۔۔۔چنا نچہ حضرت نقشبند قدس سرہٗ نے حضرت امیر کلاں رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کا شرف حا صل کیا حضرت امیر کلاں رحمۃ اللہ علیہ نے التفاتِ بسیار اور شفقتِ بے شمار کے بعد اسمِ ذات کے شغل کی تلقین کی ۔مگر تصور نقشِ اسمِ اعظم کاحضرت نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے آئینۂ دل پر نہیں جمتا تھا ،آپ کی جمیعتِ خا طر میں انتشار تھا ۔جس کی وجہ سے آپ گھبراتے تھے ۔یہاں تک کہ ایک دن آپ جنگل کی طرف تشریف لئے جا رہے تھے تو دیکھتے کیا ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام تشریف لا رہے ہیں ۔یہاں تک کہ جب آپ سے قریب ہو ئے تو ارشا د فر مایا : اے خو اجہ بہاء الدین نقشبند ! مجھے اسمِ اعظم حضرت محبوبِ سبحا نی غوثِ صمدانی سے پہنچا ہے ،اس لئے تم کو آگا ہ کرتا ہوں کہ تو ان کی جنا ب میں اپنے کو رجوع کر تاکہ تیراکام بر آئے اور تو اپنی مرا دکو پا ئے ۔چنانچہ اسی شب کو موافقِ رہنما ئی جناب خضر علیہ السلا م حضرت غوث ِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جما لِ جہاں آرا ء سے مشرف ہو ئے ،حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے انگشت ہا ئے مبا رک جو نقشِ اسمِ ذات کے
ما نند ہیں خو اجۂ نقشبند کو دکھلا ئیں ،اس کو دیکھتے ہی فوراً نقشِ پنجۂ مبا رک سرکار غوثِ اعظم کا نقش اسمِ ذات ظاہر وبا طن میں حضرت خوا جہ نقشبند کے منقش ہو گیا ،اس کے بعد اس کی کیفیت یہ ہو ئی کہ ہر شیٔ نظرِ اقدس میں نقشِ اسمِ ذات ہی محسوس ہو نے لگی ۔اور کمخاب با فی میں گلو کا ری کی جگہ اسی نقشِ اسم کی گلو کا ری ہو ئی۔
چنا نچہ جب اس ذکرِ پاک کی دیا ر اور بلاد میں شہرت کی کثرت ہو ئی ،تو بعض ہمرا زنے اس امر کا استفسار کیا خوا جہ نقشبند قدس سرہٗ نے فر مایاکہ : یہ فیض میرے اوپر اس شب سے طا ری ہوا جس شب کو حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت سے مشرف ہوا اور ہر لحظہ میرے احوا ل وکیفیات میں آپ کی توجہات و برکا ت سے زیا دتی ہو ئی اور آپ ہی کی توجہ میرے اس اسم کے شہرت کا ذریعہ ہے ۔
حضرت حق پسند ،خوا جہ نقش بند قدس سرہٗ العزیز سے ’’قدمی ھذہٖ علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ‘‘ کی کیفیت دریا فت کی گئی تو آپ نے ارشا د فرمایا کہ: ہما رے خو اجۂ خواجگا ن ۔خو اجہ ابو یو سف ہمد انی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت کے زمانے میں تھے ،اپنی گردن مبا رک کو ان کے قدم مبارک کے نیچے کیا اور پھر فر مایا: قدمہ علیٰ عینی او علیٰ بصر بصیرتی۔
اور مولانا جامی قدس سرہٗ جو حضرت خوا جہ بزرگ حضرت عبد اللہ احرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مریدوں میں ہیں اور خو اجۂ بزرگوار پیشوا ئے طریقۂ عالیہ نقشبندیہ سے ہیں ۔فر ما تے ہیں کہ :کو ئی ولی متقدمین اور متا خرین میں سے با قی نہیں تھا جو اپنی گر دن حضرت غو ثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قدم کے نیچے نہ رکاہو۔
فضل وشرف حضرت محبوبِ سبحا نی کی فیض بخشی اور وضع ِ رقاب جناب خو اجہ یو سف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما سے خا ندانِ والا شان قادریہ کی افضلیت وبر تری طریقۂ نقشبندیہ پر ظا ہر ومقدم ہے ۔لیکن اس زمانے میں بعض مشائخِ نقشبندیہ ،مجددیہ جو یہ لکھتے ہیں کہ یقین جان ! کہ سب طریقوں میں طریقۂ نقشبندیہ افضل واعلیٰ ہے اور سلسلہ اس طریقۂ عالیہ کا حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتاہے اس لئے کہ آپ خلیفۂ بر حق اور جا نشینِ مطلق حبیبِ رب العالمین ہیں اور محبوب خدا کے ہیں اور کمالات ولایتِ محمدیہ کے علاوہ حاملِ با رِ نبوت احمد ﷺ ہیں اسی واسطے’’ افضل البشر بعد الانبیا ء بالتحقیق‘‘ کے اعلیٰ خلعت سے سرفرا ز ہو ئے ہیں اس لئے جو طریقہ ا فضلِ بشر تک پہنچتا ہے وہ سب طریقوں میں افضل واعلیٰ طریقہ ہو گا ۔۔۔۔معلوم ہو نا چا ہئے کہ افضلیتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہلسنت وجماعت کے نزدیک وا ضح اور ثابت ہے اس لئے جا ئے تعجب یہ ہے کہ اس با ت کو عقائد سے کچھ تعلق نہیں ہاں ! بلا شک وشبہ تفضیلِ شیخین تمام اصحاب پر ثا بت ومتحقق اہلسنت وجماعت کے نزدیک ہے اور حضرت مولا ئے کا ئنات علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفضیل بدعت ہے اور حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے افضل ہو نے میں کچھ شک وشبہ نہیں ان کی ایسی ہی شانِ بے پا یاں ہے۔

شرف ان کو نہ اس صوم وصلوٰۃ ِ ظا ہری سے تھا

سفینہ سینۂ بے کینہ تھا در یا ئے عرفاں کا

تقدم سب صحا بہ پر ،وہ افضل سب صحا بہ سے

سوا اس کے نہیں ہے دوسرا اس عزت وشاں کا

مگر ان کے افضل ہو نے سے طریقۂ نقشبندیہ سب طریقوں میں افضل واعلیٰ کس طرح ہو گا ؟ طریقے کے افضل ہو نے کی دو صورتیں ہیں ۔اول صورت میں صاحبِ طریقہ کو دیکھنا تو صاحبِ طریقہ حضرت غو ث الثقلین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت خو اجہ بہا ء الدین نقشبند رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں جو شرف حضرت غوث الثقلین کو حا صل ہے وہ تمام کتب سے اظہر من الشمس ہے ۔اور دوسری صورت میں دیکھا جا ئے کہ یہ طریقہ کہاں تک پہنچتا ہے ؟ تو اس صورت میں نقشبندیہ طریقہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے اور قا دریہ طریقہ حضرت سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک اور یہ دونوں حضرات جامع ِ طریقِ نبوت وولا یت ہیں ۔مگر حضرت صد یق ِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ طریقِ نبوت میں درجۂ کمال پر قدم راسخ رکھتے ہیں اور سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ثا بت قدمی اور دستگیری طریقِ ولا یت میں بدرجۂ اتم ہے چنا نچہ جتنے بھی طرق ہیں سب راہِ ولایت سے ہیں اور ولایت میں جو تصرف وشوکت حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حا صل ہے وہ دوسرے کو نہیں ۔۔۔۔جیسے کثرت ِ اتبا عِ وساطت،مقدماتِ ولا یت اور قدما ت مثلِ قطبیت ،غوثیت،ابدالیت وغیرہ اور امورِ سلطنت سلا طین وغیرہ زما نۂ مرتضوی سے اتمامِ دنیا تک انہیں کے وسیلے سے سب ہیں ۔اور یہ با ت سیاحین ِ عالمِ ملکوت پر کب مخفی ومحجوب ہے ۔اور یہ عجب حال ہے کہ اگر کو ئی بنظر اس تصرف وشوکت کے شیخین پر تفضیل دے ! رہی یہ بات تعریف کی تو اپنے طریقے کی جتنی چا ہے اتنی ہر شخص کو تعریف وتو صیف کرنی چا ہئے ،مگر دوسرے طرق سے افضل کہنے کو بیّن دلیل لا ئے۔

اگر مدعی کے پا س طریقۂ نقشبندیہ کے افضل ہو نے کی دلیل فقط منسوب ہو نا حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ہے تو ہم کہتے ہیں کہ حضرت شیخ عبد القادر جیلا نی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریقہ چا روں خلفا ئے کرام کی طرف منسوب ہے جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
صدیقیہ:حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جا نب منسوب اس طور سے ہے کہ خرقہ پہنا یا حضرت شیخ عبد القادر جیلا نی کو شیخ احمد اسود دینو ری نے ان کو شمشاد علی دینو ری نے ان کو ابو العبا س نہا وندی نے ان کو شیخ ابو عبداللہ محمد بن خنیف نے ان کو شیخ ابو محمد بن حسین جزری نے ان کو سید الطا ئفہ جنید بغداد ی نے ان کو شیخ ابو سعید خراز نے ان کو شیخ بشر حا فی نے ان کو شیخ ابو رجا عطا ردی نے ان کو فضیل بن عیاض نے ان کو منصور سلمی نے ان کو شیخ محمد بن مسلم زاہدی نے ان کو شیخ محمد بن خبیر نوفلی نے ان کو شیخ ابو محمد مطعم نے ان کو افضلِ اصحا ب حضرت سیدنا امیر المؤمنین ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے۔
فاروقیہ:او ر سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب اس طور سے ہے کہ خرقہ پہنا یا حضرت پیر دستگیر کو حضرت ابو الخیر نے ان کو شیخ یو سف نے ان کو شیخ ابو الحسن علی نے ان کو شیخ احمد بن عبد العزیزنے ان کو شیخ کہف الدین ابو بکر عبد اللہ شبلی نے ان کو سید الطا ئفہ جنید بغدادی نے ان کو شیخ ابو سعید خرا ز نے ان کو شیخ ابو عبد اللہ سنو حی نے ان کو شیخ ابو تراب نخشبی نے ان کو حضرت با یزید بسطا می نے ان کو شیخ امین الدین شامی نے ان کو شیخ عبد اللہ علمدا ر نے ان کو رئیسِ اصحا ب امیر المؤمنین عمر بن الخطا ب نے رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
عثما نیہ:حضرت امیر المؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک اس طور سے ہے ۔خرقہ پہنایا حضرت غوثِ اعظم کو شیخ حما د نے ان کو شیخ سعید محمد مغربی نے ان کو شیخ ابو بکر احمد بن عثمان مغربی نے ان کو شیخ ابو الفضل عبد الواحد یمنی نے ان کو شیخ احمد بن اسماعیل مکی نے ان کو شیخ ابو المکارم ابو بکر عبد اللہ شبلی نے ان کو سید الطا ئفہ جنید بغدادی نے ان کو خوا جہ ابو سعید خرا ز نے ان کو شیخ ابو عبید حسن مسوحی نے ان کو شیخ ابو تراب بخشی نے ان کو شیخ ابو عبد الرحمن حا تم اصم نے ان کو شیخ عبد اللہ خواص نے ان کو شیخ شفیق بلخی نے ان کو شیخ ابرا ہیم ادہم بلخی نے ان کو شیخ فضیل بن عیاض نے ان کو شیخ عبد الوا حد بن زید نے ان کو کمیل زیا د نے ان کو کامل حیاء والایمان امیر المؤمنین سیدنا حضرت عثمان بن عفان نے رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
علویہ:حضرت امیر المؤمنین سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک سلسلہ اس طو ر پر ہے:اجداد بزرگوار کی طرف حسنیہ ہے یعنی حضرت محی الدین عبد القا در جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خرقہ پہنا یا آپ کے والد ما جد حضرت ابو صالح موسیٰ نے ان کو ان کے والد ماجد سید عبد اللہ جیلی نے ان کو سید یحییٰ زاہد نے ان کو سید محمد نے ان کو سید دا ؤد نے ان کو سید موسیٰ ثا نی نے ان کو سید عبد اللہ ثا نی نے ان کو سید مو سیٰ الجون نے ان کو سید عبد اللہ محض نے ان کو ان کے والد ما جد امام حسن مثنیٰ نے ان کو ان کے والد ما جد حضرت اما م حسن نے ان کو ان کے والدِ گرا می مو لا ئے کا ئنات مشکل کشا شیرِ خدا علی مرتضیٰ نے رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔
اور مشائخِ کبا ر کی جانب سے حسینیہ ہے جس کی تفصیل اس طرح ہے جناب غوث الثقلین کو خرقہ پہنا یا شیخ ابو سعید مبا رک مخزومی نے ان کو شیخ ابو الحسن ہنکا ری نے ان کو شیخ ابو الفرح یوسف طرطوسی نے ان کو ابو الفضل عبد الوا حد تمیمی نے ان کو عبد العزیز یمنی نے ان کو شیخ شبلی نے ان کو سید الطائفہ شیخ جنید بغدادی نے ان کو شیخ سرّی سقطی نے ان کو شیخ معروف کرخی نے ان کو امام علی رضا نے ان کو امام مو سیٰ کا ظم نے ان کو امام جعفر صا دق نے ان کو امام محمد با قرنے ان کو امام زین العابدین نے ان کو اما م حسین نے ان کو حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہ الکریم نے ۔رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔
ان مذکو رہ سلاسل سے ذاتِ با برکا ت حضرت ،آسمان ِ رفعت ،محرمِ اسرارِ یز دانی جناب محبوبِ سبحا نی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی منتقل بحور ٹھہری اور چاروں اصحابِ کبا ر کے فیضان وانوا ر سے مستفیض وپر نور ہو ئی اس لئے ان نسبتوں سے افضل و اعلیٰ و اشرف ہو نا طریقۂ قاد ریہ نقشبندیہ سلسلہ پر ظاہر وبا ہر ہے ۔اس کے علاوہ ایک اور دلیل پیش کی جا تی ہے وہ یہ کہ : طریقہ ٔ قاد ریہ کو حضراتِ حسینی کریمین سے خا ص نسبت حاصل ہیاور یہ ہی نہیں بلکہ آپ دونوں کو شرفِ خاص نسبتِ سیادت اور فر زندیٔ سرکا ر ابد قرار ﷺ کا شرف بھی حاصل ہے ،اسی سبب سے تمام مفصل شرف اور فیضا ن وانوار حضراتِ حسنین کریمین اور حسن مثنیٰ و امام زین العا بدین وغیر ہم کی ذاتِ با برکا ت میں جمع ہیں اس لئے طریقۂ قادریہ عالیہ خاص طریقہ فر زندانِ رسولِ انس وجان ہے ۔اور یہ فضل وشرف نقشبندیہ طریقہ کو کہاں حاصل ہے ؟
اور فیضان و بر کات حضراتِ حسنین وغیر ہما کی حضرت سلما ن فارسی ،قا سم بن محمد بن ابی بکر صدیق اور شیخ محمد جبیر نو فلی وغیر ہم میں کیوں کر ہو گا ۔رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔

اصحاب ِ اراد ت و انتساب

سجل ان کو دیا وہ رب نے جس میں صا ف لکھا ہے
کہ جا ئے خلد میں ہر نا م لیوا غو ثِ اعظم کا

آپ کے مریدین ومنسلکین کی فضیلت بھی بے انتہا ہے اور کیوں نہ ہو کہ آقا کی فضیلت سے خا دم میں بھی فضیلت آتی ہے چنا نچہ شیخ صالح ابو الحسن علی بن محمد بن احمد بغدادی معروف بہ ابن الحما می نے بتا یا کہ میں نے سرکا رِ دوعالم ﷺ کو خو اب میں دیکھا عرض کیا یا رسول اللہ ! دعا فر ما ئیے کہ مجھے قرآن ِ کریم اور آپ کی نسبت پر موت آئے ۔آپ نے ارشاد فر مایا ایسا ہی ہو گا اور کیوں نہ ہو جبکہ ہما رے شیخ عبد القاد رہیں ،وہ شیخ فر ما تے ہیں کہ میں نے سرکارِ دو عالم ﷺ سے تین مرتبہ یہی در خواست کی اور آپ نے تینوں مرتبہ یہی ارشاد فر ما یا ۔
شیخ ابو القاسم عمر بزاز نے بیان کیا ہے کہ میں خدمتِ اقدس میں حا ضر ہو ااور عرض کی کہ حضور اگر کو ئی شخص اپنے کو حضور کا مرید کہتا اور حضور کے ساتھ نسبت غلامی کی بتا تا ہو اور دراصل اس نے آپ کے دستِ اقدس پر بیعت نہ کی ہو اور نہ ہی یلہاں سے خرقہ حا صل کیا ہو ۔تو کیا وہ حضور کے مریدوں میں شمار کیا جا ئے گا ؟ آپ نے ار شاد فر مایا قیامت تک جو کو ئی ہما رے سلسلے میں داخل ہو اور اپنے کو ہما را مرید کہے تو بے شک وہ ہما رے مریدوں میں دا خل ہے ۔ہم ہمیشہ اس کے حا می ونا صر ودستگیر ہیں ،مرتے وقت اس کو تو بہ کی توفیق رب تعالیٰ بخشے گا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے وعدہ فر مالیا ہے کہ کیرے مریدوں ،سلسلہ والوں ،میرے طریق کا اتبا ع کرنے والوں اور میرے عقیدت مندوں کو جنت میں داخل فر ما ئے گا ۔
حضرت فر مایاکرتے کہ ہم میں کا ایک انڈہ ہزار میں ارزاں اور چوزہ کی قیمت تو لگا ئی نہیں جا سکتی ۔نیز فر ماتے کہ عزت ِ پروردگار کی قسم میرا دستِ حما یت میرے مریدوں پر ایسا ہے جیسے آسمان زمین کے اوپر ،اگر میرا مرید اچھا نہیں تو کیا ہوا ۔میں تو اچھا ہوں جلالِ پروردگا ر کی قسم جب تک میرے مرید جنت میں نہیں چلے جا ئیں گے میں بارگا ہِ خدا وندی سے نہیں ہٹوں گا ۔اور اگر مشرق مین میرے ایک مرید یا نام لیوا کا عیب یا گنا ہ ظاہر ہو گا اور میں مغرب میں ہوں گا تب بھی میں اس کی حفا ظت کا ضامن ہوںگا اور اس کی عیب پو شی کروں گا ۔لو انکشفت عورۃ مریدی بالمشرق وانا با لمغرب لسترتھا ۔
شیخ قدوۃ علی بن ہیئتی فر ما تے ہیں کہ حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مرید جیسا خوش بخت کسی شیخ کا مرید نہیں ہے ۔اور میں ستّر(۷۰) حضرات کو جا نتا ہوں جو صبح وشام حضرت غوثِ اعظم خرقہ مبا رکہ اٹھایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی خدمت کے صلہ میں بلند مراتب پر سرفراز فر مایا۔شیخ عدی مسافر نے فر مایا کہ دوسرے مشائخ کے مرید اگر مجھ سے خرقہ طلب کرتے ہیں تو میں بلا تا مل دے دیتا ہوں ۔لیکن حضرت شیخ عبد القادر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مریدوں کو دینے کی ہمت نہیں ہو تی ۔کیوں کہ آپ کے مرید دریا ئے رحمت میں غرق ہیں اور قاعدہ ہے کہ کو ئی شخص دریا کو چھوڑ کر معمولی نہر سے پا نی لینے کی کو شش نہیں کرتا ۔حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر مایا کہ حسین بن منصور حلا ج کے زمانہ میں کو ئی ان کی دستگیری کرنے والا اور جس لغزش میں وہ مبتلا ہوئے اس سے کو ئی بچا نے والا نہیں تھا ۔اگر میں ان کے زمانے میں ہو تا تو ان کی دستگیری کرتا اور نو بت یہاں تک نہ پہنچتی ۔قیا مت میں اپنے مریدوں کی دستگیری کرتا رہوں گا اگر چہ وہ سواری سے گرے ،اور فر مایا ہر طویلہ میں مرا ایک نا قابلِ مقا بلہ سانڈ اور ایک نا قا بلِ مسابقت گھوڑا رہتا ہے اور فر مایا کہ ہر لشکر پر میرا ایسا تسلط ہے جس میں کو ئی اختلاف نہیں کرتا اور ہر منصت میں ایسا خلیفہ ہے جسے ہٹا یا نہیں جا سکتا ۔(اخبا ر الاخیار فارسی)
اولا د امجا د:ابنِ نجا ر نے اپنی تا ریخ میں بیان کیا ہے کہ میں نے آ پ کے صاحب زادے حضرت سید عبد الرزاق قدس سرہٗ سے سنا کہ وہ فر ماتے تھے کہ: میرے والد ما جد کو اننچا س (۴۹) اولا دیں ہو ئیں ستا ئیس (۲۷)لڑکے اور با قی لڑکیاں ۔اور بہجۃ الاسرار شریف جو آپ کے منا قب میں مقدم ترین کتا ب ہے اس میں لڑکے کی تعداد دس (۱۰) لکھی ہے با قی کے اسما ء نہیں ملتے ۔انہیں مطلو بہ اسما ء کے ذکر کئے جا تے ہیں وہ اس طرح ہیں ۔
۱۔شیخ ابو عبد اللہ سید عبد الرحمن ۔ولا دت ۵۰۸۔ھ اور وفات ۵۸۷۔ھ یا ۵۷۰ھ میں ہو ئی ۔آپ اپنے وقت میں علمِ حدیث کے ما ہر تھے۔
۲۔شیخ امام سیف الدین ابو عبد اللہ عبد الوہاب شعبا ن ۵۲۲ھ میں بغداد میں پید اہوئے اور ۲۵ شوال یا شعبا ن ۵۹۳۔ھ میں وفا ت پا ئی آپ اپنے سب بھا ئیوں میں ممتا ز اور بڑے فقیہ احسن الکلام مسائلِ خلا فیات میں تھے بہت ہی خو ش بیان اور فصیح وبلیغ اور حدید الذہن ،عقیل ،فہیم، با مروت و سخی تھے۔
۳۔سید شرف الدین ابو محمد آپ کی کنیت ابی عبد الرحمن عیسیٰ بھی ہے آپ فقہ وعلمِ حدیث میں کا مل تھے مصرو عراق میں جماعتِ کثیرہ آپ سے فیض یا ب ہو ئیں اپنے والد کے وصال کے بعد با رہ برس تک حیات رہے اور حضرت عبد الوہاب سے بیس سال پہلے آپ کی وفات ہوئی جو تا ریخ ۱۲ رمضان ۵۷۲ ھ ہے۔
۴۔حضرت سید امام جمال الدین ابو عبد الرحمن آپ کی کنیت ابو الفرح بھی ہے اور نام عبد الجبا ر ہے ۱۹ شعبان ۵۷۳ھ بروز چہار شنبہ یا ۱۹ ذی الحجہ ۵۷۵؁۔ھ کو بغداد میں وفات پا ئی آپ بڑے خوش نو یس وصوفی وصا فی تھے اور ہمیشہ فقر وارباب ِ قلوب کے ہم صحبت رہتے تھے ۔حدیث پڑھا یا ۔خوش اخلا ق ،عزیز العقل اور مثبت فی الروایہ ،محب اہلِ فضلا ء تھے آپ کی وفا ت حضرت سید عبد الرزاق سے اٹھا ئیس(۲۸) برس قبل بحالتِ شبا ب میں ہو ئی۔والد کی خا نقاہ میں دفن ہو ئے۔
۵۔حضرت سید تا ج الدین ابو بکر عبد الرزاق ( آپ کے حالات آگے تفصیل سے آرہے ہیں وہیں ملاحظہ کریں)
۶۔حضرت سید شمس الدین ابو محمد آپ کی کنیت ابو بکر بھی ہے اور نام عبد العزیز آپ ۲۷ یا ۲۸ شوال ۵۸۰ھ میں پید اہو ئے آپ نے والد اور بہت سے لو گو ں سے علم حا صل کئے آپ بڑے عالم وفاضل اور علومِ دینی ودنیوی میں کامل تھے ۔۵۸۰ھ میں آپ جیال جو سنجا ء کے مضا فات میں ایک گاؤں ہے وہیںا قامت کی آپ کی اولا د وہیں ہیں ۱۸ یا ۲۸ ربیع الاول ۶۰۲ھ میں وصال ہوا ۔
۷۔حضرت سید ابو اسحا ق ابرا ہیم آپ ۵۲۷۔ھ میں پیدا ہو ئے اور ۲۵ ذی قعدہ ۶۲۳ھ یا ۵۹۲ھ میں واسط میں انتقال فر ما یا ۔آپ بہت ثقہ ،متواضع ،کریم الاخلا ق اور علما ء میں ممتا ز تھے بغداد سے شہر واسط میں آکر اقا مت کی اور وہیں وصال ہوا ۔
۸۔حضرت سید ابو الفضل محمد آپ نے اپنے والد ما جد سے تفقہ حا صل کیا اور ان سے ودیگر شیوخ سے بھی حدیث سنی آپ سے بہت سے لوگ مستفیض ہو ئے آپ بڑے ثقہ اور متورع عالم تھے ۲۷ رمضان یا ۲۵ ذی قعدہ ۶۰۰ھ کو بغداد میں وفا ت پا ئی اور مقبرہ حلبہ میں مزار شریف ہے۔
۹۔حضرت سید ضیا ء الدین ابو نصر مو سیٰ ۔آپ کی ولا دت سلخ ربیع الاول ۵۳۹ھ یا ۵۳۵ھ یا ۵۳۷ھ میں ہو ئی آپ بڑے فقیہ ،محدث ،زاہد ،متورع اور ممتا ز لو گوں میں تھے اور اپنے وقت کے فاضل و ادیب تھے مصر اور دمشق بھی آپ کے علمی خدما ت سے رونق پایا آپ نے دمشق کو اپنا جا ئے اقامت بنایا اورو ہیں جما دی الاخریٰ ۶۱۸ھ میں وفات پا ئی مدرسہ مجا ہدیہ میں نما ز پڑھی گئی اور جبلِ قاسیون میں دفن کئے گئے۔
۱۰۔حضرت سید زکریا یحییٰ آپ چھ ربیع الاول ۵۵۰ھ میں پیدا ہو ئے آپ حضرت کے صاحب زادوں میں سب سے چھوٹے ہیں واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت غوث پاک علیل ہو ئے اور لوگ اس شدید علالت کو ایامِ آخری تصور کرنے لگے آپ نے لوگوں سے کہا کہ ابھی میں انتقال نہیں کروں گا بلکہ میری پشت میں یحییٰ ہے وہ ضرور پیدا ہو گا لوگوں نے اس کو بے ہو شی کی با ت سمجھی جب آپ صحت یا ب ہو ئے تو یہ پیدا ہو ئے اور آپ کا نام یحییٰ رکھا گیا ۔آپ ایام ِ صغر سنی ہی میں مصر چلے گئے تھے پھر کبر سنی میں مع اپنے فر زند کے بغداد وا پس آئے ۔آپ بڑے عالم و فقیہ اور خو ش اخلا ق تھے آپ کا وصال ۴ یا ۱۵ شعبا ن ۶۰۰ھ میں بغداد میں ہوا ۔نماز ِجنا زہ آپ کے والد کے مدرسہ میں ہوئی اور اپنے بھائی سید عبد الوہاب قدس سرہ‘ کے پہلو میں دفن ہو ئے ۔اور فتح المبین میں ہے کہ حضرت غو ثیت مآب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحب زادیوں کے نام صاحب بہجۃ الاسرار و قلا ئد الجو اہر نے کو ئی بھی نہیں لکھیں مگر مشہور ان سے ایک حضرت خدیجہ ہیں جو شیخ عبد الرحمن طفسونجی کے بیٹے کے عقد میں تھیں اوردوسری فا طمہ سمینہ جو شیخ قضیب البان مو صلی کے بیٹے کے عقد میں تھیں اور تیسری عائشہ رحمہم اللہ اور بعضے کہتے ہیں کہ شیخ مسلما صما وی سے بھی ایک صا حب زادی بیاہی تھیں ۔واللہ اعلم۔
خلفا ئے کرام:حضرت کے خلفاء کی تعدادِ صحیح کسی کتا ب سے نہیں معلوم ہو تی علما ء مورخین نے اپنی کتا بوں میں مجملاً ذکر کر دیا ہے کا تب الحروف کو جس قدر اسما ئے گرا می معلو م ہو سکے وہ درج کئے جا تے ہیں اور حق یہ ہے کہ جس ذاتِ متبرکہ کا ایسا فیضانِ عام ہو تو اس کے مستفیضین کی صحیح تعداد کیسے اور کہاں سے معلوم ہو سکتی ہے وہ اسما ئے گرا می یہ ہیں۔
۱۔حضرت ضیا ء الدین ابو النجیب سہروردی ۲۔حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی ۳۔حضرت شیخ ابو مدین شعیب مغربی ۴۔حضرت شیخ ابو عمر عثمان بن مرزوق بطا ئحی ۵۔حضرت شیخ ابو محمد عبد اللہ جبا ئی ۶۔حضرت شیخ ابو الحسن علی بن ادریس یعقوبی ۷۔حضرت شیخ ابو عمر عثمان صریفینی ۸۔حضرت شیخ قضیب البان مو صلی۹۔حضرت شیخ احمد بن مبا رک بغدادی ۱۰۔حضرت شیخ ابو الفرح صدقہ بن الحسین بغدادی ۱۱۔حضرت شیخ محمد الآوانی مشہو ر بہ ابن القا ئد ۱۲۔حضرت شیخ ابو السعود بن الشبل ۱۳۔حضرت شیخ موفق الدین مقدسی ۱۴۔حضرت حا فظ شیخ عبد الغنی مقدسی ۱۵۔حضرت شیخ ابراہیم بن عبد الواحد مقدسی ۱۶۔حضرت شیخ جمال الدین یو نس قصار ہا شمی ۱۷۔حضرت شیخ ابو البقا عبد اللہ بن حسین بن عبد اللہ عکبری ۱۸۔حضرت شیخ حسن بن مسلم بن حسن جو زی ۱۹۔حضرت شیخ ابو العبا س بن عریف صنہا جی اندلسی۲۰۔حضرت شیخ اسحا ق بن احمد بن محمد بن غا نم علثی ۲۱۔حضرت شیخ یعقوب ما رستانی ۲۲۔حضرت شیخ شمس الدین حداد ۲۳۔حضرت شیخ ابوا لحسن علی بن جا مع ۲۴۔حضرت شیخ ابو محمد عبد اللہ بن علی اسدی ۲۵۔حضرت شیخ ابو محمد حسن بن عبد الکریم الفارسی ۲۶۔حضرت شیخ احمد بن صالح جیلی شافعی ۲۷۔حضرت شیخ رسلان بن عبد اللہ کینرا نی ۲۸۔حضرت شیخ احمد بن اسعد بن وہب بغدادی ۲۹۔حضرت شیخ ابو بکر تمیمی ۳۰۔حضرت شیخ ابو الحسن علی مشہور بہ بابن ِ نجا انصاری ۳۱۔حضرت شیخ ابو عمر عثمان بن اسما عیل بن ابراہیم سعدی ملقب بشا فعی ۳۲۔حضرت شیخ ابو عبد اللہ کینرانی ۳۳۔حضرت شیخ ابو اسحا ق ابراہیم بن مربیل بن نصر محزومی ۳۴۔حضرت شیخ ابو عبداللہ محمد بن شیخ رسلان بن عبداللہ ۳۵۔حضرت شیخ ابو القاسم عبد الرحمن ۳۶۔حضرت شیخ ابو بکر عبدا للہ بن نصر بن حمزہ تمیمی بغدادی ۳۷۔حضرت شیخ ابو القاسم خلف بن عیاش بن عبد العزیزمصری ۳۸۔حضرت شیخ ابو حفض عمر بن احمد یمینی ۳۹۔حضرت شیخ ابو محمد مدا فع بن احمد ۴۰۔حضرت ابو اسحا ق بن ابرا ہیم بن بشارت بن یعقوب عدنی ۴۱۔حضرت شیخ ابو عبد اللہ محمد بطا ئحی ۴۲۔حضرت شیخ ابو الحرم مکی اور ان کے بیٹے شیخ موفق الدین ابو القا سم عبد الرحمن ۴۳۔حضرت شیخ ابو البقا صالح بہا ء الدین ۴۴۔حضرت عبد الرزاق بن شیخ عبد الرحمن طفسونجی۴۵۔حضرت شیخ علی بن محمد بن احمد بغدادی معروف با بن الحما می اور ان کے والد شیخ محمد بن احمد بغدادی۴۶۔حضرت شیخ ابو القاسم ہبۃ اللہ بن احمد بن ہبۃ اللہ بن عبد القادر بن حسین مشہور بہ ابنِ منصور ۴۷۔حضرت شیخ اسحا ق بن ابرا ہیم بن سعید واری علثی ۴۸۔حضرت شیخ ابو العباس احمد بن علی بن خلیل جوسقی صرصری ۴۹۔حضرت شیخ ابو بکر محمد بن النحا ل ۵۰۔حضرت سیدنا شیخ عبد الرزاق بن عبد القادر محبوبِ سبحا نی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین)(الدرالمنظم فی منا قبِ غوث الاعظم۔ج۲ ص ۴۹۳،۴۹۴)اور اکثر صا حب زادگان کو بھی آپ سے خلا فت واجا زت تھی۔۵۱۔حضرت شیخ محمد بن احمد بن محمد بن قدامہ مقدسی۔

حلِّ مشکلا ت وحا جا ت کے لئے نوافل

حضرت غوث ِا عظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس وقت تم میرے تعلق سے با رگا ہِ ایزدی میں سوال کیا کرو جو کو ئی شخص مصا ئب اور مشکلات میں مجھے پکا رتاہے ،اس کی مصیبت اور مشکل فوراً دور کر دی جا تی ہے جو شخص مجھے وسیلہ بنا کر دعا کرتا ہے اللہ تعالیٰ میرے وسیلے سے اس کی مشکل حل کر دیتا ہے اور جو شخص مند رجہ ذیل طریقے پر بعد مغرب دو رکعت نفل ادا کرے گا ،اس کی ہر حاجت پو ری ہو گی وہ یہ ہے کہ : ہر رکعت میں سورۂ اخلا ص گیا رہ با ر پڑھے بعد سلام گیا رہ با ر حضور ﷺ پر درودو سلام پڑھے پھر گیارہ قد م بغداد کی طرف چل کر میرا نام پکا رے اور اپنی حا جت بیان کرے ،مجھے اللہ تعالیٰ پر یقین ہے کہ و ہ سا ئل کی حا جت پوری کر دے گا ۔(اخبا ر الاخیار فا رسی)

قادریہ استخا رہ:دو رکعت نما ز نفل کی نیت با ندھ کر ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد تین تین با ر سورۂ اخلاص پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد سر شما ل کی طرف اور چہرہ قبلہ کی جا نب کر کے الظاھر ُ البا سطُ پڑھتاہو اسو جا ئے خوا ب میں جو اب مل جا ئے گا ۔

دوسرا طریقہ:یہ ہے کہ ایک با ر یا تین یا پا نچ با ر سورۂ یٰسین شریف مطلب کا تصور کر کے پڑھے اور خا مو ش سو جا ئے خواب میں جو اب مل جا ئے گا ۔

تیسرا طریقہ: یہ ہے کہ عشا ء کی نماز کے بعد بستر پر لیٹ کر ایک ہزار مرتبہ یا ھا دی ُ یا رشیدُ یا خبیرُ پڑھے اور با ت کئے بغیر سو جا ئے ۔یہ ضرور ہے کہ بعض مرتبہ یہ عمل متواتر تین روز پڑھنا پڑتا ہے تب جو اب ملتا ہے۔

ختمِ قادریہ:یہ ختم مہما تِ امور حلِّ مشکلات کے لئے نہایت مؤثر ہے اور یہ دو قسم پر ہے ۔چھوٹا اور بڑا ۔۔۔۔چھوٹا تو یہ ہے کہ پو ری طہا رت وپا کیزگی اور خشوع وخضو ع کے ساتھ ایک جلسہ میں ایک سو  اکتا لیس مرتبہ سورۂ الم نشرح پڑھے اول و آخر گیا رہ گیا رہ مرتبہ درود شریف پڑھے ۔۔۔اور بڑا طریقہ یہ ہے کہ : مذ کو رہ با لا طریقوں میں سورۂ الم نشرح کو ایک ہزار مرتبہ پڑھے با قی سب اوپر والے ہی طریقے پر پڑھ کر اس کا ثوا ب حضور غوث پا ک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بخش کر با رگا ہِ احدیت میں حصولِ مرا دو مقصد کے لئے دعا ما نگے ۔یہ بھی بعض مرتبہ سات دن پڑھے جا تے ہیں۔
کشف الروح:یہ عمل غو ث پا ک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خو اب میں زیا رت کے لئے مجرب اور قادریہ سلسلہ کے معمو لا ت میں شامل ہے ۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ نصف شب گزر جا نے پر اٹھ کر غسل کرے اور برہنہ سر کھڑے ہو کر دو رکعت نما ز نفل بہ نیت کشف الروح پڑھے اس طرح کہ پہلی رکعت میں سورۂ الحمد شریف کے بعد تین با ر سورۂ کا فرون اور دوسری رکعت میں سورۂ اخلا ص تین با ر پڑھے ،نما ز سے فارغ ہو نے کے بعد جا ء نما زپر اسی طرح کھڑا ہو جا ئے اور حضور غو ث الثقلین کی روحِ مطہر کے تصور کے ساتھ یہ اسم پڑھے ۔یا امیراں سید محی الدین احضرو اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ نور محمد فی الا رواح ۔ دو مرتبہ پڑھنے کے بعد کسی سے با ت کئے بغیر سو جا ئے ۔ان شاء اللہ اسی را ت کو ضرور زیا رت کا شرف حا صل ہو گا ۔اگر اس شب کو اتفاق سے زیارت نصیب نہ ہو تو تین روز تک برابر یہی عمل کر نا چا ہئے۔
دعا بوسیلۂ حضور غوث پاک:حضور غوث الثقلین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گیا رہ نام کی دعا بہت ہی مشہوراور مجرب ومقبول ہے،بے شمار افراد نے اس سے فیض حاصل کیا اور فا ئدہ اٹھا یا ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ عروجِ ماہ میں جمعرات کے روز مغرب کی فرض نما زپڑھنے کے بعد گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھے اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے اپنے مقصد کے متعلق دعا ما نگ کر سو رہے وہ اسما ء یہ ہیں۔
الٰہی بحرمت سید محی الدین

الٰہی بحرمت مخدوم محی الدین

الٰہی بحرمت خوا جہ محی الدین

الٰہی بحرمت درویش محی الدین

الٰہی بحرمت غریب محی الدین

الٰہی بحرمت ولی محی الدین

الٰہی بحرمت شیخ محی الدین

الٰہی بحرمت مسکین محی الدین

الٰہی بحرمت غوث محی الدین

الٰہی بحرمت قطب محی الدین

الٰہی بحرمت سلطا ن محی الدین

اقوالِ زرّیں

۱۔تمام خوبیوں کا مجموعہ علم سیکھنا اور عمل کرنا پھر اوروں کو سکھا نا ہے۔ ۲۔اے عالم ! اپنے علم کو دنیا داروں کے پا س اٹھنے بیٹھنے سے میلا نہ کر۔
۳۔مصیبتوں کو چھپا ؤ ،اس سے قربِ حق نصیب ہو گا ۔ ۴۔مومن کے لئے دنیا دار ِریا ضت اور آخرت دارِ راحت ہے۔
۵۔مو من اپنے اہل وعیال کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑتا ہے اور منا فق اپنے درہم ودینا ر پر ۶۔مومن جس قدر بو ڑھا ہو تا ہے اس کا ایمان طا قت ور ہو تا ہے۔
۷۔جو شخص اپنے نفس کا اچھی طرح معلم نہیں ہو سکتا وہ دوسروں کا کس طرح ہو گا ۔ ۸۔شروع کرنا تیرا کام ہے اور تکمیل کرنا خدا کا۔
۹۔خا لق کا مقرب وہی بنتا ہے جو مخلوق پر شفقت کرتا ہے ۔ ۱۰۔دنیا دا ر دنیا کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور دنیا اہل اللہ کے پیچھے۔
۱۱۔تجھ جیسے ہزاروں کو دنیا نے مو ٹا تازہ کیا ہے اور پھر نگل گئی ہے۔ ۱۲۔ترے سب سے بد ترین دشمن تیرے برے ہم نشین ہیں۔
۱۳۔خدا کے ساتھ ادب کا دعویٰ غلط ہے جب تک مخلوق کے ادب کا خیال نہ رکھے۔ ۱۴۔بے ادب خا لق ومخلوق دونوں کا معتوب ہے۔(مسالک السالکین ۔ج۱)

ذکرِ وصالِ مبا رک

نثر الجو اہر میں فتوح الغیب سے مذکو ر ہے کہ جب حضرت محبوبِ سبحا نی شیخ عبد القادر جیلا نی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بیما ر ہو ئے تو حضرت کے فر زندِ ارجمند جناب شیخ سیف الدین عبد الوہاب
رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا سیدی! آپ کے بعد کس چیز پر عمل کروں ؟ حضرت نے فر مایا کہ پرہیز گا ری اختیار کر اور خد اکے سوا کسی سے نہ ڈر اور اس کے سوا کسی سے امید نہ رکھ اور تمام کاموں میںخد ائے تعالیٰ کی جانب احتیاج رکھ۔اور اسی کے لطف پر تکیہ رکھ اور اپنی تما م حا جتیں خدا ئے تعالیٰ سے چا ہ اور خد اکے سوا کسی پر اعتما د نہ رکھ اور تو حید کو لا زم کر لے کہ تمام کا اتفا ق ہے ۔پھر اس کلمے کو تین با ر التو حید ،التوحید ،التوحید کہا اور فر ما یا جب دل خد ائے تعالیٰ کے ساتھ درست ہو تا ہے تو اس دل سے کو ئی چیز جدا نہیں ہو تی اور جو علوم کہ ان کے سا تھ احتیاج ہو با ہر نہیں جا تے اور فر ما یا کہ میں مغز ہوں بغیر پو ست کے۔

دوسرے فر زندجو گرد بیٹھے ہو ئے تھے ان کو ارشاد ہواکہ میرے نز دیک سے دور رہو کیوں کہ میں ظا ہر میں تمہارے ساتھ ہوں اور با طن میں دوسروں کے ساتھ ۔اور فر ما یا کہ تمہا رے سوا دوسری خلقت میرے پا س حا ضر ہو ئی ہے اس کے لئے جگہ چھوڑ دو اور جگہ کشا دہ کر دو اور ان کا ادب کرو اور اپنی حد پر رہو ۔یہاں مہر با نی اور بڑی بخشش ہے اس لئے ان کے واسطے جگہ تنگ نہ کرو ۔اور حضرت کی با رگا ہ میں مقربوں کی ارواحیں اور رحمت کے فر شتے حا ضر ہو کے سلام عرض کرتے تھے اور حضرت ہر ایک کو تمام دن ورات سلا م کا جواب اس طرح دیتے تھے : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکا تہ‘ غفراللہ لی ولکم وتاب اللہ علیٰ وعیلکم ۔۔۔۔یعنی تم پر سلا م اور رحمت اور اللہ تعالیٰ کی برکتیں ہوں اللہ تعالیٰ بخش دے مجھے اور تم کو اور رحمت سے متوجہ ہو مجھ پر اور تم پر ،برکتِ خدا رخصت نہیں کرنے والے ہیں جیسا کہ قر آن مجید میں آیا ہے ،نحن اولیا ء کم فی الحیوٰۃ الدنیا وفی الاٰخرۃ ۔اور ارشا د ہوا کہ افسوس ،تم پر کہ میرے ساتھ کیا گمان کرتے ہو کیوں کہ میں پرواہ نہیں کرتا کسی کی، نہ ملک الموت کی اور نہ کسی فر شتے کی۔اے ملک الموت!جس نے ہم کو قدرت عطا کی ہے وہ تو ہم کو دوست رکھتا ہے اور تیرے بغیر وہ ہمارا کام کرتا ہے ۔اور حضرت شیخ مو سیٰ اور حضرت شیخ عبد الرزاق پسرانِ حضرت غو ث پا ک رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے فر ما یا کہ جس شب کو حضرت کی وفا ت ہو ئی اس کے قبل والے دن اپنے دونوں ہا تھو ں کو درا ز کر کے بلند آواز میں فر ما یا ۔
’’وعلیکم السلا م ورحمۃ اللہ وبرکا تہ‘ ،تو بو ا وادخلو افی الصّف ھو خلا جی الیکم‘‘
یعنی تم پر بھی سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں ،تو بہ کرو اور صف میں دا خل ہو جا ؤ اس وقت میں تمہا ری طرف آتا ہوں اور فر ما تے تھے ،نرمی کرو تم مجھے کسی پر اور کسی کو مجھ پر قیا س نہ کرو۔بعد ازاں شیخ عبد العزیز آپ کے فر زند نے عرض کیاکہ حضرت کا کیسا حا ل ہے ؟ ارشا د ہوا کہ تم مجھ سے کچھ مت پو چھو کیونکہ میں ایک حا ل سے دوسرے حا ل کی طرف جا تا ہوں جو خد ائے عز وجل کے علم میں ہے ۔پھر حضرت شیخ عبد العزیز نے پو چھا کہ آپ کو کیا بیما ری ہے ؟ آپ نے فر ما یا کہ میری بیما ری کو کو ئی نہیں جا نتا اور کو ئی نہیں پا تا ،نہ آدمی نہ فر شتہ ،اور نہ پری،اس کے بعد حقا ئق ومعارف کو بیان فر مایا اور ارشا دہوا کہ خدا کا علم ازلی جو لا یزال میں بندوں کے ساتھ متعلق ہے ،وہ ہرگز پھرتا نہیں کیونکہ حکم متغیر اور متبدل ہو تا ہے علم متغیر نہیں ہو تا اور حکم منسوخ ہو تا ہے علم منسوخ نہیں ہو تا ،اللہ جسے چا ہتا ہے محو کرتا ہے اور جس کو چا ہتا ہے ثا بت رکھتاہے ،اثبا ت احکا م میں محو ہے اور خد ائے تعالیٰ کے پاس ام الکتاب ہے اور جو لکھا ہے وہ تغیر نہیں پا تا اور خد ائے تعالیٰ جو کرتا ہے اس سے سوال نہیں کیا جا تا اور بندے سوال کئے جا تے ہیں ۔۔۔۔پھر اس کے بعد آپ کے فر زند حضرت سید عبد الجبا ر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پو چھا کہ حضرت کے جسم مبارک میں کہاں پر درد ہے ؟ ارشا د فرما یا کہ میرے تمام اعضا ء درد کرتے ہیں مگر دل کو کچھ درد نہیں اور وہ درست وثا بت ہے اللہ رب العزت کے ساتھ پھر جب حضرت کا وصال قریب آیا تو فر ما یا :’’استعنت بلا الہ الا اللہ سبحا نہ وتعالیٰ الحی الذی لا یخشی الفوت سبحا نہ من تعزز با لقدرۃ وقھر العبا د با لموت لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘یعنی مددچا ہتا ہوں میں کلمہ ٔ توحید ورسالت کے ساتھ ،اللہ تعالیٰ کے سوا کو ئی معبو د نہیں وہ پا ک اور بلند ہے۔۔۔۔ایسا زندہ ہے کہ اس کو ڈر نہیں ،مرنے سے پا ک ہے وہ ذات جو غا لب ہے قدرت کے ساتھ اور بندوں کو مو ت کے ساتھ مقہور ومغلوب کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کو ئی معبو د نہیں محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں حضرت کے فر زند سعا دت مند شیخ سید مو سیٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت نے لفظ تعزز کو پڑھا مگر زبا ن سے درست ادا نہیں ہوا تو پھر اس لفظ کو بتکرار فر مایا اور اپنی آوا زکو اس لفظ کے ساتھ بلند کیا جب وہ لفظ زبان سے درست ادا ہوا تو پھر اسمِ ذات اللہ کو تین با ر اللہ، اللہ ،اللہ کہا ۔بعد ازاں آوا زمبا رک پست ہو ئی اور خلق میں چمٹ گئی اور روحِ مقدس جسمِ مطہر سے پرواز کر گئی۔اناللہ وانا الیہ را جعون۔(سیرتِ غوثِ اعظم ،ص۲۴۴)
تا ریخِ وصال:آپ ۱۱ یا ۱۷ ربیع الآ خر ۵۶۱۔ھ ۱۱۶۶۔ء شبِ دو شنبہ بعد نما زِ عشاء اکیا نوے (۹۱) سال کی عمر شریف میں بغداد میں وصال فر مایا انا للہ وانا الیہ را جعون۔
نمازِ جنا زہ:نما زِ جنا زہ حضرت سید سیف الدین عبد الوہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھا ئی ۔آپ کے جنا زے میں اتنی کثرت تھی کہ بغداد میں کو ئی شخص با قی نہ رہا جو حضرت کے جنا زے میں شریک نہ ہو اہو ۔

محی الدین کہ انو ار ِ جما لش

زعرش وکرسی ازمہ تا بما ہست

تولد عاشق وکا مل ستیش

وصالش داں ز معشوق الٰہیتگئی۔

(مقاماتِ دستگیری۔ص ۱۰)
شیخ عقیل منجی سے روایت ہے کہ میں نے چند بزرگوں کو دیکھا ہے جن کا تصرف قبروں میں جا ری وسا ری رہتا ہے یہ تصرف زندگی کی تمام قوتوں کی طرح ہو تا ہے یہ بزرگ شیخ عبد القا درجیلانی ،شیخ معروف کرخی،حضرت امام مو سیٰ کا ظم رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں۔
مزارِ مقدس:آپ کا مزارِ مقدس آپ کے مدرسۂ عالیہ کے رواق میں با ب ازج کے نزدیک بغداد شریف (عراق) میں واقع ہے ہرسا ل عرس کی مقدس تا ریخ میں بے شمار مخلوق فیوضِ روحا نی سے مستفیض ہو کر لو ٹتی ہیں۔اور ہمہ دم زائرین کا اژ دھا م رہتا ہے جمعرات اور جمعہ کو خصوصی طور پر بھیڑیں لگی رہتی ہیں۔

[/expander_maker]

سیرت غوث پاک رضی اللہ عنہ پر بعض کتب

Menu
error: Content is protected !!